اسلامی جمعیت طلبہ۔ ایک لازوال تحریک




مصنف : سید فاروق لطیف
اسلامی جمعیت طلبہ سے میرا تعلق خاصی دیر سے قائم ہوا اور جلد ہی ذاتی وجوہات کی بنا پہ سرد خانے کا حصہ بن گیا لیکن یہ تھوڑا سا عرصہ زندگی میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ میری ذات میں جو بھی ہنر اور کمال ہے وہ سب میری جمعیت کا کمال ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا نوجوان عام طلبہ کی نسبت ہمیشہ بالغ نظر ہوتا ہے جب ایک جانب عام نوجوان فضول سر گرمیوں میں مبتلا ہوتا ہے تو جمعیت اپنے جلو میں چلنے والے نوجوانوں کو نہ صرف مثبت تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ اسکی سوچ کو بے بہا وسعت بخشتی ہے۔
جمعیت کا نوجوان تعلیم کے میدان میں بھی عام طلبہ سے پیچھے نہیں رہتا اور نفاذ دین کی جدوجہد میں بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ادا کرتا رہتا ہے۔ جمعیت کا نوجوان دنیا بھر کے اجمالی حالات سے آگاہی بھی رکھتا ہے اور دین کے مکمل تصور پہ کاربند بھی رہتا ہے۔ وہ اقبال نے کہا ہے نا! کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق ایک وقت وہ تھا کہ میں جمعیت سے دور بھاگتا تھا والد محترم کا اصرار کی جمعیت ایک نعمت ہے تمھیں اس سے مستفید ہونا ہے لیکن دل تھا کہ جمعیت کی طرف آتا ہی نہ تھا۔
جمعیت کے ساتھی دعوت دیتے تھے تو میں کنی کتراتا تھا ہر دفعہ ایک نیا بہانہ،ایک نیا عذر۔ لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا جو مجھے جمعیت کے جلو میں لے آیا۔ امتحانات سے چند دن قبل جمعیت کے ساتھیوں کے ہمراہ زنداں کے دس دن گو کہ طبیعت پہ بے حد گراں تھے محسوس ہوتا تھا کہ ان لوگوں کی وجہ سے کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ لیکن جب اللہ نے رہائی دی تو ذہن میں یہ خیال آیا کہ آخر وہ کیا وجہ ہے جمعیت والے اپنے مقصد کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
اسی تجسس میں سید ابوالااعلیٰ مودودی کا ایک کتابچہ ہاتھ لگا اور پھر کیا تھا کہ سید مودودی کے الفاظ نے مجھے فتح کر لیا مرشد مودودی کے قلم کی دھار نے میرے اندر کے سومنات کو پاش پاش کر دیا۔ میں نے جمعیت کے ایک ساتھی کو فون کیا اور کہا کہ مجھے جمعیت کو جاننا ہے مجھے جمعیت میں آنا ہے بس وہی دن تھا کہ اسلامی جمعیت طلب میری محبوبہ قرار پائی۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
 
میری جمعیت
تُو نے ہر دور میں ظلم وستم کاٹا ہے
ہر علم کے طالب کا غم بانٹا ہے
تُو نے ہر دور کے فرعون کا سر پاش کیا
ہر ظالم کی آنکھ کا ،تُو کانٹا ہے
کسی طوفان کی آمد کی علامت ہے
بپاظلم کے ایوانوں میں سناٹا ہے
ہر شجر تیرے گلشن کا قد آور ہی ہوا
تجھ پہ جو انگلی اٹھائے وہی ناٹا ہے
میرے رب کی کوئی خاص عنایت ہے
کہ ساقی تیرے ہر دشمن نے
خود اپنا زخم چاٹا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں