Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر40
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر40

”کیا میں واقعی اکیلے چلی جاؤں…؟؟“ نماز پڑھ کر وہ پرسکون ہوگئی تھی۔ دل کا خوف اور اضطرابیت ختم ہوگئی تھی لیکن اس سوال پر وہ اب تک کشمکش کا شکار تھی۔

”مجھے نائلہ سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ بس لڑے گی ہی نا مجھ سے کہ میں کیوں جارہی ہوں..اور تو کچھ نہیں ہوگا…“ بالاخر اس نے نائلہ کو بتادینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ پریشانی سے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے وہ نائلہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ لیکن اسکا نمبر بند جارہا تھا۔
”اللہ….. نائلہ… تمھیں ابھی ہی موبائل آف کرنا تھا….. اف… اف… اب کیا کروں…!“ ٹہلتے ٹہلتے رک کر اسنے دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھا،پانچ بجنے میں بیس منٹ باقی تھے، اس نے پریشانی سے سر پکڑا۔ ”میں اب اور انتظار نہیں کرسکتی… مجھے اب خود ہی جانا ہوگا… جو ہوگا دیکھا جائے گا… اور اللہ تعالی ہیں نا میرے ساتھ…“ اللہ تعالی….!! دل میں دوبارہ سر اٹھاتی بے چینی یکلخت بھک سے اڑگئی۔ وہ مطمئن ہوکر تیار ہونے لگی تھی۔ الماری کھول کر اسنے فراکس پر نظریں دوڑائیں، پھر کچھ سوچ کر بلیک لمبی فراک نکالی اسکی مناسبت سے سیاہ اسکارف نکالا اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی، چند لمحوں بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی سر پر اسکارف سیٹ کر رہی تھی،

سیاہ فراک کے دامن پر سیاہ موتیوں سے کڑھائی ہوئی تھی اور آستینوں کے کنارے بھی سیاہ موتیوں سے مزین تھے باقی فراک سادہ تھی، سیاہ ہالہ چہرے کے گرد مقید کر کے اسنے ذرا سا پیچھے ہو کر اپنا جائزہ لیا، پریشانی سے معمور چہرہ… آنکھوں کے نیچے سیاہ ہوتے گڑھے…. پیشانی پر ڈھیروں لہریں،بال پن اپ کرنے کے باوجود ماتھے پر گر رہے تھے اسے معلوم تھا اپنے بالوں کا ڈھیٹ پن…. لپ گلوز نرمی سے اسنے اپنے ہونٹوں پر لگائی.. زرد ہونٹ ہلکے ہلکے چمکنے لگے، لاکھ پریشانی کے باوجود اسکے چہرے کی دلکشی برقرار تھی۔۔۔ جاگرز پہن کر سیاہ جارجٹ کا دوپٹہ کندھوں پر پھیلا کر پن اپ کیا… پھر موبائل اٹھا کر اس نے ایک بار پھر نائلہ کا نمبر ڈائل کیا تھا۔ لیکن اب بھی اسکا فون آف تھا۔ قدرے بدمزہ سی ہوکر اس نے موبائل پرس میں ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن ذہن کسی کو بتائے بغیر جانے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔ ”نازیہ آپی کو بتادوں کیا….؟؟؟؟“ چند لمحے اسنے سوچا۔

”ان کو بس اتنا بتادیتی ہوں کہ کہاں جارہی ہوں… ورنہ سب کچھ بتایا تو وہ بہت پریشان ہوجائیں گی… اور انکی طبعیت ایسی نہیں ہے کہ ان کو کوئی بھی ٹینشن دی جاسکی..“ ”ہاں ٹھیک ہے…“ سر ہلا کر وہ نازیہ کو کال کرنے لگی۔ پانچ منٹ بعد وہ نازیہ کو بتا کر کمرے کا دروازہ لاک کررہی تھی۔ اور دس منٹ بعد وہ کار کو سڑک پر لے آئی تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت ویسے ہی جاری تھی سورج کی تمازت کم ہو گئی تھی،آسمان پر پرندے بادلوں کے ہمروہ زندگی کا سفر طے کر رہے تھے۔۔۔ معلوم نہیں کیوں… اسکی چھٹی حس بار بار کچھ غلط ہونے کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ نامعلوم پریشانی سے اسکا چہرہ تلخ اور سنجیدہ سا ہو گیا تھا، اسکا دل پرسکون تھا لیکن کہیں کچھ غلط تھا جو بار بار اسکو پریشان کررہا تھا۔ ذہن میں وسوسوں کے انبار امڈتے چلے آرہے تھے۔ مال آگیا تو اس نے خیالات کو جھٹکتے ہوئے کار کو پارک کیا اور باہر نکل کر لفٹ کی طرف بڑھی تو بے اختیار دل بہت زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔

”اجیہ… مت جاؤ.. کہیں کچھ بہت غلط ہونے والا ہے… اجیہ…“ اس کے اندر کی عام سی لڑکی چلانے لگی تھی. وہ لڑکی کوبزدل اور جلدی پریشان ہوجاتی تھی. وہ جس کو ہمیشہ چلنے کے لیے کسی کی ضرورت پڑتی تھی. وہ لڑکی جو خطرہ سامنے دیکھ کر خوف سے زرد ہوجاتی تھی. ”میں ہمیشہ اکیلی جاتی ہوں ہر جگہ ہر مشکل کو میں نے اکیلے ہی فیس کیا ہے۔۔۔۔ہر خطرہ میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے فیس کیا ہے ابھی بھی اسی پر بھروسہ ہے جو میں اکیلی جا رہی ہوں۔۔۔۔جانتی ہوں کُچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔لیکن میں کسی کو اپنی مشکلات میں شامل نہیں کر سکتی میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کسی پر کوئی مصیبت آئے یا کسی کو کوئی خطرہ ہو۔۔۔۔“ بہت مضبوط انداز میں اس ڈرپوک لڑکی کو سمجھاتے ہوئے خود اسکا دل کانپ رہا تھا۔۔۔ آخر میں وہ مسکرائی، ”ایک دن سب ٹھیک ہوجائے    گا۔۔“ خود کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئی وہ لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔ ٭٭٭

اجیہ سیکنڈ فلور پر پہنچی اور متلاشی نظروں سے ادھر ادھردیکھتی چلنے لگی،اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا چہرے پر نارمل تاثرات پیدا کرنے کی اسکی ساری کوششیں ناکام گئیں تھیں وہ واقعی خوف زدہ تھی، یہاں زندگی پوری طرح پر رونق تھی ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لوگ آس پاس سے گزر رہے تھے ہنستے مسکراتے زندگی سے بھر پور۔۔لگتا تھاوہاں کوئی پریشانی نہیں ہے وہاں کوئی اسکی طرح زبردستی نہیں آیا تھا۔۔۔۔ سب اپنی مرضی سے آئے تھے اسلیے بہت خوش تھے۔۔۔۔اور وہ۔۔۔ نا تو اپنی مرضی سے آئی تھی اور نہ ہی خوش تھی جیسے جیسے اسکے قدم آگے بڑھتے جا رہے تھے فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا۔ اور اسکی پریشانی دو چند ہو رہی تھی اور خوف سے دھڑکتا دل بے قابو ہوتا جا رہا تھا۔۔۔دل ہی دل میں اسنے پوری شدت سے اور پورے وجود سے اللہ تعالیٰ کو پکارا تھا۔۔۔۔ جب بھی وہ خود کو تنہا محسوس کرتی تھی اللہ کو پکارا کرتی تھی۔۔۔ 

شور شرابے کے درمیان سے گزرتی وہ اپنے خوف زدہ دل کو سنبھالتی آیت الکرسی کا ورد کرتے آگے بڑھتی جا رہی تھی، آنے والے حالات کے لیے خود کو تیار کرتے وہ قدم بہ قدم چل رہی تھی۔۔ تبھی کوئی اس کے برابر سے گزرا تھا۔۔ ماضی کی کچھ خوبصورت یادیں ذہن کے پردوں پر جگمگائی تھیں۔۔وہ خواب۔۔ وہ مناظر۔۔اس کے قدم آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔۔ دل نے خواہش کی تھی اور قدم زنجیر ہوگئے تھے۔۔ ایک لمحہ کے لیے ذہن سے نکل گیا تھا کہ وہ کہا ں ہے اور کیا کرنے آئی ہے۔۔ برابر سے گزرتا وہ شخص بھی ٹٹھک کر رک گیا تھا۔۔ اس کے چہرے پر پہلے حیرانی۔۔ پھر خوشی اور مسرت کے جذبات نے روپہلی کرنوں کی مانند اسکے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔ ایک۔۔دو۔۔تین۔۔ سیکنڈ گزرے تھے۔۔ وہ اس سے کچھ کہنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی جب۔۔ اسے پرس میں تھر تھراہٹ محسوس ہوئی تھی۔۔۔ ایک لمحہ کے لیے دھڑکتا دل رک سا گیا تھا اگر ناصر کی کال ہوئی تو۔۔۔ پرس اتار کر اسنے موبائل باہر نکالا۔۔۔

