Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر43
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر43

وہ گالوں پر پھسلتے آنسوؤں کو نظر انداز کر کے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

آسمان پر ستارے بہت زور سے چمکے تھے۔۔۔۔ گھنٹوں کے گرد بازوپھیلا کر وہ خود میں بہت سمٹ گئی اور سر جھکا لیا،

شاید سردی ذیادہ ہو رہی تھی یا صرف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔

اب کی بار آنکھوں میں تیرتا سیلاب بند توڑنے کے لیے مچلا تھا تو اس نے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔،

آس پاس تھا ہی کون سوائے اللہ کے۔۔۔۔

اسکے جو ہمیشہ آنسو پونچھتا تھا وہ کہیں بہت دور رہ گیا تھا،

ٹپ ٹپ قطرے گود میں گر رہے تھے لب بینچے وہ بے آواز رو رہی تھی،

تاریکی میں سبز دوپٹہ بھی تاریک لگ رہا تھا بلکہ اس وقت تو ہر چیز ہی تاریک لگ رہی تھی،

کیونکہ۔۔۔

رات کی تاریکی میں بعض لوگوں کو سب تاریک نظر آیا کرتا ہے نا۔۔۔۔

تبھی اسے دوڑتے قدموں کی آواز سنائی دی حرکت کیے بغیر وہ یوں ہی تھوڑا سا پیچھے ہو گئی تھی،

تاکہ دوڑنے والا اسے دیکھے بغیر گزر جائے،

قدموں کی آواز قریب آتی گئی تھی،اور پھر قریب آتے آتے وہ آواز اسکے بہت نزدیک رک گئی تھی،

وہ سر اُٹھائے بغیر بھی بہت آسانی سے سمجھ سکتی تھی کہ اسکے قریب رکنے والا کون ہے لیکن پھر بھی اسنے سر نہیں اُٹھایا،

اسکے قریب رکنے والا چند لمحے بعد آہستگی سے اسکے قریب بیٹھ گیا تھا،

تب ویسے ہی سر جھکائے بیٹھے ہوئے وہ تھوڑا اور سمٹ گئی تھی،

”کیا ہوا قاسم۔۔۔۔؟؟یہاں کیوں آ گئے؟؟“

”جاؤ چلے جاؤ۔۔۔۔جو تمھارا سکون برباد کرتا ہے اسکے پاس کیوں آگئے ہو۔۔۔جاؤ کسی ایسے کے پاس چلے جاؤ جو تمھارا سکون برباد نہ کرے۔۔۔جاؤ قاسم۔۔۔۔بہت لوگ ایسے ہیں جو تمھارا سکون۔۔تمھیں سکون دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔میرے پاس کیوں آ گئے ہو۔۔۔۔کیا اور چلانا ہے مجھ پر۔۔؟؟؟؟“

بہت آہستگی سے وہ زیر لب بول رہی تھی آنسو اب نہیں گر رہے تھے۔۔۔۔تاریکی میں ساتھ آکر بیٹھنے والے کا چہرہ واضح نہیں تھا۔۔۔۔بہت دیر تک وہ یونہی اپنے آپ سے بول رہی تھی پھر آہستہ سے سر اُٹھا کر قاسم کو دیکھا تھا،

”کیوں آئے ہو قاسم۔۔۔؟؟؟“

اسکے لہجے میں نہ سختی تھی نہ نرمی،بے تاثر لہجے میں اسنے بھیگی آنکھوں سے دھندلے نظر آتے قاسم کو دیکھتے ہوئے کہا تھا،

”ناراض ہو نائلہ۔۔۔۔؟؟؟“

آہ۔۔۔۔یہ وہی لہجہ تھا جسکی وہ عادی تھی ویسی ہی محبت۔۔۔۔ویسی ہی شدت،اسے لگا تھا سکے دل میں جو ٹوٹا ہے وہ دوبارہ جُڑ رہا ہے۔۔۔۔نا محسوس سے انداز میں۔۔۔

”بتاؤ نا نائلہ۔۔۔ناراض ہو مجھ سے۔۔؟؟“

وہ اسکے آگے جھک کر بولا تھا،

اسنے نگاہیں اُٹھا کر اسے دیکھا،

اسکی آنکھیں ابھی بھی سُرخ ہو رہیں تھیں پتہ نہیں کیوں وہ اتنا ہائیپر ہوا تھا۔۔۔،

”نائلہ۔۔۔۔“

اسنے لمحہ بھر کو قاسم کی آنکھوں میں دیکھا،

وہی شدتیں اسے اپنے لیے ان آنکھوں میں نظر آئیں تھیں جن کی اسے ہمیشہ سے عادت تھی،

”اچھا مت بولو کُچھ۔۔۔۔یہی بتا دو ناراض تو نہیں ہو نا مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟؟“

