امید کی دیوی – اعظم طارق کوہستانی




’’ہیں‘‘…
’’یہ ہے اُمید کی ’دیوی‘ مم مطلب اُمید کی شہزادی‘‘۔
’’آہا اُردو میں وہ مزہ نہیں جو انگریزی میں اُسے بلانے پر ہے پرنسس آف ہوپس… کیوں کیسا ہے نام‘‘۔

ہمارے منمنانے پر سلمان نے ہمیں اس نام کی انگریزی افادیت بتائی۔ اس وقت ہم اس دیوی کے چرنوں میں موجود تھے اور سامنے سے یہ مجسمہ کم از کم کسی شہزادی کا نہیں لگ رہا تھا۔ عجیب واہیات قسم کا بے جان پتھر محسوس ہوا۔ ہاں سڑک سے دیکھتے ہیں تو یہ کسی خاتون کی شبیہ بناتا ہے، ایک ایسی تصویر جو جیتی جاگتی ہو، جو کچھ کہنا چاہ رہی ہو، لیکن جیسے اُسے متوجہ کرنا پڑے گا اور جب آپ اُسے متوجہ کرنے کے لیے بالکل سامنے کی طرف جاتے ہیں تو وہ احساس باقی نہیں رہتا۔اُمید کی اس شہزادی کا نام پرنسس آف ہوپس کس نے اور کیوں رکھا؟ یہ کالم پڑھ کر آپ اس سے واقف ہوجائیں گے۔ چوں کہ ایسی چیزوں کی طرف دھیان دینا، پتھروں میں آرٹ تلاش کرنا بحیثیت پاکستانی ہماری ذمے داری نہیں ہے۔ اس لیے یہ کام عموماً باہر سے آئے ہوئے لوگ کرتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ جناب آپ کا یہ پتھر تو ان کرامات کا حامل ہے یا یہ بہت پرانی تاریخی شے ہے تو ہم اُس پر اُسی وقت غور کرتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے ہاں ہر طرح کے ناقدین پائے جاتے ہیں لیکن شاید آرٹ کے ناقدین کو مذہب سے مین میکھ نکالنے سے فرصت نہیں وہ کیوں اس جانب توجہ دیں۔ توجہ دیں اُن کے دشمن۔

ویسے یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کسی شہ پارے کو پڑھیں تو اُس کا ایک سحر آپ اپنے اندر پاتے ہیں یا وہ سحر نہ بھی پائیں … دونوں صورتوں میں آپ کسی نقاد سے اُس شہ پارے سے متعلق رائے مانگیں تو اچھا نقاد اُس کی وہ خوبیاں اور خامیاں آپ کے سامنے رکھ دے گا، جسے آپ نے محسوس تو کیا ہوگا لیکن بتا نہیں پارہے ہوتے ہیں۔ نقاد کی بیان کردہ باتوں پر آپ غور کریں گے تو اُس شہ پارے کی تمام چھپے ہوئے اُن پہلوئوں کو بھی آپ جان اور مان جائیں گے جو اس سے قبل آپ اپنی کم فہمی کی بنیاد پر نظر انداز کر چکے تھے۔ یہی حال ہمارا ہے، دنیا آکر ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کی فلاں چیز تو ایک شاہکار ہے، تب ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے . 2002ء میں ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ ’انجلینا جولی‘ نے اقوام متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا۔ یہاں اُنہوں نے جب اس دیوی کے درشن کیے تو اس کا نام Princes of Hope رکھا۔تب جاکر ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم میں اتنی سکت بھی نہیں کہ اپنے اردگرد کی خوب صورتی کو پہچان سکیں۔

اس کے بعد سے پاکستانیوں نے بھی اس کو دیکھنے کے لیے بلوچستان کا رُخ کرنا شروع کردیا۔ بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی اور تاریخی لحاظ سے مالا مال ہے۔ کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، ہنگلاج ماتا اور پرنسس آف ہوپس، اُور ماڑہ اور گوادر سمیت متعدد سیاحتی مقامات ایسے ہیں جنہیں سجانے، سنوارنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان حکومت نے اپنی بیابان زمین کو ہنگول نیشنل پارک کا نام دے دیا ہے۔ اسے پارک کا نام کیوں دیا گیا ہے یہ شاید دینے والوں کو بھی نہیں معلوم …یہاں بے شمار جنگلی جانور پائے جاتے ہیں لیکن پارک کہاں ہے؟ یہ سوالیہ نشان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ اس پورے علاقے کا چکر لگا آئیے آپ کو جگہ جگہ اسی مجسمے سے ملتے جلتے گھر نظر آئیں گے۔ چوں کہ یہ جگہ سمندر اور سڑک کے قریب ہے، اس لیے باآسانی نظر آجاتی ہے اسی لیے یہی دریافت ہوا ہے یا اسے سمجھا گیا ہے۔ اگر ہم اس علاقے کو مزید اندر تک دیکھیں … جہاں سڑک نہ ہونے کی وجہ سے جانا مشکل ہے… تو ہمیں شاید ’پرنس آف ہوپ‘ بھی نظر آئے۔

اُمید کی اس شہزادی سے متعلق مقامی افراد کی رائے کافی جدا ہے۔ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے مقامی افراد ان مجسمے نما پہاڑیوں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہاں جن بھوتوں کا بسیرا ہے۔ جبکہ محققین کہتے ہیں کہ یہ تمام مجسمے صدیوں سے بحیرہ عرب سے چلنے والی تیز ہواؤں کے نتیجے میں بنے ہیں اور یہ تمام پتھروں اور مٹی کا آمیزہ ہیں جو تیز ہوا کے باعث کٹائی کا شکار ہو کر مجسمے جیسی صورت میں ڈھل گئے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قدرت کی صناعیوں پر کبھی غور نہیں کرتے۔ کسی چیز سے متعلق ذہن میں کوئی خیال آبھی جائے تو یہ سوچ کر اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں کہ کہیں ’بھد‘ نہ اُڑ جائے۔ بلوچستان اپنے رقبے کے لحاظ سے ہمیشہ ہمارے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ اس کے ہر خطے کو دیکھنے کی تمنا دل میں موجزن ہے۔ اب تک ہم نے جو دیکھا ہے وہ یقینا آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ لیکن…! یقین کیجیے کہ آپ پورے بلوچستان میں گھوم لیں آپ کو جگہ جگہ قدرت کے وہ عظیم شاہکار ملیں گے جن کو ہزاروں لوگ دیکھنے کے متمنی ہیں۔ ہمارے ملک کے بڑے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ شعبہ سیاحت کو ہم ترجیحات کی سب سے آخری فہرست میں رکھتے ہیں۔

ہمارے دانشور نئی دریافتوںکو رو رہے ہیں لیکن یہاں پر تو جو دریافت ہوچکا ہے اسی کو بھی تباہی سے دوچار کرنے کے لیے ہماری حکومت مسلسل کوشش کررہی ہے۔ بلوچستان کی سیاحت کی گدی جب نئی نئی عبدالخالق ہزارہ صاحب نے سنبھالی تھی تو اس وقت اُنہوں نے کہا تھا کہ حکومت پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر کنڈ ملیر اور اس کے گردونواح میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس سے یہ علاقہ سیاحوں کی جنت بن جائے گا، سیاحوں کو بہترین ماحول فراہم کرنے کے لیے حکومت یہاں سرکاری رزاٹس بنائے گی جو عالمی معیار کے ہوں گے، اُنہوں نے ساتھ ہی ساتھ سابقہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ جس نے ان خوبصورت سیاحتی مراکز کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ (۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء روزنامہ جسارت )اُن کے اس بیان کو دوسال کا عرصہ گزر چکا ہے، اُن کی اپنی توجہ کا حال یہ ہے کہ اس علاقے کو اب تک دھیلا فرق نہیں پڑا۔ اُن کے دعوئوں کی حقیقت جاننا ہو تو ایک چکر اس علاقے کا لگا آئیے۔ لگ پتا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے سندھ حکومت سے دوچار جزیرے سیاحت کے فروغ کے لیے لینے کی کوشش کی، منصوبہ بڑا اچھا بتایا مگر اندرونی کہانی بتاتی ہے کہ یہاں پر بھی پاکستان کے ایک معروف بلڈرنے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور یہاں بھی کچھ ’’غریب‘‘ لوگوں کو بسانے کا ارادہ ہے۔ اس ساری کہانی کو جب آپ پڑھ اور سمجھ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری حکومتیں سیاحت کو پیش نظر رکھ کر پس منظر میں کیا گل کھلارہی ہے۔ ان حکومتوں سے سیاحت کو فروغ کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے بیر کے درخت سے زیتون کے پھل کی توقع کرنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں