Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر47
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر47

نیلگوں آسمان ہلکا ہلکا سیاہی مائل ہو رہا تھا،سورج کا دہکتا انگارہ ابھی طُلوع نہیں ہوا تھا لیکن مہتاب کی روشنی رُخصت ہو چکی تھی، یو اے ای کا گرم موسم آج بھی روز کی طرح گرم ہی تھاصبح سویرے چلنے والی ہلکی ہلکی ہوائیں آج بھی کھڑکی پر گرے پردوں کو پرے دھکیل کر اندر آ رہی تھیں، یو اے ای کے افق پر طُلوع ہونے والی صبح غیر معمولی نہ تھی لیکن۔۔۔۔

بیڈ پر لیٹی کھلی آنکھوں سے ماضی کی چلتی فلم کو دیکھتی اس لڑکی کے لیے آج کا دن بہت غیر معمولی اور مختلف تھا،بے انتہا تکلیف دہ۔۔۔۔ لیکن یہ تکلیف اس تکلیف سے بڑی نہ تھی جو وہ پچھلے دو سالوں سے انتظار کی اذیت سہہ کر بھگت رہی تھی۔۔۔جانے کیوں۔۔۔۔وہ ناصر کو بے وفا ماننے پر تیار نہ تھی اور نہ ہی یہ بات اسکے لئے قابل قبول تھی کہ ناصر اسے بھول گیا ہے۔۔۔۔۔ یا۔۔۔پھر اسکے ساتھ گزارے ہوئے پانچ سالوں میں محبت اور وفا کا پیکر مجسم بن کر ناصر اسکے دل میں اپنی جڑیں بہت گہری کر چکا تھا۔۔۔۔اے کاش کہ وہ واپس آ جائے۔۔۔۔ آج کا دن جو یو اے ای میں شاید اسکا آخری دن تھا۔۔۔ کاش اس آخری دن بھی ناصر آ جائے۔۔۔ویسے ہی وفا اور سچائی کا پیکر بن کر۔۔۔۔اے کاش۔۔۔۔

گزشتہ دو ہفتوں سے وہ یونہی جاگ کر اپنی راتیں گزار رہی تھی یا شاید راتوں کو گزارتے ہوئے اسے دو سال ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ دو سالوں کی ان راتوں میں وہ ناصر کے ساتھ پانچ سال گزرے ہوئے ایک ایک لمحے کو یاد کر چکی تھی جانے کتنے آنسو اسکے سر کے نیچے رکھا ہوا تکیہ جذب کر چکا تھا۔۔۔۔اور اب یو اے ای میں ان آخری دو ہفتوں میں تو اسکی آنکھوں کی جھیلیں خشک ہو چکی تھیں دل خالی خالی سا تھا،جیسے وہاں کُچھ باقی نہ ہو۔۔۔۔۔ لیکن وہ غلطی پر تھی۔۔۔  پانچ سال کی رفاقت اسکے لیے دل سے کھرچنا ممکن نہ تھا۔۔۔۔۔کاش کہ وہ واپس آجاتا اور اپنی وفا اس پر ثابت کر دیتا۔۔۔۔ پہلے سے سسکتے اسکے دل سے ایک اور چنگاری سی ابھری اور اسکی روح کو خاکستر کر گئی۔۔۔۔

آفتاب اب آسمان کے وسط میں آ گیا تھا نیم تاریک کمرہ روشن ہو گیا تھا لیکن وہ ویسے ہی بکھرے بالوں کے ساتھ لیٹی تھی۔۔لیک ن نہیں اسکا تو دل ہی بکھر گیا تھا۔۔۔۔ وہ اب پہلے کی طرح روز صبح لان میں نہیں جاتی تھی۔بہت سارے کام تھے جو وہ چھوڑ چکی تھی،یونہی لیٹے لیٹے وہ چھت کو گھورنے لگی چھت کے عین وسط میں لٹکتا وہ خوبصورت فانوس۔۔۔۔ وہ اور ناصر کتنی محنت کے بعد ڈھونڈ کر لائے تھے۔۔۔بلکہ اس پورے گھر کو ہی ان دونوں نے بہت لگن اور توجہ سے سجایا تھا، وہ لیٹے لیٹے اب اکتانے لگی تھی صبح طُلوع ہوتے ہوتے اب سورج کی کرنیں پھیلنے سے زرد ہو گئی تھیں وہ اُٹھنے کا ارادہ ہی کر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی، قدرے اکتاہٹ سے اسنے دروازے کو دیکھا اور کہنی کا سہارا لے کر اُٹھ گئی دوپٹہ سینے پر پھیلایا اور اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی،

”اندر آ جائیں!“بلند آواز سے کہہ کر اسنے برش اُٹھایا، بوڑھی ملازمہ دروازہ کھول کر اندر آ گئی تھی وہ بالوں میں برش کرنے لگی،

”السلام و علیکم۔۔۔!!“روز کی طرح پھیکا سا مسکرا کر کہتے ہوئے اسنے گردن کو خم کیا تھا،

”وعلیکم السلام۔۔۔!!کیف حالک؟(کیسی ہو؟) ملازمہ کا لہجہ بھی معمول کے مطابق تھا،

”انا بخیر!۔۔۔الحمدوللہ!!“(ٹھیک ہوں) بالوں کو پن اپ کر کے وہ ملازمہ کی طرف مڑی،

”آپ چلیں میں ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں“ ملازمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور واپس جانے لگی لیکن پھر کُچھ سوچ کر رکی،

”بیٹی،آج آخری بار اس گھر میں ناشتہ کر لو،تم روز کہتی ہو مگر آتی نہیں ہو۔۔۔آج میں نے بہت محنت سے ناشتہ بنایا ہے تمھارے لیے!“ملازمہ کا لہجہ مامتا بھرا تھا، ایک لمحے کے لیے اسکی آنکھوں میں پانی لہرایا تھا زور سے آنکھیں میچتے ہوئے وہ مسکرائی،

”ٹھیک ہے!ضرور آؤنگی آج۔۔۔۔“ ملازمہ دھیما سا مسکرا کر پلٹ گئی، وہ کتنی ہی دیر بند ہوئے دروازے کو دیکھتی رہی پھر آہستگی سے چلتی الماری تک آئی اور اپنا سوٹ کیس نکال کر بیڈ پر رکھا، ساری پیکنگ وہ کر چکی تھی،آج رات نو بجے اسکی فلائٹ تھی۔۔۔۔ بس ایک ہی سوٹ کیس میں اس نے اپنی اہم اہم چیزیں رکھ لیں تھیں اس گھر کی ایک ایک یاد تو اس کے دل میں محفوظ تھی اور پھر اسے یقین تھا کہ وہ ناصر کو ٖڈھونڈ لے گی اور وہ دونوں اس گھر میں واپس ضرور آئینگے،کمرے پر ایک نگاہ ڈال کر اس نے روز کی طرح بیڈ کی شکنیں درست کیں اور ناصر کی تکیہ کو صحیح طرح جگہ پر رکھا حالانکہ دو سال سے وہ اس کمرے کو ایک ایک لمحہ چمکا کر رکھی تھی کہ شاید ناصر کسی بھی وقت آجائے اور یہ نہ سوچے کہ اسکی غیر موجودگی میں اسکے گھر کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا، آج بھی یہ کمرہ نکھرا نکھرا صاف ستھرا تھا روز کی طرح۔۔۔۔

وہ دھیمے قدموں سے چلتے کھڑکی میں آکھڑی ہوئی نیچے لان میں مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا۔۔۔وہی پودے جو صبا اور ناصر کے دل کی دھڑکنوں کو اپنی جڑوں میں محفوظ کیے اب تناور ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔اسنے گہری سانس لے کر مین گیٹ کی طرف دیکھا وہ آج بھی بند تھا،ناصر کے جانے کے بعد وہ بہت کم گھر سے نکلی تھی،نجانے کیوں آج دروازے کو تکتے ہوئے اسکے دل سے امید ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔اور۔۔نجانے کیوں آج اسے ناصر کے ساتھ ساتھ الیاس یاد آیا تھا۔۔۔۔اسکا بھائی۔۔۔ الیاس کے مرنے کی اطلاع والا فیکس جب اسے ملا تھا وہ اسکے بہت بار چھپ چھپ کر روئی تھی آ ج بھی الیاس کی یاد آنے پر اسکا دل آنسوں سے بھر گیا تھا لیکن آنکھیں دھندلی نہیں ہوئیں تھیں،ایک منظر نگاہوں کے سامنے لہرایا تھا اور ناصر سے وابستہ ہر یاد کی طرح یہ منظر بھی اسکے خالی دل کو معطر کر گیا تھا،

وہ رات کا وقت تھا یو اے ای کے گرم دنوں کی طرح راتیں بھی گرم ہوتی ہیں۔۔۔وہ رات بھی دہک رہی تھی آسمان ستاروں سے خالی تھا،الیاس کی خودکشی کی خبر ملے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا اور وہ اس ایک ہفتے میں کتنی ہی بار پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی لیکن۔۔۔۔۔اس رات کو بیڈ پر لیٹے ہوئے چھت کو گھورتے ہوئے اسے اپنے ماما بابا اور الیاس بہت شدت سے یاد آئے تھے،آن کی آن میں آنکھیں دھندلی ہوئیں تھیں اور آنسو ٹپ ٹپ تکیے میں جذب ہونے لگے تھے رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی،اسکی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی لبوں پر سسکیاں ٹوٹنے لگیں تھیں،وہ بری طرح رونے لگی تھی بے آواز۔۔۔۔۔۔ چہرہ تکیے میں چھپا کر اسکے لبوں سے دبی دبی سسکیاں آزاد ہونے لگیں تھیں کمرے کی تاریک اور خاموش فضا ہلکی ہلکی ارتعاش زدہ ہو گئی تھی،اسکے برابر میں ناصر گہری نیند سو رہا تھا اور صبا کا خیال تھا کہ یہ دبی دبی سسکیاں اسکی نیند میں خلل نہیں ڈالیں گیں لیکن ناصر کے بارے میں ہمیشہ کی طرح اسکا یہ خیال بھی غلط ثابت ہوا تھا۔۔۔۔

آنکھوں میں آنسو آئے ابھی ذرا سی ہی دیر ہوئی تھی کہ ناصر کے سائیڈ والا لیمپ جل اُٹھا اور صبا کو لگا کہ وہ چوری کرتے کرتے پکڑی گئی ہے۔۔۔۔، کُچھ لمحے گزرے کسی نے بہت آہستگی سے اسکے چہرے پر سے تکیہ ہٹایا لیمپ کی زرد روشنی دوسری طرف تھی،ناصر کو تاریکی میں کُچھ نظر نہ آیا،صبا نے اگلے ہی لمحے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا ناصر نے اسکے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر اسکی طرف والا لیمپ بھی جلا دیا تھا،

”اف۔۔۔۔!!“وہ بہت زیادہ کوفت زدہ ہوئی،

”صبا۔۔۔۔؟؟؟“بہت آہستگی سے وہ پکارا تھا،

”سو رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟؟“اسنے جواب دینے کی بجائے کروٹ بدل لی۔

”ارے۔۔۔“ناصر بہت حیران سا ہوا،

”تم جاگ رہی ہو۔۔۔۔۔اس وقت کیا ہوا؟“وہ کُچھ کہے بغیر دوبارہ سیدھی ہو گئی آنکھوں پر ہاتھ ویسے ہی رکھا ہوا تھا،ناصر دھیما سا مسکرایا،

”۔۔ناراض ہو کیا۔۔۔؟؟“محبت سے چور لہجہ۔۔۔۔رات کو سونے سے پہلے اسنے کئی بار ناصر سے باہر گھومنے چلنے کو کہا تھا اور ناصر اپنی تھکن کا کہہ کر سو گیا تھا گو کہ وہ اس بات پر بہت بد مزہ ہوئی تھی لیکن اس بات پر بہرحال وہ ناراض نہیں تھی۔اب ناصر شاید اسی بات کے حوالے سے کہہ رہا تھا،اسکے جواب نہ دینے پر وہ دوبارہ مسکرایا،

” صبا۔۔۔۔؟؟“

’’صبا۔۔۔جان۔۔۔۔؟؟؟“اسنے آہستگی سے آنکھوں پر رکھا اسکا ہاتھ ہٹایا۔

” ارے تم رو رہی ہو۔۔؟؟“ناصر کی مسکراہٹ سمٹی،وہ بے اختیار پریشان ہوا،

”صبا۔۔تم۔۔میری بات کا اتنا دکھ ہوا تمھیں۔۔مجھے۔۔مجھے صبا۔۔بالکل نہیں پتہ تھا کہ تم اتنی حساس ہو۔۔۔۔!!“وہ حقیقتاََنادم سا پریشان ہو گیا تھا،

’صبا۔۔۔سوری۔۔۔میں تمھیں ابھی۔۔۔۔چلو ابھی لے کر چلتا ہوں۔۔بتا ؤ کہاں جانا ہے۔۔۔کیا بہت دل چاہ رہا تھا جانے کا۔۔۔۔صبا تو تم مجھے بتاتی نا۔۔۔۔تم نے تو ایک ہی با رکہا تھا ۔۔تمھیں بہت دکھ ہوا ہے نا۔۔۔۔سوری صبا۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔میں۔۔۔! “کہتے کہتے اسنے صبا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا،

” ناصر۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔‘اسنے ناصر کا نادم لہجہ کاٹ دیا تھا،مزید ممکن نہیں تھا اسکے لیے اپنے محبوب شوہر کا نادم چہرہ برداشت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔

” ایسی کوئی بات نہیں ہے ناصر۔۔تم بھی کیا کیا سوچنے لگے ہو۔۔۔۔۔میں تو ہوں ہی پاگل۔یونہی رونے کا دل چاہ رہا تھا تو رونے لگی۔۔۔۔!“وہ بولی تو لہجے میں ہلکی سی نمی تھی،

” نہیں صبا۔۔۔۔تم پاگل تو نہیں ہو۔۔۔۔اتنی اچھی ہو تم تو۔۔۔۔بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟“اسکے چہرے کی پریشانی کم ہوئی تھی،

”مجھے۔۔۔ماما بابا یاد آگئے تھے۔۔۔!!“ سر جھکا کر دھیمے لہجے میں وہ بولی،

”اوہ ہ َ۔۔۔صبا رویا مت کرو۔۔۔۔میں ہوں تو۔۔۔پھر رونے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔مجھ سے شئیر کر لیا کرواپنی پریشانی۔۔۔۔۔!!“کمرے کی تاریکی میں زرد روشنی پھیلنے سے سیاہ سائے نمایا ں ہو گئے تھے،دھیما اور تسلی آمیز لہجہ۔۔۔۔۔

”تمھارے پاس وقت کہاں ہوتا ہے۔۔۔؟؟“پتہ نہیں کیوں نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ شکایت آمیز ہو گیا تھا،

”ارے۔۔۔صبا۔۔۔سوری نا آج کے لیے۔۔؟؟؟“اسنے بس پلکیں اُٹھا کر ناراض سی نگاہ ناصر پر ڈالی تھی،

”صبا۔۔۔اچھا وعدہ کرتا ہوں اب کبھی تمھیں اگنور نہیں کروں گا۔۔ٹھیک۔۔۔۔؟؟؟؟آج کے لیے تو معاف کر دو نا پلیز۔۔۔۔“ اور و ہ اسے دیکھتے ہوئے بے اختیار مسکرا دی تھی،

”واؤ۔۔۔ناصر نے خوش ہو کر کسی بچے کی طرح تالی بجائی،اسکی اس حرکت پر صبا کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی،

”صبا۔۔۔!!“ناصر نے ایک لمحے نیم تاریک سی روشنی میں اسکے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا،

”مسکراتے ہوئے اچھی لگتی ہو۔۔۔۔رویا مت کرو۔۔۔“

وہ آہستگی سے بولا، صبح قبرستان چلیں گے ماما بابا کی قبروں پر فاتحہ پڑھ لینا۔۔اور دیکھو رویا مت کرو۔۔۔۔مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔۔!!“ اسنے دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اسکے رخساروں پر رکے ہوئے آنسو انگلی سے منتشر کر دئیے،

”ہاں۔۔۔۔ناصر تم ہو۔۔۔۔تبھی تو میں زندہ ہوں۔۔۔۔ورنہ ماما بابا اورپھر الیاس بھائی کے مرنے کے بعد میں نے بھی مرنے کی آرزو کی تھی ناصر۔۔۔۔!!“ اور پھر ناصر کے سینے سے لگ کر آنسو اپنے اندر اتارتے ہوئے اسنے بہت دھیمے لہجے میں کہا تھا،جواباََ ناصر نے اسکے گرد اپنے بازو پھیلا کر اسکی محبت کو کبھی نہ ختم ہونے والا اعتماد دیا تھا۔۔۔ ہوا کا ہلکا نا محسوس جھونکا اسکے چہرے سے ٹکرایا تھا اور اسے ماضی سے واپس حال میں لے آ یا تھا۔۔وہ حال۔۔جسکی حقیقتوں سے بعض اوقات اسے آنکھیں بند کرنے کو دل چاہتا تھا، دل میں ہوک اُٹھی تھی وہ گہری سانس لے کر واپس پلٹ گئی،بیڈ پر رکھا سوٹ کیس کھولا اور تمام چیزوں کا آخری بار جائزہ لینے لگی،

سب کُچھ مکمل تھا لیکن نہیں ایک چیز۔۔۔وہ پلٹی اور الماری کھول کر چند لمحوں کی تلاش کے بعد چھوٹا سا پلاسٹک بیگ تھا وہی پلاسٹک بیگ جس کے اندر محفوظ ہوئی گلاب کی پتیاں سوکھا گئی تھیں ناصر کے رخصت ہوتے وقت کی یادگار۔۔۔۔ گلاب کی ان بکھری ہوئی پتیوں نے اسے بہت کُچھ یاد دلایا تھا اسے۔۔۔۔بہت کُچھ۔۔۔۔ آنکھیں میچ کر اسنے ڈھیروں آنسو اپنے اندر اتارے اور لبوں تک لے جا کر اس پلاسٹک بیگ کو چوما۔۔کسی مقدس چیز کی طرح۔۔۔۔ پھر بہت احتیاط سے اسے سوٹ کیس کے اندرونی خانے میں رکھا، پھر وہ دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے سائیڈ ٹیبل تک گئی اور وہاں رکھا وہ واحد فوٹو فریم اٹھا کر سینے سے لگایا جو اسکی اور ناصر کی شادی کا تھا۔۔اور ایک یادگار۔۔۔۔ اسنے وہ فوٹو فریم بھی بہت احتیاط سے اور محبت سے سوٹ کیس میں سب سے اوپر رکھا اور چند لمحوں کے لیے سوچا۔۔۔۔اب ذہن میں کُچھ بھی نہ آیا۔۔۔شاید اسکی پیکنگ مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔ وہ سر جھٹک کر پلٹی۔۔۔۔،

”اوہ ہ ہ۔۔۔۔ناشتہ۔۔۔۔!!“ ساتھ ہی اسے بوڑھی ملازمہ کی بات یاد آگئی ورنہ وہ آج بھی روز کی طرح ناشتہ بھول چکی تھی۔۔۔۔۔،

(جاری ہے ۔۔۔)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。