داستان ایمان فروشوں کی – پہلی قسط




داستان ایمان فروشوں کی از التمش ! مکمل ناول اسلامی دنیا کے ایک عظیم مجاہد ” صلاح الدین ایوبی ” کی داستان حیات پر مبنی تاریخی ناول حاضر خدمت ہے امید ہے آپ سب کو پسند آئے گا ۔ (جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی) “تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو” یہ تاریخ الفاظ سلطان صلاح الدین نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے، ان دونوں نے صلیبوں کو درپردہ مدد زر و جواہرات کا لالچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی، امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا، اسکے زاتی حیمہ گاہ سے رنگ برنگی پرندے ، حسین اور جوان رقصایئں اور گانے والیاں ساز اور سازندے شراب کے مٹکے برامد ہوئے ، سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کردیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا خط لکھا ۔ “تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کر کہ ان کے ہاتہوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوشش کی مگر یہ نہ سوچا کہ تمھاری یہ ناپاک کوشش عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تہی۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے ہو تو مجھے قتل کرادیا ہوتا ، تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ہو ۔ دونوں ناکام ہوئے اب ایک اور کوشش کر کہ دیکھ لو، ہو سکتا ہے کامیاب ہو جاو۔ اگر تم مجھے یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ہو جاے تو اسلام اور زیادہ سر بلند رہے گا تو رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھاری تلوار سے کٹوانگا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمہیں یہ بتادینا چاھتا ہوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا ۔
تاریخ تمھارے سامنے ہے اپنا ماضی دیکھو، شاہ فرینک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن تمھارے دوست اسلیئے ہے کہ تم نے انہیںں مسلمانوں کے حلاف جنگ میں اترنے کی شہ اور مدد دی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو انکا اگلا شکار تم ہوتے اور اس کے بعد ان کا یہ حواب بھی پورا ہوجاتا کہ اسلام صفحہ ھستی سے مٹ جائے۔ جنگجو قوم کے فرد ہوں۔ فن سپاہ گری تمھارا قومی پیشہ ہے ہر مسلمان اللہ کا سپاہی ہے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے۔ تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہوں میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہوجاو، اگر یہ نہیں کرسکو تو میری مخالفت سے باز آجاو، میں تمہیں کوئی سزا نہیں دونگا۔۔۔۔اللہ تمھارے گناہ معاف کر دے۔
ایک یورپی مورح لین پول لکھتا ہے ” صلاح الدین کے ہاتہوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوئی حساب نہیں تھا، جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے، سلطان نے تما تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ جنگیں قیدیوں میں تقسیم کر کہ انکو رھا کردیا، دوسرا حصہ اپنے سپاہیوں اور غرباء میں تقسیم کیا، اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام المک کو دے دیا، اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تہی۔ نہ خودکچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگی قیدی جن میں بھت سے مسلمان تھے اور باقی غیر مسلم ، رھا ہوکر سلطان کے کیمپ میں جمع ہوگیے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کہ اپنی حدمات فوج کے لیے پیش کردی ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ہوگئ
اس سے پہلے حسب بن صباح کے پراسرار فرقے فدائ جنہیںں یورپین مورخین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ہے صلاح الدین ایوبی پر دو بارہ قاتلانہ حملے کرچکے تھے لیکن اللہ نے اس اعظیم مرد مجاھد سے بھت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ہوا جس میں یہ مرد مجاھد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتلانہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے مسلمان بھائیئوں اور صلیبوں کی سازش کی چٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کرچکا تھا۔ امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے حلاف بغض اور کینہ سے باز نہیں آیا۔ اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے کی مدد حاصل کی۔
حسن بن صباح کا فرقہ اسلام کی آستین میں سانپ کی طرح پل رھا تھا۔ اس کا تفصیلی تعارف بھت ہی طویل ہے،۔
مختصر یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ہوکر گناہوں کا گہوارہ بن گی ہے، اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شحص نے اسلام سے الگ ہوکر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان ہی کہلاتا رھا اور ایسا گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کا اپنا پیروکار بناتا ، اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حیسن لڑکیاں نشہ آور جڑی بوٹیاں ہیپناٹزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اپنائے، بہشت بنائ جس میں جاکر پتہر بھی موم ہو جاتے تھے اپنے مخالفینکو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا، قتل کے طریقے حفیہ اور پر اسرار ہوتے تھے، اس فرقے کے افراد اس قدر چلاک زہین اور نڈر تھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جبکوئی پراسرار طریقے سے قتل ہوجاتا تو قاتلوں کو سراغ ہی نہیں مل پاتا، کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ “قاتلوں کا گروہ” کے نام سے مشہ نائی جس میں جاکر پتھر بھی موم ہو جاتے تھے اپنے مخالفینکو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا، ۔
قتل کے طریقے حفیہ اور پر اسرار ہوتے تھے، اس فرقے کے افراد اس قدر چلاک زہین اور نڈر تھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جبکوئی پراسرار طریقے سے قتل ہوجاتا تو قاتلوں کو سراغ ہی نہیں مل پاتا، کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ “قاتلوں کا گروہ” کے نام سے مشہور ہوا ۔ یہ لوگ سیاسی قتل کے ماہر تھے زہر بھی استعمال کیا کرتے تھے، جو حسین لڑکیوں کے ہاتہوں شراب میں دیا جاتا تھا بھت مدت تک یہ فرقے اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتا رھا۔۔ اسکے پیروکار “فدائی” کہلاتے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جاسکتا تھا اور نہ ہی شراب سے۔ وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا ، سلطان کو اس طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا تھا۔
اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیا جاے ، اسکے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا، دو حملے ناکام ہو چکے تھے۔ اب جبکہ سلطان کو یہ توقع تہی کہ اسکا چچازاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر توبہ کر چکے ہونگے انہوں نے اتقام کی ایک اور زیر زمین کوشش کی۔ صلاح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجاے حملے جاری رکہے اور تین قصبوں کو قبضے میں لیا، ان میں غازہ کا مشہور قصبہ تھا، اسی قصبے کے گردونواح میں ایک روز سلطان صلاح الدین ایوبی ، امیر جاوالاسدی کے خیمے میں
دوپہر کے وقت غنودگی کے عالم میں سستا رہے تھے، سلطان نے وہ پگڑی نہیں اتاری تہی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو صحرا کی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی۔
خیمے کے باہر اسکے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا، باڈی گارڈز کے اس دستے کا کمانڈر زرا سی دیر کے لیے وھاں سے چلا گیا، ایک محافظ نے سلطان کے خیمے میں گرے ہوئے پردوں میں سے جھانکا، اسلام کے عظمت کے پاسبان کی آنکہیں بند تہی اور پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا، اس محافظ نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا، ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اسکی طرف دیکھا، محافظوں نے اپنی آنکہیں بند کر کہ کہولی) ایک خاصاشارہ کیا۔ تین چار محافظ اٹھے اور دو تین باقی باڈی گارڈز کو باتوں میں لگالیا، محافظ خیمے میں چلا گیا۔۔۔ اور خنجر کمر بند سے نکالا۔۔۔دبے پاؤں چلا اور پہر چیتے کی طرح سوے ہوئے سلطان صلاح الدین ایوبی پر جست لگائی۔
خنجر والا ھاتھ اوپر اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدلی، یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملہ آور خنجر کہاں مارنا چاھتا تھا، دل میں یا سینے میں۔۔۔ مگر ہوا یوں کہ خنجر سلطان کی پگڑی کے بالائی حصے میں اتر گیا، اور سر بال برابر جتنا دور رھا اور پگڑی سر سے اتر گئی، سلطان صلاح الدین بجلی کی تیزی سے اٹھا، اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سب کیا ہے ۔اس پر اس سے پہلے دو ایسے حملے ہو چکے تھے۔ اس نے اس پر بھی اظہار نہیں کیا کہ حملہ آور خوداسکی باڈی گارڈ کی وردیوں میں تھے، جسے اس نے خوداپنے باڈی گارڈز کے لیے منتحب کیا تھا، اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضایع نہ کیا ۔ حملہ آور اپنا خنجر پگڑی سے کہینچ رھا تھا۔ ایوبی کا سر ننگا تھا۔۔ اس نے پھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی توڑی پر دیں مارا۔
ھڈی ٹوٹنے کی آواز آی۔ حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا، وہ پیچہے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے ہیبتناک آواز نکلی۔اسکا خنجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا، ایوبی نے اپنا خنجر نکال لیا تھا، اتنے میں دو محافظ اندر آے ، ان کے ہاتہوں میں تلواریں تہی، سلطان صلاح الدین نے انہیںں کہا کہ ان کو زندہ پکڑو۔ لیکن یہ دونوں محافظ سلطان صلاح الدین پر ٹوٹ پڑے، سلطان صلاح الدین نے ایک خنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا۔یہ مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا۔ کیونکہ تمام باڈی گارڈز اندر داحل ہوئے تھے، سلطان صلاح الدین یہ دیکھ کر حیران تھا کہ اسکے باڈی گارڈز دو حصوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کو لہولہان کر رہے تھے، اسے چونکہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس میں اسکا دوست کون ہے اور دشمن سو وہ اس معرکہ میں شامل ہی نہیں ہوا،۔
کچھ دیر بعد باڈی گارڈز میں چند مارے گیے کچھ بھاگ گیے کچھ زحمی ہوئے، تو انکشاف ہوا کہ یہ جو دستہ سلطان صلاح الدین کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات فدائی ) انکا زکر پہلے حصے میں کیا جا چکا ہے کہ یہ کون تھے کسی کو سمجھ نہیں آی ہوں تو وہ پہلا حصہ پڑھ لیں شکریہ۔۔ بلیٹ( تھے جو سلطان صلاح الدین کو قتل کرنا چاھتے تھے، انہوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدائ کو اندر خیمے میں بهیجا تھا، اندر صورت حال بدل گی تو دوسرے بھی اندر چلے گیے، اصل محافظ بھی اندر چلے گیے وہ صورت حال سمجھ گیے ، سو سلطان صلاح الدین بچ گیا۔ سلطان صلاح الدین نے اپنے پہلے حملہ آور ہونے والے کی شہ رگ پر تلوار رکھ کر پوچھا ، کہ وہ کون ہے اور اسکو کس نے بهیجا ہے۔ سچ کہنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بحشی کا وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ” فدائی ” ہے اور اسکو کیمیشتکن ) جسے بعض مورخین نے گمشتگن بھی لکھا ہے( بهیجا ہے کیمیشتکن الصالح کے قلعے کا ایک گورنر تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اصل وقعات کی طرف آنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ ان واقعات سے پہلے کے دور کودیکھا جاے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام عظمت اسلام کی عظمت اور اسکے کارناموں سے مسلم اور نان مسلم کون واقف نہیں ؟ ملت اسلامیہ تو سلطان صلاح الدین ایوبی کو بهول ہی نہیں سکتی۔ مسیحی دنیا بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کو رھتی دنیا تک یاد رکہے گی۔ کیونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں اور صلیبوں کے دور حکومت میں ایک مسلمان شیر تھا۔جس نے ھزاروں زحم دیے مسیحی برادری کو۔ سو لہذا یہ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شجرہ نسب کو تفصیل سے بیان کیا جائے۔
آپ کے من پسند پیج راه راست پر ھم آپکو ایسے واقعات سنانے جا رہے ہیں جس کی وسعت کے لیے تاریخ کا دامن بھت ہی چہوٹا پڑ جاتا ہے، یہ تفصیلات وقائع نگاروں اور قلم کاروں کی ریکارڈ کی ہوی ہے، کچھ سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک پہنچی، تاریخ نے صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے کارنامے محفوظ کیے ہے کیونکہ تاریخ بھت کم پڑ جاتی ہے سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے آگے،ان سازشوں کا زکر تاریخ نے بھت کم کیا ہے، جو اپنوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلاف کیے اور اسکے شہرت تاریخی عظمت کو داغدار بنانے کے لیے ایسی ایسی لڑکیاں بار بار استعمال کی ، جن کا حسن طلسماتی تھا۔
تاریخ اسلام کا یہ حقیقی ڈارمہ ٢٣ مارچ ١١٦٩ کے روز سے شروع ہوتا ہے جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو مصر کا واسراۓ اور فوج کا کمانڈر انچید بنایا گیا۔ اسے اتنا بڑا ربتہ ایک تو اسلیے دیا گیا کہ وہ حکمرانوں کے گہروں کا نونہال تھا اور دوسرا اسلیئے کہ اوائل عمری میں ہی وہ فن حرب و ضرب کا ماہر ہوگیا تھا۔ سپاہ گری ورثے میں پای تہی، سلطان صلاح الدین ایوبی کے معنوں میں حکمرانی بادشاہی نہیں قوم کی عظمت اور فلاح و بہبود تھا، اسکا جب شعور بیدار ہوا تو پہلی حلش یہی محسوس کی وہ یہ تہی کہ مسلمان حکمرانوں میں نہ صرف یہ کہ اتحاد نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی گریز کرتے تھے، وہ عیاش ہو گیے تھے، شراب اور عورت نے جہاں انہیںں انکی زندگی رنگین بنا رہی تہی وھاں عالم اسلام اور اس عظیم مذھب کا مستقبل تاریک ہوگیا تھا،
ان امیروں حکمرانوں اور ریئسوں کے حرم غیر مسلم لڑکیوں سے بہرے رھتے تھے، زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائ تہی جن کو خاصتربیت دیں کر ان حرموں میں داحل کیا گیا تھا، غیر معمولی حسن اور ادکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراہوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تہی، اسکا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک) فرنگی( خاصطور پر قابل زکر ہے مسلمانوں کی سلطنتوں کو ٹکڑے کرتے ھڑپ کرتے جارہے تھے، اور بعض مسلمان تو شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس اور جزیہ بھی دیتے تھے جس کی مثال غنڈہ ٹیکس کی سی تہی، صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب اور چہوٹے چہوٹے حملوں سے مسلمان حکمرانوں کو ڈراتے رہتے کچھ علاقوں پر قبضہ کرتے ٹیکس اور تاوان وصول کرتے۔
۔ان کا مقصد یہ تھا کہ آھستہ آھستہ دنیاۓ اسلام کو ھڑپ لیا جاے۔ مسلمان رعایا کا حون چوس کر ٹیکس دیتے رھتے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ بس انکی عیش و عشرت میں حلل نہیں آجانا چاہیے۔ فرقہ پرستی کے بیچ بو دیئے گیئے تھے، ان میں سب سے زیادہ خطرناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا، جو صلاح الدین کی جوانی سے ایک صدی پہلے وجود میں آیا تھا، یہ مفادپرستوں کا ٹولہ تھا ، بے حد خطرناک اور پراسرار۔یہ لوگ اپنے آپکو ” فدائ” کہلاتے تھے ) یاد رہیں کہ پاکستانی طالبان بھی خودکو فدائی کہلاتے ہے۔۔۔( جو بعد میں حشیشن کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ وہ حیشیش نامی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال پھنساتے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی، یاد رہیے کہ نظام الملک دنیاے اسلام کے ایک وزیر تھے یہ مدرسہ انہوں نے تعمیر کیا، جس میں اسلامی تعلیم دی جاتی تہی، اور بچوں کو اسلامی تاریخ اور نظریات سے بہره ور کیا جاتا ۔
ایک مورح ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ہوئے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ہوئے تھے رومیوں نے ٩١ہ١ میں انہیںں فدائیوں کے ہاتہوں قتل کردیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا،اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے وہی تعلیم حاصل کی ۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے حاندان کے بڑوں سے لی۔ نورالدین زنگی نے اسکو جنگی چالیں سکھای، ملک کے انتظامات کے سبق سکھاے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی، اس تعلیم و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں ہی اس نے وہ مہارت ذھانت اور اھلیت حاصل کی تہی جو ایک سالار اعظیم کے لیے اھم ہوتے ہے۔
سلطان صلاح الدین نے فن حرب و ضرب میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشنز کو حصوصی اھمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رہے تھے۔ سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نہیں ہوتی تہی۔ ان واقعات میں آپ چل کر دکھینگے کہ سلطان صلاح الدین کی تلوار کا وار تو گہرا ہوتا ہی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا، اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ہوتی تہی جو سلطان صلاح الدین نے جوانی میں ہی خودکے اندر پیدا کر دی تہی۔سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وایسراۓ بناکر بهیجا گیا تو وھاں پر سینئر عہدئداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس عہدے کی آس لگاے بیٹھے تھے۔ــــــــ
جاری ہے
پانچویں قسط
چوتھی قسط
تیسری قسط
دوسری قسط

داستان ایمان فروشوں کی – پہلی قسط” ایک تبصرہ

  1. Pingback: داستان ایمان فروشوں کی – قسط نمبر 6

اپنا تبصرہ بھیجیں