ایک احسان کا تذکر٥




 
ایک احسان کا تذکرہ”
تحریر : فیض اللہ خان
” لاھور کی پھول بلڈنگ بنانے والے کے وھم گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس عمارت سے و٥ خوشبو نکلے گی جو ایک دنیا کو معطر کردے گی! پھول بلڈنگ اور اسمیں جمع پچیس طلباء ایک عزم و ارادے کیساتھ جمع ھوئے کہ نئی مملکت اسکے تعلیمی اداروں اور وھاں کے طلبہ کو منور کرنا ھے ایمان و یقین کی دولت سے! ان نوجوانوں کو بتانا ھیکہ” حاکمیت” کا مسلہ اور انگریزی نظام کا خاتمہ ھی اس ریاست کی بقاء کی وجہ بنے گا ،طلباء نے اللہ کے بھروسے پر ایک سفر کا آغاز کیا جس کے راستےمیں “سرخ سویرا” سب سے بڑی روکاوٹ تھا تب تعلیمی اداروں میں نماز ٹوپی داڑھی اور قمیض شلوار کا گزر تک نہ ھوتا تھا،لیکن یقین محکم کیساتھ جمے طلباء ناقابل یقین کو “یقین” میں بدلا! ایک نئی تاریخ رقم ھوئی اور رفتہ رفتہ ایسے باکردار جوانوں کی اجتماعیت قائم ھو ھی گئی جس نے “سرخ سویرے” کو تعلیمی اداروں سے کم از کم نکال باھر کیا!!
تعاقب کا یہ سلسلہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہ رھا ،طلباء نے کابل تا کشمیر ،کراچی تا وانا وفا کی نئی داستانیں رقم کیں! تعلیمی اداروں میں دروس کا سلسلہ شروع ھوا اور قابل طلبہ کی کھیپیں تیار ھونا شروع ھوئیں! میں آج جو کچھ ھوں اسمیں اسلامی جمعیت طلباء کا کردار اس حد تک ھیکہ بولنے لکھنے اور جوتے پہننے تک سب کچھ جمعیت نے سکھایا!
جمعیت ھماری تربیت اور دین معرفت کا زریعہ بنی! جمعیت نہ ھوتی تو ھم بھی نجانے کن نظریات کے دلداہ ھوتے، پھول بلڈنگ کے نامعلوم جوانوں سینتالیس میں تمہارےھاتھوں لگنے والا پودا درخت بن کر طاغوت کی آنکھ میں کھٹکتا ھے ،میرے محسنوں تمہارا شکریہ،کہ اس اجر کا بدلہ تو صرف رب کے ھی ذمہ ھے!!!
 

“جمعیت کا یوم پیدائش، ملکہ ترنم کا یوم وفات ”
قدرت کا بھی عجیب کمال ھیکہ تیئس دسمبر کو دو “زبردست” تاریخیں یکجا کر دیں ، جمعیت کا یوم تاسیس اور ملکہ ترنم نور  المعروف نور جہاں کا یوم وفات، مجھے ذاتی طور پہ اس “عظیم ” میراثن کے مرنے کی تاریخ معلوم نہیں تھی، لیکن میڈیا نے آگا٥ کیا
،جمعیت کی پیدائش کا دن میڈیا نے نہیں بتایا لیکن معلوم تھا ، ملکہ ترنم اور جمعیت ،دونوں کے “مخاطب”نوجوان تھے۔ دونوں نے ھی لاتعداد نوجوانوں کو “متاثر” کیا ،متاثرین کے “نظریات ” الگ الگ تھے، ایک کی محفل میں شراب کا ذکر تھا ،کباب کا شہوت کا، حرص کا ھوس کا ابدان کے کاروبار کا، دوسرے کی محفل میں تذکر٥ تھا قرآن کا حدیث کا ، اسلامی افکار کا امت کے فلسفے کا، ایک کو ریاست نے سرپرستی بخشی تو بتایا گیا کہ ،پیسنٹھ کا معرکہ بھی “اللہ وسائی” نے جتوایا،دوسرا گرو٥ معتوب قرار پایا تو اطلاع دی گئی کہ یہ تعلیمی اداروں کی بربادی کے ذمہ دار ھیں ،دھشت گردوں کے حامی ھیں ریاست کے غدار ھیں ،یہ معاملہ “ملکہ ترنم ” پر ھی موقوف نہیں ھوا ،دراز سے دراز تر ھوا  اور آج ریاستی سطح پر ڈوم بھانڈ میراثی ھمارا اثاثہ قرار پائے۔
اسی اثاثے کی چند کڑیاں انیتا ایوب ،وینا ملک اور عدنان سمیع کی صورت میں ابھی بھی موجود ھیں،معتوب ٹھہرائے گئے گرو٥ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان دیا، جاوید ھاشمی دیا ،منور حسن دیا اور احسن عزیز دیا، فیصلہ ھمارے ھاتھ میں ھیکہ کس گرو٥ کی وابستگی ھمیں عزیز ھے!!!!

ایک احسان کا تذکر٥” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں