Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر42
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر42

تب ہی قاسم کی کار کا ہارن اسکی سماعتوں سے ٹکرایا تھا وہ اس آواز کو پہچانتی تھی۔۔۔لبوں پر پھر ایک بار مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔، بہت تیزی سے سیڑھیاں پھلانگ کرنیچے پہنچی۔۔۔۔۔تو چوکیدار نے اُٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔، وہ باہر نکلی تو بالکل سامنے ہی گرے کار چمچما رہی تھی، لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے قاسم کا نائلہ کو دیکھ کر کار سے ذیادہ چہرہ چمچمایاتھا۔۔۔۔۔۔

سر کے اشارے سے وش کر کے وہ قریب آئی تو اسنے فرنٹ ڈور کھول دیا نائلہ بیٹھ گئی تو اسنے کار آگے بڑھا دی۔۔۔، چوکیدار دروازہ بند کر کے دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔، جب کار گلیوں سے گزر کر روڈ پر آ گئی تو قاسم نے گلا کھنکارا،

”نائلہ۔۔۔۔؟؟“ وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سوچ میں گم ان تمام باتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو ناصر کے بارے میں اسے قاس کو بتانی تھیں۔۔۔قاسم کی آواز پر چونکی،

”کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟“بولتے ہوئے اسکی آنکھیں مسکرائیں تھیں

”خاموش کیوں ہو۔۔۔“وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔،

”نہیں میں سوچ رہی ہوں۔۔۔۔“بے ساختہ مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔،

”کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟“روڈ پر ٹریفک بہت کم تھا اسکے باوجود اسنے کار کی اسپیڈ بہت ہلکی کر رکھی تھی۔۔۔،

”پتہ نہیں۔۔۔“

اب کی بار اسکا لہجہ الجھن زدہ تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بات کہاں سے شُروع کرے اور جب بات کرنے کے لیے کوئی موضوع نہیں ملتا تب ایسی ہی بے سرو پا باتیں ہی تو کی جاتی ہیں۔۔۔۔، لیکن اسکے پاس تو موضوع تھا پھر بھی۔۔۔؟؟

قاسم نے گردن موڑ کر اسکو دیکھ اسکے چہرے پر الجھن آمیز پریشانی نمایاں تھی وہ پریشان ہوا۔۔۔۔،

”کیوں پریشان ہو نائلہ۔۔؟؟؟؟“

اسنے نگاہیں اُٹھا کر قاسم کو دیکھا۔۔،

تم پریشان نہیں ہو۔۔۔؟؟؟؟“

اسکی آنکھوں میں الجھن ابھری۔۔۔،

”میں کیوں پریشان ہوں گا۔۔؟؟“

”ناصر والی باتوں اور واقعات کی وجہ سے۔۔۔؟؟“

اسنے بات کرنے کے لیے سر پکڑنے کی کوشش کی۔۔،

”ہاں وہ تو پریشان ہوں لیکن تم ساتھ ہوتی ہو تو ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔“

کار کی رفتار تھوڑی تیز کی تھی اسنے وہ دھیمے سے مسکرائی۔۔،

”قاسم تم نے ناصر کو اجیہ کا نمبر دے دیا۔۔۔۔؟؟“

آس پاس تاریکی میں بھی زندگی رواں دواں تھی۔۔۔،

”ہاں دے دیا۔۔“

اسکے دل میں ہوک سی اُٹھی،

”کیوں پوچھ رہی ہو۔۔؟؟؟“

”کُچھ نہیں تو تمھیں بھی بے وقوف بنا دیا اس عیار انسان نے۔۔۔۔۔“

شاید کوئی سامنے جانور آ گیا تھا قاسم کا پاؤں پوری شدت سے اکسلریٹر پر جا پڑا۔۔۔،

”کیا کہہ رہی ہو۔۔۔“

وہ حیرت زدہ رہ گیا تھا،

”میں کہہ رہی ہوں ناصر نے تمھیں بہت اچھی طرح بے وقوف بنایا ہے۔۔“

نائلہ ذرا سا جھک کر زور دے کر بولی۔۔

”اُف۔۔۔۔!!“

اسے کوفت ہوئی۔۔۔۔،

”کیا کہنا چاہ رہی ہو۔۔۔“

وہ اسکی طرف مڑی۔۔،چہرہ سپات تھا اور ہونٹ زرد ہو رہے تھے،

”تم کار کہیں پارک کرو۔۔۔میں بتاتی ہوں۔۔۔!“

قاسم کی الجھن مزید بڑھ گئی تھی،

لیکن اسنے تمام سر اُٹھاتے سوالوں کو روکا اور ایک کونے میں لے جا کر کار پارک کر دی۔۔۔،

آس پاس بہت اندھیرا تھا،بہت دور ایک سپر اسٹور سے روشنیاں نکلتی نظر آ رہی تھیں اسٹریٹ لائٹ کی روشنی اس گلی کے اندھیرے کے لیے ناکافی تھی۔۔۔۔،

قاسم گہری سانسیں لے کر نائلہ کی طرف مڑا۔۔۔۔

”ہاں اب بولو۔۔۔۔!!“

نائلہ الفاظ اکٹھے کر چکی تھی۔۔۔۔،

”دیکھو قاسم،ناصر نے جب تم سے اجیہ کا نمبر مانگا  اس سے بہت پہلے وہ اجیہ کو روز کال کرتا تھا۔۔۔۔روز رات نو بجے۔۔۔اور حیرت والی بات بتاؤں وہ کال کر کے خاموش ہو جاتا تھا۔۔۔،اس دن اجیہ نے جس رانگ نمبر کے بارے میں بتایا تھا وہ یہی والی بات تھی۔۔تم نے جب مجھ سے پوچھا تھا تو میں نہیں چاہتی تھی کہ تمھیں اس بارے میں پتہ چلے اسلیے میں نے نہیں بتایا تھا تمھیں تو تم نارض ہو گئے تھے میں نہیں چاہتی تھی کہ میری دوست کی عزت پر کوئی حرف آئے لیکن قاسم اب۔۔۔۔۔اسکے بعد میں نے بہت سوچا لیکن۔۔۔۔اور پھرمجھے یہی سمجھ آیا کہ تمھیں سب بتا دوں کیوں کہ میں خود تو کُچھ نہیں کر سکتی تم تو۔۔۔۔انٹر نیشنل کمپنی کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر ہونے کی وجہ سے بہت کُچھ کر سکتے ہو۔۔۔ہے نا قاسم۔۔۔؟؟“

وہ سانس لینے کے لیے رکی اور ہکا بکا بیٹھے قاسم کو امید سے دیکھا۔۔،

”ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔۔مجھے،۔۔۔مجھے کُچھ سمجھ نہیں آرہا ہے نائلہ۔۔“

نائلہ طنز سے مسکرائی،

”ایک بات جانتے ہو۔۔۔؟؟؟جو شخص کُچھ نہیں جانتا وہ بہت خوش نصیب ہوتا ہے۔۔۔۔مجھے دیکھو مجھے بہت زیادہ معلوم ہے اس کھیل کے بارے میں۔۔۔جو ناصر کھیل رہا ہے۔۔۔ا۔ور یہی جاننا میرے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔۔۔۔میں پاگل ہوئی جا رہی ہوں قاسم۔۔۔۔سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں۔۔۔۔اضطرابیت لہجے میں کہتے کہتے اسکا لہجہ بھیگ گیا تھا۔۔۔،

قاسم کو لگا اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوتی جا رہی ہے۔۔۔،

”اچھا قاسم پریشان مت ہو۔۔۔۔میں بتاتی ہوں تمھیں۔۔۔!!“

اسنے گہری سانس لے کر سیٹ کی پشت سے سر ٹیک دیا۔۔۔،

”اس کھیل کے بارے میں مجھے جتنا معلوم ہے میں بتاتی ہوں۔۔۔۔پھر تمھیں جو معلوم ہے تم بتانا۔۔۔میں چاہتی ہوں اجیہ بھی آ جاتی لیکن وہ معلوم نہیں کیوں کال ریسیو نہیں کر رہی۔۔۔۔واٹس اپ بھی آ ن نہیں ہے اسکا۔۔لیکن خیر تم بھی بتاؤ  گے نا سب کُچھ۔۔۔۔؟؟؟پھر ہم دونوں کی باتوں کو ملا کر نتیجہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔ٹھیک۔۔۔؟؟؟؟“

نائلہ آخر میں مسکرائی۔۔،

قاسم کے الجھن بھرے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمو دار ہوئی،

”ہاں۔۔۔اوکے!!!“‘

اب اسے تھوڑا بہت سمھ آ رہی تھی کہ نائلہ کس موضوع پر بات کرنا چاہ رہی ہے۔۔۔۔،

”اچھا اب میری ساری باتوں کو غور سے سنو۔۔دیکھو سب سے پہلے یہ کھیل مجھ سے تب ٹکرایا جب ناصر نے مجھے کینٹین میں کال کی اور اپنا تعارف کروایاا ور بتایا کہ وہ تمھارا دوست ہے اور پچھلے ہفتے ہی ہوئے ہیں تمھاری دوستی ہوئی ہے اس سے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔بہر حال میں نے اس کال کو ذیادہ اہمیت نہیں دی۔۔۔۔اسی دن اجیہ نے مجھے اس رانگ کال کے بارے میں بتایا میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی مگر اسکی آگے باتیں سن کر میں پریشان ہو گئی۔۔۔پھر اسنے مجھے وہ نمبر ٹریس کروانے کے لیے دے دیا اور گھر آ کر میں ڈر رہی تھی کہ ابو سے کیسے کہوں۔۔انہوں نے تو مجھے بہت پہلے ہی اجیہ سے دوستی توڑنے کا کہہ دیا تھا لیکن پھر میں نے ابو سے کُچھ بھی نہیں کہا پھر اتفاق ایسا ہوا کہ مجھے۔۔۔یعنی میرے ہاتھ سے وہ سلپ گر گئی جس پر اجیہ نے وہ رانگ نمبر لکھ کر مجھے دیا تھا وہ نمبر جب میں نے دیکھا تو میں نہیں بتا سکتی کس قدر پریشانی اور ہراساں ہوئی تھی میں۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آ ررہا تھا۔۔۔کہ ایسا ہو سکتا ہے پھر میں نے احیتاط کے لیے بھی کال لاگ کے ساتھ موازنہ کیا وہ دونوں نمبر ایک ہی تھے۔۔۔۔۔اس دن میں بہت پریشان رہی اور میری طبیعت بھی خراب ہو گئی تھی،

بہت مشکل سے مجھے نیند آئی اور تین چار گھنٹے بعد ہی موبائل کی آواز سے میں دوبارہ اُٹھ گئی اور پھر تم سوچ سکتے ہو کیا حالت ہوئی ہو گی میری بہت وحشت زدہ ہو کر میں نے وہ کال ریسیو کی تھی اور تمھاری آواز سن کر تو مجھے لگا کہ میں پاگل ہو جاؤنگی۔۔۔۔تم کلب گئے تھے اور میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھی اور پھر تم نے اجیہ کا نمبر مانگا۔۔۔۔قاسم۔۔۔۔۔میں اس وقت کس حد تک جا کر ڈپریس ہوئی تھی۔۔۔۔۔اُف!!۔۔۔۔

مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ ناصر نے ہی تم سے کہا ہے اور تم نے مجھے بتایا کہ بلیک میل بھی ہو رہے ہو تم تو تب میں بہت آسانی کے ساتھ سمجھ گئی تھی کہ کس بات کو لے کر تمھیں دھمکایا جا رہا ہے۔۔۔۔میں جانتی ہوں ایسی باتیں کتنی آسانی سے اسکینڈل بنا دی جاتی ہیں۔۔۔۔۔اسی لیے میں نے اجیہ کو تم سے یونیورسٹی میں ملوایا تھا کیونکہ ایک طرف تمھاری مجبوری تھی دوسری طرف اجیہ تھی میں اسے دھوکہ نہیں دے سکتی تھی۔۔۔

اور۔۔۔۔اور آگے جو کُچھ ہوا وہ تمھیں معلوم ہی ہے۔۔۔

اورہاں وہ ایک بات اور کہ کل جب معمول کے مطابق اجیہ کو وہ رانگ کال آئی تو۔۔۔۔تب ناصر نے بتا دیا اپنا آپ  ظاہر کر دیا اس سے پہلے اجیہ نہیں جانتی تھی اور اسنے بہت بیہودہ باتیں کیں اجیہ سے۔۔۔۔۔اور ا۔۔۔۔اور۔۔۔۔اسے کہا کہ وہ ڈالمن مال آئے پانچ بجے اس سے ملنے۔۔۔اجیہ بہت ڈر گئی تھی لیکن میں نے سے منع کر دیا تھا جانے سے۔۔اب آگے پتہ نہیں کہ آج کیا ہوا ہے کہ وہ کال نہیں اُٹھا رہی۔۔۔

ہاں ناصر۔۔ اجیہ نے بہت بار ناصر کے نمبرز بلاک کیے لیک وہ دوسرے نمبرز سے کال کر لیتا تھا اسے پتہ کیسے چلتا تھا کہ وہ اجیہ۔۔۔اسنے نمبر بلاک کر دیا ہے۔۔۔کیسے پتہ چلتا تھا۔۔۔۔؟؟؟؟؟

سوہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سامنے اندھیرے میں دیکھتے ہوئے بولتی جا رہی تھی بغیر رکے۔۔۔۔بغیر سانس لیے۔۔۔۔

یوں جیسے کچھ دیر رکنے سے کوئی بات بتانے سے رہ جائے گی۔۔۔

آخری بات کہہ کر اسنے رُخ موڑ کر قاسم کو دیکھا۔۔۔،

پتہ نہیں کس با ت پر اسکی آنکھیں نمناک ہو رہیں تھیں۔۔

وہ پریشان ہوئی۔۔۔،

”ایسا تو کُچھ نہیں کہا میں ۔۔۔،“

ؔؔؔ”کیا ہوا ہے قاسم۔۔۔۔؟؟“

آگے ہو کر اسنے قاسم کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔۔۔،

”نن۔۔۔نن۔۔۔نہیں کُچھ نہیں ہوا!!“

وہ ہڑ بڑا کر بولا تو اسکی آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی،

”نائلہ کیا کیا بتا دیا تم نے۔۔۔۔کتنا کُچھ سمجھ آ گیا اب مجھے۔۔۔!!“

اسنے تھکی تھکی سی آواز میں کہہ کر پشت سے سر ٹیک دیا

”نائلہ۔۔۔نائلہ۔۔۔“

وہ خود فراموشی کی حالت میں پکار رہا تھا۔۔،

”اور کوئی بات تو نہیں بتانی ہے مجھے۔۔۔؟؟“

آنکھیں بند کیے وہ بڑ بڑایا تھا۔۔،

”ہاں بتانی ہے۔۔۔۔!!“

نائلہ نے آہستہ سے کہا تو قاسم کی آنکھیں جھٹکے سے کھلیں۔۔۔۔۔۔

”اور کیابتانا ہے۔۔۔؟“وہ بری طرح چلا رہا تھا۔۔۔۔اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں،

”کافی نہیں ہے۔اتنا کُچھ۔۔۔!!“

وہ اپنا کنٹرول کھو رہا تھا،

نائلہ بس خاموشی سے اسے تکے گئی،اسکی آنکھوں میں آنسو جمع ہو رہے تھے،

”ناصر…ناصر…..اجیہ۔۔۔۔۔نائلہ۔۔کیوں سب مل کر میرا سکون برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔؟؟کیا بگاڑا ہے میں نے کسی کا۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟؟

خطرناک حد تک سُرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ چلاتے ہوئے ڈپریشن کی آخری حد تک پہنچا تھا،

نائلہ نے دھندلے ہوتے منظر میں بمشکل اسے ایک نظر دیکھا تھا اور دروازہ کھو ل کر باہر نکل گئی،

اندھیری رات میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی آنکھوں سے دو آنسوؤں کے قطرے پھسلتے گئے تھے دور آسمان پر چاند کی مسکراہٹ دھیمی ہوئی تھی،ستاروں کی جھلملاہٹ میں نا محسوس سی کمی آئی تھی،

وہ سینے پر ہاتھ باندھے آنسوؤں کو اندر اتارتے دھیمے قدموں سے چلتے بہت دور آ گئی تھی کار میں بیٹھا قاسم بہت پیچھے رہ گیا تھا سپر اسٹور کی روشنیاں نزدیک آ گئی تھیں،

سر جھکائے چلتے ہوئے اسکے لیے اندر ابلتے لاوے کو ضبط کرنا بہت مشکل تھا،

قاسم کبھی اس پر اس طرح نہیں چلایا تھا اس طرح اسے مورد الزام نہیں ٹھہرایا تھا وہ تو قاسم سے اپنی پریشانی شئیر کرنا چاہتی تھی جتنی ذیادہ ان دنوں وہ خود پریشان تھی،۔۔۔۔۔۔

اور جیسے پہلے وہ نہیں چاہتی تھی کہ قاسم کو پتہ چلے لیکن اس طرح تو کُچھ نہیں ہو سکتا ہے وہ اکیلے تو ناصر کے خلاف کبھی بھی کُچھ نہ کر سکتی ضروری تھا کہ قاسم کو سب بتائے۔۔۔

لیکن اب جب اس نے بہت سوچ سمجھ کر قاسم کو بتانا شُروع کیا تھا۔۔۔۔

تو اسکا جو رد عمل جو سامنے آ یا تھا وہ اسکے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔۔۔۔

اسکے وہم و گما ن میں بھی نہیں تھا کہ قاسم اس طرح چلائے گا،

لیکن وہ چلایا بھی تھا اور۔۔۔اور یہ تک کہہ دیا کہ وہ اسکا سکون برباد کر رہی ہے۔۔۔۔وہ جو اس پر جان دیتی تھی کیسے اسکا سکون برباد کرنے کے بارے میں سوچ سکتی تھی۔۔۔۔

کیا قاسم کو یہ نہیں پتہ۔۔۔۔؟؟؟

اسکے اندر بہت کُچھ ٹوٹا تھا۔۔۔۔شاید اعتبار۔۔

کہ قاسم کو بتا کر غلطی کی میں نے۔۔۔۔صرف اجیہ کو ہی بتا دیتی۔۔۔اداسی سے چلتے چلتے یکدم اسے لگا تھا کہ وہ بہت تھک گئی ہے۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں شاید دل پر بوجھ کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔اس لیے تھکن ذیادہ ہو گئی تھی۔۔۔۔،

(جاری ہے ۔۔)