Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر51
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر51

اگلے دن کا سورج بے پناہ مسرتیں لیے طُلوع ہوا تھا۔۔۔آج چڑیوں کا چہچہانا بھی نغمہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ہر چیز خوشی سے تھرکتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ سمندر کی لہریں بھی بہت اونچائی تک اوپر جا رہیں تھیں۔۔۔موسم بھی بہت خوشگوار محسوس ہورہا تھا۔۔ نائلہ جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی قاسم باہر ہارن دے رہا تھا، اسنے تیزی سے فیروزی دوپٹہ چہرے کے گرد باندھا پرفیوم خود پر چھڑکا آئینے میں خود کا جائزہ لیتے ہوئے پاؤچ اُٹھایا،موبائل ہاتھ میں پکڑا اور باہر نکل گئی۔۔۔، قاسم نے فرنٹ ڈور کھولا ہوا تھا،

”السلام علیکم۔۔؟؟؟“وہ بیٹھی تو قاسم نے سلام کیا۔۔

”کیسے ہو۔۔۔۔؟؟؟“وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرائی۔،

”ٹھیک ہوں۔۔۔۔تم کیسی ہو۔۔؟؟“وہ کار اسٹارٹ کرنے لگا،

”تم ٹھیک ہو تو میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔!!“اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی،

”کیا بات ہے۔۔۔۔آج بہت خو ش ہو۔۔؟“کار اب گلیوں سے گزر رہی تھی،

”خوش نہیں ہونا چاہیے۔۔۔؟؟؟آخر کو میری دوست کی منگنی ہے۔۔!!“نائلہ نے مسکرا کر پشت سے سر ٹیک دیا،

”ہاں بالکل خوش ہونا چاہیے۔۔۔بلکہ میں تو تم سے بھی زیادہ خو ش ہوں۔۔۔!!“اسنے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا،

’’کیوں۔۔۔!“

اسلیے کہ ایک تو میری وائف کی دوست کی منگنی ہے اور۔۔۔۔۔“

”قاسم میں کزن بھی تو ہوں تمھاری بھئی۔۔۔۔!!“

اسنے قاسم کی بات کاٹتے ہوئے خاصی خفگی سے کہا،

”ہاں لیکن مجھے دوسرا رشتہ زیادہ اچھا لگتا ہے۔۔۔تمھیں کوئی اعتراض ہے کیا۔۔۔؟؟“کار اب سڑک پر آگئی تھی

”اف۔۔۔!!‘مسکراہٹ دبائے وہ باہر دیکھنے لگی،

”ہاں تو وہ دوسری بات یہ کہ ناصر کا مقصد اسطر ح نہیں پورا ہو پائے گا۔۔۔!!“”قاسم کا لہجہ یکدم سنجیدہ ہوا،

”ناصر کا مقصد۔۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟؟“وہ حیران سی ہوئی،

”تم نے جو بات مجھے بتائی تھی اس پر میں نے مزید سوچا۔۔۔پھر مجھے بہت اچھی طرح ناصر کا مقصد سمجھ میں آ گیا۔۔۔۔اب تک جتنے ثبوت ناصر کے خلاف میں نے ڈھونڈے ہیں وہ سارے میں نے انٹیلی جنس کو دے دیئے ہیں،۔۔۔اب میرا خیال ہے کہ خفیہ طور پر ناصر کی تلاش شُروع ہو چکی ہے۔۔۔جانتی ہو نائلہ۔۔؟؟؟ناصر کون ہے۔۔؟؟؟“قاسم نے کار کی رفتار تیز کر دی تھی،

”نہیں،۔۔۔۔کیا تمھیں معلوم ہے۔۔۔۔؟؟“نائلہ کا چہرہ حیرت زدہ تھا،

”وہ فارن ایجینٹ ہے!!“قاسم کا انشاف دھماکہ خیز تھا،وہ شاکڈ رہ گئی،

”کیا۔۔۔۔؟؟؟“

”ہاں۔۔۔نائلہ اچھا چھوڑو تم اس پر مت سوچو۔۔۔اجیہ کے لیے تم نے گفٹ لیا۔۔؟؟“

”آ۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔لیا۔۔۔!!!“وہ الجھ سی گئی،

”اچھا۔۔۔چلو ٹنس مت ہو۔۔۔جب شاہد انصاری فنکشن کریں گے تو گفٹ دیدینا،ابھی تو بس ہاسپٹل میں رنگ پہنا کر انگیجمنٹ ہو جائے گی نا۔۔۔؟؟؟“قاسم مکمل طور پر موضوع سے ہٹ گیا،

”ہاں۔۔ہاں۔ٹھیک ہے۔۔۔!!“نائلہ دوبارہ باہر دیکھنے لگی،باقی راستے ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی،ہاسپٹل کے سامنے پہنچ کر اسے سرمد کار سے اترتا دیکھائی دیا،بے اختیار اسکی آنکھوں میں شرارت رینگ گئی،

”قاسم۔۔۔میں یہیں اتروں گی۔۔تم کار پارک کر کے آجاؤ۔۔۔۔!!“قاسم نے مسکراکر کا ر روک دی،وہ اتر گئی تو وہ کار کو پارکنگ کی طرف لے گیا،نائلہ آہستگی سے چلتے بالکل سرمد کے پیچھے پہنچی تبھی اسکی ماما بھی فرنٹ سائیڈ سے اتریں اسے دیکھ کر وہ ہلکا سا چونک گئیں،اسنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انھیں خاموش ہونے کا کہا اور سرمد کی طرف دیکھا،

”السلام و علیکم۔۔۔دولہا بھائی۔۔۔!!“اسکی ماما کھلکھلا کر ہنس دیں۔۔وہ بری طرح چونک کر پیچھے مڑا اور نائلہ کو دیکھ کر مسکرا دیا،

”ارے نائلہ۔۔۔۔آپ۔۔۔!!“چند لمحوں بعد قاسم کار پارک کر کے آ گیا اور وہ سب اندر کی طرف بڑھے،قاسم اور سرمد کو گلے لگایا،نائلہ کے سر پر ہاتھ رکھااور سرمد کی ماما کا مسکراکر خیر مقد م کیا،

اس وقت وہ سب ایک ہی خاندان کے لوگ لگ رہے تھے کہیں یہ نہیں لگ رہا تھا کہ ان کے درمیان دو دشمن کمپنیوں کے سربراہ موجودہیں،وہ سب وارڈ میں داخل ہوئے تو نازیہ اجیہ پر جھکی اسے کُچھ کہہ رہی تھی،انھیں دیکھ کر سیدھی ہو گئی،اجیہ نے مسکرا کر اُٹھنا چاہا لیکن وہ نہیں اُٹھ سکی لبوں سے کراہ نکل گئی اور وہ بے دم سی ہو کر دوبارہ گر گئی،

”ارے۔۔۔ارے۔۔دلہن بیگم آپ لیٹیے۔۔۔!!“نائلہ تیزی سے کہتی آ گے آئی اور اسکی طرف جھک کر آہستہ سے سرگوشی کی،

”مبارک ہو میری جان۔۔!!“اجیہ کے رخسار سرخ ہو گئے تکلیف کے باوجود وہ مسکرا دی،اسنے آج سفید اسکارف پہنا ہوا تھا چہرہ ویسے ہی زرد تھا،لیکن وہ آج ویسی ہی حسین لگ رہی تھی جتنی دلہن بن کر لگتی،قاسم اور سرمد سب سے پیچھے کھڑے تھے،سرمد کی ماما نے آگے آ کر اجیہ کا ماتھا چوما اور پھر پیچھے ہو کر شاہد انصاری کو دیکھا،انہوں نے مسکرا کر سر خم کیا،نائلہ اور نازیہ بیڈ کی دوسری طرف کھڑی ہو گئیں تھیں،

”بسم اللہ کیجئے بہن۔۔۔!!“شاہد انصاری نے سرمد کی ماما کو دیکھا،اسنے ہاتھ میں پکڑی انگوٹھی کا ڈبہ انکی طرف بڑھایا،انہوں نے سرمد کے ہاتھ سے ڈبہ لے کر شاہد انصاری کی طرف بڑھا دیا،انہوں نے لے کر کھولا اور انگوٹھی نکالی،سونے کی اس انگوٹھی پر باریک سا اے اور ایس لکھا ہوا تھا،دونوں حروف کے بیچ میں ننھا سا دل بنا ہوا تھا،

”بہت۔خوبصورت ہے۔۔۔۔!!“شاہد انصاری نے بے ساختہ انگوٹھی کی تعریف کی،

”مجھے بھی دکھائیں انکل۔۔۔۔؟؟؟“نائلہ بچوں کی طرح اچک اچک کر انگوٹھی دیکھ رہی تھی،انہوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے کر کے نائلہ اور نازیہ کو انگوٹھی دکھائی،پھر سرمد کی ماما کی طرف دیکھا،

”میر ی بیٹی کو انگوٹھی آ پ پہنائیں گیں یا سرمد بیٹا پہنائے گا۔۔۔۔؟؟؟“

دلہا بھائی پہنائیں گے نا۔۔۔ان کی امی کیوں پہنانے لگیں۔۔۔!“نائلہ نے ضدی لہجے میں کہا تو سرمد کی ماما نے مسکرا کر شانے اکا دیئے،انہوں نے سرمد کی طرف دیکھا،

”آؤ بیٹا،۔۔۔۔!!“

”نہیں۔۔۔۔وہ انکل۔۔۔میں۔۔۔۔وہ امی۔۔۔ہی۔۔۔پہنا دیں تو ٹھیک ہے۔۔!!“سرمد بوکھلا سا گیا،

”جی نہیں دولہا بھائی بالکل بھی شرمانے کی ضرورت نہیں ہے آپکو۔۔۔۔۔آئیں جلدی۔۔۔!!“نائلہ دوبارہ شوخ لہجے میں بولی،اب کی بار سرمد کے چہرے پر گھبراہٹ طاری ہوئی تھی،قاسم ہنستے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپانے لگا،

”آؤ بیٹا۔۔۔!!“شاہد انصاری نے دوبارہ کہا تو سرمد آ گے آ یا،انگوٹھی انکے ہاتھ سے لی اور اجیہ کی طرف دیکھا،وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی نگاہیں چار ہوئیں اسنے جلدی سے نگاہوں کا زاویہ بدلا،

چلو بیٹا بسم اللہ پرھ کر انگوٹھی پہناؤ!!“وہ اپنی ماما کے کہنے پر اجیہ کے بیڈ کے قریب آیا اور ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا،اجیہ کے رخساروں کی سرخی مزید گہری ہوگئی،ایک بازو تو وہ ہلا نہیں سکتی تھی دوسرا ہاتھ ہلانا بھی اسکے لیے دو بھر ہو گیا،

سب کی مسکراتی نگاہیں انگوٹھی پر تھیں سرمد کی ماما نے ہاتھ میں پکڑا مٹھائی کا ڈبہ کھو ل لیا،کرسی پر بیٹھے سرمد نے بمشکل تمام انگوٹھی تھامتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا،اجیہ کا پورا وجود کپکپا اُٹھا بہت مشکلوں سے اسنے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا،ہتھیلی پر گویا لرزا طاری تھا،

سرمد نے اسکا ہاتھ تھام کر رنگ فنگر میں انگوٹھی پہنائی تو جذبات کی شدت میں اس سے اجیہ کے ہاتھ پر گرفت ذرا سی سخت ہوئی اور اجیہ کے لبوں سے کراہ نکل گئی،

”سرمد۔۔۔آہستہ۔۔۔!!“نحیف و لاغر آ واز سرمد کو بمشکل سنائی دی اجیہ کے چہرے پر گلاب کھل گئے تھے۔ سرمد کے لیے ایک لمحے کو حیا سے گلنار اس چہرے پر سے نگاہیں ہٹانا مشکل ہوا تھا،آہستگی سے اجیہ کا ہاتھ واپس بیڈ پر رکھتے ہوئے وہ کھڑا ہوا نظریں ابھی بھی اجیہ پر تھیں،

گزرتے ہوئے چار سالوں میں جب اجیہ ہر لمحے اسکے ساتھ ہوئی تھی تب اسنے کھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اجیہ کو ڈھونڈ لے گا۔۔۔۔سب کُچھ کتنا جلدی ہوا تھا اجیہ اس سے وابستہ ہو گئی تھی۔۔۔۔شاہد انصاری نائلہ کو مٹھائی کھلا رہے تھے،وہ نگاہیں جھکاتے ہوئے پیچھے ہو گیا،

”لو بھئی تم بھی مٹھائی کھاؤ۔۔۔!“شاہد انصاری نے ڈبہ اسکی طرف بڑھایا،مسکرا کر مٹھائی اُٹھاتے ہوئے اسکی نظریں دوبارہ اجیہ کی طرف گئیں،آنکھیں بند کیے وہ دوبارہ تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی،چہرہ کمزوری کی وجہ سے زرد ہو رہاتھا،دل آزردہ سا ہو گیا۔۔۔۔بے اختیار اسکا دل چاہا کہ اجیہ کی جگہ گولی اسے لگ گئی ہوتی،،کاش وہ اسکی تکلیف کم کرنے پر قادر ہوتا۔۔۔۔،لب بھینچے وہ قاسم کی طرف مڑا نائلہ اسے مٹھائی کھلا رہی تھی،

”سرمد آ پکو دولہا بننے پر بہت بہت مبارکباد۔۔۔“اسکا لہجہ ویسا ہی شوخ تھا،دل پر چھائی کلفت کے باوجود وہ بے اختیار ہنسا،

”شکریہ۔۔۔۔!!“نائلہ ان دونوں کے قریب آگئی۔

”اجیہ بہت اچھی ہے سرمد۔۔۔۔میری پری کے ساتھ آ پ کوئی بھی زیادتی کرنے کی کوشش مت کرئیے گا۔۔!!“نازیہ سے کوئی بات کرتے شاہد انصاری کھلکھلا کر ہنس دیئے اجیہ سے جھک کر بات کرتے سرمد کی ماما کے لبوں پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئی۔،

”آپ ٹھیک کہتی ہیں نائلہ۔۔۔اجیہ واقعی  بہت اچھی ہے۔۔!!“اسکے لہجے میں بے پناہ شدتیں تھیں،

”اوہو۔۔۔دیکھا۔۔۔اجیہ۔۔۔۔“نائلہ کھنکھناتے لہجے میں کہتی اجیہ کی طرف مڑی،

’سرمد صاحب کو اپنے دل پر ذرا بھی اختیار نہیں ہے۔۔۔ہمارے جانے کا انتظار نہیں ہوا ان سے۔۔۔۔!!“اجیہ بمشکل مسکرائی تھی،

”ارے مت تنگ کرو۔۔میری بیٹی کو۔۔۔۔“شاہد انصاری ہنستے ہوئے آگے آئے،سرمد جھینپا جھینپا سا مسکرا رہا تھا،

”اچھا ٹھیک ہے۔۔۔!“نائلہ نے منہ بسورا،

”میری طرف سے شاہد انکل،آنٹی اور نازیہ۔۔۔آپ سب کو مبارک ہو۔۔۔۔!!“اسنے مسکرا کر رخ موڑ کر قاسم کو دیکھنا چاہا لیکن وہ وہاں نہیں تھا،

”ارے۔۔۔یہ کہاں گیا۔۔۔؟؟؟؟“اسکے چہرے کی مسکراہٹ حیرانی میں بدلی تھی،

”ابو۔۔۔نازیہ آپی۔۔۔؟؟؟“اسی وقت اجیہ نے شاہد انصاری کو پکارا،وہ لپک کر اسکے پاس آئے،

”بولو چندا۔۔۔۔؟؟؟“

”میں آ رام کرنا چاہتی ہوں ابو۔۔۔۔؟؟؟“اسکے لہجے سے تکلیف واضح تھی،

”ہاں۔۔۔ہاں ضرور۔۔۔ہم سب باہر چلے جاتے ہیں۔۔۔!!“

وہ اور نازیہ دروازے کی طرف بڑھ گئے سرمد کی ماما انکے ساتھ ہی باہر نکل گئیں نائلہ قاسم کے لیے پریشان ہو کر ان سب سے پہلےہی جا چکی تھی۔۔۔اور سرمد۔۔۔وہ وہیں کھڑا تھا،

اجیہ لب بھینچے چھت کو گھور رہی تھی وہ ذرا ساا ٓگے آیا،

”اجیہ۔۔۔؟؟؟“اسنے نگاہیں اُٹھائیں۔۔۔،

”جی۔۔۔؟؟؟؟“اسکے رخساروں کی سرخی چہرے کی زردی کو چھپا رہی تھی،

”آج کا دن میری زندگی کا بہترین دن ہے!!“اسکے لہجے کی سرشاری اور چاہت کو محسوس کر کے اسکی پلکیں خود بخود جھک گئیں،

”میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے خواب کی تعبیر اتنی خوبصورت ہو گی۔۔!!!“وہ جذب سے کہتا ایک قدم اور آگے ہوا تھا،

”اجیہ۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ اپنے دل کی بات کہنے کی مجھے ضرورت ہے۔۔۔میرا ایمان ہے کہ دل کا تعلق بہت مضبوط ہوتا ہے،“کمرے کی فضا میں یکدم مانوس سی خوشبو بکھر گئی تھی،

”اجیہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپکو جو اعتماد مجھ پر ہے میں وہ کبھی نہیں ٹوٹنے دوں گا۔۔۔۔ُ“اسکا لہجہ ایک بار پھر محبت سے دہکا تھا،وہ بات کرتے کرتے بہت دور چلا گیا تھا۔۔۔۔کہیں دور۔۔۔اجیہ نے پلکیں اُٹھا کر اسے دیکھا تھا،

”میں جانتی ہوں سرمد۔۔۔۔!!“کہتے ہوئے وہ مسکرائی تھی،کمرے میں جلترنگ سے بج اُٹھے،وہ بے اختیار جذبات سے مغلوب ہو کر آگے ہوا۔۔۔لیکن پھر پیچھے ہوا اسکا سر جھک گیا تھا،

”اچھا،اجیہ آپ آرام کریں۔۔۔!!“نرم لہجے میں کہتے ہوئے وہ پلٹ گیا۔،

”سرمد۔۔۔۔“اسکے قدم زنجیر ہوئے،

”کہیئے۔۔؟؟“

”نرس کو بھیج دیں۔۔۔مجھ سے ہاتھ کا درد نہیں برداشت ہوتا،“وہ دھیما سا کراہتے ہوئے بولی،

”اوکے۔۔۔۔کاش کہ میں آپکی تکلیف کم کرنے پر قادر ہوتا،۔۔۔“ایک نظر اجیہ کے ہاتھ میں چمچماتی ہوئی انگوٹھی کو دیکھا پھر پلٹ کر باہر نکل گیا،اجیہ نے آنکھیں بند کر لیں تھیں پلکوں تلے خواب کے مناظر پھیل رہے تھے۔۔۔۔

٭٭٭

سرمد باہر نکلا تو کریڈور میں کوئی بھی نہیں تھا کُچھ پریشانی سے وہ ریسپشن ایریا تک آیا ایک کونے میں اسکی ماما کھڑیں ادھر ادھر دیکھ رہیں تھیں وہ تیزی سے انکی طرف بڑھا،

”سب کہاں ہیں ماما۔۔۔؟؟“انہوں نے چونک کر سرمد کو دیکھا،

”اوہ ۔۔۔تم ہو۔۔۔۔سب یہیں ہیں۔۔۔۔نازیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ گھر چلی گئی تھی،۔۔۔

شاہد انصاری کینٹین تک گئے ہیں۔۔اور نائلہ ابھی یہی تھی۔۔۔۔قاسم کو ڈھونڈ رہی ہے وہ۔۔۔پتہ نہیں وہ بغیر بتائے کہاں چلا گیا ہے۔۔۔!!“اسنے ٹھندی سانس لی،

”اچھا قاسم بھائی مجھے بھی پریشان سے لگ رہے تھے۔۔۔۔!!“وہ اب قاسم کو سر کی بجائے بھائی کہنے لگا تھا،یہ قاسم نے ہی اس سے کہا تھا،چند لمحے تک وہ یونہی دونوں کھڑے باتیں کرتے رہے پھر سرمد نے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا،

”آئیں وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔!!“تبھی سامنے سے نائلہ آتی دکھائی دی۔۔۔۔اسکے چہرے کی مسکراہٹ بالکل غائب ہو چکی تھی،وہ دونوں بیٹھنے کی بجائے اسکی طرف بڑھے،

”نائلہ بیٹی۔۔۔قاسم کا کُچھ پتہ چلا۔۔۔،!!“سرمد کی ماما اسکا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر متفکر سی ہو گیں،وہ نفی میں سر ہلا کر کرسی پر گری،

”پتہ نہیں کہا ں چلا گیا۔۔۔۔۔“

”نائلہ آپ نے کال پر ٹرائی کیا۔۔۔۔؟؟؟“سرمد نے پریشان لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

”ہاں۔۔وہ کال بھی نہیں اُٹھا رہا۔۔۔ابھی دوبارہ دیکھتی ہوں۔۔۔“نائلہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی ری ڈائل کر کے اسنے موبائل کان سے لگایا۔،اس باراسنے کال ریسیو کر لی تھی۔۔۔،

”قاسم کہاں ہو۔۔۔؟؟؟“نائلہ رو دینے کو تھی،

”جواب کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔!!“وہ بولا تو اسکا لہجہ نا چاہتے ہوئے بھی سپاٹ سا محسوس ہوا تھا اسے۔۔

”آتا ہوں میں تھوڑی دیر میں۔۔!!“کہہ کر اسنے لائن کاٹ دی تھی۔

٭٭٭

(جاری ہے ۔۔۔۔)