ایک انجان سی محبت جمعیت




تحریر  : عثمان گورایہ
میں بچپن سے ہی والد صاحب کے ساتھ جماعت کے پروگرامات مین جاتا تھا۔۔ میں نے چھوٹی سی عمر میں ہی پنجاب حکومت کے خلاف قاضی حسین احمد صاحب کے دھرنے کے اسٹیکرز بھی اپنی سکول وین میں لگاَئے۔ بزمِ پیغام سے بھی منسلک رہا۔۔ لیکن اپنے زمانہ کالج میں بد قسمتی سے جمعیت سے منسلک نہیں رہا۔۔وجہ یہ نہیں کہ میِں کسی اور راستے پر جل نکلا تھا۔بلکہ میرا دل اس وقت بھی جمعیت کے لیئے دھڑکتا تھا۔جب بھی کوئی بدکردار اور بد تہذیب جمعیت کے خلاف زہر اگلتا تھا تو نہ صرف میرا خون کھول اٹھتا تھا بلکہ اس کو دلاِئل کی صورت میں کرارا جواب بھی عنایت کرتا تھا۔
کالج سے فراغت کے بعد سرکار نے اپنا نوکر چن لیا۔۔۔ یہ ۲۰۱۱ کے شروع کی بات ہے کہ جب بہاولپور میں جمعیت کے اک ناظم صاحب نے رابطہ کیا کہ ایم ایس ایف اور اے ٹی آئی نے گھٹ جوڑ کر کہ جمعیت کے کارکنان کو دعوت دین کی اشاعت کے جرم میں روز اپنے تشدد کا نشانہ بنانا روز کا معمول بنا لیا ہے۔۔
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی قوت تھی کہ جس نے مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کیا۔۔ گو کہ میں سرکاری ملازم ہوں لیکن میں جمعیت کے کارکنان کے ساتھ ان سے اگلی صفوں میں کھڑا ہوا اور غنڈہ گرد نام نہاد طلبہ تنظیم سے نبرد آزما ہوا۔۔ مجھے اپنی نوکری کی کوئی فکر نہیں تھی جس کا خمیازہ مجھے نوکری سے برخاست ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ لیکن مجھے اس کا ذرہ برابر بھی ملال نہیں تھا۔۔کیونکہ میں حق کے راستے پر تھا اور اللہ کے دین کے لئیے کھڑا ہوا تھا۔ اللہ نے اس کا صلہ مجھے اسی نوکری کے بحال ہونے کی صورت میں دیا۔۔
آج بھی موجودہ حالات میں جب بھی اور کہیں بھی کوِئی بھی وقت کا فرعون جمعیت کے خلاف میدانِ عمل میں آتا ہے تو میرا دل آج بھی جمعیت کی صفوں میں اس فرعون کے مدمقابل کھڑے ہونے کو کرتا ہے۔۔
اور جمعیت سے اک انجان سی محبت ہے اور بے انتہا ہے نجانے کیوں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں