Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر41
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر41

سورج کا دہکتا انگارہ روز کی طرح اپنے وقت پر رخصت ہونے کی تیاری کر رہا تھا نیلا شفاف آسمان سیاہی مائل ہوتا جا رہا تھا روز صبح کے طُلوع ہوتے ہی اپنے ننھے بچوں کو گھونسلے میں تنہا چھوڑ کر رزق کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے والے پرندے دن کے ختم ہونے پر آسودہ ہو کر بہت تیزی سے اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہے تھے ۔

سینے میں قید ننھے سے دل میں اپنے معصوم بچوں سے ملنے کی تڑپ لیے وہ روز کی طرح واپس جاتے ہوئے بہت خوش تھے سورج مکھی کا خوبصورت پھول آج بھی روز کی طرح سورج کے غروب ہوتے ہی اداس ہو کر جھک گیا تھا مغرب کی اذان کا شیریں نغمہ فضا میں فسوں بکھیرتا بکھیرتا ختم ہو چکا تھا کائنات میں موجود ہر مخلوق نے اپنے خال کی حمدو ثنا ء کی تھی ٹھنڈی ہوا نے پھولوں کی مہک کو بہت دور تک وسعت دی تھی۔۔۔۔۔

نیم کے گھنے درختوں سے ڈھکے اس فٹ پاتھ کے پیچھے کسی مغرور بادشاہ کی طرح کھڑے ہوئے شاندار بنگلے کی اوپری منزل کے ایک کمرے کی کھڑکیوں کے پردے گرے ہوئے تھے، گلابی اور سفید رنگ کے امتزاج سے سجے اس کمرے کی ہر چیز دیدہ زیب تھی اور ان چیزوں کے استعمال کرنے والے کے اعلی ذوق کی ترجمانی کر رہی تھی،چھت کے وسط میں لٹکے دلکش گلابی چمچماتے فانوس کے عین نیچے کارپٹ پر کوئی بہت بے قراری اور بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ ہلکے سبز رنگ کا کرتا اور گہرے رنگ کی جینز پہنے ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے بار بار موبائل کو دیکھتے اس لڑکی کا اضطراب بہت واضح محسوس ہو رہا تھا، چند لمحے پریشانی سے ٹہلتے رہنے کے بعد وہ جیسے تھک کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی تبھی اسکے موبائل کی اسکرین جگمگائی اور میسج ٹون کی آواز کمرے کے بوجھل پن کو کسی حد تک کم کرتی گونجی اور اس لڑکی کے سپاٹ چہرے پر نرم مسکراہٹ بکھیر گئی، ہاتھ بڑھا کر اسنے موبائل اُٹھایا اور اسکرین چھو کر اسنے آنے والا پیغام کھولا،

”کیا بات ہے نائلہ۔۔۔کوئی کام ہے؟؟؟“ قاسم کا میسج تھا، اسکا بے اختیار دل چاہا کہ واٹس اپ پر اسے کال کر کے اسے سب بتا دے لیکن اجیہ۔۔۔؟؟؟

”ہاں تھوڑی دیر بعد پلیز کال کر لینا مجھے۔۔۔۔“رپلائی دے کر وہ بیڈ پر نیم دراز ہو گئ،

”اوکے۔!!“اگلے ہی لمحے قاسم کا رپلائی آیا تھا۔اسنے مسکراتے لبوں سے ہمیشہ کی طرح اسکا پیغام محفوظ کیا اور موبائل کو دور دھکیل دیا۔

اسکے موبائل میں چارجنگ ختم ہوگئی تھی اورصبح سے چارج کرنے کا خیال نہیں آیا تھا۔ ابھی ابھی موبائل چارج کرکے کھولا تھا تو اجیہ کی مس کالز دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی تھی۔ ایک خیال کے تحت اسنے موبائل دوبارہ ہاتھ میں لیا اور لیٹے لیٹے ہی اجیہ کا نمبر ری ڈائل کرنے لگی، ایک بار اور اجیہ کو کال کر کے دیکھ لیتی ہوں معلوم نہیں وہ کال کیوں ریسیو نہیں کر رہی اسکی آپی کا نمبر بھی آف ہے، پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔، اب کی بار اجیہ کا نمبر بند نہیں تھا لائن جا رہی تھی اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی لاؤڈ اسپیکر آن کر کے وہ الفاظ سوچنے لگی جو اسے  اجیہ سے کہنے تھے،

لیکن۔۔۔۔۔۔، اسکی چمکتی آنکھوں میں مایوسی کے سائے لہرائے اجیہ نے پھر کال ریسیو نہیں کی تھی، اداسی سے اسنے مونائل اچھالا اور چھت پر لٹکتے فانوس کو گھورتے کافی دیر سے وہ برابر اجیہ کو کال کر رہی تھی لیکن وہ ریسیو نہیں کر رہی تھی،

کل رات ہی جب اسکی اجیہ سے بات ہوئی تھی تب بھی وہ اسے بہت پریشان لگی تھی۔۔۔۔

ہر ہر بات ہی اس کی ذو معنیٰ لگ رہی تھی اور جب اجیہ نے اسے ناصر کی کال کے بارے میں بتایا تھا تب تو اسکے دل کا بوجھ خطر ناک حد تک بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

دماغ میں بے تحا شا ہتھوڑے برستے ہوئے محسوس ہوئے تھے،

ناصر اجیہ کو کیوں بلا رہا تھا۔۔۔کیا کرنے کے لیے۔۔۔اسے اپنی دوست کے قریب بہت سے خطرے محسوس ہوئے تھے وہ جو کُچھ ناصر کے بارے میں جانتی تھی۔۔۔۔۔اور اب اس بات سے اسکے چودہ طبق

روشن ہوئے تھے تبھی اسنے بظاہر عام سے لہجے میں بہت سختی سے اجیہ کو وہاں جانے سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی کہ کیا بات ہونے والی ہے۔۔۔۔اور جو ہو رہا ہے وہ سب کیوں ہو رہا ہے۔۔۔اس لمحہ اسے اجیہ پر بہت ترس بھی آیا تھا۔۔۔۔۔کتنی پریشانیاں اس سے پہلے ہی چمٹی ہوئی تھیں۔۔۔اور اب یہ نئی مشکل۔۔۔۔معلوم نہیں اجیہ کیسے برداشت کرتی ہے یہ سب۔۔۔کم ز کم میں اگر اسکی جگہ ہوتی تو کب کی ہار مان چکی ہوتی۔۔۔۔

اور پھر ہمیشہ کی طرح اسکے دل میں اجیہ کی عظمت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اگر میں اسکی جگہ ہوتی تو صرف یتیم ہونے کا دکھ ہی مجھے مار ڈالتا لیکن اجیہ سب کچھ سہہ کر اپنی روح کو زخمی کر کے بھی ویسے ہی نظر آتی ہے۔۔۔۔ویسے ہی خوش۔۔اور ہنستی مسکراتی۔۔۔ اور پھر جب اسنے پوچھا تھا کہ نائلہ۔۔۔تم ناصر کے بارے میں کیا جانتی ہو۔۔۔۔تب سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ قاسم کے سامنے اجیہ کو سب کُچھ بتا دے گی۔۔۔۔ایک ایک بات جو وہ ناصر کے بارے میں جانتی ہے۔۔۔۔اور تب ہی اسنے اجیہ سے کہا تھا کہ قاسم کے سامنے مجھے تمھیں سب بتانا چاہیئے کیونکہ اس طرح بہتر ہو گا اور اجیہ ہمیشہ کی طرح مان گئی تھی۔۔۔۔۔ اور آج وہ اسی مقصد کے لیے اجیہ کو بلانا چاہتی تھی لیکن وہ جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔ پریشانی نے اسکے دل کا بوجھ مزید بڑھا دیا تھا۔۔۔۔اور اگر اجیہ نہ آ سکی تو میں پھر قاسم کو تو لازمی سب بتا دوں گی۔۔۔۔۔بہت بوجھل دل سے اسنے فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔،

اب مزید وہ صبر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔، ناصر بہت تیزی سے جال پر جال پھینک رہا تھا اور وہ اتنی بے بسی سے تماشا کیوں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سوچ سوچ کر اسکا سر پھٹنے لگا تھا۔۔۔۔ آخر ناصر چاہتا کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟ ایک طرف وہ اجیہ کو گھیر رہا تھا روز کال کر کے اسے اذیت دیتا رہا۔۔۔اور پھر اب اسے ملنے کے لیے بلا رہا ہے۔۔۔۔، کیا مقصد ہے اسکا۔۔۔۔َ؟؟؟؟؟اجیہ ہی کیوں۔۔۔وہ بے چاری نے کیا بگاڑا ہے اسکا۔۔۔جو وہ بے رحم انسان اس طرح۔۔۔ لیکن نہیں،،۔۔۔۔۔تنگ کرنے والے کب کسی کا بھلا سوچتے ہیں۔۔۔۔۔جو ناصر نے سوچا ہو گا۔۔۔اے کاش میں اپنی پیاری دوست کے لیے کُچھ کر سکتی۔۔۔۔کس قدر پریشان ہے وہ۔۔ایک منٹ۔۔۔وہ ناصر۔۔۔۔۔ اس نے اجیہ کے ساتھ ساتھ قاسم کے ساتھ بھی یہ کھیل کیوں شُروع کیا۔۔۔۔۔

قاسم۔۔۔۔۔ اجیہ کا نمبر مانگنا۔۔۔۔کلب جانا وہ بھی ناصر کے اصرار پر۔۔۔۔اجیہ کا نمبر بھی تو اسنے ناصر کے اصرار پر ہی مانگا تھا۔۔۔۔۔ اس روز صب پانچ بجے ناصر کے نمبر سے کال کر لینا۔۔۔۔۔ او ر۔۔۔۔اور۔۔۔ناصر کا مجھے کال کرنا۔۔۔۔اپنا تعارف کرانا۔۔۔۔ میرے ذریعے ہی اجیہ کا نمبر لینے کا اصرار کرنا۔۔

اُف۔۔۔اُف۔۔۔۔!!!“ وہ بری طرح الجھ کر بیٹھی، شدید ترین کوفت زدہ ہو کر وہ دوبارہ اُٹھ کر ٹہلنے لگی، سبز دوپٹہ بیڈ پر ہی پڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔پیشانی پر شکنوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

ناصر۔۔۔۔۔ناصر۔۔۔۔۔ناصر۔۔۔۔

کتنے لوگوں کو تم نے بے سکون کر دیا ہے۔۔۔آہ۔۔۔۔اے کاش میں تمھارے ساتھ بھی وہ سب کرسکوں جو تم کررہے ہو۔۔۔۔

ایک منٹ۔۔ایک منٹ۔۔۔ ابھی صرف قاسم۔۔۔۔۔ اسکے ساتھ ایسا کیو ں کر رہا ہے ناصر۔۔۔۔ اتنا کھیل کیوں کھیل رہا ہے۔۔۔کیا صرف اسے ستانے کے لیے۔۔۔لیکن محض تنگ کرنے کے لیے کوئی بے وقوف بھی اپنا دماغ نہیں کھپاتا ہ تو پھر کیا مقصد۔۔۔۔کیا مقصد ہو سکتا ہے اس کھیل کا جو برھتا ہی جا رہا ہے۔۔۔۔چالیں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔شطرنج کی چالیں۔۔۔۔۔ختم کب ہوتی ہیں۔۔۔۔ سوچو،نائلہ۔۔۔۔پلیز سوچو۔۔۔قاسم اور اجیہ دونوں تمھاری زندگی ہیں۔۔۔۔ان کے بغیر تم کُچھ بھی نہیں ہو۔۔۔ان دونوں کی پریشانی تمھاری پریشانی ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر کیوں کُچھ کرتی نہیں ہو۔۔۔۔ وہ بے قراری سے ٹہلتے ہوئے بلند آواز میں خود سے مخاطب تھی۔۔۔۔ قاسم کیوں۔۔۔اسکو ہی کیوں۔۔۔۔ ارے نہیں۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔ اسکی آنکھیں بہت زور سے چمکی تھیں۔۔۔۔، میں تو بھول ہی گئی تھی کہ قاسم۔۔۔۔اے ایل سی۔۔۔۔عباس لیدر کمپنی کا ایم ڈی بھی تو ہے۔۔۔ تو ناصر کے کھیل کا۔۔۔

