Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر39
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر39

اس نے آہستگی سے دروازے پر دستک دے کر دروازہ کھولا،شاہد انصاری لیپ ٹاپ پر کام کر رہے تھے کمرے میں سگریٹ کی بو آج بھی رچی ہوئی تھی لیکن ایک اداسی بھرا بوجھل پن تھا وہاں۔۔ شاہد انصاری کے ماتھے پر پڑی شکنیں اور بالوں کی بے ترتیبی ان کی ذہنی الجھن کا پتہ دے رہی تھی۔
خود اسکے چہرے پر اضطرابیت اور عجب سا خوف طاری تھا روئی روئی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں۔۔

اسکارف میں سے بال نکل رہے تھے لیکن وہ اندر نہیں کر رہی تھی۔ذرد چہرے پر اسکن کلر کا اسکارف بہت نمایا ں نہیں ہو رہا تھا،
”ابو۔۔۔؟؟“اسکا لہجہ عجب بھاری سا تھا، شاہد انصاری نے سر اُٹھایا، اسے دیکھ کر ہلکی سی مدھم مسکراہٹ انکے لبوں پر نمو دار ہوئی تھی،
”کیا ہوا جیہ جان۔۔نازیہ نے کیا کہا؟“ تھکے تھکے سے انداز میں وہ کرسی پر بیٹھی،
کہہ رہیں ہیں ابو کو جو بہتر لگے کریں۔۔۔وہ راضی ہیں۔۔!“ شاہد انصاری نے آگے بڑھ کر اسکا گال تھپتھپایا،
”پریشان نہ ہو چندا اسکا ٹیومر فرسٹ اسٹیج پر ہے ٹھیک ہو جائیگی انشاء اللہ۔۔۔بس اسے فرسٹریشن سے بچاؤ۔۔!“ اسنے کوئی جواب نہیں دیا،بس ہلکا سا مسکرائی، شاہد انصاری جھک کر کُچھ ٹائپ کرنے لگے دو تین منٹ بعد سر اُٹھایا،
”خالد کو کوئی اعتراض نہیں ہے،وہ اب اپنے گھر والوں کو بھیجے گا یہاں،بس پھر ڈیٹ فائنل کر کے ہم تیاریاں شُروع کر دینگے۔۔“ اسنے مسکرا کر انہیں دیکھا،

”لیکن ابو آپی کا علاج۔۔۔۔؟“
”دیکھو جیا۔۔اسکا علاج شادی کے بعد ہوتا رہے گا،ابھی ضروری ہے کہ اسکی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے ٹیومر معمولی کینسر نہیں ہوتا اگر اسنے کسی بارے میں کوئی ٹینشن لی تو وہ خود اپنے مرض کو بڑھا دے گی اس لیے ضروری ہے کہ خوش رہے۔۔سمجھ رہی ہو نا بیٹا۔۔۔؟؟“
اسے سمجھاتے ہوئے وہ اپنی پریشانی کو چھپانے کی پوری کوشش کر رہے تھے،
”اچھا ایک کام کرو اگلے ہفتے اپنی ساری دوستوں کو اور نازیہ کی ساری دوستوں کو بلا لو۔۔اور سارا دن خوب ہلا گلا کرو،شاپنگ بھی شُروع کر دو۔۔دیکھو بھئی اپنی آپی کی شادی پر تمھیں ہی سب دیکھنا ہو گا۔۔۔بہترین انتظام کرو ہر چیز کا۔۔میں جانتا ہوں تم کر سکتی ہو۔۔۔میری بیٹی سب کر سکتی ہے۔۔“انکے مسکراتے لہجے نے کمرے کے بوجھل پن کو کسی حد تک کم کر دیا تھا،
اجیہ کے لبوں کی تراش میں بھی مدھم سی مسکراہٹ ابھری تھی،

