میں جمیعت کا رفیق تھا





مصنف : وسیم گل
میرے ایم ایس سی کے پرچے ہونے والے تھے اور میں پریشان تھا کہ کس طرح تیاری کروں؟ جمیعت کی سرگرمیاں جاری رکھوں تو پرچے گئے اور پڑھائی کروں تو جمیعت… عجیب الجھن تھی کہ دونوں میں سے کوئی بھی چیز کم اہم نہیں تھی… اسی پریشانی میں ایک سابق رکن جمیعت سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ: وسیم بھائی! کوشش کریں کہ دونوں کاموں کو مقدور بھر جاری رکھیں- بات ایسی دل کو لگی کہ پھر دوبارہ سوچا تک نہیں…
پرچے بہت اچھی طرح ہو گئے بلکہ جس پرچے کی سب سے زیادہ پریشانی تھی، اسی میں سب سے زیادہ نمبر لئے… الحمدللہ…

وہ دن اور آج کا دن… میں نے الله کے کام پر کسی اور کو… خود کو بھی کبھی ترجیح نہیں دی…
اور جو کچھ میرے الله نے مجھے عطا کیا اس کا تصور ہی کر کے میری گردن ہی نہیں دماغ، قلب اور روح تک جھک جاتی ہے…
الله کی اس عطا میں صرف سٹیٹس یا مال ہی نہیں… وہ کچھ بھی ہے جو ظاہر بین آنکھیں کبھی نہیں دیکھ سکتیں…

الله سب سے بڑا ہے اور سب تعریف اسی کے لئے ہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں