Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 57
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 57

تھوڑی دیر بعد جب وہ لڑکی ریسیپشن کی طرف بڑھنے لگی تب وہ بہت بے قرار ہو کر اس کی طرف قدم قدم چلتا گیا تھا۔
’’ایکسوزمی۔۔؟؟‘‘وہ اسکے قریب پہنچ کر نظریں جھکاتے ہوئے بولا تھا
’’جی۔۔آپ کون۔۔۔؟؟‘‘ اس لڑکی نے چونک کو سر اٹھا یا تھا۔

’’میں۔۔۔‘‘ اسے سمجھ نہیں آیا کہ اپنا کیا تعارف کروائے۔ ’’میں یہاں پر نیا آیا ہوں۔۔آپ کو دیکھ کر ایسا لگا کہ پہلے بھی کہیں دیکھا ہے ۔۔‘‘ وہ رک رک کر سوچ سوچ کر بولا تھا۔
’’اچھا ۔۔میں نے آپ کو کہیں نہیں دیکھا۔ آپکا نام ۔۔۔؟‘‘ اس کے سنجیدہ چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں لہرائی تھیں۔
’’ناصر۔۔۔ناصراشفاق۔۔‘‘ پتہ نہیں کیوں اس نے اپنی اصل شناخت بتادی تھی حالانکہ یہاں وہ ایک دوسرے نام سے رہ رہا تھا۔
’’اوہ۔۔ اچھا اچھا۔۔ سوری میں آپ کو نہیں جانتی۔۔‘‘وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی تھی، “اچھا میں چلتی ہوں۔۔۔!!”وہ وہ کہہ کر آگے بڑھنے لگی ،
’’آپکا نام کیا ہے ۔۔؟‘‘ وہ رکی۔ ’’صبا۔۔‘‘
“کیا۔ ہم لوگ دوبارہ مل سکتے ہیں؟”اس کے لہجے میں زمانے بھر کی بے تابی تھی،

وہ حیران سی ہوئی پھر پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا، “کیوں…؟؟” وہ گڑبڑا گیا،”نہیں، اصل میں یہاں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، آپ کو دیکھ کر اپنائیت سا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔!!!”
“اوہ۔۔۔۔”اس لڑکی کے چہرے پر زمانے بھر کی تھکن نمایاں ہوئی،
“میں بھی اکیلی ہوں ۔۔۔۔اوکے ۔۔میں ادھر ہی گروسری لینے آتی ہوں۔۔۔ہم یہیں مل لیا کرینگے۔۔!!”وہ بول رہی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ آس پاس سب کچھ تحلیل ہو تا جا رہا ہے،
“اوکے۔۔۔۔۔!!” وہ چلی گئی اور وہ کتنی ہی دیر ساکت کھڑا پلکیں جھپکتا رہا،جیسے کوئی خواب ہو اور وہ ابھی ابھی بیدار ہوا ہو، طلسم تھا کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا،وہ اسی کیفیت میں اسٹور سے باہر نکل آیا، کتنی ہی دیر تک پیدل چلتے ہوئے وہ ایک ہی نقطے پر سوچتا رہا تھا،

اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر اس دن وہ سونے کے لیے لیٹا تو اسے احساس ہوا کہ بہت کچھ اس کے لئے نا ممکن ہو چکا ہے۔۔۔۔ بہت دیر تک کروٹیں بدل کر وہ بے قراری کی انتہا پر پہنچتا رہا تھا۔۔۔۔صبح ہوگئی لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی،آج اسے اپنے ٹاسک کو پورا کرنے کے لئے دوسرے مرحلے پر عمل کرنا تھا،پلان بناتے وقت اس کا دماغ اپنی جگہ پر نہیں تھا، ٹارگٹ کا تعاقب کرتے وقت وہ بار بار بہک رہا تھا،بلاآخر آج کا کام اس نے تعاقب تک محدود کر کے واپسی کی راہ لی تھی لیکن واپس جانے سے پہلے وہ سپر اسٹور گیا تھا،پھر ناکام ہو کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آیا تھا، اور پھر اگلے دو دنوں میں وہ اپنے کام کے دوران ہی کئی بار اسٹور گیا تھا لیکن ہر بار خالی دل کے ساتھ واپس آ جاتا تھا، لیکن پھر تیسرے دن اس کی خواہش ہو گئی تھی، اس نے سپر اسٹور میں تیسرا چکر لگایا تھا جب وہ اسے نظر آگئی، گہرے گلابی رنگ کی سادہ فراک پہنے بالوں میں کیچر لگائے دوپٹہ ویسے ہی سینے پر پھیلائے باسکٹ ہاتھ میں لئے وہ سبزیاں لے رہی تھی جب وہ اس کے نزدیک پہنچا،

“ہیلو۔۔۔؟؟”اس بار اسکا لہجہ ٹھہرا ٹھہرا پرسکون سا تھا،وہ چونکی پھر سر اٹھایا،”ارے آپ۔۔۔۔؟؟”اسکے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ دیکھ کر وہ بھی مسکرایا،
“جی، کیسی ہیں آپ؟”اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا،
“ٹھیک ہوں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔۔۔؟؟”
”میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔!!!“وہ مسکرا کر سر ہلاۓ ہوۓ دوبارہ سبزی باسکٹ میں ڈالنے لگی ،
” اگر مناسب سمجھیں تو بیٹھ کر کافی پیتے ہیں؟؟“اس نے نگاہیں اٹھائیں پھر گہری سانس لے کر بولی،
”سوری میں کسی اجنبی کے ساتھ کافی نہیں پیتی۔۔“

اجنبی۔۔۔!

’’اوکے۔۔ جیسا آپ چاہیں۔۔۔‘‘ اسکے پورے وجود پر شکستگی پھیلی تھی۔’’میں چلتا ہوں۔۔‘‘وہ سر ہلا کر سبزیاں باسکٹ میں ڈالنے لگی تھی۔وہ پلٹ کر واپس چلا گیا۔نامعلوم سی اداسی واضح طور پر اس کے انداذ میں نمایاں تھی،اس روز کے بعد وہ اس لڑکی سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن اس کی روح کی بےقراری ختم ہونے کے بجائے بڑھتی گئی تھی، ایک نامعلوم آگ اس کو اندر ہی اندر جلا کر خاکستر کر رہی تھی،صرف ایک دن وہ خود کو دوبارہ سپر سٹور جانے سے روک سکا تھا لیکن پھر اگلے دن وہ بھی پیاسے انسان کی طرح اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہاں جا پہنچا تھا،لیکن اس دن وہ نہیں آئی تھی، وہ مسلسل ایک ہفتہ تک روزانہ پروانے کی طرح وہاں کا طواف کرتا رہا تھا لیکن اس کی شمع وہاں نہیں تھی،اپنے مشن کو اس نے آدھے سے زیادہ مکمل کرلیا تھا ابھی تک وہ ٹاسک پورا کرکے واپس جا بھی چکا ہوتا لیکن اس نے لیکن ایک دن نے اس کی دنیا بدل دی تھی، وہ اب کسی صورت وہاں سے کہیں نہیں جانا چاہتا تھا ،اسے اب باقی زندگی کانٹوں پر نہیں گزارنی تھی، وہ اب سکون لینا چاہتا تھا، آگ کے گرد چکر لگاتے لگاتے وہ آپ تھک سا گیا تھا،

صبا سے ایک ہفتے بعد دوبارہ اسکی ملاقات ہوگئی تھی، وہ اب اس سے نگاہیں ملاتے ہوئے جھجھک رہی تھی ،اس دن اپنے ٹھکانے پر لوٹنے کے بعد اس نے براہ راست اپنے باس کو خفیہ کوڈ ڈائل کیا تھا۔۔ رابطہ ملنے پر جلدی جلدی ضروری رپوٹ مشن کے بارے میں دینے کے بعد وہ اپنے مطلب کی بات پر آ گیا تھا، ”سر!! میں یواے ای میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!“
اور جواباً اس کے باس شاید دل سے مسکرائے تھے،
” اٹس وایری گڈ ناصر لیکن آپ کے مشن کا کیا ہوگا؟“
”میرا مشن پورا ہونے والا ہے اور کامیابی کے ساتھ پورا ہونے والا ہے اور بس مجھے اس کے بعد کچھ مہینوں کی لیو چاہیے۔۔۔ پھر دوبارہ میں ڈیوٹی جوائن کر لونگا۔۔۔!!“ وہ جلدی جلدی کہتا گیا تھا،
”اوکے، آپ نے تو پوری پلاننگ تیار کر رکھی ہے۔۔۔۔ آپ کو لیو مل جائے گی بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ شادی کے بعد اس خوش نصیب لڑکی سے ہمیں ضرور ملوائیے گا۔۔۔۔!!“

”اوہ سر۔۔۔۔!!“ وہ چھیپ گیا،
” اچھا ناصر آپ کو اور کچھ کہنا ہے؟“ ہاں۔۔۔۔۔ یہاں ہمارا بندہ ہے آپ اس سے کہہ کر میرے لئے گھر کا بندوبست کروادیں اب میں مستقبل یہیں رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!
”اچھا۔۔۔!“ اس کے باس ذرا سا ہنستے تھے،
” ضرور ضرور میں کہہ دونگا۔۔۔!!“
”اور سر۔۔۔۔ وہ گھر میری دلہن کے شایان شان ہونا چاہیے۔۔۔!!“ اسکا لہجہ بدل گیا تھا،
“ہاں ناصر۔۔۔۔ میں جانتا ہوں ایک کامیاب ایجنٹ کا گھر کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔!“ وہ سنجیدہ سے ہوئے تھے، اور پھر وہ رابطہ منقطع کر کے لیٹ گیا تھا ، اگلے دن اس نے صبا سے شادی کی بات کی تھی اور اس وقت اس نے اندازہ ہوا تھا کہ یہ کام کتنا مشکل ہے،

”مجھے کل تک کا وقت چاہیے۔۔۔۔!!“وہ بس اتنا کہہ کر اٹھ گئی تھی، اسکا لہجہ بہت روہانسا ہورہا تھا جیسے ابھی رو دے گی، اٹھتے وقت بھی اس نے لبوں کو بھینچ رکھا تھا،ہاتھوں کی مٹھیاں بناۓ آنکھیں میچتے ہوئے واضح طور پر اندر اٹھتے لاوے کو قابو کر رہی تھی،پھر وہ چلی گیٔ تھی،اور وہ ایک اور گرداب میں پھنس گیا تھا،پوری رات وہ وسوسوں اور خیالوں کی رو میں یکساں بہتا رہا تھا ،اسے نہیں معلوم تھا اگر صبا نے اقرار کیا تب وہ کیسا ردعمل رے گا اور وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اگر اسکا جواب منفی ہوا تب اسے کیسا ردعمل دینا تھا لیکن وہ بس ایک بات جانتا تھا، کہ اب وہ سادہ سی لڑکی اس کی زندگی بن گئی ہے،وہ انکار کی صورت میں خود پر ٹوٹ پڑنے والے عذاب کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ وقت سے پہلے ردعمل دینے والوں میں سے نہ تھا!!مگر اگلے دن جب صبا نے اسے ہاں میں جواب دیا تھا تب وہ کسی حد تک سرشار ہوا تھا۔۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ جنت میں پہنچ گیا ہو۔۔۔۔۔

خوشی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ صبا کو شکریہ بھی نہ کہہ سکا تھا۔۔۔۔!!اس کے دو ہفتوں بعد ہی صبا دلہن بنی اسکے گھر میں موجود تھی۔ اور وہ بے تحاشہ خوش تھا۔کیا لذت تھی اس طرح رہنے میں۔۔۔۔۔ کتنا سکون تھا اس احساس میں کہ اب کوئی اپنا بن گیا ہے۔۔۔اور اسی دن اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ صبا کو کبھی دکھ نہیں دے گا۔۔۔اس نے صبا کو گلاب پر پڑے ہوئے شبنم کی طرح اہمیت دی تھی، رفتہ رفتہ اس نے اپنی جاب تمام باتیں صبا کو بتا دی تھی، ایک دو مہینے بعد اسے اپنے ٹاسک کی وجہ سے باہر جانا پڑا تھا تو جاتے ہوئے صبا کا بار بار آنکھوں کے بھیگے گوشے صاف کرنا اسے بہت اچھا لگتا تھا، زندگی یکدم پرسکون ہو گئی تھی، بہار میں مہکتے پھولوں کی طرح اس کی زندگی بھی خوشبوؤں سے بھر چکی تھی،یونہی صبا کے ساتھ زندگی کے بہترین دن گذارتے ہوئے نہ جانے کب پانچ سال گزر گئے۔۔۔۔۔ وہ ان کی شادی کے پانچویں سال کا اوآخر تھا جب اسے پاکستان میں وہ مشن ملا جو اس کی زندگی سے بالآخر سب کچھ بہالے جانے والا تھا…..،

اسے کہا گیا تھا کہ پاکستان کی دو لیدر کمپنیاں انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچ گئیں ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی دشمن بھی ہیں سو اسکا کام یہ تھا کہ ان کی دشمنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا نا تھا،اس کام میں ان تمام ممالک نے حصہ لیا تھا جو پاکستان کی ترقی کے مخالف تھے،بہت ساری ایحجنسیوں نے نے مل کر پلان تیار کیا تھا لیکن ان سب کا ہیڈ ناصر کو بنایا تھا…….ناصر اشفاق……. اس کے نام کی دھاک اب بھی ویسی ہی قائم تھی……اسے دی جانے والی بریفیگ میں ان دونوں کمپنیوں کے بارے میں مکمل معلومات دی گئی تھیں،لیکن اس بار انہوں نے پلان دوسری طرح کا بنایا تھا۔۔۔۔۔۔ اپنی روایت سے ہٹ کر انہوں نے کسی قسم کا رسک لیے بغیر ان دونوں کمپنیوں کے سربراہان کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا،کیونکہ بہرحال ان کے پاس وقت بہت تھا اور وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ کسی کو تباہ کرنا ہو تو اس کی بنیادوں کو نشانہ بناؤ۔۔۔۔

اور کسی کی بنیاد اس کا گھر ہوتا ہے کسی حساس انسان کی بنیاد اس کی اولاد ہوتی ہے۔۔۔۔ کسی امیر شخص کی بنیاد اس کی دولت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کسی مذہبی شخص کی بنیاد اس کے دین پر قائم ہوتی ہے۔۔۔۔۔ وہ بریفنگ لینے کے بعد اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔اس دن واپس آکر اس نے صبا کو اپنے مشن کے بارے میں بتایا تھا، وہ اس کے آنے جانے کی عادی سی ہوگئی تھی، بس یہ بات سن کر اس کی آنکھوں میں جھلملاتے سائے لہرائے تھے اور وہ کچھ کہنے کی کوشش کے باوجود نہیں کہہ پائی تھی۔۔۔۔وہ اپنے جانے کی بات سن کر اس کے ان تاثرات کا عادی ہو گیا تھا لیکن ہر بار اس کی جھلملاتی آنکھیں کسی نئے پیغام سے روشناس کراتی تھی۔۔۔۔۔ جانے سے پہلے ایک مہینہ تک اس نے مکمل کوشش کی کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت صبا کے ساتھ گزارے۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے ہر مشن سے پہلے یونہی کرتا تھا ۔۔۔۔۔لیکن اس بار عجیب بے کلی سی اس کے وجود پر چھائی ہوئی تھی، دل کہہ رہا تھا کہ نہ جائے، انکار کردے، زندگی میں پہلی بار ہی اسے اپنی جاب پر پچھتاوا سا ہوا تھا ،سب کچھ معمول کے مطابق تھا لیکن اسکا دماغ کسی ان دیکھے انتشارکی زد میں تھا ۔ہر بار صبا کو دیکھتے ہوئے اسے لگتا تھا وہ کبھی چہرے کو دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا۔۔۔۔۔۔۔

اپنے ہر خیال کو وہ پوری شدت سے کچل دیا کرتا لیکن اسکا دل کہہ رہا تھا کہ اس بار کچھ غلط ہونے والا ہے،یونہی کشمکش کے درمیان ہی اسکے جانے کا دن آگیا تھا، صبا حسب معمول اس کا سوٹ کیس پیک کرکے لے آئی تھی، جانے سے پہلے اس نے ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھا تھا، وہ آج بھی صبح کے گلاب کی طرح تروتازہ تھی لیکن اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس گلاب کو مرجھانے کا سبب بننے والا ہے ۔لاشعوری طور پر ہی اس نے اس بار جاتے ہوئے صبا سے بہت سارے وعدے کیے تھے۔۔۔۔۔
واپس آنے کے وعدے۔۔۔۔۔ کوئی انجانی قوت اسے جانے سے روک رہی تھی اور کوئی انجانی قوت اسے جانے پر مجبور کر رہی تھی، لیکن وہ اپنے سارے خدشات اور خواہشوں کو لائے طاق رکھتے ہوئے وہ چلا گیا تھا اور اس کے پیچھے جیسے ماضی کا ایک دلفریب اور رعنائیوں سے بھرپور باب ختم ہوا تھا، وہ دونوں اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ ان کی ہنستی مسکراتی پرسکون زندگی طوفان کے گھیرے میں آگئی ہے۔۔۔۔۔

ان کی زندگیوں میں خوشیوں کا زمانہ محض پانچ سالوں پر محیط تھا اور اب۔۔ وہ بھی قدرت کے بار بار دہرائے جانے والے کھیل کا حصہ بن گئے تھے ،شاید سب ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔!!!!!! اور ختم ہونے والے اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ ختم ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!

٭٭٭

پاکستان آنے کے بعد اس نے بہت تیزی سے کام شروع کیا تھا لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کام بہت زیادہ صبر مانگتا ہے۔۔۔۔۔۔ اسے ایک کام کرنے کے بعد کئی کئی دن اس کا نتیجہ آنے کے انتظار میں رہنا پڑتا تھا، اپنے ساتھ آنے والی ٹیم کو اس نے مختلف کام دے دیے تھے لیکن سب سے اہم اور بنیادی کام اس نے ہمیشہ کی طرح خود کرنے کا بیڑااٹھایا تھا ، سب سے پہلے اس نے اپنے پاس پہلے سے موجود معلومات کے سہارے دونوں سربراہان کے گھرانوں کی ریکی شروع کی تھی،کتنے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ کس کا کس سے کیسا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔کون کب جاتا ہے۔۔۔۔۔ کب آتا ہے ۔۔۔۔۔ان سب کے فون نمبرز۔۔۔۔۔۔ دوست احباب۔۔۔۔۔ پسندیدہ جگہیں کون کون سی ہیں۔۔۔۔۔۔ زیادہ تر کہاں آنا جانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ کون اپنا وقت زیادہ ترکس کے ساتھ گزارتا ہے۔۔۔۔۔ ان کے مزاج کیسے ہیں۔۔۔۔۔ تعلقات کیسے ہیں۔۔۔۔۔ مذہبی جھکاو۔۔۔۔۔ وغیرہ۔۔۔۔۔

ریکی کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے فون کا لزبھی ٹیپ کرنا شروع کر دی تھیں،ماضی میں وہ فون کالز ٹیپ کر کے ہی اپنے ٹارگٹ کی کمزوری تلاش کیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور اس بار بھی وہ ناکام نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔!! اے جی ایف اور اے ایل سی۔۔۔۔۔۔ شاہدانصاری اور قاسم عبّاس۔۔۔۔۔ اس کا ٹارگٹ یہ دونوں تھے اور ان سے وابستہ ہر چیز اس کے تلاش میں شامل ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔،شروع کے دنوں میں شاہدانصاری کی فون کالز ٹیپ کر کے اسے کچھ خاص فائدہ تو نہیں ہوا تھا … بس ایک فائدہ ہوا تھا اور وہ یہ کہ شاہدانصاری کی بیٹی اجیہ انصاری کے بارے میں اسے اور زیادہ مفصل معلومات مل گئیں تھیں،وہ یہ کہ اجیہ بہت ریزرو لڑکی ہے اور اپنے باپ سے بہت زیادہ اٹیچ نہیں ہے اور اپنے مسائل کو خود تک ہی محدود رکھتی ہے………قاسم عباس کے بارے میں اسے شروع میں ہی بہت بڑی کامیابی مل گئی تھی……. وہ فون کال…… اس کا اپنی منگیتر سے اظہار محبت……کتنی زبردست چیز اس کے ہاتھ لگی تھی، وہ مستقبل میں اس کال کے ذریعے قاسم عباس بہت آسانی سے بلیک میل کر سکتا تھا…… واہ……!!!
ان دو کاموں کے علاوہ اس نے تیسرا کام یہ کیا تھا کہ شاہدانصاری اور قاسم عباس…… دونوں گھروں میں اپنے آدمیوں کو داخل کر دیا تھا……،

قاسم عباس کے گھر میں اپنی ٹیم کے ساتھ آئی ایک لڑکی کو ملازمہ کے طور پر بھیج دیا تھا، وہ لڑکی بھی اپنا کام بخوبی کرنا جانتی تھی، شاہد انصاری کے گھر ہی کی ایک پرانی ملازمہ کو ورغلا لیا تھا، اسکا نام فاخرہ تھا……. ہر ماہ خطیر رقم اور بہت سی آسائشات کی لالچ میں وہ اس کے لئے جاسوسی کرنے پر آمادہ ہو گئی تھی……، یوں اسے خفیہ خبریں بھی دونوں گھروں کے بارے میں مل جاتی تھیں، چوتھے مرحلے میں اس نے شاہدانصاری کی بیٹی اجیہ انصاری کو رانگ نمبر سے تنگ کرنا شروع کیا،
اسی فاخرہ نامی ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ یہاں پر رانگ نمبر سے تنگ کرنے کا رواج عام ہے…….سو اس نے پہلا وار یوں ہی کرنے کا فیصلہ کیا تھا…!! پانچواں کام اس نے یہ کیا کہ قاسم کے بارے میں اپنے ایجنٹ ساتھی سے معلومات لینی شروع کیں،
زیادہ تر تو اسے پہلے ہی سے معلوم تھا لیکن ایک اہم بات اسے پتہ چلی کہ قاسم عباس دن رات کام کرتا رہتا ہے اور دوست بنانے کے معاملے میں محتاط رہتا ہے… وہ بس اپنی کمپنی کو ٹاپ پر لے جانا چاہتا ہے…..یہ بات اس ایجنٹ ملازمہ نے قاسم کی ممی سے سنی تھی ۔۔

یہ بات بظاہر توغیر اہم سی تھی لیکن ہمیشہ کے ذہن ناصر نے اسے بھی اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا…..، کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ قاسم کی توجہ اپنے کام سے بھٹک جائے……… بہت جلد اسے وہ طریقہ سمجھا گیا تھا، اس کے ساتھ ٹیم میں آئے ہوئے سارے ایجنٹ اپنے کام میں ماہر تھے، مشن شروع کرنے کے بعد اس نے چھٹا کام یہ کیا تھا کہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ قاسم عباس کے آفس گیا تھا، دو تین ملاقاتوں کے بعد اس نے قاسم کو بھی دوست بننے کی پیشکش کی تھی اور اس کے دوست بننے کے بعد تو جیسے اس کا کام ہی آسان ہو گیا تھا، چند دن وہ اسے گروپ کے ساتھ آؤٹنگ کے لئے کہتا رہا تھا لیکن بہت جلد اسے اندازہ ہوگیا کہ قاسم اپنے کام پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے گا….. پھر بہت سوچ بچار کر کے اس نے قاسم کو کلب میں بلانے کا فیصلہ کیا تھا اور خلاف توقع قاسم مان گیا تھا……. اس کا کام مزید آسان ہو گیا، اجیہ انصاری کو رانگ کال کے ذریعے تنگ کرنے کا سلسلہ ویسے ہی جاری تھا، اور وہ اس مرحلے کو آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ کیسے….؟؟ اس کے ذہن میں پوری پلاننگ تیار تھی…!!

وہ بہت مہارت سے اپنی سازش کے مہروں کو پھیلانے جارہا تھا……!! اسی مہارت سے….. جو مہارت اس کے نام کے ساتھ ساتھ منسوب کی جاتی تھی، انہی دنوں اسے پتہ چلا تھا کہ قاسم عباس کی شادی ہوگئی ہے… اس بات کو کیسے اپنے مفاد میں استعمال کیا جائے گا…..؟؟؟؟ ذرا سی سوچ بچار کرنے کے بعد وہ اس بارے میں پلاننگ کر چکا تھا…..!!اگلے دن اس نے نائلہ کو صبح کے وقت کال کی تھی اور اسے اپنا تعارف کروایا تھا، ناصر اشفاق ۔۔۔!وہ یہاں پر اپنا اصل شناخت کے ساتھ ہی کام کر رہا تھا، کچھ دنوں پہلے ہی سے معلوم ہوا تھا کہ نائلہ اور اجیہ ایک دوسرے کی بہترین دوستیں ہیں……!! یہاں تو جیسے کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں۔۔۔لیکن وہ کامیابیوں کی دوڑ لگاتے لگاتے دو تین بار غلطیاں کر چکا تھا،ایسی غلطیاں جن سے وہ خود بے خبر تھا اور جو اس کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیردینے والی تھیں،قاسم عباس کو کلب بلا کر اس نے پلاننگ کے مطابق بہلا پسلا کر شراب پلا دی تھی،کسی کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دینے کے طریقے تو وہ اچھی طرح جانتا تھا……….!!

شراب پینے کے بعد قاسم حسب متوقع ہر وہ کام کر رہا تھا جو وہاں موجود باقی سب لوگ کررہے تھے…………کسی عادی شرابی کی طرح….کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح…..جب پوری رات گزر گئی تھی وہ قاسم کو کلب کے لان میں ایک گوشے میں لے آیا تھا اور اس مدہوش ہوئے انسان کو جب اس اس نے بلیک میل کیا تھا تب اسکا سارا نشہ ہرن ہو گیا تھا……..!! وہ اسے وہیں لان میں چھوڑ کر اندر آ گیا تھا اور پھر حسب توقع تھوڑی دیر بعد قاسم نے اندر آ کر اس سے موبائل مانگا تھا………
اور اسے موبائل دیتے وقت وہ بالکل بھی اندازہ نہیں کر پایا تاکہ وہ غلطی کر رہا ہے…….. ایک اور غلطی……. وہ جانتا تھا رات کے اس وقت کال کرنا یہاں کے معاشرے میں کیسے سمجھا جاتا ہے……..!! اسکا مقصد نائلہ اور قاسم کے تعلقات خراب کرنا تھا اور اجیہ کا نمبر لے کر جلد از جلد اس مرحلے میں مزید آگے بڑھنا چاہتا تھا……..، اس کے لیےیہ سارا مشن اس کھیل کی طرح ہوگیا. ھا جس کھیل کو بچے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھ کر کھیلتے ہیں……

