81

ایک آواز : اسریٰ غوری

الحمدللہ ولک الحمد ۔۔۔۔ شکر ہے اس رب اعلیٰ کا جس کے ہاتھ میں ساری خیر ہے
الحمدللہ پیمرا سے سرخرو واپسی ۔۔۔۔۔ یہ مقدمہ تھا چینل ٹی وی ون پر ساحر لودھی کے اک مارننگ شو کا جس میں کمسن بچیوں کو فحش لباس میں انڈین آئٹم سانگز پر ڈانس مقابے کروائے جارہے تھے اور اس شو کی سیریز اناونس ہوچکیں تھیں اور اسکی پہلی سیریز مکمل اور دوسری لانچ ہونے والی تھی مگر یہ شواسلامی اقدارکو توڑتا فحش اور نازیبا حرکات کی وجہ سے اس شو کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج بن کر کھڑی ہوئی

اور اس شو کو بین کرنے کرنے کے لئے ٹیوٹر پر #bansahir کے ہیش ٹیگ کیساتھ کمپین چلیں بڑی تعداد میں پیمرا کو شکایات موصول ہوئیں جنکی بناء پر پیمرا نے اسے بین کردیا اور جب چینل کی جانب سے اس شو کو پھر سے آن ائیر لانے کی اپیل کی گئی تو پیمرا نے شکایات کرنے والوں کو کال کرکے آج ہئیرنگ کے بلایا تھا کہ آپ ائیے اور اپنے دلائل سے ثابت کیجیے کہ آپ کا موقف درست ہے ۔
ہم آج اسی سلسلے میں پیمرا میں موجود ” پیمرا ججز کے پینل کے سامنے بیٹھے تھے” ہم نو خواتین تھیں جن کے پاس اپنی نسل کو اس گندگی سے بچانے کا جذبہ تھا ایمانی غیرت تھی جو گھروں سے اٹھ کر ٹی وی چینل کے مالکان ، وکلا اور جج کے پینل کے سامنے بیٹھے تھے اور دلائل پیش کررہے تھے جن کر سن کر ٹی وی چینل کے مالکان ان کے وکیل اور پیمرا کا پورا پینل انگشت بدنداں تھے کہ کا ہم اس قوم کی مائیں ہیں ہم نے کہا صرف ہم ہی نہیں اور بھی ہیں جن کی دن اور رات کی محنت نے ہمیں یہا ں کھڑا کیا ہم ان سب کے نماندے ہیں جو یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی پروگرام یا کوئی کام کسی مقصد کے بغیر نہیں کیا جاتا ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ میڈیا ایسے پروگرامات دکھا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ۔ میڈیا تو ذہن سازی کرتا ہے پھر ہماری نئی نسل کہ یہ کیسی ذہن سازی کی جارہی ہے ؟ چھوٹے اور معصوم ذہنوں پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہونگے ؟ بچوں کی معصومیت کیسے ختم کیا جارہا ہے ؟

ان آئیٹم سانگ کے ڈانسز پر کی جانے والی فحش حرکات و سکنات تو کھلی دعوت ہیں ہم اپپنے بچوں کو یہ دعوت گناہ دینا سکھا رہے ہیں ؟؟؟ جس مغرب کی تقلید میں آج آپ اندھے ہوریے وہ بھی اپنے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی لئے پیرنٹس گائیڈینس کو لازمی کرتے آپ کیا کررہے ہیں ؟؟ ہم بیٹوں کی مائیں جو ایسے پروگرامات کے بعد اپنے بچوں سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ نہیں رکھتیں ۔ جب میڈیا یہ سب دکھایا جائے گا تو پھر زینب جیسے واقعات کو کون روک سکے گا ؟؟
آپ میں سے کونسا ایسا باپ ہے جو اپنی بیٹوں کو ایسے ہی میڈیا پر لاکر ڈانس کروائے گا اور اسکی ویڈیوز کو یوں وائرل ہوتا دیکھے گا ؟؟؟
ہم نے کہا پیمرا سے ہم اپنا مقدمہ نہیں لڑنے آئے ہم تو پیمرا کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ہم تو آپ کا کام کررہے ہیں
ایسے ہی بہت سے دلائل تھے جو ہم سب نے وہاں پیش کئے ۔۔جہاں ہم مائیں وہاں موجود تھیں وہین کچھ ہمارے بھائی بھی اپنی اہم مصروفیات میں سے وقت نکال کر وہاں موجود تھے جن میں برادر حارث عالم راہ ٹی وی سے جنہوں نے مخالف وکیل کی بہت سی باتوں کو اسی وقت جھوٹا ثابت کیا اور ثبوت پیش کیے ۔۔
مخالف وکیل حق اور سچ کی طاقت کے آگے آئیں بائیں شائیں کرتا رہا دائیں اور بائیں گھمانے کی کوشش کرتا رہا مگر الحمدللہ اسکی ہرغلط تاویل کا جواب ہمارے پاس موجود تھا

