Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 54
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 54

نرس ایکسکیوزمی—-؟؟؟؟اجیہ کی کمزور آواز دروازے کی طرف بڑھتی نرس کے کانوں سےٹکرائی تو وہ پلٹی،

“جی اجیہ کوئی کام ہے؟”وہ واپس اجیہ کے بیڈ تک آگئ

“اٹھنا چاہتی ہیں–مدد کروں؟؟؟؟نرس اجیہ پر جھکتے ہوئے آہستگی سے کہنے لگی،

“نہیں——!”اجیہ مسکرائی،اسکے چہرے کی زردی بہت کم ہوگئی تھی،

“میں نے آج ڈاکٹر صاحب سے نماز پڑھنے کی اجازت لی ہے۔۔۔۔۔سو میں اس  کیلئے خود ہی اٹھ کر جاؤں گی۔۔۔۔۔آپ بس۔۔۔۔۔!!اس نے رک کر گہری سانس لی،زیادہ بولنے سے وہ تھک جاتی تھی,

“ذرا یہ کھڑکی سے پردے ہٹا دیں۔۔۔۔۔!!”اس نے دائیں ہاتھ سے کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات مکمل کی،

“اوہ۔۔۔!!”نرس مسکرائی،

“ہاں ضرور۔۔۔۔۔۔!!”کھڑکی پر سے پردے ہٹا کر وہ مڑی,

“شکریہ۔۔۔۔۔!!!”نرس دروازے کی طرف بڑھ گئی،اسکے باہر نکلنے کے بعد اجیہ نے دھوپ کی کرنوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا،صبح سویرے کی دھوپ اسے بہت بڑی نعمت لگ رہی تھی،پورا کمرہ روشن ہوگیا تھا،ہلکی ہلکی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرانے لگی تو خوشگواریت کا احساس اندر تک اترتا چلا گیا،نہیں معلوم کتنے دنوں بعد اس نے اپنے اندر سکون محسوس کیا تھا۔خوامخواہ وہ آج صبح سے مسکرائی جارہی تھی،بازو میں تکلیف اب بھی ہوتی تھی لیکن اسکے سر کا درد  بہتر ہو گیا تھا،اسکی منگنی ہوئے پندرہ دن گزر گئے تھے،بازو کی پٹی بھی اتر گئی تھی،اب بس سرسفید پٹی میں چھپا ہوا تھا!!آج صبح جب ڈاکٹر معمول کے دورے پہ آئے تھے تو اس نے بصد اصرار ان سے نماز کی اجازت لی تھی اور اجازت ملنے پر اپنے اندر پھیلتی سرشاری کو محسوس کرکے وہ خود حیران رہ گئی تھی،

اسکے وارڈ کی کھڑکی ہاسپٹل کے لان میں کھلتی تھی اور یہ بھی اسکے لئے بڑی نعمت تھی۔۔۔!!آج سے پہلے اس نے نرس سے پردے ہٹانے کا نہیں کہا تھا،کھڑکی تو کھلی ہوتی تھی لیکن پردے ڈلے رہتے تھے،روز وہ صبح سویرے تہجّد کے وقت بیدار ہو جاتی تھی اور پرندوں کی حمد و ثناء سن کر اسکے اندر بہت شدت سے خواہش سر اٹھاتی تھی کہ وہ بھی بس ایک ہی سجدہ کرسکے اور پھر اپنی بےبسی کا احساس اسکے لئے زخم کی تکلیف سے زیادہ اذیت ناک ہوتا تھا۔۔۔!!لیکن آج اسکی سرشاری کی کیفیت ہی کچھ اور تھی۔۔۔۔!!اس نے سر اٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھنا چاہا تو دھوپ سے آنکھیں چندھیا گئیں،دائیں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر وہ کھڑکی کے دوسری طرف دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔زرد شعائیں دائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنی ہوئی انگھوٹی سے ٹکرائیں تو سونے کی انگوٹھی جگمگانے لگی۔مسکراہٹ،جو دھوپ کی وجہ سے سمٹ گئی تھی،دوبارہ لبوں پر پھیل گئی۔