لیکن اس نے اس مشن کو بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھ کر بھی غلطی کی تھی…!! اس نے نائلہ کو ایک عام سی لڑکی سمجھا تھا اور قاسم کو عام سا عاشق…… لیکن وہ ایک بار پھر غلط تھا…!!اس بار وہ اپنے اور صبا کے تعلق کو اگر یاد کر لیتا تو غلطی پر غلطی نہ کیے جاتا….، لیکن صبا تو اس کے نزدیک آسمان کا ستارہ تھی…… نائلہ سے اس کا کس طرح مقابلہ ہو سکتا تھا…..!!
آنے والے باقی دنوں میں اس نے قاسم پر اجیہ کے نمبر کے لیے بہت دباؤ ڈالا تھا، اجیہ نے اس کے بہت سارے رانگ نمبر بلاک کیے تھے لیکن فاخرہ کی وجہ سے اسے ساری اطلاعات مل جاتیں اور وہ پھر ایک نئے نمبر اپنا کام شروع کر دیتا، ابھی تک اس نے اپنی آواز اجیہ کو نہیں سنائی تھی، وہ وقت کا انتظار کر رہا تھا….!! وہ شاہد انصاری پر مکمل دباؤ ڈالنا چاہتا تھا اتنا کہ ان کی توجہ مکمل طور پر کمپنی کے مسائل سے ہٹ جائے اور بس……. اس کا کام اتنا ہی تھا….. کمپنی کے کاموں کی طرف سے توجہ ہٹانا….. باقی کا سارا کام اس کی ایجنسی کا تھا. اسے کوئی سروکار نہیں تھا وہ بس اپنا کام پورا کرکے جلد سے جلد صبا کے پاس واپس جانا چاہتا تھا……

صبا سے زیادہ دن دور رہنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا اور یوں بھی اسے مشن پر کام کرتے ہوئے ڈیڑھ سال ہوچکے تھے….!!
قاسم عباس کو بھی وہ اپنے مسٔلوں میں اسی لیے الجھا رہا تھا کہ وہ کمپنی کی طرف سے توجہ ہٹا دے…. اور اس کام میں وہ کامیاب بھی ہو رہا تھا، اور پھر انہی دنوں اسے پتہ چلا تھا کہ اے ایل سی اور اے جی ایف میں ایک چھوٹا سا معاہدہ ہونے والا ہے….. اس کی ساری حسیات پوری قوت سے بیدار ہوئی تھیں…. ،کسی قیمت پر بھی اس نے یہ معاہدہ نہیں ہونے دینا تھا، اس کی ساتھی ایجنٹ نے اسے بتایا کہ قاسم عباس اپنے اہم ترین ڈاکو منٹس گھر پررکھتا ہے…… یہ خیال ذہن میں آتے ہی اس فوراً قاسم کے گھر میں موجود اپنے ایجنٹ کو وہ کاغذات اڑانے کا کہا تھا، سب کام ٹھیک ہو رہے تھے لیکن نہیں معلوم کہ غلطی کہاں ہوئی اور قاسم کو کاغذات کے غائب ہونے کا پتہ چل گیا…. یہ وہی دن تھا جب قاسم نے اسے اجیہ کا نمبر بھی دیا تھا….

وہ ابھی اپنی غلطی سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ کہ وہ کاغذات تلاش کرکے اپنے ہیڈ آفس پہنچ گیا اور وہ معاہدہ ہوگیا، جس معاہدے کو وہ ہونے سے روکنا چاہتا تھا!! اس افراتفری میں بھی وہ بات بھی بھول گیا کہ قاسم جب ایک بار اچانک اس کے گھر آیا تھا تب اس ایجنٹ ملازمہ کو اس نے وہاں دیکھ لیا تھا…..!! وہ بہت ساری باتیں بھول گیا تھا….

٭٭٭
(جاری ہے …)