قاسم کے لہجے میں امید صبر آزما تھی،

وہ اسے دیکھے بغیر آہستگی سے اُٹھ کھڑی ہوئی اور دائیں ہاتھ سے سپر پر سے ڈھلکتا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی،سپاٹ چہرہ تھا اسکا۔۔۔۔۔

قاسم بھی ساتھ ہی اُٹھا تھا،

”اچھا چلو کار میں تو چل کر بیٹھو“

دوبارہ اسنے نائلہ کو بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

نائلہ نے ایک نظر قاسم کو دیکھا اور رُخ موڑ کر چلنے لگی،کار کی مخالف سمت میں۔۔۔۔۔قاسم کو ایک لمحے کے لیے اچنبھا ہوا لیکن پھر وہ اسکے سامنے آ گیا۔۔۔۔۔

”کار اس طرف ہے نائلہ۔۔۔یہاں کہاں جا رہی ہے۔۔۔؟؟“

اسنے بے تاثر انداز میں قاسم کو دیکھا۔۔

”میں گھر جا ر ہی ہوں۔۔۔۔اینی پرابلم۔۔؟؟؟“

وہ بمشکل بول رہی تھی ورنہ قاسم سے اس لہجے میں بات کرنا بہت مشکل تھا،

”ہاں پرابلم ہے مجھے۔۔۔اکیلی کیوں جا رہی ہو۔۔۔۔!!“

نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ جذبات سے چور لہجے میں بولا۔۔

اگلے ہی لمحے اسنے پوری قوت سے اپنا ہاتھ چھڑوایا،

”کیونکہ میں تمھاراسکون برباد نہیں کرنا چاہتی مجھے تمھاراسکون عزیز ہے قاسم۔۔۔۔،میرے راستے سے ہٹو۔۔۔!!“

اسکا لہجہ کاٹ دار نہیں لیکن سخت ضرور تھا قاسم نے بے بسی سے ہونٹ کاٹے،

”نائلہ پلیز کار میں بیٹھو چل کر۔۔۔۔!!“

وہ ایک قدم  آگے آئی،

”میں کہہ رہی ہوں میرے راستے سے ہت جاؤ مجھے گھر جانے دو۔۔۔۔۔!!“

وہ دبے دبے لہجے میں چلائی تھی،

”نائلہ مجھے معاف نہیں کرو گی۔۔۔؟؟؟“اسنے جیسے ہاتھ جوڑے تھے،

نائلہ نے کوئی جواب نہیں دیا،

نا محسوس چند آنسو اسکے گال پر گرے تھے،

آنکھوں میں ایک لمحہ کو چمک آئی تھی،محض ایک لمحے کے لیے اسنے قاسم کے چہرے پر کُچھ کھوجنا چاہا تھا اور پھر سر جھکا کر آپ ہی آپ مسکرائی اور پلٹ گئی،

اب اسکا رُخ کار کی طرف تھا۔۔

قاسم کے چہرے پر سکون چھایا تھا۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا تھا،

”جذباتی وار ذیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔۔۔۔!!“

اگر کوئی اس سے اس بارے میں پوچھتا تو وہ پورے یقین سے یہ بات کہتا،۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ یہ بات کئی بار نائلہ پر آزما چکا تھا اور ہر بار اسمیں کامیاب ہوا تھا،

دھیمے قدموں سے چلتے وہ دونوں کار تک آئے تھے نائلہ فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھی لیکن قاسم نے تیزی سے آ کر اسکے لیے فرنٹ ڈور کھولا اور بھر پور طریقے سے مسکرایا،نائلہ خاموشی سے اندر بیٹھ گئی،

یقینا اسنے اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا۔۔۔۔۔

قاسم دوسری طرف سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا وہ اچانک بہت فریش لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

نائلہ سر جھکائے گود میں گرتے دوپٹہ کے کنارے سے کھیلنے لگی،

”نائلہ۔۔۔۔؟“

قاسم کی آواز پر اسنے سر اُٹھا کر دیکھا،

سپاٹ چہرے پر نرم مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی،

اسکے اندر تک راحت اترتی چلی گئی،

”معاف کر دو نا مجھے۔۔۔؟؟؟“

ضدی سے لہجے میں وہ بہت مان سے بولا،

نائلہ نے ایک لمحے کے لیے کُچھ سوچا اور پھر مسکراہٹوں نے اسکے لبوں کا احاطہ کر لیا وہ کھل کر مسکرا دی تھی،

گلاب کی ادھ کھلی کلی کی طرح۔۔۔۔۔

قاسم نے بہت آرام سے پشت سے سر ٹیک دیا،

کار میں جیسے تتلیاں اُڑ رہی ہوں۔۔۔۔

”نائلہ ایک بات جانتی ہو۔۔۔۔؟؟‘

وہ بہت نرم لہجے میں بول رہا تھا،

”کیا۔۔۔“

نائلہ کا لہجہ بھی نرم تھا۔۔،

”تمھارے ساتھ ہوتا ہوں تو ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔اصل میں نائلہ میں بہت احمق ہوں تمھاری قدر کرنا نہیں جانتا اور تمھیں وہ اہمیت نہیں دیتا جس کی تم حقدار ہو لیکن میں۔۔۔۔نائلہ میں بہت ڈیپریسڈ ہوں آجکل۔۔۔کیا کروں۔۔۔تمھاری ان باتوں نے میری پریشانی بہت بڑھا دی ہے۔۔۔۔لیکن میں جانتا ہوں تم مجھے پریشان نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔اپنی پریشانی ہی تو شئیر کی ہے تم نے۔۔۔بس میں ہی پاگل ہوں۔۔کبھی میں خود کو معاف نہیں کرونگا۔۔۔آخر میں تم پر کیوں چلایا۔۔۔کیوں۔۔تمھارا کیا قصور اس سب میں۔۔۔پلیز۔۔بھول جاؤ میری باتوں کو۔۔۔۔میں نہیں کہنا چاہتا تھا۔۔۔آخر تم جس طرح میرا سکون برباد کر سکتی ہو۔۔۔۔۔پلیز بھول جاؤ۔۔۔اور اجیہ۔۔۔۔اسے بھی میں نے ایسا کہا تمھیں اس وجہ سے بھی دکھ ہو اہو گا نا۔۔۔۔نائلہ سچ میں معاف کر دو نا مجھے!“

وہ تھکی تھکی آواز میں بے بسی لیے بول رہا تھا،آخری جملے میں جیسے دنیا بھر کا پچھتاوا اسکے لہجے میں سمٹ آیا تھا،

نائلہ نے قاسم کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور آگے کو جھکی،

”ایک بات بھول رہے ہو میرے کزن۔۔۔ایک بار میں نے کہا تھا تم سے کہ میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہو سکتی۔۔۔یاد ہے۔۔؟“

”ہاں یاد ہے۔۔۔۔!!!“

وہ مسکرایا۔۔دل میں ایک بوجھ کہیں سرک گیا تھا،

”اچھا وہ ایک اور بات کیا تھی۔۔۔؟؟؟“

وہ بات بدلنا چاہتا تھا،

لیکن اس سے پہلے کہ نائلہ کُچھ کہتی موبائل پوری قوت سے بج اُٹھا تھا،

اس نے پہلے حیرانی سے جھنجھلاتے ہوئے موبائل کو دیکھا پھر معذرت خوانہ انداز میں قاسم کو دیکھا اور موبائل ہاتھ میں لے کر نمبر دیکھا،

انجانا نمبر تھا،۔۔۔۔۔

کال ریسیو کر کے اسنے کان سے لگایا،

”السلام و علیکم“

”نا۔۔۔نا۔۔نائلہ سے بات کرنی ہے۔۔۔!!“

کوئی بہت بوکھلائے لہجے میں کہہ رہا تھا پس منظر میں بے تحاشہ شور تھا اسے سننے میں دقت سی ہوئی،

”میں نائلہ بول رہی ہوں۔۔۔کہیے۔۔۔۔؟؟؟“

”میں سرمد ہوں۔۔۔سرمد علی۔۔۔میٹرک میں۔۔آپکا کلاس فیلو۔۔۔۔سرمد۔۔علی ہوں میں۔۔“

بری طرح پھولی ہوئی سانس میں وہ بمشکل بول پا رہا تھا

”جی۔۔۔جی سرمد میں نے پہچان لیا،کہیے!“

وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولی تھی،

”اجیہ۔۔۔۔اجیہ۔۔وہ۔۔۔۔!“

وہ واقعتاََکسی بڑی مشکل میں گرفتار۔۔تبھی سانسوں کو سنبھالنا اسکے لیے مشکل ہوا تھا،