آنکھیں میچے ہوئے وہ آہستہ آہستہ اٹھنے لگی۔یوں بغیر کسی سہارے کے اٹھتے ہوئے اسے زخم والے بازو پر بھی زور دینا پڑ رہا تھا،دل بے تحاشا چاہا کہ نرس کو بلا لے لیکن ۔۔ نماز پڑھنے کی خواہش درد پر غالب آگئی۔نہیں ۔۔۔۔۔نماز پڑھنی ہے۔۔۔۔لب بھینچتے ہوئے۔۔۔آنکھوں کو میچتے ہوئے۔۔۔آنسوؤں کو ضبط  کرتے ہوئے وہ اٹھ کر  بیٹھ گئی ،بہت کوشش کر کے پاؤں بیڈ سے نیچے لٹکائے تو ایک بار پھر اس کے لبوں سے سسکاریاں نکا گئیں، تکلیف کی شدت سے دو آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر اسکی گود میں جا گرے۔اتنی جدوجہد کر کے وہ کانپ گئی تھی۔گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے وہ دوبارہ اپنی ہمت مجتمع کرنے لگی لیکن اٹھنے کے لیے اسے دونوں بازوں پر زور دینا پڑتا اور یہ قطعی ناممکن تھا، وہ شش و پنچ میں تھی کہ اٹھ کر جائے نماز تک جائے یا نہیں ۔۔۔ یا پھر یہیں بیٹھے  بیٹھے نماز پڑھ لے۔۔۔۔،کہ دروازے پر دستک ہوئی اور نائلہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئی ،

“اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ ارے ارے ۔۔۔۔۔۔!! وہ اسے بیٹھے دیکھ کر بدحواس سی ہوکر آگے بڑھی تھی،

“اجیہ۔۔۔۔۔ بیٹھ کیوں گئی ۔۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟“

“نماز۔۔۔۔!!“بس وہ بمشکل اتنا ہی بول سکی،

“کاش کہ بازوں کا درد کم ہوجائے۔۔۔!!“اس کے دل  میں ایک  خواہش نے پوری شدت سے جنم لیا تھا،

“افوہ۔۔۔ جب صحیح طرح ٹھیک ہوجائو تو نماز پڑھنا۔۔۔۔ ابھی کیسے پڑھو گی۔۔!!نائلہ کچھ نرمی اور سختی سے بولی تھی،

” نہیں نائلہ ۔۔۔۔ اب اور انتظار نہیں ہوتا۔۔۔ مجھے ہر حال میں نماز پڑھنی ہے ۔۔۔۔۔الله تعالی کے بہت احسانات ہیں مجھ پر۔۔۔۔۔ ہر گرزتے لمحے کسی نہ کسی نعمت کے ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔۔بس تم جاؤ۔۔۔ میں خود ہی جائے نماز تک جاؤنگی۔۔۔!!” اجیہ ناراضگی سے بولتے رکی، وہ ایک بار پھر تھک گئی تھی، ا

’’چھا ۔۔۔۔ اجیہ۔۔ اٹھو گی کس طرح۔۔۔ آؤ میں مدد کردوں ۔۔۔۔!! “نائلہ زچ ہوگئی ،

” نہیں ۔۔ میں نے کہا نا۔۔!!“اجیہ کے لہجے میں غصہ تھا۔نائلہ نے مسکرا کر اسے دیکھا ، پھر اس کی طرف جھکی ،

 “دیکھو ، جیاجان ۔۔۔۔ خود اٹھو گی تو خود پر ظلم کروگی ۔۔۔۔ بازو کا زخم ٹھیک ہورہا ہے۔۔ اگر زور ڈالا تو زخم پر نمک چھڑکنے والی بات ہوجائے گی۔۔۔ الله تعالیٰ کو بھی یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ تم خواہ مخواہ اتنی تکلیف اٹھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔!!!“جھک کر نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتے ہوئے وہ یکدم رکی، مسکراہٹ گہری ہوئی ، چہرے پر شرارت پھیلی۔۔،

” اور پھر یہاں سرمد صاحب تو ہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جو تم اتنا گھبرا رہی ہو۔۔۔ میں ہی تو ہوں ۔۔۔ تمھاری پرانی دوست ۔۔!!“اجیہ کے لبوں پر بے ساختہ تبسم پھیلا ، جھینپے  جھینپے لہجے میں وہ بولی ،

” نائلہ ۔۔۔۔ کیا تم ہر وقت سرمد سرمد کی رٹ لگائے رکھتی ہو۔۔۔۔۔!!!“نروٹھے پن سے وہ مسکرائی تھی ،

“اس لیے کہ۔۔۔۔ !!“ نائلہ نے ذرا سا پیچھے ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھا ، چندھیاتی آنکھوں سے دوبارہ اجیہ کی طرف متوجہ ہوئی،”تم ہنستی رہو۔۔۔۔!!“ اس کی مسکراہٹ میں خلوص تھا،  وہ ہنسنے لگی،

 نائلہ۔۔۔۔۔ میرا وقت کیوں برباد کر رہی ہو۔۔۔۔!!“ اجیہ نے اس کی بات کا اثر زائل کرنے کی پوری کوشش کی تھی،

 “اچھا بابا۔۔۔!!“ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہسنی روکی ،

” آؤ تمہیں جائےنماز تک پہنچادوں۔۔۔!!!“ وہ سنجیدہ ہو کر ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے  بولی تھی،

اجیہ نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا٬۔۔۔۔۔ نرس نے جا ئےنماز بیڈ سے چند قدم دور بچھائی تھی اور یہ چند قدم اٹھانا اس کے لئے جس قدر اذیت ناک تھا یہ صرف وہی جانتی تھی۔۔۔،لبوں کو بھینچ  کر آنسو پینے کی کوشش بھی کم تکلیف دہ نہ تھی لیکن وہ اپنے تمام قوت ارادی کو بروئے کار لاکر نائلہ کی مدد سے جاۓ نماز تک پہنچ گئی،جاۓ نماز پر بیٹھتے ہوئے اس نے اپنے دل میں اعتراف کیا تھا کہ کس سہارے کے بغیر اس کے لیے دو قدم اٹھانا بھی ناممکنات میں سے تھا۔۔۔۔۔۔۔نائلہ اسے بٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی لیکن پھر دوبارہ پلٹ آئی،

’’ اجیہ۔۔۔۔۔ نازیہ کا آج شام آپریشن ہے۔۔۔۔۔ کل ہی ڈاکٹر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ان کا برین آپریشن ہو سکتا ہے۔۔۔۔!!‘‘

وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی  کرتے ہوئے بول رہی تھی،اجیہ بری طرح چونک گئی،

 ”آپی۔۔۔۔۔ آپی کا آپریشن ہے اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔۔۔؟؟“

نازیہ کا چہرہ سامنے آتے اس کی پلکیں خودبخود بھیک گئیں،” اس لیے کہ تم خود ٹھیک نہیں ہو۔۔۔۔!!“نائلہ نے پیار سے اس کا گال تھپتھپایا،

”ڈاکٹر۔۔۔۔۔ ڈاکٹرز نے کیا کہا ہے۔۔۔؟؟ آپی کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا نا۔۔؟؟‘‘

 وہ یکدم بہت پریشان ہوگئی،نائلہ دھیما سا مسکرائی ،پریشان مت ہو۔۔۔۔۔ نازیہ کے نیورو سرجن کہہ رہے تھے کہ وہ جوان ہے اور اسکا ٹیومر خطرناک حد پر نہیں پہنچا ہے۔۔۔۔۔ اس لیے پرسنٹ97 امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائینگی۔۔!!“وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئےہوئے کہنے لگی،

” دیکھو اجیہ۔۔۔۔ سو میں سے صرف دس مریض ایسے ہوتے ہیں جن کے برین کو آپریٹ کیا جائے اور ان کے جسم کا کوئی حصہ متاثر نہ ہوں۔۔۔۔ اور ان دس  میں سے آدھے سے زیادہ جوان ہوتے ہیں ۔۔۔۔بالعموم بینائی چلی جاتی ہے یا جسم کا اک حصہ پیرالائز ہوجاتا ہے یا سننے یا بولنے کی حس پر اثر پڑتا ہے۔۔۔!!اسکی باتیں اجیہ کا خون خشک کررہی تھی،

نازیہ کیلیے ایک اور اچھی بات یہ ہےکہ وہ سر درد کی وجہ سے بیہوش نہیں ہوئی ہیں۔۔۔ورنہ عام طور پر ٹیومر کے مریض سر دردکی شدت کی وجہ سے بار بار بیہوش ہو جاتے ہیں۔۔۔۔!!!”نائلہ مسکرا کر خاموش ہوئی،وہ صرف اجیہ کی تسلی کے لیے مسکرا رہی تھی ورنہ یہ اسکے لئے بہت مشکل تھا۔۔۔۔!!بات ختم کر کے وہ سیدھی ہوئ۔

“نازیہ کیلیے دعا کرنا۔۔۔تمھاری دعائیں اللہ تعالیٰ جلدی سنتے ہیں۔۔۔!!”اور اجیہ نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔

“ہاں۔۔۔بار بار کھڑے ہونے  سے ہاتھ پہ دباؤ پڑے گا،بیٹھ کر نماز پڑھ لو۔۔۔!!”نائلہ کے لہجے میں فکرمندی محسوس کرکے وہ دھیما سا مسکرائی،

“ٹھیک ہے۔۔۔!!”نائلہ نے آگے آکر اسکا ماتھا چوما اور پلٹ گئی،دروازے پہ پہنچ کر اس نے ایک بار پھر مڑ کر اجیہ کو دیکھا اور پھر باہر نکل گئ،اسکے جانے کے بعد کتنی ہی دیر تک وہ سر جھکائےجائے نماز کو تکتی رہی۔۔۔ڈھیروں خیالات ذہن میں گڈمڈ ہو چکے تھے،بازو کا درد تھوڑا کم ہو گیا تو باقی وجود کی تکلیف کا احساس بھی ذہن سے نکل گیا،ذہن میں خیالات کی ہوتی جنگ کے درمیان نازیہ کا چہرہ سب سے نمایاں تھا۔۔۔۔۔

“میرے اللہ۔۔۔۔نازیہ آپی کو کچھ بھی نہ ہو۔۔۔ان کی زندگی سے آزمائیش ختم کر دیجئے۔۔۔۔!!!”

اس کی روح کی گہرائیوں سے دعا نکلی تھی، اور اس دعا کے بعد اسکا وجود پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں دعا اگر قبول ہو جائے تو انسان پرسکون ہو جاتا ہے۔۔۔۔وہ بھی قبولیت کا لمحہ تھا کیونکہ اسکا پریشان ذہن پرسکون ہو گیا تھا،آہستہ آہستہ ڈھرکتے ہوئے دل کی بے چین ڈھرکنوں کو بھی قرار آ گیا،روشن کمرے میں روشن پیشانی کے ساتھ اس نے نماز کے لیے نیت باندھ لی،

وہ حادثہ۔۔۔۔۔۔۔جس کے ذریعہ اللہ نے اسے زندگی کی اہم ترین حقیقت سے روشناس کرایا تھا۔۔۔۔اس حادثہ سے پہلے وہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ۔۔یتیمی بہت بڑی محرومی ہے ۔۔۔۔بلاشبہ ماں باپ کا نہ ہونا بہت بڑی آزمائش ہے۔۔۔۔لیکن گزشتہ دنوں جب اس کے پاس سوچنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوتا تھا،تب ہی یہ حقیقت بھی اس پر آشکار ہوئی کہ یتیمی کو محرومی سمجھ کر اپنے آپ کو تنہا سمجھ کر وہ کتنی بڑی ناشکری کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے پاس ماں باپ تھے تو حقیقی نہ سہی لیکن اس سے حقیقی ماں باپ کی طرح ہی تو محبت کرتے تھے وہ بھی۔۔۔۔۔انہیں ۔ دنوںسوچ سوچ کر وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اصلی ماں باپ بھی اسے اس سے زیادہ محبت نہ دے سکتے شاید۔۔۔۔بےلوث چاہنے والی بہن۔۔۔۔۔۔اس پر جان دینے والا باپ۔۔۔۔۔۔ اے۔جی۔ایف کی وارثوں میں سے تھی وہ۔۔۔بچپن سے نازو نعم میں اسکی پرورش ہوئی تھی۔۔۔۔۔دنیا کی ہر چیز اسکی دسترس میںتھی۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ہر لمحہ اللہ تعالی کو اپنے بہت قریب محسوس کرتی تھی۔۔۔۔۔

اپنا ہر راز۔۔۔ہر دل کی بات۔۔۔وہ اللہ کو بتادیتی تھی۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ۔۔۔اسکا خالق دل کی ہر بات سے واقف ہے۔۔۔۔ہر نعمت اسکے پاس تھی۔۔۔دین اور دنیا دونوں لحاظ سے۔۔۔۔پڑھائی میں وہ ہمیشہ ٹاپ تھری میں شامل رہی تھی۔۔۔اخلاقی اعتبار سے۔۔۔۔جو کوئی اس سے ملتا اسکاگرویدہ ہو جاتا۔۔۔۔ اس پر خاص نظر کرم رکھنے والے خدا نے اسے بہت فرصت سے تخلیق کیا تھا۔۔۔ جب کبھی وہ اہتمام سے تیار ہوتی تو نظر اس پر نہیں ٹکٹی تھی۔۔۔۔دنیاوی حسن کی دولت سے بھی وہ مالا مال تھی۔۔ خوبصورت بھی تھی۔۔خوب سیرت بھی۔۔دین اور دنیا کا پورا شعور رکھتی تھی۔۔ خدا کو ناراض کرنے والی چیزیں سے وہ کوسوں دور رہی تھی۔۔۔دین و دنیا میں کامیاب ہونے کا عزم بھی اسکے اندر موجود تھا۔۔۔جو بات بھی سوچتی اس پر عمل کرکے دم لیتی تھی۔۔بہت کم اس نے کسی سے نفرت کی تھی۔۔۔

“اللہ  کے بندوں سے محبت کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا۔۔۔!”

اس فلسفے کا یقین بھی اسکے اندر اپنی جڑیں گہری کر چکا تھا۔۔۔غرض کہ گزشتہ دنوں اس نے جتنا سوچا اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے احساس میں ڈوبیتی گئی تھی۔۔۔۔ اس کے رب نے کس چیز کی کمی کی تھی۔۔۔اتنی نعمتیں وہ دنیا میں بہت کم لوگوں کو مکمل حالت میں دیتا ہے۔۔۔۔ لیکن پھر بھی۔۔ بس ایک چیز کی کمی تھی اس کے پاس۔۔۔سکون۔۔۔۔!!!کیوں….؟؟؟وہ اس کا جواب بھی سوچ چکی تھی ۔۔۔۔بلکہ جواب تو سامنے ہی تھا بس وہ ڈھونڈ نہیں رہی تھی جب سے اسے یہ پتہ چلا تھا کہ وہ یتیم ہے سکون اس کے پاس سے چلا گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اس نے یتیمی کو روگ  بنا لیا تھا اور تنہا رہنے کو اپنا مقدر سمجھ لیا تھا۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کا مقدر  یہ نہیں تھا۔۔۔۔

 خود کو تنہا سمجھنے کے باوجود وہ کسی بھی طرح تنہا نہیں تھی ۔۔۔۔۔اللہ  تعالی تو تھے اس کے پاس۔۔۔۔۔ اگر یہ بات وہ پہلے سمجھ گئی ہوتی تو کبھی اکیلے ناصر کے بلاوے پر نا چلی جاتی۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔ یہ حادثہ نہ ہوا ہوتا۔۔۔۔۔۔ اور اگر یہ حادثہ نہ ہوا ہوتا تو وہ کبھی اپنی زندگی کی حقیقت کو نہ سمجھ پاتی۔۔۔۔۔ اسے کبھی اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے خلوص پر یقین نہ ہوا ہوتا۔۔۔۔ شاہدانصاری۔۔۔ نازیہ ۔۔۔نائلہ۔۔۔۔ قاسم اور۔۔۔ سرمد۔۔۔۔وہ ان سب کی دل سے مشکور تھی۔۔۔۔