Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 56
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 56

خالد محمود  کے یہاں جب آٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئے، پہلے ہی ان ساتوں کو خرچہ چلانا مشکل ہورہا تھا اب ایک اور.. مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے.. آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں.. ایک میں اکیلا… صبح نکلو پھر دن بھر کماؤ.. تب بھی رات کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے سو سے زیادہ ہاتھ میں نہیں ہوتے…خدا تو بڑا انصاف کرنے والا ہے.. نہیں معلوم ہمارے ساتھ انصاف کیوں کیوں کرتا…اولاد تو بہت وافر مقدار میں دے دی ہے لیکن ان کے آرام و آسائش کا بندوبست کرنے کے لیے ایک پھوٹی کوڑی نہیں دیتا..

کیا کچھ نہیں تھا جو انہوں نے اپنی بیوی کو نہ سنایا ہو،وہ بیچاری ممتا کی ماری عورت ساری ڈانٹ پھٹکار سن لیتی، لیکن ان کے کفریہ جملے اس کے دل میں آگ لگا لیتے لیکن وہ خاموش رہتی، نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ہونٹوں کو سی لیتی تھی…جب خالد محمود بک بک جھک جھک کر کے باہر نکل جاتے تب وہ بہت محبت سے اپنے نوزائیدہ بچے کو گود میں لیتی اور اس سے کھیل کھیل کر اپنا دل بہلا لیتی،اس کے شوہر کو اپنے بچے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی سو اس نے خود ہی اپنے پھول سے بیٹے کا نام رکھ لیا تھا،

ناصر… !یہ بچہ اس کے باقی سارے بچوں سے زیادہ خوب صورت تھا… گلاب کی آدھ کھلی کلی کی طرح…جب بھی وہ اسے دیکھتی، مامتا اسے نگاہیں ہٹانے نہ دیتی، محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اسکے سینے میں مچلنے لگتا..اور وہ جلدی سے اسے اپنے بازؤں میں چھپا لیتی کہ کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے..ابھی ان خفیہ، چپکے چپکے ہوتے ہوئے ناز نخروں کو دو مہینے ہی ہوئے ہونگے کہ اس کی زندگی میں قیامت آگئی تھی..وہ عجیب سا دن تھا، صبح ہی سے اس کے دل میں وسوسے آٹھ رہے تھے، بار بار اسے ہول آرہے تھے…آج کچھ ہونے والا ہے…آج واقعی کچھ ہونے والا تھا…!!دوپہر کے وقت جب سورج آسمان کے وسط میں تھا،وہ اپنے کھلے کچن میں مٹی کے چولہے پر کھانا تیار کررہی تھی جب خالد محموداندر داخل ہوئے..وہ انہیں بے وقت دیکھ کر چونک سی گئی، دل میں اٹھتے وسوسے مزید گہرے ہوگئے،

“خیریت.. آپ اس وقت…؟؟؟”وہ بغیر کچھ کہے گھر کے واحد بیڈ روم میں گھس گئے،

“ناصر کہاں ہے….؟؟”لہجہ کاٹ دار تھا،

“وہ.. دوسرے کمرے میں ہے.. سو رہا ہے…!”اسکا نازک دل سہم گیا،

“سو رہا ہے.. ہونہہ…!”وہ کسی بپھرے ہوئے جانور کی طرح دوسرے کمرے کی طرف بڑھے اور بہت بے دردی سے ننھے سوتے ہوئے ناصر کو گود میں اٹھائے واپس پلٹے،

” کک… کک.. کیا کرنا کرنا چاہتے ہیں آپ….؟؟؟”وہ بے اختیار ان کے سامنے آگئی،خالد محمود کچھ کہے بغیر دروازے بڑھ گئے، سامنے کھڑی بیوی کو باہر نکلنے لگے لیکن وہ ترپٹی ہوئی ماں دوبارہ ان کے قدموں کی زنجیر بن گئی،

“کیا کرنا چاہتے ہیں میرے بچے کے ساتھ…؟؟”سسکتے ہوئے اس نے ان کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ دئیے تھے.اور اس درندہ صفت انسان نے ایک نظر اپنی روتی ہوئی بیوی پر ڈالی اور اگلی نظر اپنے گود میں ہمکتے بچے پر،پھر اس کی آنکھوں میں پراسرار سی چمک آگئی،ایسی چمک جس کو دیکھ کر دل سہم جاتا ہے.. روح کانپ اٹھتی ہے…

“میں نے یہ بچہ بیچ دیا ہے.. جانتی ہو اس کو بیچ کر مجھے کتنی دولت ملی ہے… ہاہا ہا ہا ہا…!!”آسمان پوری شدت سے کانپا تھا، زمین پوری قوت سے لرزی تھی، دریاؤں کی سرکش موجیں ایک لمحے کو بے یقینی سے تھم گئی تھیں، سورج کی آگ پوری شدت سے دہکی تھی، پوری کائنات سوگ میں ڈوب گئی تھی…اس سسکتی ہوئی ماں پر بے ہوشی سی طاری ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے بچے کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے تھے..رعشہ زدہ وہ کمزور ہاتھ اپنے بچے کو تو نہ بچا سکے تھے البتہ خود اپنی موت کا سامان بن گئے تھے،اس فرعون صفت انسان نے اُن بڑھے ہوئے ہاتھوں کو اپنے حضور گستاخی سمجھا تھا اور غصے سے کانپتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کو زناٹے دار تھپڑ دے مارا تھا پھر پوری قوت سے دھکا دے کر اپنے راستے سے ہٹایا تھا،وہ عورت جس نے بچے کی پیدائش کے بعد دو دن بھی آرام نہیں کیا تھا، کسی بے جان وجود کی طرح زمین پر گری تھی اور وہ گرنا اسکی زندگی کا آخر ثابت ہوا تھا،

گرنے سے سر پھٹ گیا تھا، بہتا خون اس وقت کے فرعون کے قدموں کے نیچے سے نکلتا ہوا گلی میں نکل گیا تھا،خالد محمودکی آنکھوں میں ایک لمحے کو خوف سمٹ آیا تھا،بلکل ویسا ہی خوف… جیسا جادوگروں کے مقابلے پر حضرت موسی علیہ السلام کو کامیاب ہوتے دیکھ کر فرعون کی آنکھوں میں ایک لمحے کو آیا تھا..لیکن بس ایک لمحہ،وہ رعونت سے ہنستے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا تھا اور..اسکی مامتا سے لبریز آنکھیں بے نور ہوتی گئیں تھیں….!خالد محمود نےاپنے بچے کو جس آدمی کو فروخت کیا تھا وہ آدمی جسم فروشی کرتا تھا..بچے خریدنا اسکے کاروبار میں شامل نہیں تھا لیکن اسے ایک خاص آرڈر ملا تھا…ملک کی اہم خفیہ ایجنسی کے اہم افسران میں سے ایک کے گھر اولاد نہیں تھی، اسکا آنگن پھولوں سے خالی تھا سو اُسے بلکل نوزائیدہ خوبصورت بچہ چاہیے تھا،خالد محمود نے اسکی جب یہ ضرورت پوری کردی تو اس افسر نے اسے اتنی دولت دی کہ وہ نہال ہوگیا..

لیکن وہ جانتا نہیں تھا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے…. اپنا بچہ بیچ کر وہ خوشی سے سرشار نوٹ گنتے ہوئے واپس آرہا تھا کہ سامنے سے آتے ایک ٹرک سے ٹکراگیا.. ٹرک ڈرائیور نشے میں تھا اس  لیے اس کو وہ خوش باش انسان نظر نہیں آیا اور اس نے اپنی گاڑی اُس پر چڑھا دی.. یہ منظر دیکھنے والوں نے یہاں تک بھی کہا کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے ہمیں اعضاء تک ڈھونڈنے پڑے تھے،یعنی خدا کی عظیم نعمت کو اپنے قدموں تلے روندنے والے خالد محمودکو آہ کرنے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی…

انسان کی کیا اوقات کہ وہ خدائی کاموں میں دخل دے… بے شک غرور میں کندھوں تک ڈوبے ہوئے انسان کو اسکی اوقات یاد دلانا خدا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے…

کیونکہ…

“اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہوجاتی ہے… (القرآن)

٭٭٭

ننھا ناصر.. جس کا نام اسکی ماں نے بہت محبت سے رکھا تھا اور دنیا میں آنے کے دو مہینوں بعد تک اسکی ماں نے اپنے حصے کا سارا پیار اسکے سینے میں انڈیل دیا تھا….وہ بچہ… جسکو گھٹی بھی اسکی پاکباز اور بے بس ماں نے دی تھی..یہ میرا بیٹا ہے… اسکا نام ناصر ہے… ناصر اشفاق.. اسے کوئی تکلیف مت ہونے دینا.. کوئی بھی ضرورت ہو تو فوراً مجھ سے کہنا. بس اسے رونے مت دینا. میں اسے روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا….!”

ایک ایک ضرورت کا خیال رکھنا.. دولت پانی کی طرح بہانا…وہ جب بھی کسی غیر ملکی دورے پر جاتا، ملازمہ کو ہدایات کی لمبی لسٹ سے جاتا…جب ننھے ناصر نے قدم قدم چلنا سیکھا تب اس آفیسر کی خوشی دیدنی تھی،اپنے پورے اسٹاف اور کولیگز کی اُس نے اس خوشی میں پُر تکلف دعوت کی اور اسی تقریب میں کسی نے اسے مشورہ دیا تھا کہ اپنے اس بیٹے کو بھی ایجنسی میں لے آؤ یہ تمھارا نام بہت روشن کرے گا….!دن، ماہ و سال گزرنے لگے لیکن یہ بات آفیسر کے ذہن سے چپک کر رہ گئی،وہ اب ناصر کی پرورش بھی اس انداذ سے کرنے لگا گویا اسے فوج میں جانے کے لیے ٹریننگ دیتا ہو..ہر آنے والا دن اسکے دل میں ناصر کی محبت بڑھاتا جا رہا تھا،رات کو سونے سے پہلے وہ بہت دیر تک سوتے ہوئے ناصر کو دیکھتا رہتا،

ناصر اسکی زندگی میں بہار کی طرح آیا تھا اور اسکی مایوس زندگی کو گلزار بنا رہا تھا…ننھا ناصر عمر کی منزلیں طے کرتے ہوئے آس پاس پھیلی ہوئی محبتوں کو سمیٹتے ہوئے خود کو ہر ذمہ داری کا اہل ثابت کرتا جا رہا تھا، جوانی میں قدم رکھتے ہی ناصر کی شخصیت کا سحر کسی اچانک پھیل جانے والی خوشبو کی طرح چہار اطراف پھیل گیا،

خوبصورت… دراز قد، ذہین، ہینڈسم، تابعدار….وہ اپنی تمام خوبیوں کے ذریعے آفیسر کی محنتوں کو ثمر بار کرتا جارہا تھا..زندگی کی حقیقت کی طرح.. وہ جوان ہوتا جارہا تھا اور آفیسر بوڑھا ہوتا جارہا تھا…وہ اگرچہ آرٹسٹ بننا چاہتا تھا لیکن بوڑھے باپ نے جب اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ انکار نہیں کرسکا..اپنی ذہانت سے ناصر نے بغیر کسی دقت کے خود کو ایجنسی کا ایجنٹ بننے کے لائق ثابت کردیا اور اس دن جب وہ ٹریننگ کے لیے رخصت کررہا تھا،اس روز بھی آفیسر نے ایک بڑی دعوت کی تھی اور اس دعوت میں وہ ناصر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے آیا تھا.. فرطِ مسرت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ دن اسکی نگاہوں کے سامنے تھا جب پہلا قدم چلنے کی خوشی میں اس نےدعوت کی تھی اور اس روز وہ ناصر کو گود میں اٹھائے دعوت میں آیا تھا اور آج وہ ناصر کےکندھے پر ہاتھ رکھے سہارے کے ساتھ دعوت میں آیا تھا..

کل ناصر اسکا محتاج تھا… اور آج وہ ناصر کا محتاج تھا…زندگی کی اٹل حقیقت..جو آج تیرا ہے..وہ کل کسی اور کا ہوگا..اور آنے والے کل کسی اور کا ہوگا…بے شک تبدیلی کائنات میں معمول ہے….!!

ناصر ٹریننگ کے لیے چلا گیا اور دوسال بعد واپس آیا تو اسے خود سے زیادہ چاہنے والا باپ اپنی زندگی کے دن پورے کرچکا تھا.. اور اپنی..ساری جائیداد اسکے نام کرگیا تھا…!اس دن وہ فاتحہ پڑھتے ہوئے بہت رویا تھا..پہلی بار وہ یوں ٹرپ ٹرپ کر رویا اور پھر کبھی اس نے اپنی آنکھوں کے گوشوں کو بھیگنے نہیں دیا،آفیسر کے عالیشان محل میں وہ بہت دن تک ادھر سے ادھر سخت بے کلی کے عالم میں پھرتا رہا تھا، ٹریننگ کے دوران اس نے اپنے ساتھیوں سے ان کے ماں باپ کے بارے میں سنا تھا…وہ جیسے ان دو سالوں میں کسی گرداب سے سر ٹکراتا رہا ہو… باپ تو ہے… لیکن ماں….وہ کون ہوتی ہے… کیا وہ بھی باپ کی طرح محبت کرتی ہے… یا نہیں… باپ سے زیادہ تو کوئی محبت کر ہی نہیں سکتا…ٹریننگ کے دوران جب سخت مشقت کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تھک ہار کر آگ کے الاؤ کے گرد بھیٹتا تو سب اپنے اپنے گھر کے قصے سناتے اور وہ خاموشی سے جلتی ہوئی آگ کو تکے جاتا..

ایک طرف اُسے اپنے باپ کا شفقت سے معمور چہرہ نظر آتا تو دوسرے طرف اپنی ماں کی مبہم سی تصویر نظر آتی.. وہ نہیں جانتا تھا اسکی ماں کیسی تھی… لیکن ایک بات طے تھی اس نے ہمیشہ اپنی ماں کو ملکہ کے روپ میں دیکھا تھا. وہ مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ گھر جاتے ہی سب سے پہلے اشفاق کاردار  سے اپنی ماں کے بارے میں پوچھے گا لیکن گھر جا کر ان کے مرنے کی خبر اس کے اعصاب پر بجلی بن کر گری تھی..اس رات شبنم آلود گھاس پر وہ لیٹ گیا تھا اور ستاروں سے باتیں کرتا رہا تھا..جیسے آسمان اسکرین ہو.. اور اس اسکرین پر اسکے بچپن سے جوانی تک کہ سب مرحلوں کی ڈاکومنٹری فلم چل رہی ہو، کبھی وہ پاپا کا ہاتھ پکڑے شاپنگ کے لیے جارہا ہوتا. کبھی پاپا کے گھر آنے پر اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہا ہوتا.. کبھی پاپا اسکی سالگرہ پر گفٹ دے رہے ہوتے.. کہیں وہ انکی گود میں سر رکھے سو رہا ہوتا…وہ جب بہت چھوٹا تھا تب اس کی زندگی پاپا سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوجاتی تھی…

اسے اچھی طرح یاد تھا جب اس نے پہلی بار پاپا بولا تھا تب وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر کتنا روئے تھے، اسکول میں وہ پوزیشن لیتا تب بھی پاپا روتے تھے، وہ پاپا کا ہاتھ پکڑے شاپنگ کے لیے جارہا ہوتا. کبھی پاپا کے گھر آنے پر اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہا ہوتا.. کبھی پاپا اسکی سالگرہ پر گفٹ دے رہے ہوتے.. کہیں وہ انکی گود میں سر رکھے سو رہا ہوتا…وہ جب بہت چھوٹا تھا تب اس کی زندگی پاپا سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوجاتی تھی…اسے اچھی طرح یاد تھا جب اس نے پہلی بار پاپا بولا تھا تب وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر کتنا روئے تھے، اسکول میں وہ پوزیشن لیتا تب بھی پاپا روتے تھے، وہ جب بھی کوئی نمایاں کام کرتا وہ یونہی بے اختیار ہوکر رونے لگتے تھے..پہلے تو اسکا ننھا سا ذہن خوشی کے موقع پر آنسو بہانے کی منطق کو نہیں سمجھ پاتا تھا لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اسکی سمجھ میں یہ بات آتی گئی کہ کیوں مسکراتے ہوئے رویا جاتا ہے….ٹریننگ کے لیے رخصت ہوتے وقت بھی پاپا اسے سینے سے لگا کر بھینچتے ہوئے بہت روئے تھے اور اس وقت تو خود اسکی آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے تھے..

اس رات اس نے گھاس پر لیٹے ہوئے بہت سی باتیں سوچی تھیں، آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر چادر میں جذب ہوتے گئے تھے اور وہ مسکراتا رہا تھا..پاپا کو دیا جانے والا اسکا آخری خراج یہی تھا….!!لیکن ایک کسک سی اسکے دل میں رہ گئی تھی.. ماں کے نہ ہونے کی کسک..لیکن اس بات کو بھی اسنے اپنے دل کے نہاں خانے میں بند کردیا تھا..اس رات ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرتا ہوا ناصر اگلی صبح کے طلوع ہونے پر بہت مضبوط ہوکر اٹھا تھا…اس کے بعد وہ بس چند دن رکا تھا، اپنے باپ کی قبر پر مقبرہ بنوانے کا کام اس نے ان کے ایک قابلِ اعتماد دوست کو سونپ دیا تھا..جائیداد کی دیکھ بھال کے کیے چند آدمی بھرتی کرلیئے تھے اور گھر کے ملازمین کو گھر کا سارا انتظام سونپ کر وہ ٹریننگ مکم کرنے واپس چلا گیا تھا… اب اس نے اپنے پاپا کا خواب پورا کرنا تھا، وہ خواب جو اسے ہر رات سونے سے پہلے کہانی سناتے سناتے وہ ازبر کروا چکے تھے.. جانے کے بعد پھر دو تین بار ہی وہ واپس آیا تھا… ٹریننگ پوری ہونے کے بعد کے مراحل میں وہ بہت تیزی سے کامیاب ہوتا چلا گیا تھا… ہر مرحلے کو اس نے منزل تک پہنچانے والی سیڑھی سمجھا تھا…

اور سیڑھیوں پھلانگنا اسکے لیے َزیادہ مشکل نہیں تھا..بالآخر جب آزمائش کے سارے مرحلے ختم ہوچکے تو وہ کیمپ کے اُن دو تین ہزار لوگوں کے درمیان دمکتا ہوا آفتاب بن چکا تھا…ایسا آفتاب جو آسمان کے وسط میں جگمگاتا ہے.. ان تین ہزار لوگوں میں سے آگے جانے کے لیے محض پچاس لوگوں کو منتخب ہونا تھا…جس دن منتخب کیے ہوئے لوگوں کی لسٹ لگی تب وہ بہت بے تابی سے اپنا نام ان کے درمیان ڈھونڈ رہا تھا..نیچے کے تمام ناموں کو بہت غور سے دیکھنے کے بعد وہ مایوس سا ہوگیا تھا.. تبھی اسکی نظر اوپر کے ناموں پر پڑی تھی..وہ شاکڈ رہ گیا تھا.. اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسکا نام ان ہائی فائی لوگوں کے درمیان ٹاپ ٹین میں آسکتا ہے…بہت دیر تک وہ پہلے نمبر پر چمچماتے اپنے نام کو دیکھتا رہا تھا…اس دن وہ بہت خوش تھا، اسکے وہ تمام ساتھی جو کامیاب ہوئے تھے ہنستے مسکراتے اپنے گھر والوں سے بات کر رہے تھے  سب ہی نے اسے مبارکباد دی تھی لیکن جس محبت بھرے  لہجے کا اسے انتظار تھا وہ اب کبھی اسے نہیں سننے والا تھا..

اسکی بے تحاشا خوشی نامعلوم سی اداسی میں بدل گئی تھی..رات کو بہت خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ گیا تھا…. یہ خیال شدت سے اسکے دل میں جڑ پکڑ چکا تھا کہ..وہ تنہا ہے. پاپا کے بعد وہ اکیلا رہ گیا ہے.. اسکا کوئی نہیں ہے جو اسے سینے سے لگائے اور اسکی خوشی میں خوش ہو..باقی کے سارے دن اس نے پراسرار سی خاموشی کے ساتھ گزار دئیے تھے… اور اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کو جہدِ مسلسل بنا لیا تھا، تنہا رہنے کو اپنی عادت بنا لیا تھا..

میری زندگی…دائرہ در دائرہ..اور ان دائروں کے درمیان..میرا تنہا سفر..!اپنے دل کو جذبات کے لیے بند کرکے وہ بہت سخت ہوگیا تھا، روتا تو وہ پہلے بھی نہیں تھا. لیکن اب اس نے مسکرانا بھی چھوڑ دیا…pاپا کا خواب پورا کرنا اسکی زندگی میں پہلی ترجیح بن گیا تھا اور اسکے پیچھے اس نے اپنے تمام خوشیوں اور غموں کو پس پشت ڈال دیا..آنے والے سات سالوں میں اس نے بہت تیزی سے کامیابی کی منزلیں طے کی تھیں،اسکے باس  کا اعتماد اس پر مضبوط ہوتا گیا تھا، پہلے تو اسے ٹیم کے ساتھ بھیجا جاتا رہا تھا لیکن پھر اس کی کارکردگی سے متاثر ہو کر اس کے باس اسے تنہا بھیجنے لگے تھے، کبھی کسی ٹیم کا کیپٹن اور کبھی اکیلے ہی اس کے سپرد سب سے اہم اور مشکل مشن کیے جاتے تھے۔۔۔۔۔اور وہ زندگی موت کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار اپنے ٹاسک پورا کرتا تھا۔۔۔۔ ناکامی اس کی لغت میں شامل ہی نہیں تھی اور کامیابی ہمیشہ اس کے سر پر تاج کی طرح چمچماتی رہی تھی۔۔۔۔۔ناصر اشفاق۔۔۔۔ ایک کامیاب ایجینٹ بن چکا تھا۔۔۔۔۔!!!!

 ایسا ایجنٹ جس  کے نزدیک اس کا مشن اور ٹاسک پورا کرنا ہی زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کبھی ایک ملک سے دوسرے ملک۔۔۔ کبھی ایک شہر سے دوسرے شہر۔۔۔۔  وہ ملکوں ملکوں یوں گھومتا تھا جس طرح ایک گلی سے دوسری گلی میں جاتے ہیں،

 اس کی شخصیت بھی دن بدن نکھرتی گئی تھی اور اس کا سحر  چاروں طرف پھیلتا گیا تھا۔۔۔۔۔، زندگی نے اس پر دل کھول کر نچھاور کر دیا تھا اس کے نام کے ساتھ کامیاب تو لگا ہوا ہی تھا، گزرتے دنوں کے ساتھ وہ ہینڈسم اور اسمارٹ بھی مشہور ہوگیا تھا۔۔اس کے باس اور اس کے سینیئرز نے کتنی ہی بار اس سے شادی کر لینے کے لیے کہا تھا لیکن ہر بار وہ انکار کر دیتا تھا۔۔۔۔ اپنے دل کے دروازوں کو بند کر کے وہ بس اپنے پاپا کا خواب پورا کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اپنی ہر کامیابی کے بعد اسے محسوس ہوتا تھا کہ پاپا کا خواب پورا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔،اسکا دل محبت اور نفرت کے جذبات سے عاری ہو چکا تھا۔۔۔۔۔، اس کا خیال تھا وہ کبھی شادی کرکے کسی کو اپنا ہمسفر نہیں بنائے گا لیکن وہ غلط تھا۔۔۔۔ قدرت نے اس بار بھی اس کامیاب ترین اور اسمارٹ ایجنٹ کے ساتھ کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔۔!!اس نے گذشتہ سات سالوں سے ایک بار بھی لیو نہیں لی تھی۔۔۔ اس کا دل ہی نہیں چاہتا تھا کہ وہ گھر جائے۔۔۔

 لیکن اس بار جب سب چھٹیاں منانے گھروں کو جانے لگے تو اس کا دل بھی گھر جانے کے لیے مچلا تھا۔۔۔، اور اس کے باس نے  بہت خوشی سے اسے ایک مہینے کی لیو دے دی تھی، سب کچھ ویسا ہی تھا ملازموں نے اس کے عالی شان محل کو اپنے گھر کی طرح سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔ زمین جائیداد وغیرہ کا کام ٹھیک جا رہا تھا، جتنے دن وہ یہاں رہا تھا روزانہ باقاعدگی سے پاپا کے مقبرے پر  جاتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اسے آئے ہوئے دو ہفتے ہی ہوئے تھے کہ واپسی کا بلاوا آ گیا تھا، اور وہ فرض شناسی  سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس ہو لیا تھا۔۔۔۔ واپس جا کر اسے پتہ چلا تھا کہ اسے ارجنٹ بلانے کی وجہ ہمیشہ کی طرح ایک اہم ٹاسک تھا۔۔۔!! اب کی بار اس کی منزل یو اے ای تھا۔۔۔۔سورج سے دہکتا عرب ملک۔۔۔۔۔ وہ وہاں کی گرمی کے حساب سے تیاریاں کر کے وہاں پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔اس بار یہ ٹاسک اسے تنہا سپرد کیا گیا تھا اور اس نے یہاں پہنچتے ہی اپنے مشن پر کام شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ وہ ہمیشہ سے  اپنےٹارگٹ کی ریکی سب سے پہلے شروع کرتا تھا اور ریکی صحیح طرح پوری ہونے پر ہی وہ اگلے مرحلے پر آتا تھا۔۔

 اس روز بھی وہ حلیہ بدل کر اپنے ٹارگٹ  کے پیچھے ایک سپر اسٹور  میں داخل ہوا تھا!! سورج سے اس دن بھی آگ نکل رہی تھی لیکن وہ دن اس کے دل سے ساری آگ نکالنے والا تھا۔۔۔، اس کے بہت سے ارادے آج ٹوٹنے والے تھے۔۔۔۔وہ معمول کی طرح خریداری کرنے لگا تھا لیکن اس کی نظریں برابر اپنے ٹارگٹ پر مرکوز تھیں۔۔۔۔وہ نامحسوس سے انداز میں برابر کسی کیمرے کی طرح اپنے ٹارگٹ کو فوکس کیے ہوئے تھا جب۔۔۔۔۔ریک کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسے پیچھے سے ہلکا سا دھکا لگا تھا،شاید کوئی اس کے پیچھے سے بہت تیزی سے گزرا تھا، لمحے بھر کو اس کی نظریں بہک گئیں تھیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ سنبھل کر اپنے ٹارگٹ کی تلاش میں نظریں ڈورا رہا  تھا،وہ شخص جس کے پیچھے وہ لگا ہوا تھا، جو اس کا ٹارگٹ تھا،جس لمحہ وہ شخص اسے دوبارہ نظر آیا اسی لمحہ اور بہت کچھ بھی ہوا تھا۔۔وہ لمحہ بلاشبہ اس کی زندگی بدل دینے کا لمحہ تھا۔۔۔۔۔

 اسی لمحہ نے اس کے دل کے دروازے بہت آسانی سے کھول دیئے تھے۔۔۔  اسی لمحہ نے اسکی عقابی نظروں کو ساکن ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ وہ لمحہ اسے اس بات کا ادراک بھی کرا گیا تھا کہ  کامیاب زندگی محبتوں اور حوصلوں کے سنگم سے جنم لیتی ہے۔۔۔ وہ لمحہ بہت کچھ تھا۔۔۔ بہت کچھ۔۔۔۔بارش کی پہلی بوند کی طرح نرم اور گلاب پر پڑے شبنم کے قطرے کی طرح دلفریب۔۔۔وہ  ریسیپشن کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے برابر سے گزرا تھا اور اس کے بعد اسے ہوش نہیں تھا کہ اسکا  ٹارگٹ کب سپر اسٹور سے باہر نکلا اور لوگوں کی بھیڑ میں غائب ہو گیا۔۔۔۔۔،وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا، اپنی مشقتوں سے معمور زندگی میں پہلی بار وہ اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہوا تھا جب اس کا خود پر سے کنٹرول کھویا ہو۔۔۔۔، وہ ریک کے سامنے کھڑی جار ہاتھ میں لیئے الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی،

 خود پر نگاہوں کی تپش کو محسوس کر کے اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا تو وہ جیسے گہرے  طلسم سے باہر آیا ہو۔۔۔۔۔۔، چند لمحے گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے اس نے خود پر قابو پانا چاہا اور ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن  اسے زندگی میں پہلی بار ہی بے بسی محسوس ہوئی تھی،