ادھر اجیہ کا نام سنتے ہی نائلہ جیسے حیران ہوئی تھی

”اجیہ کو کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟آپ اسے کیسے جانتے ہیں۔۔۔؟؟؟

”اجیہ کو گولی لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔آپریشن۔۔۔۔۔آپریشن تھیٹر میں ہے۔۔۔۔نیو اسٹار مال۔۔۔۔نیو اسٹارمال میں کسی نے اس پر فائرنگ کر دی۔۔۔۔نائلہ آ پ آجائیں۔۔۔۔وہ  مجھے مال میں ملی تھی۔۔۔۔اسکے موبائل میں سب سے اوپر آپکا نمبر ہی تھا س لیے۔۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آ پ کو کال ملائی میں نے۔۔۔۔اسکے پیرنٹس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔۔۔میرا۔۔۔۔نائلہ۔۔۔نائلہ۔۔۔۔وہ بہت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔!“

نائلہ کے ہاتھ سے کب کا موبائل چھوٹ چکا تھا اسکرین سے باہر آتی آواز کو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے سن رہی تھی،

پھر آواز آنا بند ہو گئی لائن کاٹ دی گئی،تو قاسم نے آہستگی سے اسکا کندھا ہلایا،

”کیا بات ہے نائلہ۔۔۔۔کس کا فون تھا؟؟“

اور وہ جیسے شاک سے باہر آئی ہو۔۔۔،

جھٹکے سے اسنے قاسم کو دیکھا تھا اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی بری طرح رو رہی تھی وہ۔۔۔۔

اور قاسم کی پریشانی انتہا پر پہنچی تھی،

”قاسم۔۔۔۔اسنے میری زندگی ختم کر دی۔۔۔ناصر۔۔۔۔ناصر نے۔۔۔اسنے مجھے مار دیا ہوتا۔۔۔اگر اجیہ کو کُچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی قاسم۔۔۔اجیہ۔۔۔

اجیہ کو کیا ہوا نائلہ۔۔۔کس کی کال تھی۔۔۔۔تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟“

وہ بہت پریشان ہوا تھا،

”ناصر۔۔۔ناصر نے اجیہ کو گولی مار دی قاسم!“

اور قاسم کا دل دھک سے رہ گیا،

”کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔؟؟“

بہت ساری چیخیں لبوں پر روکے وہ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسوؤں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی،

”میں نے اسے منع کیا تھا۔۔۔۔منع کیا تھا کہ وہ نہ جائے۔۔۔لیکن وہ نہیں مانی۔۔۔دیکھا قاسم۔۔۔اجیہ چلی گئی۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر وہ چلی گئی۔۔۔ناصر نے اسے مار دیا۔۔۔۔وہ آئی سی یو میں ہے۔۔قاسم ہاسپٹل چلو۔۔۔مجھے ناصر سے بدلہ لینا ہے۔۔۔مجھے اجیہ کے پاس جانا ہے۔۔۔وہ اکیلی ہو گی۔۔آپریشن تھیٹر میں میری اجیہ بے ہوش ہو گی۔۔۔۔قاسم۔۔۔قاسم۔۔۔“

منہ پر ہاتھ رکھے وہ تکلیف و کرب کی سرحدیں پار کرر ہی تھی،

قاسم نے بوکھلاہٹ میں تیزی سے کار اسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی،

بار بار اسکے سامنے سفید اسکارف میں لپٹا چہرہ آرہا تھا ناصر کے لیے اسکی نفرت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا،

اور۔۔۔اوربری طرح روتی ہوئی نائلہ کے آنسو برداشت کرنا بھی اسکے لیے اذیت ناک تھا،

”تم فکر نہ کرو۔۔۔نائلہ رو مت۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ہم ناصر سے ہر چیز کا حساب لیں گے خود کو ہلکان مت کرو اجیہ کو کُچھ نہیں ہو گا۔۔۔ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔۔۔نائلہ پریشان مت ہو۔۔۔وہ نائلہ سے ذیادہ خود کو تسلیاں دے رہا تھا،

کار کی اسپیڈ بہت ذیادہ کر دی تھی اس نے۔۔۔۔فرنٹ سیٹ پر روتی نائلہ کے بلکنے  میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا،

دور آسمان پر چاند کی مسکراہٹ مدھم ہو گئی تھی بہت سارے ستارے بادلوں کی اوٹ میں چلے گئے تھے رات کی تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔بہت دور نیچے روڈ پر دوڑتی کار کی رفتار ہر لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔!

٭٭٭

(جاری ہے ۔۔)