Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 55
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 55

 اور  گزشتہ دنوں ہی یہ بات بھی اسے سمجھ میں آ گئی تھی کہ۔۔۔خدائے کائنات کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے بعض اوقات انسان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ تعالی کے کاموں کی مصلحتوں کو جان سکے۔۔۔۔۔۔۔بس اپنی عقل سے کام لے کر  پیارے اللہ تعالی کے کاموں میں عیب نکالنے لگتا ہے۔۔۔۔

اسی عقل سے کام لے کر۔۔۔ جو اسی اللہ کی عنایت ہوتی ہے! بہت ساری باتیں اس نے دل کی آنکھ سے سمجھی تھیں۔۔۔۔!!!  اور یہی وجہ تھی کہ وہ ٹھیک نہ ہوتے ہوئے بھی نماز پڑھنے پر اصرار کررہی تھی۔۔۔ صرف اس کے لیے وہ شکر ادا کرنا چاہتی تھی!!! ان ساری نعمتوں کا شکر جن کا احساس خدا نے اسے بہت عجیب طرح کرایاتھا۔۔۔!! سلام  کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بےساختہ آنکھیں برس گئیں۔ دل کے زخم پھر آنسوؤں کی صورت باہر آ گئے،وہ شکر گزاری جو اس کے دل میں کروٹیں لے رہی تھی،۔      اسے زمان و مکاں سے بے نیاز کرتے ہوئے بہا لے گئی،خدا کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔۔  دروازے پر دستک ہوئی تو اس کی سسکیاں تھمیں، تیزی سے آنسو پونچھتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی تو کمر کا درد اسے بے حال  کر  گیا تھا، کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تھا اس کے لئے۔۔۔دستک تیسری بار ہوئی اور پھر دروازہ کھول کر سرمد اندر آیا تھا، اس نے جلدی سے دیوار کا سہارا لیا تھا،

“ارے۔۔۔۔ اجیہ۔۔۔۔ آپ کھڑی ہیں۔۔۔۔!!وہ بری طرح حیران رہ گیا، خوشی کا تاثر بھی اس کے چہرے پر پھیلا تھا۔

” نہیں…. وہ…. میں نماز!!!” اس نے تکلیف ضبط کرتے ہوئے بمشکل کہا ،وہ دروازہ بند کر کے ذرا سا آگے آیا،

” آپ نماز کیوں پڑھنے لگیں؟؟”پریشان ہوتے ہوئے اس نے جائے نماز کو دیکھا، “پلیز سرمد…!!وہ تکلیف نظر انداز کرکے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے بیڈ کی طرف مشکل قدم اٹھانے لگی،

” اب تو میں نماز پڑھ چکی ہوں ….!!!”

بیڈ تک پہنچ کر وہ بیٹھنے لگی تو سینکڑوں چیخیں اس کے لبوں پر آ کر رک گئی تھی،کرنٹ پورے وجود میں پھیلا تھا، درد کی شدت اس کے لیے ناقابل برداشت تھی، سرمد بے بسی سے کھڑا اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار پڑھ رہا تھا لیکن مدد نہیں کر سکتا تھا اجیہ کبھی اس کی مدد قبول نہ کرتی، کٹے ہوئے شجر کی طرح وہ بیڈ پر گرتے ہوئے بیٹھی تھی، سرمد کی خود پر نگاہوں کو وہ محسوس کر رہی تھی ، حیا اس پر غالب آئی تھی، پلکیں اٹھا کر اس نے سرمد کو دیکھا،

” کوئی کام تھا ….؟؟” وہ اپنے لہجے کو نارمل کرنے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہوئی تھی ,

“نہیں” سرمد مسکرایا،

” بس آپ کی طبیعت پوچھنے آیا تھا…..!!” بے ساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی, اور اس نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے سر جھکالیا، کھڑکی کے باہر سورج آسمان کے وسط میں آ گیا تھا…. دھوپ کی کرنیں پھولوں پر پڑی شبنم کو جگمگاہٹ عطا کر رہی تھی، ہلکی ہلکی ہوا نے  موسم خوشگوار بنا دیا تھا آسمان پر اڑتے پرندے اپنے رزق کی تلاش میں سرگرداں تھے ادھر سے ادھر  اڑتی تتلیاں پھولوں کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھیں۔۔ کوئل اپنی آواز میں خدا کی بادشاہت کا اعلان کر رہی تھی زندگی کے ہنگامے شروع ہو چکے تھے تھے اور آزمائشوں  اورصبر کا امتحان بھی شروع ہو چکا تھا۔

٭٭٭

دن ڈھل گیا تھا آسمان پر سیاہی مائل چادر پھیل گئی تھی اور اس پر آہستہ آہستہ نگینے چمکنے جا رہےتھے،شہر کی غریب آبادی کے ایک بوسیدہ سے فلیٹ کے ایک کمرے کی بتیاں روشن ہوئی تھی باقی سارے کمرے تاریکی میں ڈوبے ہوئےتھے،اس آبادی کا یہ واحد فلیٹ تھا باقی یا تو جھونپڑیاں تھیں یا پھر دو دو کمروں کے چھوٹے چھوٹے کچے مکانات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں اس فلیٹ کو اس غریب آبادی کا محل کہہ سکتے تھے۔۔۔۔۔ اس فلیٹ میں رہنے والے اس آبادی کے امیر لوگ کہلاتے تھے حالانکہ ۲۰ ہزار ماہانہ کمانے والے لوگ امیر کس طرح ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔بدبودار ٹوٹی ہوئی گلیاں آبادی کے بچوں کے لئے گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔۔۔رات دن یہ بچے یہاں کھیلتے رہتے  تھے کیونکہ اس آبادی میں کسی کے پاس گاڑی تو دور کی بات، موٹر سائیکل یا سائیکل بھی نہیں تھی ۔۔۔۔اس لیے بچوں کو کسی قسم کا ڈر نہیں تھا ان کے پاس کوئی اور کام تو تھا نہیں۔۔۔گھر نما قیدخانے میں جا کر حالات کی چکی میں پستی ماؤں کی ڈانٹ پھٹکار سننے سے بہتر تھا کہ وہ اپنا وقت باہر ہی لڑتے جھگڑتی گزار دیں۔۔۔۔

 لیکن فلیٹ کے سیکنڈ فلور کا وہ کمرہ جس کی بتیاں روشن ہو رہی تھیں ،اس کمرے میں رہنے والے شخص کو اس آبادی کے مسائل سےکوئی دلچسپی نہیں تھیوہ ایک خاص مقصد کے تحت یہاں رہنے پر مجبور تھا! اسے ہدایت تھی کہ وہ باہر بھی کم نکلا کرے تو پچھلے ایک سال سے بہت کم باہر نکلا کرتا تھا اس کے سارے کام گھر پر رہ کر رہی ہو جاتے تھے کبھی کبھی اسے جائزہ وغیرہ لینے کے لیے باہر جانا ہوتا تھا کبھی اس کی ضرورت پڑ جاتی وہ تب باہر نکلتا،اس غریب آبادی جس میں وہ پچھلے دو سال سے ہے  اپنا ہدف پورا کرنے کے لیے ٹھہرا ہوا تھا یہاں کے لوگ  اس سے دور دور ہی رہتے تھے،کیونکہ وہ سب اپنے  کام سے کام رکھنے والے لوگ تھے،یہاں کے مرد صبح اکھٹے ہی کام پر نکل جاتے تھے، ویسے بھی یہاں خاندان ہی کتنے تھے۔۔۔۔بتیس گھروں پر مشتمل یہ آبادی شہر کی خوبصورت دنیا سے دور تھی،

مرد جو کہ سب مزدوری کرتے تھے، انہیں شہر جانے کے لیے خاصا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔۔۔! عورتیں  صبح سویرے اٹھ کر گھر کے کاموں اور کھانوں کی   تیاری وغیرہ  میں مصروف ہو جاتیں پھر سارا سارا دن اسی طرح کاموں میں مصروف رہتی تھیں۔۔۔۔!!!اس جیسے باوقار انسان کے لیے اس طرح کی آبادی اور اس طرح کے طرز زندگی  میں ایک دن گزارنا بھی مشکل تھا۔۔۔۔۔     لیکن وہ جو مہذب دنیا کا رہنے والا تھا، دو سال سے یہاں رہ رہا تھا صرف اس لیے کہ۔۔۔۔وہ جس مقصد کے لیے یہاں آیا ہے وہ مقصد کسی طرح پورا ہو جائے!!!جب کبھی وہ باہر نکلتا تھا اور گلیوں میں دامن بچا کر چلتا تو وہاں کھیلتے ہوئے بچے حیرانی سے اسے دیکھنے لگتے تھے۔۔۔۔ وہ انہیں کسی عجوبہ کی طرح لگتا تھا ۔۔۔۔۔اس کا ظاہری حلیہ بھی ایسا ہوتا تھا کہ وہ سب بہت زیادہ اس سے متاثر ہوگئے تھے ۔۔۔۔

اسے جن لوگوں نے یہاں بھیجا تھا پوری ٹریننگ دے کر بھیجا تھا لیکن پتہ نہیں کہ اس سے کہاں غلطی ہوئی تھی کہ اسے اپنا بنایا ہوا جال خود اپنے آپ پر  الٹتا نظر آرہا تھا۔۔۔۔ اس نے یہاں آنے سے پہلے جس قدر تیاری کی تھی اس تیاری کے ساتھ صرف ایک بار وہ نیویارک گیا تھا اور اپنے ٹارگٹ کو اس کی اوقات یاد دلاکر  باآسانی فرار ہوگیا تھا باقی ہر جگہ وہ معمولی تیاری اور معمولی چیزوں کی ٹریننگ کے ساتھ جاتا رہا تھا اور ہر بار میں ٹارگٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر واپس آ جاتا تھا لیکن اب معلومات بھی مکمل تھی ٹریننگ  بھی ہائی فائی تھی لیکن وہ ناکام ہوگیا تھا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے بنائے ہوئے جال میں خود ہی پھنس جاتا اگر کل اسے اپنے اسسٹنٹ کی وہ کال نہ موصول ہوئی ہوتی،

 انہیں ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ کسی بھی طرح کی فون  کالز  کسی طور اٹینڈ نہ کریں آپس میں رابطہ رکھنے کے لئے ان کے  کوڈ ورڈز ہوتے تھے اس طرح وہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں میں بھی نہیں آتے تھے اور ایک دوسرے سے رابطے  میں بھی آسانی سے رہتے  تھے، اسکے اسسٹنٹ نے بھی اسے کوڈ ورڈز میں ہی اطلاع دی تھی۔

 ’’ سر انہیں آ پ کے  یو اے ای سے تعلق کا علم ہو گیا ہے ۔۔۔‘‘اسسٹنٹ کے کوڈ کو ڈی کوڈ کرتے ہیں وہ چکراکر رہ گیا  تھا ۔

’’کس طرح ۔۔۔۔۔۔!!‘‘اس کے لبوں  سےبے اختیار  نکلا تھا ، رسیور رکھ کر وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح صوفے پر گر اتھا ۔

’’تو کیا اس بار میں ناکام ہوگیا ۔۔میرااتنا عرق ریزی سے بنایا ہوا  پلان فلاپ ہوگیا ۔۔وہ لوگ میرے نیٹ ورک تک پہنچ گئے۔۔ لیکن کیسے۔۔ میری تو اٹھارہ شناختیں ہیں تو پھر کس طرح انہیں کیسے اس قدر خفیہ بات پتا چل گئی۔۔‘‘ سوچتے سوچتے اس کا سر درد کرنے لگا تھا اور آج اپنے باس کو ان تمام حالات کی اطلاع دیتے وقت اس  نے بہت زیادہ شکست خوردگی محسوس کی تھی ۔اپنی ناکامی کی نہیں اپنی پہلی ناکامی کی اطلاع دینا اس کے لیے اذیت ناک تھا اور پھر جواب میں اس کے باس پہلے تو حیران ہوئےتھے پھر بے پناہ غصہ ان کے لہجے میں شامل ہو گیا تھا ،

“تم جانتے ہو اس بات کا کیا مطلب ہے, یہ مشن کس قدر اہم تھا اور اس کے ناکام ہو جانے کی خبر عام ہوتے ہی ہماری ایجنسی کی حیثیت کیا رہ جائے گی….؟؟ یہ مشن اعلیٰ حکومتی حکام کی طرف سے خفیہ طور پر ہماری ایجنسی کے سپرد کیا گیا تھا….. اور اب…… تم نے سب کچھ فلاپ کر دیا….. کہاں  غلطی کر دی آخر……؟؟ اس کے لئے باس کا لہجہ تکلیف دہ نہ تھا وہ بات جو اس کے لیے اذیت ناک تھی، وہ یہ تھی کہ وہ ہار گیا تھا…. ایسی ہار جو پہلی بار ہوئی تھی اور ایک اہم مشن میں ہوئی تھی اور سب کی امیدوں کو خاک آلود کر گئی تھی ،اس کے باس نے اسے جلد از جلد واپس آنے کا کہہ کر لائن کاٹ دی تھی, یہ  صبح کی بات تھی اور پھر….. اس کے بعد سے  وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے ہوئے سوچے جا رہا تھا …دوپہر کے وقت اسے سمجھ آ گیا تھاکہ یہ ہار ایک معصوم زندگی کو دکھ دینے کی سزا ہے۔۔۔۔۔ معلوم نہیں کب آنسو اسکا چہرہ بھگونے لگے تھے۔۔۔۔۔،

 ”کاش میں نے صبا کے ساتھ ایسا نہ کیا ہوتا۔۔۔!!“ یہ بات اس کے لیے بہت بڑا پچھتاوا بن چکی تھی، زیادہ دن نہیں ہوئے تھے اس بات کو۔۔۔۔، اس روز وہ کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا جب فون کی گھنٹی بجی تھی،سی ایل آئی پر انجانا نمبر دیکھ کر اس کی چھٹی حس جاگی تھی، تمام احتیاطی تدابیر ذہن میں لاتے ہوئے اس نے کال ریسیو کی تھی،اور کچھ بھی نہیں بولا تھا، اسے انتظار تھا کہ  دوسری طرف سے کوئی کچھ بولے ۔۔۔۔۔لیکن چند لمحوں تک جب کوئی نہ بولا تو اسنے اپنی پرانی آواز، آواز بدلے بغیر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا،یہاں اسے اس کی پرانی شناخت کے حوالے سے بالکل کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔!!

 ”ہیلو۔۔۔؟؟؟؟“دھیمے لہجے میں کہتے ہی اسے لگا تھا جیسے دوسری طرف زندگی لوٹ آئی ہو،

 ”ناصر۔۔۔۔۔!!“ وہ ایک لمحے کے لیے سناٹے میں آگیا تھا۔ لیکن پھرصبا صبا…!!دل کی ڈھڑکنیں بےاختیار ہو کر پکاری تھیں..اسکا دل چاہا تھا کہ اپنے لہجے میں دنیا جہاں کی وارفتگیاں سمیٹ لے..لیکن وہ نہیں کرسکا.وہ نہیں کرسکتا تھا..اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے.. آزار ہوتے ہوئے بھی وہ قیدی تھا.. اپنی جاب کا قیدی.. اپنے فرض کا قیدی..

“آپ کون..؟؟”لبوں کو بھینچتے ہوئے اس نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا،

“ناصر.. میں صبا…”دوسری طرف پھیلنے والی مسکراہٹیں سمٹ گئی تھیں. وہ دل مسوس کر رہ گیا،

“کون صبا…؟؟”اس کے ہاتھ کپکپائے تھے، لگ رہا تھا اس دوغلے پن پر آسمان بھی چیخ اٹھا ہو..وہ ایجنٹ ہوتے ہوئے بھی اپنے دل کو پتھر کا نہیں بنا سکا تھا حالانکہ یہ ان کی ٹریننگ کی ابتدائی ہدایات میں سے تھا..اس کی بات پر دوسری طرف ٹوٹتی امید کی چٹختی آواز اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی،

“تمھاری بیوی.. ناصر…!!”

دوسری طرف سے کہی گئی بات میں اب آنسوؤں کی نمی شامل ہوگئی تھی،. اور ہمیشہ کی طرح اسکا دل ان آنسوؤں پر بہت زیادہ ٹرپا تھا،وہ ان آنسوؤں کو پونچھ سکتا تھا ہمیشہ کی طرح.. لیکن وہ نہیں کرسکا تھا..فرض اس کے لیے مرض بن گیا تھا..

“کون سی بیوی.. میں نے اب تک شادی نہیں کی ہے محترمہ..!!”یہ کہہ کر اس نے لائن کاٹ دی تھی.رسیور رکھ کر وہ کٹے ہوئے شہتیر کی مانند دیوار سے رگڑ کھاتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا تھا..

“صبا.. صبا…”دل چاہا تھا چیخیں مار مار کر رونا شروع کردے..

“میں نہیں چاہتا تھا ایسا ہو.. کاش تم نے فون نہ کیا ہوتا صبا.. کاش…!! “اس دن وہ تمام وقت دیواروں سے سر ٹکراتا رہا تھا.کاش کہ یہ جاب نہ کی ہوتی میں نے..!!اس وقت اسکا دل چاہا تھا جاب کی زنجیریں اتار پھینکے اور اڑ کر صبا کے پاس پہنچ جائے..لیکن وہ یہ بھی نہیں کرسکتا تھا،اس طرح کی جاب میں استعفیٰ کا بھی آپشن نہیں ہوتا ہے، بس ایک بار ان زنجیروں کو اپنے ہاتھوں میں باندھ لو پھر دوبارہ انہیں کھولنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہوتا..وہ جانتا تھا صبا کس حد تک دکھی ہوئی ہوگی..اور اسی احساس نے اسے سولی پر لٹکا دیا تھا..اس دن کے سے ایک لمحے کے لیے بھی وہ سکھ چین کا سانس نہیں لے پایا تھا،اس نے یہ کام کیا تھا بس اس لیے تاکہ اسکا مشن کامیاب ہوجائے..

لیکن اس کے اسسٹنٹ نے اسے مشن ناکام ہوجانے کی اطلاع دی تھی تو وہ اذیت اور خود فراموشی کی انتہا پر پہنچا تھا..پہلی بار ناکام ہونے کی سزا ہی اتنی بڑی تھی.. یا شاید صبا کو دکھ دینے کی سزا زیادہ بڑی تھی..!!واپس جانے کے خیال سے ہی اسے ہول اٹھنے لگے تھے.. ناکام واپس جا کر.. اور صبا.. اُسے کیا منہ دکھاؤں گا..بلکہ اب میں واپس جا کر کرونگا کیا.. ہر بار تو صبا کے لیے واپس جاتا تھا..اب تو بلکل تہی دامن ہوگیا ہوں..نہ صبا اب میرا یقین کرے گی اور نہ ہی باس کو میرے خلوص پر یقین آئے گا…تو بہتر نہیں کہ میں اپنے آپ کو ختم کرلوں… ؟خودکشی کرلوں… ؟اس نے خود سے سوال کیا تھا..پتہ نہیں.. لیکن کیا خودکشی کرنے سے میرے گناہ دھل جائیں گے..گناہ..

گناہ….پہلی بار ہارنا ہی اس کے لیے قیامت بن گیا تھا..حشر… حشر کا میدان…اعمال نامہ… حساب کتاب.. جزا اور سزا…یہ سب وہ چیزیں تھیں جن کا کسی زمانے میں اس نے مذاق اڑایا تھا..اور آج انہی چیزوں نے اسے آئینہ دکھایا تھا.. یہی سب اس کے سامنے حقیقت بن کر کھڑی ہوگئیں تھیں..وہ صرف پہلی بار ہارنے پر باس کے سامنے جانے سے ڈر رہا تھا تو پھر..دنیا کے امتحان میں ہار کر خدائے ذوالجلال کے سامنے کیسے جائے گا… اگر قیامت کے دن صبا نے اسکا گریبان پکڑ لیا تو…وہاں تو صرف ایک ہی ہار اور ایک ہی جیت ہوگی..جنت اور دوزخ….

جزا اور سزا…

یہ تو دنیا ہے جہاں بار بار مواقع ملتے ہیں.. جیت کر ہار.. اور ہار کر جیت ملتی ہے… لیکن… قیامت میں تو تمام نتیجے اٹل ہونگے.. حتمی.. فیصلہ کن..وہ تندور بن گیا تھا.. آگ اس کے اندر دہک رہی تھی اور کہیں پانی نہیں تھا….!!.دوپہر سے مغرب ہوگئی،وہ خود کو اذیت دیتے دیتے نڈھال سا ہوگیا تھا..

کمرے کی بتیاں جلا کر وہ ادھر ادھر ٹہلنے لگا..بے چینی.. بے قراری… اضطراب…کاش میں مجبور نہ ہوتا تو کبھی یہ جاب قبول نہ کرتا…!ایک محرومی سی اس کے دل میں چنگاری بن کر ابھری اور اس کے پورے وجود کو جھلسا گئی،وہ بھولی بسری برسوں پرانی بات جو وہ بھلا دینا چاہتا تھا ایک بار پھر اس نے ذہن میں تازہ ہوگئی تھی.

٭٭٭

(جارہی ہے ۔۔۔)