اسکرین جل بجھ رہی تھی موبائل سائیلنٹ پر تھا۔۔۔ بہت تڑپ کر اسنے جلتے بجھتے انجانے نمبر کو دیکھا تھا،دل چاہا تھا کہ کال ریسیو نہ کرے۔۔۔اس ناگہانی مصیبت کو خود سے دور پھینک دے۔۔۔لیکن اسکا انجام نہیں معلوم کیا ہوتا۔۔۔ اگر وہ کال ریسیو نہ کرتی تب وہ درندہ صفت انسان جو یہیں کہیں تھا نہ جانے اسکے ساتھ کیا سلوک کرتا۔۔۔ دل کو مضبوط کر کے اسنے جگمگاتی اسکرین کا سبز حصہ  چھوا اور موبائل کان سے لگایا، ۔۔۔

”ہیلو۔۔۔۔“ اسکی آواز میں نا چاہنے کے باوجود ہلکی سی لرزش تھی۔۔۔۔ ”ہاں۔۔۔جی ہیلو۔۔۔۔زہے نصیب۔۔۔۔سر آنکھوں پر۔۔۔آپ تشریف لے  آئیں۔۔۔۔بہت خوشی ہوئی۔۔۔“ کھردری آواز اسکے اندر آگ لگا رہی تھی۔۔۔ کبھی اسکی اس طرح توہین نہیں ہوئی تھی۔ اسکا وجود غصے سے کانپا تھا مگرخوف اس سے زیادہ تھا کہ وہ خبیث انسان یہیں کہیں تھا اور اسے کیسی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔وہ کہیں چھپنا چاہتی تھی۔۔۔۔اے کاش اسکے پاس کوئی دوسرا راستہ ہوتا۔۔۔ ”آپکو دیکھنے کی ہماری بہت آرزو تھی خواہش پوری ہو گئی ہماری تو۔۔۔۔دل چاہ رہا ہے آپکو دیکھتے رہیں۔۔۔بس ایک بار آپکو حاصل کر لیں پھر ساری پیاس بجھا لیں گے۔۔۔“ آہ۔۔اسنے کانپ کر موبائل کان سے ہٹایا تھا۔۔۔الفاظ تھے کہ نشتر۔۔۔۔ اسکا سینہ چھلنی ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔ زہر میں بجھے ہوئے ان تیروں کو سہتے ہوئے اس لمحے اسنے مرنے کی شدت سے آرزو کی،

مرنا بہتر ہوتا اس ذلت و رسوائی سے لاکھ درجے بہتر ہوتا۔۔۔۔ ”مس اجیہ۔۔۔۔۔“ کھردری آواز نا قابل برداشت حد تک اسکے لیے اذیت ناک تھی۔ ”آپ کی آمد سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔ لیکن ہم نے آپ سے کہا تھا کہ اکیلی آئیے گا۔۔۔پھر آپ کس کے ساتھ آئی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟“ دل پوری شدت سے کانپا تھا۔۔۔ ”سرمد۔۔۔۔۔۔ تم چلے جاؤ خدا کے لیے تم یہاں سے چلے جاؤ ۔۔ جاؤ۔۔۔۔میری خاطر تمھیں مصیبت میں پڑنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ آنکھیں بند کر کے بند ہونٹوں کے پیچھے پوری قوت سے چیخ رہی تھی،جانے کب اسکی آنکھوں سے آنسو بہنا شُروع ہوئے تھے۔ سرمد کی آانکھوں میں پریشانی نمودار ہوئی تھی۔۔
”اجیہ۔۔کیا ہوا۔۔؟“ وہ فکرمندی سے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
”بتاؤ۔۔۔۔کون ہے وہ۔۔۔جس کے ساتھ تم آئی ہو۔۔؟؟؟تمھاری ہمت کیسے ہوئی اسے لانے کی میں نے کہا تھا کہ اکیلے آنا۔۔۔۔کون ہے وہ۔۔۔؟؟؟“ چنگاڑتی کھردری آواز کان کے پردے پھاڑ رہی تھی اسکا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا،
”میری مرضی میں جسکے ساتھ بھی آؤں۔۔۔“ نیو اسٹار مال کے سیکنڈ فلور پر کھڑی اس لڑکی نے پوری قوت جمع کر کے لرزتی آواز میں کہا۔۔۔۔،
”دوسری طرف سے قہقہ بلند ہوا۔۔۔۔،

