Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر52
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب ششم- قسط نمبر52

ہاسپٹل کے لان کے ایک گوشے میں اسکرین کو دیکھتے ہوئے اسکی اانکھوں میں بے پناہ اضطراب امڈ آیا تھا۔۔۔نائلہ کو میں کیوں اس طرح جواب دینے لگا ہوں۔۔! شاید میں تھک گیا ہوں بہت۔۔وہ قدموں کو گھسیٹتے ہوئے چلنے لگا،

”کاش کہ اجیہ سے نہ ملا ہوتا۔۔کاش کہ اسے جانتا ہی نہیں۔۔۔۔لیکن وہ بھی تو مجبوری تھی اسکا نمبر لینا تھا۔۔۔۔۔۔ناصر۔۔۔۔اسنے بلیک میل کیا تھا۔۔۔یہ سب کُچھ اسکی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔وہ یقینا آگ لگا کر اب تماشا دیکھ رہا ہو گا۔۔۔لیکن مسٹر ناصر تمھیں نہیں معلوم۔۔۔۔تمھارا مد مقابل میں ہوں۔۔۔۔قاسم عباس۔۔۔۔کاش کہ تم زندہ بچ سکو۔۔۔تمھاری جتنی سازش میں سمجھ گیا ہوں۔۔۔اسی قدر اسے ناکام بنانے کاسامان بھی کر لیا ہے میں نے۔۔۔۔۔بہت جلد ناصر۔۔۔۔تم دیکھو گے کہ کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔اسکی سوچوں کا رُخ ایک لمحے کے لیے بدل گیا، کاش کہ تمھیں پتہ ہوتا کہ سازشیں کرنے کے لیے احتیاط سب سے لازمی چیز ہوتی ہے۔۔۔تم نے نائلہ کو فون کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی۔۔۔۔تمھیں بھیجنے والا بہت جلد پچھتاوے کا شکار ہوگاناصر۔۔۔بہت جلد۔۔۔۔اور اس وقت مجھے بہت افسوس ہو گا کہ تم اور تمھارے سر پرست اس سازش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔۔ہونہ۔۔۔،

اسے اپنی ذہنی کیفیت بہتر ہوتی محسوس ہو رہی تھی،اجیہ کے وارڈ میں کھڑے منگنی کی وہ تقریب دیکھتے اسے اپنی اور نائلہ کی منگنی یاد آگئی تھی۔۔اور پھر اسے وہ کال یاد آگئی تھی جس کے لیک کرنے کی دھمکی دے کر ناصر نے اس سے اجیہ کا نمبر لیا تھا۔۔یہ سب سوچتے ہوئیے اچانک وہ بہت پریشان ہو کرنائلہ کو بتائے بغیر روم سے باہر آگیا تھا۔ وہ ریسیپشن ایریا سے گزر کر کوریڈور کی طرف آیا ہی تھا کہ اسے نائلہ تنہا کرسی پر بیٹھی نظر آئی،بے اختیار اسکا دل شدت سے دکھا،کوئی اس طرح بھی کرتاہے بھلا،نائلہ کی پیٹھ اسکی طرف تھی وہ اسے نہیں دیکھ سکی،دھیمے قدموں سے چلتا وہ بالکل اسکے پیچھے پہنچا،

”نائلہ۔۔۔۔“وہ چونکی پھر بہت تیزی سے پیچھے مڑی،

”قاسم۔۔۔۔“وہ حیران رہ گیا نائلہ کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے،

”تم رو کیوں رہی ہو نائلہ۔۔۔؟؟؟؟“بے اختیار اسکے لبوں سے نکلا،اسنے جواب دئیے بغیر ایک نظر قاسم کو دیکھا اور ہاتھ سے آنسو پونچھتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئی،

”نائلہ۔۔۔رکو تو۔۔۔۔“وہ اسکی طرف بڑھتے ہوئے چلایا،لیکن وہ رکی نہیں۔۔۔بہت تیزی سے وہ چلتی ہوئی پارکنگ میں چلی گئی تھی،

”نائلہ۔۔۔پلیز۔۔۔“وہ کار میں بیٹھ گئی قاسم تیزی سے جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا،

”نائلہ کیا ہوا ہے۔۔؟؟؟؟“وہ بیٹھتے ہی بولا تھا،

”تمھیں کوئی ضرورت نہیں ہے میری فکر کرنے کی مجھے گھر چھوڑ سکتے ہو تو چھوڑ دو۔۔۔ورنہ میں خود چلی جاؤنگی۔۔۔“

نائلہ رکھائی سے بول کر باہر دیکھنے لگی تھی،اسکا دل چاہا اپنے بال نوچ لے،

”نائلہ ایسے کیوں بول رہی ہو۔۔۔؟؟؟“غصہ کو ضبط کر کے وہ حتٰی الامکان نرمی سے بولا،

”تم ایسے کیوں بول رہے تھے۔۔۔؟؟؟“وہ اسکی آنلھوں میں آنکھیں ڈال کر کاٹ دار لہجے میں بولی،

”قاسم کیا تمھارے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔۔؟؟؟اگر میری جگہ کوئی اور تمھاری زندگی میں آ گیا ہے تو تب بھی بتا دو میں ایک ہی بار میں مر جاؤنگی۔۔۔۔تمھارے رویے کی وجہ سے بار بار مر کر زندہ ہوتی ہوں میں۔۔۔بتاؤ قاسم۔۔۔۔کیوں کر ہرے ہو اس طرح میرے ساتھ۔۔۔۔“اسکی آنکھیں دوبارہ بھیگ گئی تھیں۔۔۔۔،

”نائلہ بخدا نہیں۔۔۔۔“وہ ششدر چہرے کے ساتھ بمشکل چند الفاظ بول پایا تھا،

”قاسم۔۔۔تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو۔۔۔یا میر ی محبت میں کوئی حصہ دار بن گیا ہے۔۔۔۔خدا کی قسم۔۔۔قاسم تمھیں مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔۔۔کیا تمھیں مجھ سے کوئی چھین چکا ہے۔؟؟“وہ بہت بے رحمی سے کہے جا رہی تھی،اسنے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اپنے رویے کی وجہ سے نائلہ کو کتنا دکھ پہنچا رہا ہے اور نائلہ کب سے ضبط کر رہی تھی۔۔۔آج اسکا دل لاوے کی صورت باہر آ رہا تھا اور اسے اپنی ہی نظروں میں گراتا جا رہا تھا،۔۔۔۔

”نائلہ بس کرو۔۔۔پلیز بس کرو۔۔۔!!“اس نے ضبط کی کوشش کرتے ہوئے چلانا چاہا مگر وہ چلا نہیں سکا،

”ٹھیک ہے قاسم۔۔۔۔بس کر دیتی ہوں میں۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔اوکے۔۔۔“نائلہ نے یہ بات کر کے اسکے دل پر اور چوٹ کی تھی،بے اختیار اسنے اضطراب سے ہاتھ ملے،

”نائلہ کیوں مجھ سے اتنی بد گمان ہو رہی ہو۔۔۔۔؟؟“اسکی آنکھوں میں بے بسی تھی،

’’تم نے مجبور کیا قاسم۔۔مجھے بدگمان ہونے پر۔۔۔“نائلہ نے کہتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں اور ہولے ہولے سانس لینے لگی،

”تم ٹھیک کہتی ہو۔۔۔آجکل میں تم سے بہت دور ہو گیا ہوں۔۔۔!!“

نائلہ ب چند لمحے کُچھ نہ بولی تو وہ اپنی صفائی دینے لگا،لیکن اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمھاری کسی اور نے جگہ لے لی ہے یا تم میرے ذہن سے نکل چکی ہو۔۔۔!!“مٹھیاں بھینچ کر اسنے جھوٹ بول دیا تھا،

”اسکی وجہ میری ذہنی پریشانی ہے نائلہ۔۔۔“اسکا لہجہ کرب انگیز سا ہو گیا،نائلہ نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں،

”کیسی پریشانی قاسم۔۔۔۔۔؟؟؟میں ہر بار ہر پریشانی میں تمھارے ساتھ رہی ہوں۔۔۔تمھاری اس پریشانی میں کیا میں تمھیں اکیلا چھوڑ دیتی۔۔۔۔اجیہ کی بات الگ ہے۔۔۔میں اسکے لیے پریشان تھی اور پریشان ہوں۔۔۔لیکن یہ سب نہیں کہ تم مجھے اجنبی سمجھنے لگو۔۔۔تمھیں یاد ہے تمھیں ایک بار میں نے کہا تھا کہ اجیہ کو اگر نقصان پہنچا تو میں ٹوٹ جاؤں گی۔۔۔کیونکہ وہ میری دنیا ہے۔۔۔۔میں واقعی ٹوٹ گئی تھی قاسم۔۔۔۔میں نے تمھیں اگر یہ سب بتایا تھا تو اسکا مطلب یہ تھا کہ میں تمھیں بھی اپنی دنیا سمجھتی ہوں۔۔۔پچھلے دنوں مجھے ضرورت تھی کہ کوئی آکر میری دلجوئی کرے۔۔۔۔وہ جو ہر قدم پر میرے ساتھ ہوتی تھی۔۔وہ خود مشکل میں تھی۔۔۔اسکے بعد وہ صرف تم تھے قاسم۔۔۔جو میری ڈھارس بندھا سکتے تھے۔۔۔لیکن تم نے نہیں کی۔۔۔۔!!“

اب کی بار بولتے ہوئے اسکا لہجہ نرم تھا،قاسم کے پاس کہنے کے لیے کُچھ نہیں تھا سوائے اسکے کہ وہ نائلہ سے معافی مانگ لے،اور یہی اس نے کیا،

”اچھا۔۔۔نائلہ سوری۔۔۔میٰں نے صرف اس لیے تمھیں نہیں بتایا کہ تم مزید پریشان ہو جاؤ گی۔۔۔بہر حال غلطی میری تھی۔۔۔ایم سوری۔۔!!“نرم لہجے میں کہتے ایک بار بھی اسنے نائلہ کی طر ف نہیں دیکھا تھا،وہ مسکرائی،

”محبت کرنے والے معافیاں نہیں مانگتے۔۔۔۔معاف کر دیتے ہیں۔۔۔میں تم سے ناراض ہی نہیں تو۔۔۔معافی کیسی۔۔۔بس مجھے بہت غصہ تھا تم پر۔۔۔اس لیے اتنے شکوے کیے۔۔۔سوری۔۔۔!!“وہ واپس پہلے والی نائلہ بن گئی،قاسم کے سر سے جیسے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔۔۔۔مسکرا کر اسنے نائلہ کو دیکھا وہ مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی،اجنبی پن کہیں دور چلا گیا تھا۔۔۔۔۔،اپنائیت لوٹ آئی تھی۔۔محبت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا تھا کہ وہ جہاں کہیں قدم جماتی ہے بہت مضبوطی سے جماتی ہے،نائلہ کار سے اتر کر اجیہ کی وارڈ کی طرف بڑھ گئی اور قاسم اس وقت تک اسے دیکھتا رہا جب تک وہ نگاہوں سے غائب نہیں ہو ئی،

”یہ میری ہی تو نائلہ ہے۔۔۔۔پھر میں کیوں پریشان ہو رہا ہوں۔۔۔!!!“مسکراتے ہوئے اسنے سر جھٹکا اور کا ر اسٹارٹ کرنے لگا،آس پاس سکون سا پھیل گیا تھا۔۔۔وہی مانوس سا سکون۔۔۔جو اسے نائلہ کے ہونے سے ملتا تھا۔۔۔!“

٭٭٭

وہ کتنی ہی دیر سے ڈرائننگ روم میں بیٹھی اشیائے آرائش دیکھ رہی تھی۔۔۔ایک گھنٹہ ہو گیا تھا اسے یہاں آئے ہوئے پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ ملازمہ سے باتیں کر رہی تھی ملازمہ نے ہی اسے بتایا تھا کہ یہ ڈرائننگ روم اجیہ بی بی نے سجایا ہے۔۔۔اور اسکے بعد سے وہ اجیہ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی،کتنا پیارانام ہے۔۔۔۔لیکن یہ ہے کون۔۔۔۔؟؟؟اسکے لیے معمہ تھا،

”نازیہ بی بی ابھی ہاسپٹل سے آئی ہیں میں نے انہیں بتا دیا ہے وہ ابھی فریش ہو کر آتی ہیں۔۔۔!!“دس منٹ پہلے ملازمہ کہہ کر گئی تھی،اسکے بعد سے اس کی سوچیں متضاد رخوں پر بھٹک رہی تھیں،

نازیہ کیسی ہوگی۔۔۔۔پتہ نہیں اسکی شادی ہو گئی ہو شاید۔۔۔۔شاہد انکل کا کاروبار کیسا چل رہا ہو گا۔۔۔۔نازیہ کی امی کیسی ہو نگی۔۔۔۔پتہ نہیں وہ لوگ مجھے پہچانے گی بھی یا نہیں۔۔۔میں اپنے بار ے میں انہیں کیا بتاؤنگی۔۔۔مسز ناصر۔۔۔۔بے وفا شوہر کی بیوی۔۔۔۔یا پھر بے لوث محبت کرنے والے کی بیوی۔۔۔۔یا پھر یہ کہ میرے شوہر کو یہ بھی یاد نہیں کہ میرے شوہر نے کسی زمانے میں شادی بھی کی تھی اور جاتے وقت اپنی بیوی کو اسکی محبت کی قسم دے کر آیا تھا۔۔۔اور اسکی بیوی اسے جگہ جگہ تلاش کرتی پھر رہی ہے۔۔اور وہ فون پر اپنی بیوی کو پہچاننے سے انکار کر چکا ہے۔۔۔۔کیا وہ میری ان سب باتوں پر یقین کرینگے۔۔۔۔پتہ نہیں۔۔اجیہ کون ہے۔۔۔۔۔شاہد انکل کی کیا لگتی ہے۔۔۔۔نازیہ کی کون ہے۔۔

وہ ابھی انہیں سوچوں میں غلطاں تھی کہ نازیہ ڈرائننگ روم میں داخل ہوئی اور صبا کو بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک گئی،وہ ابھی پین کلر لے کر آئی تھی سر کا درد بری طرح اس پر اثر انداز ہو رہا تھا،صبا اسے دیکھ کر کھڑی ہوئی،ایک لمحے کو اسکی آنکھوں میں خوف سا آگیا تھا لیکن نازیہ کے چہرے پر نرمی دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی،

”السلام و علیکم۔۔نازیہ۔۔۔!!“نازیہ کے ششدر چہرے پر آشنائی پھیلی تھی۔ایک لمحے کے لیے وہ سر کا درد بھول گئی،وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی،

”وعلیکم السلام۔۔۔۔تم صبا ہو نا۔۔؟؟؟؟“صبا مسکرائی۔۔۔ایک قدم آگے آ کر نازیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی،

”ہاں جی،۔۔۔۔میں صبا ہی ہوں۔۔۔اور تم نازیہ ہو نا۔۔۔ہے ناں۔۔۔؟؟“نازیہ کھلکھلا کر ہنس دی،

”چلو شکر ہے تمھیں یاد تو ہے۔۔۔۔اتنے سالوں بعد یہاں کیسے چلی آئی،؟؟“

”لمبی داستان ہے۔۔۔کھڑ ے کھڑے کس طرح سنا دوں۔۔۔؟؟“اسکے لہجے میں مدھم سی شوخی در آئی،

”اوہ۔۔۔ہاں میرے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تم کسی دن اسطرح میرے گھر آؤ گی۔۔۔۔۔۔چلو میرے کمرے میں ہی چلو۔۔۔۔تمھارا اپنا گھر ہے۔۔۔“بہت اپنائیت سے کہتے ہوئے وہ اسے اپنے کمرے میں لے آئی،

”یہاں کا ایڈریس تھا تمھارے پاس۔۔۔۔؟؟“کشن گود میں رکھ کر پاؤں پھیلاتے ہوئے نازیہ بولی،

”نہیں تھا۔۔۔۔“صبا جھک کر کشن اُٹھانے لگی،

”ایک دن فون کیا تھا تو ملازمہ نے بتایا تھا کہ تم ہاسپٹل میں ہو تو میں نے ایڈریس لے لیا تھا۔۔۔!!“کشن سینے پر رکھتے ہوے وہ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی،

”ہاں۔۔۔۔وہ اجیہ کو کسی نے گولی مار دی تھی تواسکا آپریشن ہوا تھا اسی وجہ سے میں اور ابو دو ہفتوں سے ہاسپٹل تھے!!“نازیہ نے سرسری سا بتایا تھا لیکن صبا چونکی،

”یہ اجیہ کون ہے۔۔۔۔؟؟؟“

”ارے۔۔۔۔میری بہن۔۔۔۔تمھیں نہیں پتا کیا۔۔۔؟؟؟“نازیہ حیران ہوئی،

”نہیں۔۔۔۔جب ہم یو اے ای گئی تھے تب تک تو تمھاری کوئی بہن نہیں تھی۔۔۔!!!!“

”ہاں میں جب دس سال کی تھی تو تب اجیہ آئی تھی۔۔۔۔ماما کہتی تھیں کہ اللہ میاں نے مجھے گڑیا گفٹ میں دی ہے۔۔۔وہ حقیقتاََکسی گڑیا سے کم نہیں۔۔۔!!“نازیہ کا لہجہ دھیما ہو گیا وہ کہیں کھو گئی تھی،

”اوہ۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔آنٹی کیسی ہیں۔۔۔۔؟؟؟“نازیہ نے چونک کر صبا کو دیکھا پھر گہری سانس لے کر بولی،

”ماما کا انتقال ہو گیا تھا تین سال پہلے۔۔۔جب اجیہ نے میٹرک کے ایگزامز دئیے تھے!!“لمحے بھر کو صبا کھنک کر رہی گئی،

”ا۔۔۔اچھ۔۔۔۔اچھا۔۔۔بہت۔۔۔۔افسوس ہوا۔۔۔۔!“

بمشکل وہ ہکلاتے ہوئے کہہ پائی تھی،کمرہ کا ماحول اداس سا ہو گیا،

”تمھارے ماما بابا کیسے ہیں۔۔۔۔؟؟“نازیہ نے اپنے طور پر بات بدلنا چاہی تھی لیکن صبا کے سامنے بہت سے دریچے کھل گئے تھے،

”انکا روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا۔۔۔!!“وہ تصور میں ناصر کو بتا رہی تھی اور ناصر اسے اپنے سینے سے لگا کر آنسو پونچھ رہا تھا۔۔۔۔بے ساختہ اسنے آنکھیں بند کر کے کھولیں گویا تصورات کی دنیا سے اسنے حقیقت کی طرف آنے کی کوشش کی،

”صبا۔۔۔۔کب ہوا یہ سب۔۔۔؟؟؟“شاکڈ رہنے کی باری اب نازیہ کی تھی،وہ کُچھ بھی نہ بولی بس خلاؤں میں گھورتی رہی،

”اور۔۔۔۔اور۔۔۔الیا س بھائی۔۔۔وہ۔۔۔؟؟“

”ان کے ساتھ آئی ہو کیا۔۔؟؟“

نازیہ کی بات پر اسکی آنکھوں میں وہ رات گھوم گئی جب وہ خوف سے کانپ رہی تھی اور اسنے وہ رات اپنے کمرے میں روتے ہوئے اور کانپتے ہوئے گزار دی تھی۔۔۔اف۔۔۔۔وہ وقت۔۔۔!!“

”صبا۔۔۔بتاؤ نا۔۔۔“نازیہ نے دوبارہ کہا۔،اسکی آنکھوں میں بے اختیار تکلیف دہ عنصر نمایا ں ہو گیا،

”بتاؤ نگی۔۔۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔پہلے کھانا کھا لیں۔۔۔۔؟؟؟؟“اسنے واضح طور پر بات بدلنا چاہی تھی،

”آ۔۔۔ہاں۔۔۔تمھیں دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی ہے کہ کھانے کا پوچھنا ہی بھول گئی۔۔۔۔۔سوری۔۔۔۔!!“نازیہ شرمندہ ہوتے ہوئے اُٹھی،

”آؤ پہلے کھانا ہی کھا لیتے ہیں۔۔۔!!“وہ انٹر کام کی طرف بڑھی،

”فاخرہ کھانا لگا دیا ہے کیا۔۔۔؟“کہتے ہوئے اسنے گھڑی کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔،

”اوکے۔۔جلدی لگاؤ۔۔۔۔ہم آ رہے ہیں۔۔۔!“ریسیور رکھ کر وہ مڑی۔۔۔۔،

”چلو چلتے ہیں۔۔۔اجیہ اور ابو تو ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔۔۔۔کل ہی اجیہ کو وارڈ میں شفٹ کیا تھا اور آج اسکی منگنی ہو گئی،ہاسپٹل میں ہی بس ابھی انگوٹھی پہنائی ہے۔۔جب وہ ٹھیک ہو جائے گی تب وہ فنکشن کریں گے۔۔۔میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسلیے گھر آگئی!!“

کہتے ہوئے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی،

”بس ہم دونوں ہی ہونگے ٹیبل پر۔۔۔!!!“

مسکرا کر کہتے ہوئے اسنے صبا کو دیکھا۔۔وہ ابھی تک نیم دراز تھی،

”چلو۔۔۔صبا بھوک نہیں لگ رہی کیا۔۔،وہ شاید گہری سوچ میں گم تھی پھر چونکی اور اُٹھتے ہوئے بولی،

”تمھارے طبیعت کیوں خراب تھی۔۔۔؟؟“

اسنے بے خیالی میں کہا تھا،

نازیہ نے ایک لمحہ کے لیے اسے غور سے دیکھا پھر دوپٹہ شانوں پر پھیلائے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھی،

”مجھے برین ٹیومر ہے صبا۔۔۔۔!!!“

کہتے ہوے وہ تیزی سے باہر نکل گئی،

”برین ٹیومر۔۔۔نازیہ۔۔۔۔!!“

ایک لمحے کے لیے وہ شاکڈ رہ گئی پھر نازیہ کے پیچھے لپکی،

٭٭٭

کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں واپس کمرے میں آ گئیں۔۔۔،

”نازیہ۔۔۔تمھارے برین میں واقعی ٹیومر ہے۔۔؟؟“

صبا یقین نہیں کر پا رہی تھی،

”ہاں۔۔۔صبا ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے یہ بات پتہ چلے ہوئے اجیہ ہی مجھے ضد کر کے لے گئی تھی اتنا ذیادہ سر میں درد ہوتا تھا کہ لگتا تھا ابھی بے ہوش ہو جاؤنگی،“

وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بتانے لگی صبا بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی،

ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ میں جوان ہوں اس لیے میرا برین آپریٹ ہو سکتا ہے اور ٹیومر کی بھی بر وقت تشخیص ہو گئی ہے ابھی زیادہ خطرناک نہیں ہے میں دوائیاں لے رہی ہوں۔۔۔۔۔یہ تو اجیہ کا حادثہ ہو گیا بیچ میں ورنہ شاید ابھی اجیہ کی جگہ میرا آپریشن ہوا ہوتا۔۔۔!!!“

کہتے کہتے وہ افسردہ سی ہو گئی۔۔۔۔،

”خیر چھوڑو تم بتاؤ الیاس بھای کا کیا ہوا۔۔؟؟“

وہ کہاں ہوتے ہیں آجکل۔۔۔؟؟“

نازیہ نے ماحول کا تناؤ کم کرنا چاہا،

صبا نے دکھ سے آنکھیں میچیں۔۔،

”کیا بتاؤں نازیہ۔۔۔۔جب سے ہم یو اے ای شفٹ ہوئے تھے اس وقت سے قدرت نے میرے ساتھ عجیب طرز کا کھیل شُروع کر رکھا ہے۔۔۔نازیہ پہلے میرے ماں باپ مر گئے پھر بھائی مجھے اکیلا چھو ڑ کر چلے گئے۔۔۔۔اسنے کسی کینیڈین لڑکی سے شادی کر لی تھی وہ لڑکی منشیات اسمگل کرتی تھی۔۔۔ان دونوں کی مخبر ی ہو گئی اور پولیس کے چھاپے سے پہلے ہی وہ دونوں خود کشی کرچکے تھے۔۔۔۔۔“

اسکی آوا زمیں بے نام سی نمی گھل گئی تھی،

”میں اکیلی رہ گئی تھی پھر میں نے ایک لڑکے سے شادی کی جو میرے خیال میں مجھ سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔نازیہ ہم نے پانچ سال ایک ساتھ گذارے ان پانچ سالوں کے ایک ایک لمحے میں مجھے کبھی احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ مجھے دھوکا بھی دے سکتا ہے۔۔۔اسکی وارفتگیاں۔۔۔نازیہ وہ مجھ پر جان دیتا تھا۔۔۔وہ۔۔۔وہ میری ہر مشکل میں میرے ساتھ تھا اس نے مجھے اتنی خوشیاں دیں۔۔۔اتنی کہ میں شرابور ہو گئی۔۔۔۔اور پھر وہ مجھے یو ا ے ای کے اس محل میں تنہا چھوڑ کر پاکستان آگیا اسکی جاب کا کوئی کام تھا،دو سال گزر گئے پھر میں ہی پاکستان آگئی کہ اسکا گریبان پکڑوں لیکن یہاں آ کر میں نے اسے کال کی تو اسنے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔نازیہ۔۔وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔“

صبا آگے نہیں کہہ سکی،آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا نازیہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگالیا،

”صبا۔۔۔میری جان۔۔۔۔!!“

”نازیہ میں بہت دکھی ہوں۔۔۔میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا نازیہ۔۔۔۔اب میں کہاں جاؤں۔۔۔کیا اسکے خلاف کیس کروں۔۔۔یا واپس یو اے ای چلی جاؤں۔۔۔۔!!!“

صبا پھو ٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی،ناصر کے بے وفائی کے غم کو کبھی تو باہر نکلنا تھا آخر وہ کب تک ضبط کرتی،

”بس کرو۔۔۔کتنا ہلکان ہو گی۔۔۔آج سے تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔!!“

نازیہ اسے تھپکنے لگی،

”نہیں نازیہ۔۔۔میں شاید انکل پر بوجھ بننے نہیں آئی۔۔۔۔بس میں تم سے ملنے آئی تھی۔۔۔!!“

