Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر49
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر49

نہیں تو۔۔۔مجھے اجیہ سے تو کوئی مسلہ نہیں ہے۔۔۔آئی سی یو میں لیٹی سفید پٹیوں میں جکڑی زرد چہرے والی وہ لڑکی جو کبھی سفید موتیوں والا اسکار ف پہنتی تھی۔۔۔میں اس سے کیوں حسد کرونگا۔۔نائلہ ابھی پریشان ہے۔۔ اجیہ ٹھیک ہوگی تو اسے اپنا قاسم یاد آجائے گا۔۔“

دل نے شاید سچ ہی جواب دیا تھا لیکن اسکا دماغ پھر کُچھ اور کیوں سوچتا ہے۔۔اسے اس موضوع پر مزید سوچنے کا موقع نہیں ملا،سامنے سے سرمد اور شاہد انصاری آ رہے تھے،

”آپ آگئے سر۔۔۔۔؟؟“سرمد اسکے قریب آیا تو قدرے حیرانی سے بولا تھا،

”ہاں وہ۔۔۔“اسنے بات ادھوری چھوڑ کر پیچھے مڑ کر نائلہ کو دیکھا،شاہد انصاری اسکے پاس سے گزر کر نازیہ کے پاس سے چلے گئے تھے اور نائلہ آگے بڑھ رہی تھی،

”ہاں سرمد،ابھی نرس آئی تھی،اجیہ کو ہوش آ رہا ہے بلڈ چاہیے تھا اس لیے میں نے قاسم کو بلا یا۔۔۔۔!!“نائلہ نے نرم نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اسکی بات پوری کر دی،

”اجیہ کو ہوش آرہا ہے۔۔۔۔۔!!!“خوشی اور سرشاری کی انتہائی کیفیت میں سرمد کے منہ سے بلند آواز میں یہ بات نکل گئی،پیچھے نازیہ کے پاس کھڑے اس سے رونے کی وجہ پوچھتے شاہد انصاری کی سماعتوں سے یہ جملہ ٹکرایا تو انہیں لگا کہ جیسے کوریڈور میں قوس قزح اتر آیا ہو۔۔۔۔۔ان کے آ س پاس ڈھیروں گلاب گرے تھے،وہ تیز قدموں سے چلتے نائلہ تک آئے،

”کیا کہا بیٹی۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟اجیہ ہوش میں آ رہی ہے۔۔؟؟“سرشاری ہی سرشاری تھی،

”جی انکل وہ قاسم کو بھی میں نے۔۔۔۔۔“نائلہ کی بات پوری نہ ہو سکی سلائیڈنگ ڈورپ ھر اپنی جگہ سے سرکا تھا،

وہ چاروں سانس روکے باہر آنے والے ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگے،ڈاکٹر تیز قدموں سے چلتے ان تک آئے،

’’کیا آپ اجیہ انصاری کے والد ہیں۔۔؟؟“وہ جو اجیہ کے ہوش میں آنے کی خبر کے منتظر تھے اس سوال کو سن کر شدت سے کوفت زد ہوئے تھے،

”ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔آ پ اسکو چھوڑیں،یہ بتائیں اجیہ ہوش میں آئی ہے۔۔؟؟“قاسم کے لہجے میں ڈھیروں ضبط تھا،

”قاسم صاحب۔۔میں نے جو سوال کیا ہے اسکا تعلق اجیہ انصاری سے ہی ہے؟“

ڈاکٹر کی نگاہوں میں سختی تھی،قاسم نے نائلہ کو دیکھا نائلہ نے شاہد انصاری کو۔۔ وہ لب بھنچے ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے۔

”ڈاکٹر صاحب یہ اجیہ کے والد ہیں۔۔!!“قاسم  شاہد انصاری کے قریب آ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا،

”آئیے میرے ساتھ چلیے۔۔“انہوں نے مڑتے ہوئے کہا،

”ڈاکٹر صاحب لیکن۔۔۔۔

”میرے ساتھ آئیں جلدی۔۔!!“ڈاکٹر دوبارہ آئی سی یو کی طرف مڑ گئے، آئی سی یو کے قریب پہنچ کر وہ رک گئے، اجیہ کا سامنا کرنے کی ہمت ان کے اندر نہیں ہو پارہی تھی۔۔

”جلدی آیئے۔۔۔!!“سلائیڈنگ ڈور سرکا،وہ اندر داخل ہو گئے،نائلہ،قاسم اورسرمد حیران پریشان وہیں کھڑے رہ گئے،نازیہ نے تھک کر سر دیوار سے ٹیک دیا،اندر آئی سی یو میں ڈاکٹر کے پیچھے چلتے  شاہد انصاری کے چہرے پر الجھن کی جگہ پریشانی نے لے لی تھی یا شاید نا محسوس سا خوف ان پر سوار ہوا تھا،وہ اجیہ کو سفید پٹیوں میں بے بسی کی حالت میں نہیں دیکھ سکتے تھے نہ پہلے نہ اب۔۔۔۔۔اجیہ کے بیڈ کی طرف جاتے ہوئے انکے قدم کانپنے لگے تھے،بہت مشکلوں سے انہیں نے  اس کملائے ہوئے گلاب کو دیکھا،دل بہت شدید سے تڑپا تھا،آنکھوں میں پانی آ کر غائب ہوا تھا،اجیہ کے آس پاس مشینیں۔۔۔۔اسے اس طرح دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔۔

”مسٹر انصاری۔۔؟“ڈاکٹر نے آ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا،

انکے پیچھے دو نرسیں اور چار ڈاکٹر ز کی وہ ٹیم بھی پردہ سرکا کر اندر آئی تھی جو اجیہ کے ہوش میں آ نے کے بارے میں بہت پر امید تھے خاص کر ان واقعات کے بعد۔۔۔جو آج معجزے کے طور پر رونما ہوئے تھے،

”اجیہ آپ کو بابا کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔۔‘؟‘

انہوں نے دوسری طرف سے گھوم کر اجیہ کے پاس جا کر اسکی آنکھیں کھول کر اس کی ٹھہری ہوئی پتلیوں میں زندگی کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا۔

”نہیں۔۔؟؟“وہ حیران سے ہوئے،

”آر یو شیور۔۔۔؟؟“ان چارڈاکٹرز میں سے ایک ڈاکٹر نے حیران کن لہجے میں کہا،

”جی۔۔۔۔۔!!“شاہد انصاری کی حیرانی بڑھتی جا رہی تھی،

’ویری امیزنگ۔۔۔!!“اجیہ کا چیک اپ کرتے ڈاکٹرز رک کر کُچھ سوچنے لگے،

’’آپ کو معلوم ہے اجیہ انصاری بے ہوشی کی حالت میں بابا پکار رہی تھیں۔۔اگرچہ اس حالت میں انکے منہ سے نکلنے والے تمام الفاظ کو سمجھنا مشکل ہے لیکن میڈیکل کی رو سے اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں کوئی بات منہ سے نکالے تب اس بات کا مریض کی زندگی سے گہرا تعلق ہو تا ہے۔۔۔۔۔

آپ کو اسی لیے یہاں بلایا ہے۔۔۔۔!!“سینے پر ہاتھ باندھے وہ ڈاکٹرز کی بات غور سے سن رہے تھے۔

”لیکن اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ اجیہ آپ کو بابا نہیں کہتی ہیں۔۔!!

میرے خیال میں یہ بات ناممکن ہے۔۔۔ہو سکتا ہے آپ کُچھ چھپا رہے ہیں۔۔؟؟کیا ایسا ہی ہے۔۔؟“

استفہامیہ انداز میں ڈاکٹر کہتے کہتے بالکل اسکے سامنے آ کھڑے ہوئے،وہ ساکت و جامد رہ گئے،

ذہن کے پردوں پر بہت کچھ نمودار ہوا تھا ایک ساتھ۔۔مہکتے پھولوں کے درمیان ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتی دو پیاری سی بچیاں۔۔بابا۔۔۔بابا۔۔ دیکھیں آپی مجھے مار رہی ہیں۔۔بابا۔۔ بابا۔۔وہ معصوم سی آواز ان کے ہر طرف گونجنے لگی تھی۔ڈاکٹر نے چند لمحے گہری نظر سے انہیں دیکھا پھر واپس مڑ کر اجیہ کے بیڈ کے دوسری طرف گئے،

”دیکھئے مسٹر انصاری۔۔۔۔اجیہ کے ہوش میں آنے کی امید بالکل ختم ہو گئی تھی لیکن یہ بات ہم نے آپ لوگوں سے چھپا کر رکھی تھی مگر آج کے واقعات کے بعد یہ امید دوبارہ تازہ ہو گئی ہے کُچھ بعید نہیں کہ اجیہ انصاری کل یا پرسوں تک ہوش میں آ جائیں،اور بہت ممکن ہے کہ وہ آج رات ہی نئی زندگی پا لیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔!“ڈاکٹر نے سر جھکا لیا۔۔۔،

”کہ انکے ہوش میں آنے کی امید دوبارہ دم توڑ جائے“انکا آخری جملہ چابک کی طر ح ان کے دل سے جا کر ٹکرایا تھا،ضبط سے آنکھیں میچ کر انہوں نے کھولیں،انہوں نے دوبارہ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہنا شُروع کیا،

”ڈاکٹر صاحب آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔؟؟ان کے لہجے میں دکھ کی شدید آمیزش تھی۔

”ہمارے بلانے کا مقصد یہ تھا کہ آپ اگر برا نہ مانیں تو آپ انکے قریب جا کر انسے کوئی بات کریں،ہم اجیہ انصاری کا ریسپانس دیکھنا چاہتے ہیں۔۔!!!“انہوں نے ہاتھ اُٹھا کر اپنے کوٹ کے کالر درست کیے،

”ڈاکٹر۔۔!!“وہ ششدر رہ گئے،

”کیسا مذاق ہے یہ۔۔۔۔!!”اس بار ان کے لہجے میں دکھ کے ساتھ سختی اور طنز بھی تھا،

”آپ اجیہ سے کیوں کھیل رہے ہیں؟؟؟؟“

”نہیں مسٹر سرانصاری۔۔۔آپ نے غلط سوچا،ہم نہ تو مذاق کر رہے ہیں اور نہ ہی ہم کسی سے کھیل رہے ہیں!!ایسے بہت سے کیسز میڈیکل کی ہسٹری میں موجود ہیں جن میں مریضوں نے محض اپنی قوت ارادی کی بدولت اپنی بیماریوں سے جنگ کی ہے۔۔۔۔بہت ممکن ہے اب بھی ایسا ہو جائے۔۔۔آپ سے گذارش ہے جیسا ہم کہہ رہے ہیں ویسا کر لیجئے اپنی مریضہ کی خاطر ہی سہی،آپ ہماری بات ضرور مانیں ہم صرف اجیہ کا ریسپانس دیکھنا چاہتے ہیں اگر کوئی نتیجہ نہ نکلا میں خود آپ سے معذرت کر لوں گا!!!“ ڈاکٹر نے اپنی بات ختم کر کے گہری سانس لے کران کو دیکھا،وہ گہری سو چ میں تھے،ذرا دیر بعد انہوں نے  سر اُٹھایا،اجیہ کو دیکھا پھر ڈاکٹرز کو باری باری دیکھا،

”ٹھیک ہے!!“کہتے ہوے انہیں محسوس ہوا تھاکہ اس پر غیر معمولی بے چینی طاری ہو رہی ہے،

”شکریہ مسٹر انصاری۔۔ڈاکٹرز آپ سب اس طرف آ جائیں۔اجیہ کسی بھی عضو کے ذریعے ریسپانس دے سکتی ہیں!!!“

شاہد انصاری کو ڈاکٹر کی یہ بات کسی کھیل تماشے کی طرح لگی،اجیہ کے ساتھ یہ کیا ہو ارہا تھا۔۔۔لیکن بہت جلد اجیہ کے ہوش میں آنے کی خواہش غالب آ گئی،

’’مجھے کیا کرنا ہے ڈاکٹر۔۔۔؟؟؟“دل پر جبر کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر کی طرف راہنمائی طلب نظروں سے دیکھا،

”آپ اجیہ کے قریب جا کر ایسی کوئی بات کریں جو آپ نے ماضی میں بھی اجیہ سے کہی ہو اور اس بات پر اسے غصہ آیا ہو یاوہ خوش ہوئی ہوں!“”ڈاکٹر نے کہتے ہوئے نرس کو کوئی اشارہ کیا وہ پلٹ کر پردہ سرکا کر باہر نکل گئی،

”ایسی بات۔۔؟؟“

انہوں نے ایک لمحہ کو سوچا،ڈاکٹرز منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے،وہ دھیمے قدموں سے ذرا سا اگے آئے اور خالی الذہن سے اجیہ کو دیکھا،

”کیا کہوں۔۔۔۔؟؟“اب بھی ذہن خالی تھا،وہ ایک قدم اور آگے آئے تھے،ایک بار پھر انہوں نے سوچا کہ کیا کہوں لیکن ندارد۔۔۔!!ذرا سا اور آگے آ کر وہ بیڈ کے بالکل نزدیک ہو گئے،ڈاکٹرز کی نگاہیں ان پر تھیں،و ہ اجیہ کی طرف جھکے،

”اجیہ۔۔میری بیٹی۔۔ میری جان۔۔ اٹھ جاؤ پلیز۔۔ تمھارے بابا سے تمھاری یہ حالت مزید برداشت نہیں ہورہی میری بچی۔۔ جلدی واپس آجاؤ۔۔!!“انہوں نے بہت مدھم لہجے میں بے ربط سے جملے کہے تھے۔ وہ چند جملے کہہ کر مایوسی سے سیدھے ہوئے ہی تھے کہ،ڈاکٹرز اب اجیہ کو پوری توجہ سے جانچ رہے تھے،اگلا لمحہ حیران کن تھا،اجیہ کی بند آنکھوں پر جھکی پلکیں کانپیں ہاتھ کی انگلیاں آہستگی سے اپنی جگہ سے کھسکیں تھیں،ڈاکٹرز کے چہرے پر خشیاں دوڑ گئیں شاہد انصاری کے مایوس چہرے پر جگمگاہٹ بکھر گئی،

”مسٹر انصاری۔۔۔۔ایک بار اور کہیے۔۔۔!!“ڈاکٹر کے لہجے میں جوش سے بھر پور خوشی تھی،وہ تیزی سے دوبارہ آگے آ ئے اور وہی بات پر اعتماد لہجے میں دہرائی اور سیدھے ہوئے،اب کی بار اجیہ کے لب کپکپائے تھے،کُچھ بے ربط سے حرف بہت مدھم سی آواز میں نکل رہے تھے،

ب۔۔با۔۔ب۔۔ب۔۔با۔۔

ڈاکٹرز نے ماسک ہٹا کر سننے کی کوشش کی،اب کی بار نسبتاََ آسانی سے انہوں نے سمجھ لیا تھا،اسکے چہرے پر دوبارہ ماسک چڑھا کر وہ دوبارہ ان کی طرف مڑے،تجربے کے کامیاب ہو جانے کی خوشی انکے چہرے پر رقصاں تھی،

”مسٹر انصاری۔۔۔۔وہ آپ کو ہی بابا کہہ کر پکار رہی ہیں۔۔!!“وہ روح کی گہرائیوں سے سر شار ہوئے تھے،

”باہر جایے  اور اپنے رشتہ داروں کو بتایئے کہ اجیہ انصاری بہت جلد ہوش میں آنے والی ہیں۔۔۔اگر خدا نے چاہا۔۔وہ سب دعا کریں۔۔۔!!!“ڈاکٹر نے ان کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے نرم لہجے میں کہا،اسنے ڈاکٹر کی طرف مشکور نگاہوں سے دیکھا،

”اللہ آپ کو جزا دے ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔میں اپنے سخت لہجے پر معذرت چاہتا ہوں۔۔آپ اپنی پوری کوشش کیجئے۔۔!!“ ڈاکٹر ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دئے، وہ جانے کے لیے مڑے۔۔لیکن پھر چہرہ موڑ کر اانہوں نے کملائے ہوئے گلاب کی مانند زرد چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھا،دل میں بے پناہ جذبات کا طوفان امڈا ٓیا تھا وہ چہرہ موڑ کر باہر نکل گئے،

آئی سی یو کا سلایڈنگ ڈور سرکا کر وہ جیسے ہی باہر آیئے قاسم تیر کی طرح انکی طرف بڑھا تھاسرمد۔۔ نائلہ اور نازیہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے،انہوں نے اجیہ کے جلد ہوش میں آنے کی خبر ان سب کو سنائی تھی۔۔۔وہ رات اپنے دامن میں نا امید دلوں کے لیے بے شمار حوصلے اور امنگیں لیے پھیلی تھی۔۔!!

٭٭٭

(جاری ہے۔۔۔)