”ہاں ابو۔۔۔بالکل۔میں بیٹا بھی تو ہوں آپکا۔۔۔ہے نا۔۔۔؟؟“ وہ ہنس دئیے،
”ہاں بالکل۔۔۔۔“
”اچھا ابو میں جاتی ہوں اب بہت کام ہیں مجھے۔۔!“ شرارتی لہجے میں کہتے ہوئے اسکی پیشانی کا تناؤ کُچھ کم ہو گیا تھا، شاہد انصاری ہنستے ہوئے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گئے، وہ پلٹ گئی،
”اجیہ ایک منٹ۔۔۔۔“ اس نے رک کر شاہد انصاری کو دیکھا وہ اُٹھ کر الماری کی طرف بڑھ رہے تھے، چند لمحوں بعد وہ پلٹے تو انکے ہاتھوں میں ایک ڈبہ تھا،
”یہ لو۔۔“اسکے قریب آکر انہوں نے وہ ڈبہ اسکی طرف بڑھایا،نازیہ نے صبح بتایا تمھارا موبائل ٹوٹ گیا ہے تو میں نے یہ نیا موبائل منگوا لیا ہے تمھارے لیے۔۔دیکھو ٹھیک ہے۔۔؟“ ڈبہ تھامتے ہوئے وہ انکی بہت مشکور ہوئی تھی۔
”شکریہ ابو۔۔“ وہ مسکرا کر لیپ ٹا پ کی طرف بڑھ گئے، اسنے انکی پشت کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں بے پناہ گداز محسوس کیا تھا، کُچھ سوچ کر وہ مسکرائی اور پھر مڑ کر باہر نکل گئی،

لاؤنج سے گیلری کی طرف جاتے ہوئے بلا ارادہ ہی اسکی نگاہ ڈائننگ روم کی طرف گئی۔ تب ہی فاخرہ ٹرے ہاتھ میں لیے وہاں سے باہر نکلی تھی،
اجیہ کو دیکھ کر وہ ادھر چلی آئی،
’’السلام و علیکم۔۔۔اجیہ بی بی۔۔۔“ وہ مسکرائی،
”وعلیکم السلام۔۔۔کیا حال ہیں فاخرہ تم نے دوائی لے لی تھی؟؟“
”ہاں جی وہ لے لی تھی۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔َ؟“ اسکے ہاتھ میں موبائل کا ڈبہ دیکھ کر اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسنے کہا۔
”یہ موبائل ہے ابو نے دیا ہے۔۔۔“
”اچھا لیکن آپکے پاس تو موبائل ہے نا۔۔؟؟“
”نہیں وہ ٹوٹ گیا تھا۔۔۔!!“ بتاتے ہوئے بے اختیار اسکا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کرکے وہ بیڈ پر آکر لیٹ گئی، ذہنی طور پر وہ بہت تھک گئی تھی۔

کتنا مشکل تھا ابو کو بتانا کہ نازیہ آپی کو برین کینسر ٹیومر ہے۔۔۔اُف۔۔۔!!“
برین کینسر۔۔۔۔کیسے برداشت کر رہیں تھیں آپی سر کے درد کو۔۔کیسے۔۔۔اتنی اذیت اکیلے ہی سہہ رہیں تھیں۔۔
کتنا مشکل ہوتا ہے کسی تکلیف کو تنہا ہی سہار لینا۔۔۔اور کتنا صبر ہوتا ہے ان لوگوں میں۔۔۔جو تکلیفوں کو اکیلے برداشت کرنا جانتے ہیں۔۔

وہ جانتی تھی درد کی اذیت کو۔۔کیونکہ اسنے بھی تو چار سالوں سے ہر تکلیف اکیلے ہی برداشت کی تھی،کسی کو بتائے بغیر۔۔کسی سے ذکر کیے بغیروہاں کوئی اسکا اپنا ہوتا ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی تکلیفیں بتاتی یا پھر۔۔اسنے کسی کو اپنا سمجھا ہی نہیں تھا۔۔ ابو آپی کی بیماری کا سن کر کیسے شاکڈ رہ گئے تھے ظاہر ہے وہ تو انہیں انکی شادی کے بارے میں بتانے جا رہے تھے۔۔۔انکے دماغ میں تو آپی کی شادی کے پلان ہوں گے نا۔۔۔اور پھر اب پتہ نہیں کیا ہوگا۔۔آپی کیسے فیس کریں گی سب کُچھ۔۔۔کیا شادی کے بعد وہ ٹیومر کا علاج کروائینگی صحیح طرح۔۔شاید ابو ٹھیک نہیں کر رہے۔۔۔ پتہ نہیں انکے ہزبینڈ کس طرح کے ہوں گے۔۔انکا علاج ٹھیک طریقے سے نہیں کروایا۔۔۔تو آپی۔۔نہیں آپی۔۔۔میں برا نہیں سوچنا چاہتی۔۔۔آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔اللہ میاں ٹھیک کر دیں گے آپکو۔۔۔آپ ہمیشہ سب کا خیال رکھتیں ہیں۔۔آپ کو اللہ تعالیٰ ضرور ٹھیک کر دیں گے۔۔۔میں بہت خیال رکھوں گی آپکا۔۔آپکو اکیلا نہیں ہونے دوں گی۔۔۔اللہ نے چاہا تو آپ ہمیشہ خوش رہینگی۔۔ہے نا۔۔۔اللہ میاں۔۔۔آپی خوش رہینگی نا۔۔۔جو بہتر ہو ہمارے لیے۔۔۔۔آپ کر دیجئے یا ہم سے کروا دیجئے۔۔۔آپ تو جانتے ہیں نا سب کُچھ۔۔!“

امید اور خوف کے درمیان ڈولتے ہوئے وہ بجھے دل سے اُٹھی۔۔نئے موبائل کا ڈبہ اُٹھایا کھولا پھر سیم سنگ کے نئے ماڈل کے اسمارٹ فون کو بہت دیر تک دکھی نظروں سے دیکھتی رہی، پھر دھیمے قدموں سے چلتی الماری تک گئی،سم نکالی اور موبائل میں ڈال کر چمکتی ہوئی اسکرین کو دیکھنے لگی، کیا حیثیت تھی اس مہنگے ترین موبائل کی۔۔اور کیا حیثیت تھی اس کی جو موبائل ٹوٹ گیا تھا۔۔۔کیا کوئی اوقات ہے دنیا کی چیزوں کی۔۔۔ٹوٹ گئیں نئی آ گئیں۔۔۔پھر ٹوٹ گئیں پھر نئی آ گئیں۔۔! آہستگی سے وہ فون ہاتھ میں لیے لیٹ گئی۔۔۔دماغ پر تھکن سوار تھی۔۔۔اعصاب غنودگی میں جا رہے تھے۔۔۔اس نے گھڑی کی طرف دیکھا چار بجنے میں کچھ وقت باقی تھا۔۔کُچھ یاد آیا تھا اسے۔۔بے اختیار اسکے چہرے پر بیزاری چھا گئی ۔۔ کل رات کے واقعات ذہن میں تازہ ہوگئے تھے۔ وہ سوچوں میں گم ہوتی جارہی تھی جب موبائل کی آواز نے اسکی سوچوں میں خلل ڈال دیا، حیران سی ہو کر اسنے چمکتی اسکرین کو دیکھا انجانا نمبر تھا،

”میں نے تو نئے موبائل کا کسی کو بھی نہیں بتایا تو پھر یہ کس کی کال ہو سکتی ہے۔۔نائلہ کو بھی نہیں بتایا نازیہ آپی کو بھی نہیں بتایا۔۔؟“وہ حیران تھی تبھی دل میں ایک خیال آیا اور اسی تیزی سے اس نے خیال کو ذہن سے نوچنے کی کوشش کی تھی، موبائل بند ہو کر دوبارہ بجنا شُروع ہو گیا تھا،اس نے کال ریسیو کی اور پھر موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا،
”ہیلو۔۔مس اجیہ۔۔“ وہی کھردری آوازجس سے اسے نفرت تھی جو اسکی اذیت کا سبب بنی ہوئی تھی،
”کہو۔۔“ اسکے ترش لہجے میں غصہ تھا،
”آپ آ رہی ہیں نا۔۔پانچ بجے۔۔نیو اسٹار مال۔۔؟؟“ اسکا پورا وجود کانپا تھا ایک لمحے کے لیے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا،
”کیا۔۔؟“ کانپتے لہجے میں بری طرح بے بسی تھی،
”جی۔۔۔پانچ بجے ضرور آئیے گا۔۔ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔!“
”کک۔۔۔۔ککک۔۔۔کیا مطلب۔۔؟؟“ اب اسے خوف محسوس ہوا تھا،
”کس بات کا مطلب۔۔۔؟“ اس کھردری آواز کا کھردرا پن بڑھا تھا،لہجہ سخت ہوا تھا،

”دیکھو تمھیں آنا پڑے گا اور تم آؤ گی۔۔میں انتظار کر رہا ہوں۔۔اگر نہیں آئی تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی“ لائن کٹ گئی۔ وہ ساکت و جامد اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی،کس قدر بے رحم تھا وہ شخص۔۔اور کس قدر بے بس تھی وہ۔۔
”تو کیا میں حقیقت میں اس سے ملنے جاؤنگی۔۔؟؟“
”نہیں۔۔!“ بے اختیار وہ اُٹھ کر ٹہلنے لگی۔۔

”کیا کروں میں۔۔کیا ابو کو بتاؤں۔۔۔وہ خود ہی نمٹ لیں گے اس آدمی سے۔۔۔لیکن ان پر کوئی مصیبت نہ آ جائے۔۔۔تب پھر۔۔۔۔میں کیسے بتاؤں۔۔۔کون ہے ایسا جو میری یہ بات سن کر مجھ پر شک نہ کرے۔۔۔کیا نائلہ۔۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔وہ کیا کر سکتی ہے بیچاری۔۔۔قاسم۔۔۔نائلہ کا کزن۔۔۔لیکن میں اسکی کیا لگتی ہوں۔۔جو وہ میرے لیے اس مسئلے میں پڑے گا۔۔۔لیکن شاید نائلہ کی دوست ہونے کی وجہ سے۔۔“ خیالات امڈتے چلے آئے تھے۔
”بس بھی کرو اجیہ۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمھیں۔۔؟“ اس کے اندر کا انسان غصہ سے بولا تھا۔”تمھاری خود داری کہاں چلی گئی۔۔تم ایک بہادر لڑکی ہو۔۔ جاؤ خود سامنا کرو اس مشکل کا۔۔جیسے ہمیشہ کیا ہے۔۔ اللہ تعالی پر بھروسہ کرو۔۔“ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”میں پریشان ہوں اللہ تعالی۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔!“ اس نے دل کی گہرائیوں سے کائنات کے مالک کو پکارا تھا اور پھر طوفان میں گھرے دل نے یکلخت سکون محسوس کیا تھا۔

”پریشانی کس بات کی اجیہ۔۔؟؟ تمھارا رب تمھارے پاس ہی تو ہے۔ جاؤ اپنے اللہ کو پکارو۔۔ تاریکیوں میں بھٹکنے والوں کو روشنی وہی رب دیا کرتا ہے۔ اجیہ۔۔ جاؤ نماز پڑھو۔۔۔!“ اس نے اپنے اندر گہرائیوں میں اپنے ضمیر کی آواز سنی تھی اورآنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
چند لمحوں بعد وہ جائے نماز پر اللہ تعالی کے آگے ہاتھوں کو پھیلائے بیٹھی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔

”پیارے اللہ تعالی۔۔ مجھے بتائیں میں کیا کروں۔۔ میں بہت خوفزدہ ہوں۔۔ میں ابو کو نہیں بتانا چاہتی۔۔ ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔۔اس انسان سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔۔ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔۔ اس نے مجھے کیوں بلایا ہے۔۔ میرے دل میں بہت زیادہ وسوسے ہیں میرے اللہ۔۔میں کیا کروں۔۔۔!!“
دلوں کو بنانے والے رب کے سامنے وہ سسکتے ہوئے اپنے دل کا حال بیان کررہی تھی۔ تب ہی کمرے میں روشنی ہوتی محسوس ہوئی تھی۔بہت دور سے آتی کچھ آوازوں نے کمرے میں فسوں بکھیر دیا تھا۔

”اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے۔۔ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو۔۔ ان پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔۔“ (سورۃ ابراہیم: ۲۱)
اس کے آنسو یکدم تھم گئے۔
صبر۔۔۔!!
توکل۔۔۔۔!!
نماز۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ بے اختیار مسکرادی تھی۔ زندگی کا دھندلا آئینہ صاف شفاف شیشہ کی مانند نکھرا نکھرا محسوس ہوا تھا۔

آسمانوں کا رب اپنے بندوں کو مایوس نہیں لوٹایا کرتا۔ اجیہ کی مشکل آسان کردی گئی تھی۔وہ مطمئن سی مسکراتے ہوئے جائے نماز سمیٹنے لگی۔ اسے پتہ تھا اب اسے کیا کرنا ہے۔۔!

(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。