Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر48
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر48

ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اسنے دوپٹہ درست کیا بال چہرے پر سے ہٹائے پھر پلٹ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی،سیڑھیا ں اتر کر جب وہ ڈائننگ روم میں پہنچی تو وہاں گھر کے سب ملازمین جمع تھے، اسے دیکھ کر سب کھڑے ہونے لگے،

”ارے بیٹھو تم سب لوگ۔۔۔!!“ وہ جلدی سے بولی تو سب اُٹھتے اُٹھتے دوبارہ بیٹھنے لگے،کتنے ہی دنوں بعد وہ ناشتہ کرنے آ ج نیچے آ ئی تھی اور آج کا ناشتہ اسکا اس گھر میں آخری ناشتہ تھا،جانے کیوں ان سب ملازمین کو دیکھ کر اسکا دل بھر آیا تھا،ناصر جب سے گیا تھا تب سے یہ سب ہی اسکی حتی ٰ المکدور دلجوئی کرتے تھے۔یہ الگ بات تھی کہ وہ ان سب کو اپنے کمرے میں آنے بھی نہیں دیتی تھی،

”بی بی، تم آج جا رہی ہو۔۔۔۔؟؟“ضعیف العمر مالی اس سے پوچھ رہا تھا،

”ہاں بابا۔“وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔،میں جا رہی ہوں اور میرے بعد یہ سارا گھر آپ سب لوگوں کا ہے جب تک میں واپس نہ آ جاؤں“بولتے ہوئے اسکا لہجہ دھیما ہوتا گیا تھا،

”تم فکر نہ کرو بیٹی اس گھر کا ہم بہت خیال رکھیں گے“بوڑھی ملازمہ نے اپنے طور پر اسکی تسلی کروائی تھی،وہ بس مسکرا کر رہ گئی،پھر جلدی جلدی ناشتہ کر کے وہ واپس اوپر آ گئی تھی،بارہ بج گئے تھے پانچ بجے تک اسے یہ گھر اور اس گھر کے باسیوں کو چھوڑ دینا تھا،اسکا دل بہت اداس ہو رہا تھا۔۔۔۔یہ گھر چھوڑنا کتنا اذیت ناک تھا یہ اسے اب اندازہ ہو رہا تھا۔ ۔۔۔ اگر ناصر کے لیے وہ اس قدر تڑپ نہ گئی ہوتی تو وہ کبھی نہ جاتی۔۔۔ اے کاش کہ ناصر واپس آ جاتا۔۔۔۔!!! بہت بار سوچے جانے والی بات کو ایک بار دوبارہ سوچتے ہوئے کئی ضربیں اسکے دل آ لگیں تھیں۔۔ وہ دکھی دل کے ساتھ تیزی سے تیار ہونے لگی،وقت کم رہ گیا تھا۔۔۔۔بہت کم۔۔۔۔۔ صبح سے سوپہر ہو گئی تھی اور پھر دوپہر سے شام ہو گئی تھی۔۔۔۔۔،

وہ اپنا سوٹ کیس اُٹھائے نیچے اتری تب دل بہت تڑپ رہا تھا گھر کے ایک ایک گوشے سے اسے مہک اُٹھتی محسوس ہوتی تھی الوداع کرتی مہک۔۔ ناصر کی یادوں کو اپنے دل میں سمیٹ کر وہ باہر نکلی تو کار تیار کھڑی تھی، کتنے ہی مہینوں بعد اسنے گھر سے باہر قدم نکالا تھا۔۔۔اور وہ بھی۔۔۔وداع ہوتے وقت۔۔۔۔ کار میں بیٹھنے سے پہلے اسنے مڑ کر اسنے اپنے گھر کی طرف آخری بار دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ گھر جسکی بنیادیں محبت اور وفا پر استوار ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔ مالی،بوڑھی ملازمہ، چوکیدارخانساماں۔۔۔آیا، سب بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے، اسنے سوٹ کیس ڈرائیور کو پکڑایا اور بوڑھی ملازمہ کی طرف بڑھی،وہ آگے بڑھ کر اس سے لپٹ گئی اسکا خلوص آنسوؤں کی صورت نکل کر اسے الوداع کہنے لگا،مالی اور چوکیدار نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور خانساماں اسے بس ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہا،ڈرائیور سوٹ کیس ڈگی میں رکھ کر اب فرنٹ ڈور کھول رہا تھا،

وہ سب سے مل کر پلٹی اور کار میں بیٹھنے لگی تب صبح سے خشک اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے،

”اے کاش ناصر تم واپس آ گئے ہوتے اور مجھے یوں نا جانا پڑتا۔۔۔۔!!“سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اسنے بہت آزردہ ہوتے ہوئے سوچا تھا۔، کار اب سڑک پر دوڑنے لگی تھی،آسمان پر سورج کی حدت کم ہو گئی تھی،سورج مکھی کا پھول ایک بار پھر سورج کی جدائی میں مرجھانے والا تھا۔اس نے سینے پر ہاتھ لپیٹتے ہوئے آنکھیں بند کر کے خود کو سوچوں کے حوالے کر دیا تھا،وہ سوچیں۔۔۔۔۔جو ازل سے بنی نوع انسان کی تنہائی کا مداوا کرتی آئی ہیں۔۔۔۔۔!!!

٭٭٭

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے،مغرب کی اذان کا وقت قریب ہی تھا،ہسپتال کے اندر روشنیاں جل اُٹھی تھیں،آپریشن تھیٹر کے باہر کوریڈور میں خاموشی تھی،نازیہ دیوار سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی،نائلہ اسکے برابر میں سینے پر ہاتھ باندھے سر جھکائے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی سرمد مسلسل کوریڈور میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہل رہا تھا شاہد انصاری دوسری طرف بیٹھے تھے ہاتھ میں تسبیح لیے مسلسل انکے لب آیات قرآنی کا ورد کر رہے تھے قاسم تھوڑی دیر پہلے ہی کسی کام سے گیا تھا،وہ سب کھانا کھا کر آئے تھے جب بوکھلائی ہوئی نرس نے انہیں آ کر بتایا تھا کہ اجیہ کے بے ہوش وجود میں حرکت کے آثار پیدا ہوئے ہیں اور اسکے بعد سے وہ سب کے سب گویا سوئی پر لٹکے ہوئے تھے، ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹرز کی ٹیم آئی سی یو میں گئی تھی اسکے بعد سے تین گھنٹے گزر چکے تھے نہ ہی کوئی نرس باہر آئی تھی اور نہ ہی انہیں کسی نے اندر جانے دیا تھا۔۔۔۔

اجیہ کے ساتھ حادثہ ہوئے دو ہفتے گزر چکے تھے، ان دو ہفتوں میں کون کون سی کیفیت تھی جس سے وہ نہ گزرے تھے، قاسم اور نائلہ کے پیرینٹس ابھی تک اس پورے واقعہ سے بے خبر تھے قاسم نے خود ہی انہیں مطمئن کروا دیا تھا کیوں کے نائلہ سارا سارا دن ہسپتال میں رہتی تھی،قاسم صبح آفس جاتا واپسی پر گھر سے ہوتے ہوے وہ ہسپتال آ جاتا تھا اور پھر رات کو ہی نائلہ کے ساتھ گھر چلا جاتا تھا، سرمد کو اسنے لیو دے دی تھی وہ بس رات کو گھر جاتا تھا صبح ہوتے ہی وہ واپس ہسپتا ل آ جاتا تھا،قاسم نے اسے خاص تاکید کی تھی کہ یہاں کے لوگوں کا خاص خیال رکھے اور وہ اپنی اس نئی ذمہ داری کو بحسن خوبی ادا کر رہا تھا، سرمد کی ماما ان دو ہفتوں میں تین چار بار ہسپتال آئی تھیں اور نازیہ سے مل کر انہوں نے اسے بہت تسلی دی تھی۔۔۔۔شاہد انصاری سے انکی ملاقات ایک ہی بار ہو پائی تھی اور اس ملاقات میں انہوں نے اجیہ کے بارے میں اپنے احساسات کا بہت کھل کر اظہار کیا تھا اور سرمد کے لیے اسکے رشتے کے بارے میں اشارے ا شارے میں بات کی تھی لیکن شاہد انصاری ان دنوں ذہنی طور پر بہت پریشان تھے وہ انکی بات کا مطلب نہیں سمجھ پائے تھے بس شکستہ دلی سے مسکرا کر ہر آنے والے کا شکریہ ادا کر رہے تھے،

البتہ۔۔۔نازیہ سرمد کی ماما کی بات کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ گئی تھی اور اسکے بعد سے۔۔اسنے سرمد کو کسی اور ہی نظر سے دیکھا تھا۔۔۔سرمد کا دیوانہ وار اجیہ کے لیے پریشان ہونے کا مطلب بھی اسے سمجھ میں آ نے لگا تھا۔۔۔ ان دو ہفتوں میں شاہد انصار ی اسے بہت اصرار کر کے روزانہ ٹریٹمینٹ کے لیے لے کر جاتے تھے اور بہت توجہ سے اسے دوائیاں وقت پر کھلاتے تھے شاید یہ دوائیوں کا ہی اثر تھا کہ اس کا برین ٹیومر خطرناک حد تک اثر انداز نہیں ہوا تھا،نائلہ کو جب اسکے برین ٹیومر کا پتہ چلا تھا تب وہ شاکڈ رہ گئی تھی،شاہد انصاری پر اسے بے اختیار ترس آیا تھا۔۔۔۔انکی تو موت زندگی کا مسئلہ تھا۔۔۔۔ایک بیٹی برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کی زد میں اور دوسری بیٹی آئی سی یو میں بے ہوش پڑی تھی۔۔۔اسکے بعد سے اس نے خود کو سنبھال کر شاہد انصاری کی مدد کرنا شُروع کر دی تھی۔،

کھانے کا خیال۔۔۔۔نازیہ کی دوائیاں لے کر آنااسی طرح کے چھوٹے چھوٹے کام وہ نا محسوس اندا ز میں اپنے ذمہ لے چکی تھی۔۔،کوریڈور سے باہر آسمان پر مغرب کے بعد کی پرچھائیاں چھا رہی تھیں،چاند ابھی آسمان پر رونق افروز نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ شاہد انصاری نماز کے لیے اُٹھ رہے تھے سرمد بھی ٹہلتے ٹہلتے رک کر انکے اٹھنے کا انتظار رکر ہاتھا کہ نماز پڑھنے انکے ساتھ ہی چلا جائے،نائلہ سر پر سے ڈھلکتا دوپٹہ اُٹھا کر نماز کے سے انداز میں چہرے پر لپیٹنے لگی نازیہ ہنوز ویسے ہی آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی،اجیہ کے حادثے نے ان سب کو ہی اللہ سے بہت قریب کر دیا تھا۔۔،

شاہد انصاری آہستہ آہستہ گھٹنوں کو دباتے کھڑے ہوئے،ان کے گھٹنوں میں اب درد رہنے لگا تھا،شاید یہ ذہنی تھکن کا نتیجہ تھا،کھڑے ہوتے ہوتے و ہ لڑکھڑائے تو سرمد نے آگے ہو کر انہیں سہارا دیا،

”شکریہ بیٹا۔۔۔!!!“وہ ممنونیت سے کہہ کر کوریڈور میں سرمد کے کندھے پر ہاتھ رکھے آگے چلنے لگے ان دو ہفتوں میں وہ سرمد اور قاسم،نائلہ ان سب کا نجانے کتنی ہی بار شکریہ ادا کر چکے تھے،اور سرمد کے تو وہ بہت ہی ذیادہ مشکور ہوئے تھے،اسنے ہر ہر قدم پر انکی آگے بڑھ کر مدد کی تھی اور بہت آسانی سے انکے دل میں جگہ بنا لی تھی،

قدرت بھی بعض اوقات کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے۔۔۔۔۔دونوں کمپنیوں کے درمیان دشمنی کی دیوار بھی کس طرح گری تھی۔۔۔۔۔اجیہ کے حادثے نے نفرت کی آگ کو نظاہر کتنے عام سے انداز میں بجھایا تھا۔۔دونوں اعلی ترین کمپنیوں کے درمیان برف کو کیسے پگھلایا تھا۔۔۔شاید دانا ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔۔کہ۔۔۔قدرت کے کھیل ہی نرالے ہیں۔۔۔!!شاہد انصاری سرمد کے ہمراہ آئی سی یو کے سامنے سے گزر کر دائیں طرف مڑ ئے جہاں نماز کا کمرہ تھا،تو نائلہ نے چہرہ موڑ کر نازیہ کی طرف دیکھا،

”نازیہ۔۔آ پ کی طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔؟؟؟“اسنے چونک کر آنکھیں کھولیں تھیں،

”ہاں سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔!!“آہستگی سے مسکرا کر کہتے ہوئے اسکا ہاتھ بے ساختہ سر کی طرف گیا تھا،تین گھنٹے سے وہ اجیہ کے بارے میں سوچ رہی تھی،اب سر میں درد ہونا ایک فطری سی بات تھی،”اچھا میں نماز ڑھ لوں پھر آپ کی دوائی لا کر دیتی ہوں۔۔۔۔نائلہ شاہد انصاری کی جائے نماز اُٹھاتے ہوئے بولی،

”ارے۔۔۔نائلہ کیوں اتنی تکلیف کرتی ہو۔۔!!“نازیہ کی آنکھوں میں ایک لمحہ کے لیے تکلیف ابھری تھی،

”کیسی تکلیف۔۔۔۔!!“نائلہ مسکرا کر قبلہ رُخ ہو کر وہیں کوریڈور میں جائے نماز بچھانے لگی لیکن۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ جائے نماز بچھاتی آئی سی یو کا سلائیڈنگ دروازہ بہت تیزی سے سرکا تھا،ان دونوں نے چونک کر اس طرف دیکھا،ایک نرس بہت تیزی سے بھاگتے ہوئے ان دونوں کی طرف آئی تھی،دل کی دھڑکنیں ایک لمحے کے لیے رک گئی تھیں آنکھوں میں امید اور خوف بیک وقت آن ٹھہرا تھا۔۔۔۔۔

”اجیہ۔۔۔۔اجیہ انصاری۔۔۔انہیں۔۔۔۔“

نرس نے رک کر پھولی سانسوں کے درمیان بولنا شُروع کیا تھا وہ دونوں گویا پتھر کا مجسمہ بن چکی تھیں۔۔۔۔،

”اجیہ انصاری۔۔۔وہ انہیں بلڈ کی ضرورت ہے۔۔۔وہ ہوش میں آ رہی ہیں۔۔۔۔پلیز۔۔۔جلدی بلڈ کا انتظام کریں۔۔۔انکی حالت خطرے سے باہر آ رہی ہے بلڈ۔۔۔۔او نیگیٹو۔۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔“نرس کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن پتھر بنی نائلہ کے وجود میں حرکت ہوئی تھی دما غ نے تیزی سے کام کیا تھا اسکا ہاتھ بہت سبک رفتاری سے موبائل تک گیا تھا،اگلے لمحے وہ قاسم کا نمبر ڈائل کر رہی تھی،

”قاسم۔۔۔۔کہاں ہو۔۔۔؟؟؟“رابطہ ملتے ہی وہ تقریباََ چیخ کر بولی تھی،

’’جلدی آ و۔۔۔۔اجیہ کو بلڈ چاہیے۔۔۔ہوش میں آ رہی ہے وہ۔۔۔۔جلدی آؤ قاسم۔۔۔!!“لائن کاٹ کر اسنے نرس سے دو منٹ انتظار کا کہا اور مڑ کر نازیہ کو دیکھا،وہ دیوار سے ٹیک لگائے بری طرح رو رہی تھی نائلہ دھیمے قدموں سے چلتی اس تک گئی تھی،

”نازیہ۔۔۔دعا کریں۔۔۔۔اجیہ ٹھیک ہو جائے تھی!“اسکے لیے اپنے دل کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا کجا کہ وہ نازیہ کو چپ کرواتی۔۔۔۔پانچ منٹ بعد ہی دوڑتے قدموں کی آواز کوریڈور میں گونجی تھی قاسم بہت تیزی سے آئی سی یو میں مڑ گیا تھا۔۔۔۔نازیہ اور نائلہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے مسلسل دعا کر رہیں تھیں،آئی سی یو کی ٹھہری ہوئی فضا میں یکدم ہلچل مچ گئی تھی۔۔۔مشینیں ادھر سے ادھر سرکانے کی آواز کوریڈور تک آ رہی تھی۔۔۔

ایک کومہ میں جاتی مریضہ جس کے ہوش میں آنے کے امکانات ہی بہت کم تھے اسکے جسم میں حرکت کے آثار پیدا ہو رہے تھے،آنکھوں کے اوپر ساکت ہوئی پلکیں ارتعاش سے کپکپانے لگی تھیں،ٹھہرے ہوئے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دو بار اوپر اُٹھ کر نیچے گر چکیں تھیں یہ سب بہت امید افزا تھا۔۔تبھی تجربہ کار ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنا عمر بھر کا تجربہ داؤ پر لگا دیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ایک اور معجزہ رو نما ہوا تھا۔۔۔۔اجیہ کے لب کپکپانے لگے تھے اسکے چہرے پر سے آکسیجن ماسک ہٹانا خطرناک تھا لیکن یہ سب بہت حیران کن تھا،دو ہفتوں تک کچھ بھی نہ ہوا تھا اور ان ایک ہی دن میں اتنا کُچھ گیا تھا،ایک بار پھر ڈاکٹرز نے امید اور خوف کے درمیان ڈولتے ہوئے اسکے چہرے پر سے ماسک ہٹایاتھا اور پھر شاکڈ رہ گئے تھے،اسکے کپکپاتے لبوں سے بہت مدھم سی آواز آرہی تھی۔۔۔نہایت مدھم۔۔۔

بہت مشکلوں سے ایک ڈاکٹر کو دو لفظ سمجھ میں آئے تھے۔۔۔۔ب۔۔با۔۔با۔۔ انہوں نے جلد ہی اسے آکسیجن ماسک چڑھا دیا تھا اور پھر وہ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے تھے،یہ سب ناممکن تھا لیکن ہو گیا تھا۔۔بہت سوچ بچار کر ایک بار پھر انہوں نے رسک لینے کا فیصلہ کیا،

بہت کُچھ تھا جو حیرت ناک تھا۔۔۔۔اور امید افزا بھی۔۔۔۔۔۔آئی سی یو کے باہر نازیہ اور نائلہ دھڑکتے دلوں کے ساتھ تنہا کھڑیں تھیں،ایک اور دن کا سورج بہت سی امیدوں کے ساتھ غروب ہو گیا تھا لیکن آج کی رات اپنے ساتھ بہت سی حیرتناکیاں لائی تھی،چند لمحو ں بعد قاسم باہر آ کر شدید بے چینی میں ٹہلنے لگا ان تینوں کی بے چینی دیدنی تھی،نازیہ کے آنسو اب بے آواز بہہ رہے تھے،نائلہ ضبط کیے کبھی نازیہ کے آنسو پونچھتی کبھی قاسم کو دیکھتی اسکی آنکھوں میں بہت سے سوالات تھے۔

”قاسم۔۔۔۔؟؟“بالا ٓخر اس سے ضبط نہ ہوا اور وہ نازیہ کو چھوڑ کر چند قدم آگے اسکی طرف آئی،قاسم زور سے چونکا، نائلہ کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر ایک لمحہ اسکی آنکھوں میں جگنو جھلملائے ہمیشہ کی طرح۔۔لیکن بس ایک لمحہ۔۔۔۔۔اجیہ کا زرد چہرہ آنکھوں کے سامنے آ گیا اور اسکی آنکھوں کی جوت بجھ گئی،بے تاثر چہرے کے ساتھ اسنے نائلہ کو دیکھا،

”کیا ہوا۔۔؟؟“بہت تھکن تھی اسکے لہجے میں۔۔۔۔

”اندر کیا ہورہا ہے قاسم۔۔۔۔؟؟؟“نائلہ آئی سی یو کے سلائیڈنگ ڈور کو دیکھتی اسکے قریب آئی،

وہ اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر نرم ہوا،پچھلے دو ہفتوں سے وو نائلہ سے ٹھیک سے بات نہیں کرپایا تھا۔۔نائلہ کے بارے میں اسنے ان دنوں بہت کم سوچا تھا رات کو گھر آتے وقت وہ کار میں سو جاتی تب وہ اس سے کوئی بات نہ کرتا تھا کیونکہ دن بھر وہ بہت زیادہ تھک جاتی تھی صبح کے وقت اسکی زبان پر صرف اجیہ کیباتیں ہوتیں تھیں تب بھی وہ صرف ہوں ہاں میں جواب دیتا رہتا۔،

”قاسم۔۔؟“نائلہ نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا،

”ہاں۔۔؟؟“وہ چونکا پھر نائلہ کو غور سے دیکھا،

”اجیہ ہوش میں آ جائے گی نا۔۔۔؟؟؟“اسے ایک بار پھر قاسم سے ہی تسلی چاہیے تھی،

”ہاں نائلہ۔۔۔۔وہ ضرور ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔؟؟“ کہتے ہوئے اسکے سامنے زرد کملایا ہوا چہرہ آیا تھا،نائلہ مڑ کر نازیہ کی طرف چلی گئی اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے تین چار خیالات قاسم کے ذہن میں امڈ آئے،

”معلوم نہیں۔۔ اجیہ کب ٹھیک ہوگی اور نائلہ کی زندگی آگے بڑھ سکے گی۔۔ کاش وہ اجیہ کے ساتھ میرا بھی سوچ لیا کرے کبھی۔۔“

دل میں نا محسوس سی بدگمانی پیدا ہوئی تھی۔نائلہ اب نازیہ کے آگے قدرے جھک کر اسکے آنسو پونچھ رہی تھی،”کیا میں نائلہ کی زندگی میں وہ جگہ لے سکتا ہوں جو اجیہ کے لیے ہے۔۔ ایک بہترین دوست کی جگہ۔۔۔!“ اسنے نائلہ کو دیکھتے ہوے اپنے دل سے سوال کیا اور گذشتہ دو ہفتوں کی طر ح جواب پوری شدت سے نفی میں آیا تھا،

”تو پھراس بارے میں کیوں سوچنے لگے ہو۔۔۔؟نائلہ تمھاری بدگمانیوں کی ذیادہ حقدارنہیں ہے۔۔۔۔قاسم۔۔!!“آج اسنے پہلے سوال کے بعد ایک اور سوال اپنے دل سے پوچھا تھا،

(جاری ہے ۔۔۔۔)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。