Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر50
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر50

وہ کتنی ہی دیر سے کھڑکی میں کھڑی آسمان پر نمو دار ہوئے چاند کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی،آنکھوں کے بھیگے ہوئے گوشوں سے آنسوؤں کے چند قطرے نجانے کب رخساروں پر سے پھسلتے ہوئے اسکے ہاتھ کی ہتھیلیوں پر گرے تھے،دو دن ہو چکے تھے اسے اپنے وطن کی سر زمین پر اترے ہوئے۔۔۔۔اور ان دو دنوں میں اسنے نا معلوم کتنی بار ناصر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی،

اور آج صبح جب اسنے ناصر کے دوسرے نمبر پر کال کی تھی۔۔۔۔اسی نمبر پر جو ناصر اسے دو سال پہلے دے کر گیا تھا۔۔۔اس نمبر پر رابطہ مل گیا تھا۔۔۔۔وہ ناصر کی ہی آواز تھی لیکن یہ شاید اسکا ناصر نہیں تھا۔۔۔ورنہ اسے فوراََ پہچان لیتا۔۔

”کون۔۔۔“ناصر کے یہ پوچھنے پر اسکا دل حلق میں آ گیا تھا کیا ناصر مجھے بھول گیا ہے۔۔۔۔یہ سوال روح فرسا تھا۔۔۔۔وہ یہ کبھی تصور نہیں کر سکتی تھی کہ ناصر اسے بھول چکا ہے۔۔۔۔لیکن وہ بھول چکا تھا۔۔۔۔ان دو سالوں میں وہ سب کُچھ فرامو ش کر چکا تھا۔۔۔۔اسے تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اسکی کوئی بیوی بھی ہے۔۔زندگی میں دوسری بار اسکا انسانوں پر سے اعتماد اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔پہلی بار جب اسکا بھائی اسے چھوڑ کر گیا تھا اوردوسری بار اب جب کہ اسکا محبوب شوہر اسے چھوڑ کر زندگی کے ہنگاموں میں گم ہو گیا تھا،لیکن ابھی بھی۔۔۔امید کی ننھی سی کرن اسکے دل میں روشن تھی۔۔۔اور اسی امید کے سہارے وہ زندہ تھی۔۔۔صبح سے رات ہو گئی تھی،وہ کھڑکی سے ہٹ کر بیڈ پر آبیٹھی زندگی کی امنگیں چند لمحوں میں اسکے دل سے فنا ہوئیں تھیں۔۔۔

آس پاس جیسے کُچھ بھی نہ ہو۔۔۔۔وہ اپنے وجود کو اس دنیا سے ختم کر دینا چاہتی تھی لیکن یہ بھی اسکے کمزور ہاتھوں کے لیے ممکن نہیں تھا وہ خود اپنا گلہ گھونٹ ڈالے۔۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔اس وقت جب اسکا دل امیدوں سے عاری ہوتا جا رہا تھا تب اسکے ذہن میں نازیہ کا خیال آیا۔۔۔۔بہر حال ابھی بھی اسکی دنیا میں کوئی اپنا موجود تھا۔۔۔اور پھر بہت اچانک ہی اسکے دل میں نازیہ سے ایک بار ملنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔۔۔۔بغیر کُچھ سوچے سمجھے اسنے نازیہ کے گھر کا برسوں پرانا نمبر ڈائل کیا،ملازمہ نے کال ریسیو کر کے بتایا تھا کہ اجیہ بی بی کا آپریشن ہوا ہے اور سب گھر والے ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔اب یہ اجیہ کون تھی اسے نہیں معلوم تھا،،،لیکن اسکا دل کہہ رہا تھا کہ ایک بار نازیہ سے ضرور ملنا چاہیے۔۔۔نہیں معلوم کیوں۔۔۔۔اور پھر اسنے گھر کا ایڈریس لے کر کال کاٹ دی تھی۔۔۔۔

کال کاٹ کر وہ دھیمے قدموں سے اپنے سوٹ کیس کی طرف آئی۔۔۔دو دنوں میں اس نے سوٹ کیس کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔بے جان ہاتھوں سے اسنے اپنے اور ناصر کی شادی والے دن کی تصویر نکالی اس تصویر میں ناصر کے چہرے پر پھیلے خوشیوں کے رنگ بہت نمایاں تھے۔۔۔۔کیا واقعی یہ شخص جو مجھ سے اتنی شدید محبت کرتا تھا کہ میں جہاں قدم رکھتی تھی وہ وہاں اپنے ہاتھ بچھا دیتا تھا۔۔۔۔کیا مجھے اتنا ٹوٹ کر چاہنے والا یہ شخص دھوکے باز ہو سکتا ہے۔۔مجھ سے بے وفائی کر سکتا ہے۔۔۔۔زندگی کی تلخ حقیقتوں کی طرح اس حقیقت نے بھی اس کی روح کو چھلنی کر دیا تھاتصویر ہاتھ میں لیے وہ بے دم سی ہو کر بہت نڈھال ہوتے ہوئے بیڈ پر گری تھی۔۔۔رات تاریک ہوتے ہوئے اب ستاروں کی چمک سے جھلملانے لگی تھی۔۔۔۔۔

٭٭٭

اجیہ انصاری کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے دو گھنٹے بعد آپ ان سے مل سکیں گے۔۔۔۔!!“یہ خبر گویا بہار کا ٹھنڈا جھونکا تھی جس نے کوریڈور میں کھڑے سب لوگوں کے اندر تک ٹھنڈک اتار دی تھی،اجیہ کو پرسوں رات کو ہی ہوش آ گیا تھا اور اسکے بعد سے شاہد انصاری مسلسل نوافل پڑھ رہے تھے اجیہ کے ہوش میں آنے سے پہلے انکے لبوں پر اسکے ہوش میں آنے کی دعائیں ہوتیں تھیں اوراب جبکی وہ ہوشمیں آ گئی تھی تب سب سراپا عاجزی بن کر اسکے صحتیاب ہونے کی دعائیں مانگ رہے تھے۔۔۔جب نرس نے انہیں یہ خبر سنائی تب وہ سب کوریڈور میں ہی تھے،بس قاسم باہر گیا تھا۔۔۔شاہد انصاری کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور سرمد انکے برابر میں بیٹھا پانی پی رہا تھا۔۔۔نازیہ اپنی میڈیسن لے رہ تھی نائلہ آئی سی یو کے سلائیڈنگ ڈور کے سامنے کھڑی شیشے کے دوسری طرف کُچھ ڈھونڈ رہی تھی جب قاسم باہر جانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اسکے پاس رکا،

”نائلہ۔۔؟؟“اسکے لہجے میں وہ کچھ محسوس کر کے وہ چونکی،

”کیا ہوا۔۔؟؟؟“نگاہیں اُٹھائے بغیر اسنے آہستگی سے کہا،

”میں بدلا نہیں ہوں نائلہ۔۔۔تم میرے لیے ویسی ہی ہو جیسی پہلے تھی۔۔۔میری محبت میں شک مت کرنا“

قاسم کا لہجہ بے تحاشا نرم تھا۔۔۔،اسنے بے اختیار اپنی پلکیں اُٹھا کر اسے دیکھا،وہ مسکرا کر سر کو خم کرتا آگے بڑھ گیا،اسکے اندر جیسے برف اتری ہو،سکون ہی سکون اسکے اطراف میں چھا گیا،لبوں پر بے تحاشا مسکراہٹیں پھیلیں تھیں۔۔۔وہ دونوں کُچھ دنوں سے ایک دوسرے سے بدگمان رہنے لگے تھے،وہ ورنہ اس سے بات کرتا تھا اور نہ ہی اس کی حیریت پوچھتا تھا،نہ چاہتے ہوئے بھی قاسم اسے خود سے دور ہوتا محسوس ہو رہا تھا،ہاسپٹل بھی وہ کم ہی آتا اسے چھوڑنے اور لینے کے علاوہ وہ بہت کم ہاسپٹل میں رکتا تھا اسے لگتا وہ اس سے کترا رہا ہے کار میں بھی اسکے اور قاسم کے درمیان اجنبیت چھائی رہتی۔۔۔۔

وہ بالکل اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہی تھی کہ ان دنوں وہ خود بھی قاسم کو توجہ نہیں دے رہی ہے،،اور کل جب وہ اسے ہاسپٹل چھوڑنے آیا تھا تب کار سے اترتے وقت اسنے بس ایک لمحے کے لیے چہرہ موڑ کر قاسم کے چہرے پر کچھ ڈھونڈنا چاہا تھا لیکن اسکا سپاٹ چہرہ دیکھ کر اسکا دل بے اختیار رونے کو چاہا تھا،اسکا ارادہ تھا کہ وہ قاسم سے ڈھیروں گلے شکوے کرے گی لیکن اس وقت وہ بس ایک لمحہ کہہ کر کار سے اتر گئی تھی،

”تم بہت بدل گئے ہو قاسم۔۔۔۔۔۔!!!!“اور قاسم ششدر رہ گیا تھا،پھر وہ آہستگی سے کار کو آگے لے گیا تھا،اور اسکی پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر ہتھیلیوں پر گرے تھے،اگر قاسم پہلے جیسا ہی ہے تو میری بات کو سمجھ جائے گا اور اگر۔۔۔۔

اس نے آگے سوچنے سے پہلے زور سے آنکھیں میچیں تھیں،لیکن اسکا پہلا خیال ہی ٹھیک نکلا قاسم بہت اچھی طرح اسکی بات سمجھگیاتھا۔۔۔۔۔۔وہ آئی سی یو کے سلائیڈنگ ڈور کے سامنے ابھی صحیح طرح اپنی روح کی تازگی کو محسوس بھی نہیں کر پائی تھی کہ نرس نے وہ خبر سنا دی تھی،جو بارش کی پہلی بوند کی طرح نرم تھی،۔۔۔باد صبا کے پہلے جھونکے کی طرح فرحت بخش تھی۔۔۔نئی زندگی تو اجیہ کو عطا کی گئی تھی لیکن وہ لوگ جو اس سے وابستہ تھے ان کے لیے بھی کم نہ تھی کہ وہ سب بھی سرشاری کی انتہاؤں پر پہنچے تھے۔۔۔۔

نازیہ بے اختیار وہیں کوریڈور میں قبلہ رخ ہو کر سجدے میں گر گئی۔۔۔۔سرمد بے ساختہ اُٹھ کر شاہد انصاری سے لپٹ گیا اور نائلہ اسکے لبوں کی مسکراہٹیں گہری ہوئی تھیں۔۔آنکھوں سے جگمگاتے ہوئے قطرے رخساروں پر پھیلے تھے دل تشکر کے احساس سے لبریز ہو گیا تھا۔۔۔۔۔بے پناہ مسرت کے احساس میں ڈولتے ہوئے اسنے قاسم کو کال کی،

”قاسم۔۔۔اجیہ کو وارڈ میں شفٹ کر دیا ہے۔۔۔۔تم کہاں ہو۔۔۔؟؟؟“

”نائلہ۔۔سچ میں۔۔میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔۔۔“

”جلدی آؤ نا۔۔۔پلیز۔۔!!“

”اپنی ملکہ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔!۱“قاسم کے لہجے پر وہ بے ساختہ محجوب سی ہو گئی،

”میں تمھاری ملکہ کب سے ہو گئی!!!“اور وہ کھلکھلا کر ہنس دیا،بہت دنوں بعد اسے قاسم کا یہ لہجہ بہت اچھا لگ رہا تھا،

’تم پھر شُروع ہو گئے۔۔۔۔جلدی نہیں آ سکتے کیا۔۔۔۔؟؟“

’’نہیں نائلہ۔۔۔۔پلیز ناراض مت ہونا۔۔۔اصل میں میں آجکل ناصر کے پیچھے لگا ہوا ہوں۔۔۔ثبوت ڈھونڈ رہا ہوں۔۔میں نے انٹیلی جنس والوں کو سب بتایا تھا جو بھی مجھے معلوم تھا۔۔۔۔۔اپنی بات ثابت کرنے کے لیے مجھے ثبوت چاہیے۔۔۔اس لیئے۔۔میں ابھی نہیں آ سکتا۔۔۔۔۔!“اسکا لہجہ سنجیدہ تھا،

”اچھا۔۔۔اچھا۔۔۔اوکے۔۔لیکن قاسم۔۔۔تمھیں پتہ چلا ہے۔۔۔کہ ناصر ہے کون۔۔۔۔کیا چاہتا ہے۔۔۔!!“نائلہ چلتے چلتے کوریڈور کے آخری سرے تک آگئی تھی۔۔۔۔،

”ہاں پتہ چلا ہے بہت کُچھ۔۔۔۔لیکن بہتر ہو گا ابھی مت پوچھو۔۔ٹھیک۔۔؟؟؟“

”ٹھیک ہے جیسا تم کہو۔۔۔!!“وہ آنکھیں بند کر کے شرارت سے مسکرائی،

”واؤ جیسا میں کہوں۔۔!!“

”ہاں۔۔شک ہے کیا۔۔۔؟؟“

”نہیں بلکل نہیں۔۔اوکے تم نازیہ کا خیال رکھو مجھے کام ہے۔۔!!“

”اوکے بائے۔۔۔!!“اسنے مسکراہٹ ضبط کی،

”بائے۔۔۔اپنا خیال رکھنا!!!“اسنے موبائل کان سے ہٹا کر چند لمحے کے لیے اسکرین کو دیکھا۔۔یہ جملہ کتنا اپنائیت بھر اتھا۔۔۔۔وہ مڑی اور تیز تیز چلتے کوریڈور کے دوسرے سرے پر آئی،سرمد اپنی ماما کو کال کر رہاتھا نازیہ اب شاہد انصاری کے سینے سے لگی کھڑی تھی،بالآخر خوشیوں کے دن لوٹ آئے تھے۔۔۔۔

”انکل۔۔۔؟؟“اسنے شاہد انصاری کو پکارا،

”آپ کو مبارک ہو۔۔!“وہ مسکرا کر اسکے قریب آئے،

اللہ تمھیں اور قاسم اور اس بچے کو جزائے خیر دے۔۔۔تم لوگ نہ ہوتے تو میں اب تک ہمت ہار چکا تھا۔۔۔۔۔!!“انہوں نے سرمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،وہ اسنے مسکرا کر نازیہ کی طرف دیکھا،

”نازیہ آپ کو بھی مبارک ہو۔۔۔!!“وہ مسکراتے لبوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ شاہد انصاری سے الگ ہو کر نائلہ کے گلے لگ گئی،شاہد انصاری نے مسکراتے ہوئے آنکھوں کے بھیگے گوشے صاف کیے تبھی سرمد انکے نزدیک آیا،

”شاہد انکل۔۔۔۔ماما۔۔۔تھوڑی دیر میں آ رہی ہیں،

آپ کو بہت مبارک ہو۔۔۔!!!ُ“وہاں پر ہر طرف خوشبو بکھری ہوئی تھی،خوشیوں کی نا محسوس سی خوشبو،

”تم کو بھی مبارک ہو میرے بیٹے۔۔۔تم سب کو مبارک ہو۔۔۔!!“وہ بیٹھ گئے تھے،

کوریڈور میں گویا شادیانے بج رہے ہوں۔۔۔۔ان سب کے چہروں پر پھیلی جگمگاہٹ سے ان کی دلوں کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔۔۔

ڈیڑھ گھنٹہ پلک جھپکتے گزر گیا،سرمد کی ماما ابھی نہیں آئیں تھیں،جب نرس نے آ کر ان سے وارڈ میں جانے کو کہا تھا۔۔۔

”اگر آپ لوگ چاہیں تو اجیہ انصاری سے مل سکتے ہیں۔۔۔لیکن احتیاط کیجئے گا وہ زیادہ باتیں کرنا انکے لیے خطر ناک ہو سکتا ہے۔!!“شاہد انصاری یہ سن کر بے قراری سے کھڑے ہوئے تھے،

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔ہم احتیاط کرینگے۔۔۔۔اسکا وارڈ نمبر کیا ہے۔۔۔؟؟“

”176۔۔۔اس کوریڈور سے نکل کر ریسپشن کے برابرمیں کوریڈور کے آخری سرے پر۔۔۔۔۔!!“نرس نے اشارے سے بتایا اور وہ سب بہت تیزی سے اس جانب بڑھے تھے،لیکن سرمد۔۔۔۔۔۔وہ مٹھائی لانے کا کہہ کر باہر چلا گیا تھا،بہت مشکل تھا اسکے لیے اپنے احساسات و جذبات چھپانا۔۔۔