”اچھا تمہاری مرضی۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔“ لائن کٹ گئی،،،کھردری آواز جو کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اتار رہی تھی آنا بند ہو گئی،آس پاس زندگی کا ہنگامہ جاری و ساری تھا،اسکا وجود برف بن کر رہ گیا تھا، کیا کرے گا وہ۔۔۔۔۔ کیا سرمد کو کُچھ کرے گا۔۔۔۔۔۔ لرزتے کانپتے وجود میں وسوسے ناگ کی طرح پھن پھلائے ناچنے لگے، وہاں کھڑے اسے لگا کہ وہ پتھر بن گئی ہے۔۔۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں گویا مفلوج ہو گئیں ہوں،، سرمد۔۔۔سرمد۔۔۔وہ خطرے میں ہے۔۔۔۔۔میری وجہ سے وہ خطرے میں ہے۔۔۔۔۔ ذہن میں بس ایک ہی بات گونج رہی تھی۔۔۔
”اجیہ۔۔کیا بات ہے۔۔؟ کیا ہوا۔۔۔؟“ سرمد کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔ دماغ میں ڈھیروں خیالات گُڈ مڈ ہو رہے تھے، اسے کُچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
”آپ کی جان کو خطرہ ہے۔۔آپ یہاں سے چلیں جائیں۔۔۔“ بہت کوشش کے بات بس وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
”ارے۔۔کیسا خطرہ اجیہ۔۔کیا بات ہے۔۔؟کوئی پریشانی ہے آپ کو۔۔؟ مجھے بتائیں۔ ڈریں نہیں پلیز۔“ سرمد نے اپنائیت سے اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھتے اسکو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔۔

”نہیں۔۔نہیں۔۔آپ جائیں یہاں سے۔۔جائیں۔۔جلدی۔۔۔“ کسی ربوٹ کی طرح وہ کہتے لفٹ کی طرف مڑ گئی تھی۔
’اجیہ۔۔۔رکیں۔۔“ سرمد اسکے پیچھے لپکا تھا لیکن تبھی اپنے بہت قریب اسے کہیں کسی دھماکہ کے پٹھنے کی آواز سنائی دی تھی، اسکے اگلے ہی لمحے کئی چیخیں ایک ساتھ بلند ہوئی تھیں اور پھر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اسے اپنے دائیں بازو میں لاوا پھٹتا محسوس ہواتھا۔۔۔ اللہ۔۔۔اللہ۔۔۔۔بے طرح اسکے لب پکارے تھے۔۔۔۔ دوسرے ہی لمحے اسے اپنا وجود بہت ہلکا ہو کر اوپر اُٹھتا محسوس ہوا تھا۔۔۔اور پھر اذیت و تکلیف کی لہریں اسکے وجود پر چھائی تھیں۔۔۔بہت زور سے وہ چلائی تھی۔ اسکا ہاتھ اپنے بازو پر گیا تھا۔۔۔۔ سُرخ ابلتا گرم خون فوارے کی طرح وہاں سے نکلا تھا، زندگی میں پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والی اجیہ کی آنکھیں درد،خوف اور اذیت اور دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں، چند لمحوں بعد غنودگی میں جاتے اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ نازک وجود جو پھولوں پر لیٹنے کے لیے بنایا گیا تھا،زمین پر گر رہا ہے۔۔۔۔

کٹے ہوئے درخت کی طرح فرش پر پوری قوت سے گرتے ہوئے اسکا سر فرش پر پڑی کسی نوکیلی چیز سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔ درد کی اذیت ناک لہر نے اسکے اندر آگ لگا دی تھی۔۔ سر پھٹ گیا تھا ادھر سے خون سیاہ اسکارف کو رنگین کرتا نکلا تھا۔۔، اسکے ہوش و حواس گم ہوتے جا رہے تھے، کوئی بہت زور سے چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔پورے مال میں ہنگامہ مچ گیا تھا۔۔سیکورٹی تیزی سے حرکت میں آئی تھی لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔ بازو اور سر سے بہتا خون بہت تیزی سے دور تک پھیلتا گیا تھا۔۔ موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔۔۔پرس نا جانے کہاں پڑا تھا۔۔۔۔۔،

اسکی آنکھیں بے نور ہو گئیں تھیں۔۔۔۔ ذہن پر سیاہ پردے چھاتے جا رہے تھے۔۔۔۔درد اور تکلیف بہت شدید تھی۔۔۔۔اسنے آخری بار خود پر سرمد کو جھکے ہوئے پایا تھا۔۔۔اور پھر اسکی آنکھوں کے سامنے تاریک رات چھا گئی تھی۔۔۔اسکا ذہن اندھیرے میں ڈوبتا گیاتھا۔۔۔۔نم آنکھوں میں بے پناہ بے یقینی سموئے ہوئے وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔۔!!

٭٭٭

(جاری ہے …..)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。