وہ نازیہ سے الگ ہو کر آنسو پونچھنے لگی،

”ارے۔۔۔اچھا اس بارے میں بعد میں بات کرینگے۔۔۔تمھارے شوہر کا نام کیا ہے۔۔۔؟؟؟شاید ابو تمھارے لیے کُچھ کر سکیں۔۔۔!!“

نازیہ بات بدلنے لگی،

”ناصر۔۔۔۔ناصر اشفاق۔۔۔!!“

صبا پیچھے ہو کر بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی،

”ناصر۔۔۔۔؟؟؟“

نازیہ کی آنکھیں پھیلں۔۔

”ہاں۔۔۔کیا ہوا۔؟؟؟“

صبا نے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔۔،

”کچھ نہیں۔۔میں آجکل ناصر نام بہت زیادہ سن رہی ہوں۔۔۔نائلہ بھی اس دن قاسم سے فون پر کسی ناصر کے بارے میں پوچھ رہی تھی،اجیہ کو گولی بھی ناصر نے ماری ہے۔۔۔ابو نے ایف آئی آر بھی ناصر کے نام سے کٹوائی ہے،قاسم کے کسی دوست کا نام بھی ناصر تھا،اب تمھارا شوہر بھی ناصر ہی ہے۔۔۔۔پتہ نہیں یہ اتفاق ہے یا پھر۔۔۔۔“

نازیہ خود کلامی کے انداز میں بولتی گئی تھی،

”اچھا ا۔۔۔تمھارے پاس کوئی تصویر ہے اس ناصر کی۔۔؟؟“

صبا کو یہ بات کہتے ہوئے اندازہ ہی نہیں تھا کہ چند لمحوں کتنا بڑا ایٹم بم پھٹنے والا ہے

”نہیں۔۔ لیکن قاسم اس دن کوریڈور میں نائلہ سے ناصر کا ذکر کرتے ہوئے کوئی تصویر دکھا رہاتھا۔۔میں نائلہ سے پوچھتی ہوں۔۔“

نازیہ بھی موضوع بدلنا چاہتی تھی سو وہ بغیر کچھ کہے اُٹھ کر الماری تک گئی اورفون ہاتھ میں لیے پلٹی۔ پھر نائلہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔چند لمحوں بعد اس نے فون کان سے ہٹایا تھا۔۔

”وہ کہہ رہی ہے قاسم جس ناصر کی بات کررہا تھا وہ ایک فارن ایجنٹ ہے اور اس کی بس ایک ہی تصویر ہے ا س کے پاس۔۔وہ بھیجتی ہے تو تمھیں دکھاتی ہوں۔۔“

وقت دس منٹ مزید آگے سرکا تھا۔ نازیہ کی میسج ٹون گونجی۔ موبائل کھول کر اس نے نازیہ کی طرف بڑھایا۔

”یہ دیکھو۔۔۔!!“

اسنے صبا کے سامنے وہ تصویر کر دی۔۔

اور صبا و ہ شاید دنیا کا آٹھواں عجوبہ دیکھ رہی تھی،

آنکھیں یوں پھیل گئیں تھیں جیسے ابھی باہر آ جائیں گی منہ ہونقوں کی طرح کھل گیا تھا،

”یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔تو۔۔۔تو۔۔میرا۔۔۔شوہر۔۔۔۔۔میرا شوہر ہے۔۔۔!!“

صبا کا جسم کپکپانے لگا تھا۔اسے لگا تھا کہ دنیا گول گھوم رہی ہے اسے چکر آرہے تھے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہوتی جو رہی تھیں وہ کسی کنویں میں گر رہی تھی کوئی نہیں تھا جو اسے بچاتا۔۔۔

”نہیں۔۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔!!“

وہ ہذیانی انداز میں حلق کے بل چلائی تھی،نازیہ اس سے کُچھ کہہ رہی تھی لیکن اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا تا گیا تھا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔!!

٭٭٭

(جاری ہے ۔۔۔)