خود اسے اپنے اندر مسرت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے بیچ یہ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ و ہ اجیہ سے مل کر کس طرح ری ایکٹ کرے گا۔۔۔اسی لیے وہ باہر چلا گیا اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے۔۔۔۔اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی اسکی آنکھوں کے جگنو دیکھ نہ لے۔۔۔اسے ڈر تھا کہ اسکی نگاہیں کوئی راز فاش نہ کر دیں۔آدھے گھنٹے بعد جب واپس آ کر اسنے وارڈ کا رُخ کیا تھا تو دھڑکن معمول پر تھی۔۔وہ ابھی وارڈ کے باہر ہی پہنچا تھا کہ شاہد انصار نائلہ اور نازیہ باہر نکلے اسے سامنے کھڑا دیکھ کرا مسکرائے،

”باہر کیوں کھڑے ہو سرمد۔۔۔۔اندر کیوں نہیں آئے۔۔۔؟؟؟“نازیہ نے مسکراتے ہوئے اسے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا،

”وہ۔۔میں ابھی تو مٹھائی لے کر آیا ہوں۔۔۔!!“وہ ہکلا گیا،

”اچھا۔۔۔لاؤ مٹھائی دو۔۔۔اور جا کر اجیہ سے مل لو۔۔۔تمھارا پوچھ رہی ہے۔۔۔!!“نائلہ کے چہرے پر بھی معنی خیز مسکراہٹ پھیلی تھی،

”اچھا۔۔۔ ماما آگئیں کیا۔۔؟؟“اسنے بات بدلنا چاہی،

”نہیں ابھی نہیں آئیں۔۔!!“شاہد انصاری بولے،

”اوکے۔۔آپ لوگ مٹھائی کھائیں میں اجیہ سے مل کر آتا ہوں۔۔۔۔!!!“

”شیور۔۔۔“وہ تینوں مسکرا دئیے،اور سرمد اپنے جذبات سنبھالتا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا،

اے سی کی ٹھنڈک کمرے میں پھیلی تھی،کمرے کے وسط میں بچھے بیڈ پر زردی پھیلی تھی،اسکے سر کی پٹی اتر گئی تھی اور اسکا چہرہ سبز اسکارف کے ہالے میں تھا بازو کی پٹی ابھی نہیں اتری تھی،وہ بے آواز قدموں سے چلتا اسکے بیڈ تک آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔،اجیہ نے ابھی بھی آنکھیں نہیں کھولیں تھیں،

اسکے سینے تک سبز چادر ڈھکی تھی،پھول سا کملایا ہوا چہرہ اب نسبتاََ بہتر لگ رہا تھا لیکن تکلیف کے آثار بھی اسکے چہرے پر نمایاں تھے اور یہی چیز سرمد کو بے چین کر رہی تھی،وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا آنکھوں میں بے شمار جھلماتے ہوئے جگنو ؤں کے ساتھ وہ معصومیت اور وفا کے اس خوبصورت پیکر پر سے نظریں ہٹا پا رہا تھا،

”اجیہ۔۔۔۔!!“بالآخر بہت مشکل سے اسکے لبوں سے اسکا نام نکلا تھا،اجیہ نے آنکھیں کھولیں تھیں،

”آپ آ گئے۔۔۔۔۔؟؟“

اسکی آواز بہت نحیف تھی،

”ہاں آ گیا۔۔۔۔آپ میرا انتظار کرر ہی تھیں اجیہ۔۔؟؟“وہ ذرا ساا ٓگے ہوا،

”ہاں سرمد۔۔۔میں انتظار کر رہی تھی۔۔۔!“

وہ رک کر گہری سانس لینے لگی،”آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا“اسنے اپنا ہاتھ ہلانا چاہا ناکامی پر وہ بے اختیار کراہی،

’’اجیہ۔۔۔آرام سے۔۔ابھی مت ہاتھ ہلائیں۔۔۔“

وہ تڑپ کر ہاتھ اُٹھ اکر اسے منع کرنے لگا۔اجیہ دھیما سا مسکرائی،

”اور میرا شکریہ کس لیئے۔۔۔؟؟؟“

”ہاں سرمد۔۔۔ابھی ابو نے بتایا کہ آپ نے میرے لیے اتنی تکلیف اُٹھائی۔۔۔میں آپکا شکریہ کیسے ادا کروں۔۔۔“وہ دوبارہ تھوڑا سا بول کر ہانپنے لگی،

”اجیہ پلیز۔۔۔۔اس طرح نہیں۔۔۔“اسنے سر کے اشارے سے اسے منع کیا،

”آپ کا بہت شکریہ۔۔۔  ابو۔۔ نازیہ آپی کا آپ نے اتنا خیال رکھا“اسنے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔

”اور آپ سے معذرت چاہتی ہوں کہ اس دن آپ کو میری وجہ سے اتنی تکلیف ہوئی۔۔کاش آپ وہاں نہ آئے ہوتے!!“اسنے رک کر ایک نظر سرمد پر ڈالی،

”اجیہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں پلیز۔۔۔۔!!“وہ سر تا پا التجا بن گیا،

”خدا کا شکر کہ اسنے مجھے نئی زندگی دی۔۔۔۔اگر میں مر جاتی تو آپ کا قرض رہ جاتا مجھ پر۔۔۔۔!“وہ آنکھیں بند کر کے بول رہی تھی،

”خدا کا شکر ہے۔۔!!“یہ کہتے وہ یکدم کھانسنے لگی،آنکھوں میں بے پناہ تکلیف امڈآئی تھی،

سرمد بوکھلا کر اُٹھا اور جگ سے پانی انڈیل کر جلدی سے اجیہ کا سر تکیہ کے سہارے اوپر کیا اور گلاس لبوں سے لگایا،چند گھونٹ پی کر وہ گہری سانسیں لینے لگی،

”اب بہتر ہے اجیہ۔۔؟؟“اسنے گلاس رکھتے ہوئے پوچھا،

”شکریہ۔۔۔!!“وہ تکلیف سے آنکھیں بند کرتی واپس لیٹ گئی،

”آپکا شکریہ سرمد۔۔۔۔ہر بات کے لیے شکریہ۔۔“وہ نجانے کیا کہنا چاہ رہی تھی،

”اجیہ۔۔۔۔آپکا شکریہ۔۔۔میرے لیے اعزاز ہے۔۔لیکن اتنی بار مت کہیں کہ مجھے شرمندگی ہونے لگے!“وہ نرم لہجے میں بولا تھا،اجیہ نے آنکھیں کھو ل کر اسے دیکھا تھا اور دوبارہ بند کر لیں،

”جائیں آپ نرس کو بھیجیں۔۔مجھے انجیکشن لگا دے کوئی مجھ سے یہ درد برداشت نہیں ہو رہا۔۔،“اسکے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ بازو کا درد اب اسکے برداشت سے باہر ہے۔۔!!سرمد تیزی سے اُٹھا،

”میں ابھی بلاتا ہوں۔۔!“دروازے کے قریب پہنچ کر اسنے مڑ کر اجیہ کو دیکھا،وہ آنکھیں بند کیے بہت مشکل سے تکلیف ضبط کر رہی تھی،اسکے دل کو ٹھیس لگی،لب بھینچ کر وہ باہر نکل گیا،نرس کو اندر بھیج کر وہ مڑا تو اسے اپنی ماما کوریڈور کے کونے میں شاہد انصاری کے ساتھ نظر آئیں،وہ کوئی بات کر رہیں تھیں بہت سنجیدہ انداز میں،اسنے نائلہ اور نازیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں،وہ دونوں وہاں نہیں تھیں قاسم ابھی تک نہیں آیا تھا،وہ شاہد انصاری کی طرفہی مڑ گیا،

”السلام و علیکم۔۔“قریب پہنچ کر ماما کو سلام کیا تو وہ دونوں چونکے،پھر اسے دیکھ کر مسکرائے،

”اجیہ کیسی ہے بیٹا۔۔۔؟؟؟“

”پتہ نہیں ماما۔۔آپ خود ہی مل لیں۔۔۔!!“وہ دھیمے لہجے میں بولا،

”اچھا۔۔۔میں اس سلسلے میں سرمد سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔!!“شاہد انصاری نے کہتے ہوئے سرمد کی ماما کی طرف دیکھا،جواباََوہ مسکرائیں،

”ضرور۔۔۔جو آپ مناسب سمجھیں،“

”بیٹا میں اجیہ سے مل کر آتی ہوں۔۔۔!“وہ اسکا گال تھپتھپا کر وارڈ کی طرف بڑھ گئیں،

”سرمد بیٹا آؤ ادھر چل کر بیٹھیں۔۔۔!!“شاہد انصاری اسے ساتھ لیے بینچ پر آ کر بیٹھے،وہ الجھا الجھا انکے ساتھ جا کر بیٹھ گیا،

”آپ کو کس سلسلے میں بات کرنی ہے انکل۔۔؟؟؟“اسکا لہجہ الجھن زدہ تھا،

”سرمد۔۔۔ابھی اس بات کو چھوڑو۔۔۔۔پہلے ایک بات بتاؤ۔۔۔“وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے،

”جی پوچھیں۔۔“اسنے انکی طرف سیدھا ہوتے ہوئے کہا،

”اجیہ تمھیں پسند ہے۔۔؟؟؟“وہ بغور اسکی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے،

”پسند۔۔“وہ اس غیر متوقع سوال پر شاکڈ رہ گیا،

”ابھی تمھاری ماما نے مجھ سے تمھارے اور اجیہ کے رشتہ کی بات کی ہے۔۔۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ مجھے تو خود تم اچھے لگتے ہو۔۔۔۔لیکن میں تمھاری رائے جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔۔اجیہ تمھاری پسند ہے یا تمھاری ماما کی۔۔۔؟؟؟“انھوں نے دھیرے دھیرے بات کرتے ہوئے اس سے پوچھا،

”میر ی۔۔۔پسندہے انکل۔۔۔۔“اسنے سر جھکا لیا،اجیہ کا سفید اسکارف میں چمچماتا چہرہ اسکے سامنے آ گیا،

”ٹھیک ہے۔۔۔“وہ اُٹھ کر وارڈ کی طرف بڑھ گے،تھوڑی دیر بعد اسکی ماما باہر آئیں اور ساتھ ہی شاہد انصاری بھی باہر آگئے،ان دونوں نے وارڈ کے دروازے میں رک کر کُچھ دیر بات کی پھر شاہد انصاری دوبارہ وارڈ میں گئے،چند لمحوں بعد باہر آئے اور سرمد کی طرف بڑھے،وہ بینچ پر بیٹھا خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا،انہیں آتا دیکھ کر کھڑا ہوا،

”سرمد بیٹا۔۔۔۔آپکی ماما اور میں چاہتے ہیں کہ کل آپکی منگنی کر دی جائے“اسے پتہ نہیں کیوں کوفت ہوئی تھی،

”انکل۔۔۔۔اتنی جلدی۔۔۔ابھی تو اجیہ ٹھیک بھی نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔اور پھر اجیہ کیا سوچے گی کہ میں زبردستی کر رہا ہوں۔۔۔!!“شاہد انصاری مسکرائے،

”سرمد۔۔۔۔اجیہ سے میں پوچھ چکا ہوں۔۔۔اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔“

”ٹھیک ہے انکل۔۔۔۔جیسے آپکی مرضی۔۔۔۔!!“اسنے سر جھکا لیا،شاہد انصاری نے اسکا شانہ تھپتھپایا،

”تو پھر مبارک ہو تمھیں۔۔۔۔!!“وہ بے ساختہ مسکرا دیا،وہ پلٹ کر اسکی ماما تک گئے،

’مبارک ہو بہن آپکو بھی۔۔۔۔آج کا دن خوش قسمت ترین ہے۔۔خدا کا شکر ہے۔!!“اسکی ماما کھل کر مسکرا دیں،

”ہاں خدا کا شکر۔۔۔۔!!“

”یہ نائلہ اور نازیہ کہاں رہ گئیں۔۔۔؟؟“شاہد انصاری نے متفکر نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا،

”میں ذرا انہیں دیکھ کر آتا ہوں۔۔جلدی سے سب جمع ہوں تا کہ میں انہیں یہ خوشخبری سناؤں“وہ معذرت خوانہ انداز میں کہتے کہتے باہر نکل گئے تو اسکی ماما اسکی طرف مڑیں،

”اب تو خوش ہو نا میری جان۔۔۔!!“اور وہ بے اختیار انکے سینے سے لگ گیا،

”آپ بہت اچھی ہیں ماما۔۔۔۔۔!“

٭٭٭

(جاری ہے۔۔۔۔۔)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。