کیا اسکے کھیل کا اس بات سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔۔۔اسکے ایم ڈی ہونے سے۔۔۔۔ فانوس کے عین نیچے کھڑے ہوئے اسنے اپنی تمام ذہانت استعمال کی تھی۔۔۔ ہاں بالکل ہو سکتا ہے۔۔قاسم کی دولت حاصل کرنے کے للیے۔۔۔ہاں نا۔۔۔اسی لیے تو یہ کھیل کھیلا اجا رہا ہے۔۔۔۔لیکن پھر اجیہ اسکے ساتھ کیوں۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر الجھ گئی۔۔اجیہ کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے یہ سب کُچھ۔۔۔ اجیہ کے ساتھ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔اوہ ہ ہ ہ  ہ۔۔۔۔اجیہ۔۔۔وہ ابھی تو انصاری گارمنٹس کی دو وارثوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔ تب پھر۔۔۔ ان دونوں باتوں کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔۔۔۔ اجیہ اور قاسم۔۔۔؟؟؟ اے ایل سی اور اے جی ایف۔۔۔۔؟؟؟؟ کمرے کے وسط میں کھڑی نائلہ کے ذہن میں کہیں بہت دور اندر ہی اندر یقین ہو رہا تھا کہ و ہ منزل پر پہنچنے والی ہے۔۔۔۔لیکن کیسے۔۔۔؟؟؟؟ وہ کشمکش میں تھی۔۔ ایک منٹ،،۔۔۔۔۔ ذرا رکو۔۔۔ مجھے اب اس رخ پر تھوڑا غور کرنا چاہیئے۔۔۔

پتہ نہیں اسکا دماغ بہت پیچھا چلا گیا تھا۔جب وہ میٹر ک میں تھی اور ابو نے اسے ایک دن بلایا تھا اور اسے بہت کُچھ بتایا تھا۔۔کیا کیا بتایا تھا۔۔۔ہاں۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے جی ایف اور انکی کمپنی انٹرنیشنل مارکیٹ میں پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔۔۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔اسی وقت انہوں نے مجھے اجیہ سے دوستی توڑنے کے لیے کہا تھا۔۔۔۔کیوں۔۔۔کیوں کہ وہ انکے حریف کمپنی کے مالک کی بیٹی تھی۔۔۔۔ ہاں۔ہاں۔۔۔ اسی لیے تو پھر ناصر کے کھیل کا اس بات سے بھی تعلق ہو سکتا ہے کیا۔۔۔۔ سوچو جلدی۔۔۔۔ تم قریب پہنچنے والی ہو۔۔۔۔ کوئی بار بار اسکے اندر سر گوشی کر رہا تھا۔۔پتہ نہیں ایک خوشی سی اسکے اندر ابھرنے لگی تب پھر کیا ابھی بھی ان دونوں کمپنیوں کے درمیان ویسی ہی دشمنی برقرار ہے۔۔؟؟؟ یہ تو قاسم سے پوچھنا پڑے گا۔۔۔ کاش کے یہ دشمنی ختم ہو گئی ہو۔۔۔ لیکن نہیں پھر تو۔۔۔ اُف۔۔۔وہ پھر پھنس گئی۔۔۔لیکن دل میں نا محسوس سی افسردگی اترتی محسوس ہوئی۔۔۔۔دھیمے قدموں سے چلتی وہ بیڈ تک آئی۔۔۔۔اور موبائل اُٹھانے کے لیے وہ جھک کر ہاتھ بڑھایا۔۔تب ہی انکمنگ کال پورے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔،

بڑھتے ہاتھ کو اور تیزی سے بڑھا کر اسنے موبائل اُٹھا کر جلتی بجھتی اسکرین کو چہرے کے سامنے کیا قاسم کا نام روشن تھا۔۔۔۔وہ دل سے مسکرائی ہمیشہ کی طرح فرحت بخش احساس اسکے اندر اترا تھا۔۔۔۔،اسکرین کو ہلکے سے چھو کر اسنے کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگایا۔۔۔

”السلام و علیکم۔۔“

”وعلیکم السلام۔۔۔۔کیسی ہو نائلہ۔۔۔۔۔؟؟؟؟“اسکی آواز ویسے ہی مسکرا رہی تھی جیسے ہمیشہ سے وہ اسکی عادی تھی۔۔۔۔۔،

”تم کیسے ہو۔۔۔؟؟؟“ اسنے جواب دینے کی بجائے سوال کیا تھا۔۔۔۔

”میں تو ٹھیک ہوں۔۔۔۔“ وہ ہلکا سا ہنسا۔۔،

”اچھا تم ٹھیک ہو تو میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔“ ایک لمحہ کے لیے جذبات غالب آئے تھے،،،

”اوہ اچھا۔۔۔۔گُڈ۔۔۔۔ُ“ وہ جیسے بہت خوش ہوا تھا۔۔۔،، چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی،

”نائلہ۔“ قاسم نے ہولے سے اسے پکارا۔

”ہاں۔۔۔“وہ الفاظ ڈھونڈ رہی تھی۔۔

”کیا کام ہے۔۔۔پریشان لگ رہی ہو۔۔۔۔؟؟“ وہ دھیمے لہجے میں بولا۔۔۔،

”ہاں قاسم میں بہت پریشان ہوں۔۔۔“وہ بھی دھیمے لہجے میں بات کر رہی تھی۔۔،

”کیوں۔۔۔۔مجھ سے شئیر کرو گی؟؟“

”ظاہر ہے تم سے ہی شئیر کرونگی۔۔۔۔“

”ہاں۔۔بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔؟؟؟“

”نہیں۔۔۔قاسم اسطرح نہیں۔۔تم گھر آ سکتے ہو۔۔۔۔؟؟؟؟کہیں باہر جا کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔؟؟“

”کیا ضروری ہے۔۔؟؟؟؟“

”ہاں بہت ضروری ہے۔۔۔اگر بزی ہو تو رہنے دو۔۔۔“

”نہیں بزی نہیں ہوں میں۔۔۔اوکے آتا ہوں دس منٹ میں۔۔۔۔“

”شکریہ قاسم میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔“

”اوکے بائے۔۔۔۔“

”بائے۔۔۔۔“ کال کاٹ کر اسنے موبائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا۔۔اور قد آور آئینے میں اپنا جائزہ لیا۔۔۔، چینج کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔، بس یہی ٹھیک ہے،اسنے ہاتھ سے کرتے کی شکنیں درست کیں۔۔۔، چہرہ تھکا تھکااور پرمثر دہ ہو رہا تھا، وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی، ہاتھ منہ دھو کر نکلی تو چہرے کی رونق کسی قدر بحال ہوئی تھی، تولیے سے چہری تھپتھپا کر اسنے بال کھولے اور برش کرنے لگی پونی ٹیل باندھ کر اسنے کلائی کے گرد رسٹ واچ مقید کی،

پلٹ کر بیڈ پر سے دوپٹہ اُٹھایا اور حسب عاد ت گلے میں ڈالنے لگی لیکن پھر، کُچھ سوچ کر مسکرائی اور چہرے کے گرد نماز کے سے انداز میں دوپٹہ مولڈ کر لیا ہلکا سبز دوپٹہ اسکے صبیح چہرے پر بہت جچ رہا تھا، اجیہ کی ڈریسنگ کا اثر آہستہ آہستہ ہی سہی۔۔۔ لیکن اسکا دل اور دماغ اب وہ اثر قبو ل کر رہے تھے۔۔۔۔ بہت بار اجیہ نے کہا تھا کہ نائلہ تم اسکارف میں ذیادہ پیاری لگو گی۔۔۔۔ لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتی تھی۔۔۔،۔۔ اور اب آئینے میں اسے خود کو دیکھتے ہوئے اپنا آپ بہت پیارا لگ رہا تھا۔۔۔ لو ثابت ہوا کہ اجیہ ک تمام باتوں کی طرح یہ بات بھی فیصد درست ثابت ہوئی تھی۔

وہ آپ ہی آپ ہنس پڑی۔۔ پھر باڈی سپرے خود پر چھڑکا، کلچ میں موبائل ڈالا اور اسکی چین کو فولڈ کر کے ہاتھ میں پکڑ لیا، ایک نظر دوبارہ اپنا آئینے میں جائزہ لیا مسکرائی۔۔،جاگرز پہلنے،، اور دروازہ لاک کر کے باہر آگئی۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے ۔۔۔)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。