مخالف وکیل کے دلائل : 1: پیمرا اسلام آباد سے آنے والی شکایات کو کراچی میں نہیں سن سکتا ۔
جس کے جواب میں ہماری بہن افسانہ نے فورا ہی کراچی سے کی جانے والی شکایات اور پیمرا سے آنے والے جوابات کی ہارڈ کاپی پینل کے ہاتھ میں تھمادی کہ جس پر پینل نے وکیل صاحب کے کہا یہ سب لوکل کراچی والے ہیں آپ آگے چلیں ۔ 2: آن لائن شکایات پر پیمرا کوئی کاروائی کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔۔۔۔ پیمرا کی جانب سے اسے بھی مسترد کردیا گیا ۔۔۔ کہ اگرآنلائن شکایات پر کاروائی نہیں کرنی تو وہ ہے کس لئے ۔۔3: پھر انکا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف ٹیوٹر پر اک فیک کمپین چلائی گئی اور یہ سب پروگرام کے آن ائیر آنے کے بہت بعد میں ہوا اور چونکہ یہ سب تو سوشل میڈیا پر دیکھ کرشکایات کی گئیں اس لئے یہ کیس تو سائبر کرایم کا بنتا ہے پیمرا کا بنتا ہی نہیں ۔۔۔۔ اسکا بھی جواب بہت اچھا دیا گیا کہ سوشل میڈیا پر توتب گیا جب میڈیا سے آن آئیرآیا تو پیمرا ہی اسکو دیکھے گا ۔اب جب وہ قانونی طور پر ہر طرح سے فیل ہوگئے تو انہوں نے اگلا حملہ اس جملے کیساتھ کیا کہ یہ sick minded approach ہے ۔ (یعنی روشن اور کھلے ذہن کے لوگ اپنی بچیوں کو سر عام نچواتے ہیں) اوریہ کہ مجھے تو یہ ڈانس دیکھ کربچیوں پر ممتا چھلکتی ہے

محبت اور پیار آتا یہ تو معصومیت ہے ۔۔۔۔جس پر انہیں خاصی سننی پڑی
انہوں نے کہا یہ پروگرام تو ٹاپ ریٹنگ پر تھا اور جو بھی ریٹنگ میں اچھا ہو اسکا ریونیو بھی بہت اچھا ہوتا ۔ ہم نے کہا صاحب آپ ہمیں چھوڑئیے آپ کو روشن خیال لبرلز کی ویڈیو سنواتے ہیں ہم نے حسن نثار صاحب کے حالیہ بیان کا تذکرہ کیا کہ وہ بھی اس کھلی فحاشی پر چیخ اٹھے ہیں ۔۔۔ پھر وہ اس پر آگئے کہ صرف ہم ہی تو نہیں دکھاتے یہ سب اور بھی چینلز دکھاتے ہیں بلکہ انہوں نے اک چینل کانام لیکر بھی کہا کہ وہاں یہ اور یہ چل رہا ۔۔۔اس سے پہلے ہی ہم کہہ چکے تھے کہ ہمیں صرف اک ساحر کے پروگرام کا ایشو نہیں ہم تو اوور آل پورے میڈیا کو پیمرا کے اپنے بنائے ہوئے ظابطہ اخلاق کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں . وہ اپنے ساتھ کچھ اور چینلز کے کچھ کلپس لائے تھے اور پیمرا سے بضد تھے کہ وہ ان کلپس کو یہاں دکھائیں پیمرا کی جانب سے اسکی اجازت نہ مل سکی بلکہ انہوں نے کہا کہ آپ کا شو دکھا سکتے ہیں ہم نے بھی کہا جی انکا شو یہاں دکھائیے جس پر وکیل اک دم بوکھلائے اور فرمایا کہ نہیں نہیں وہ یہاں نا دکھائیں ۔۔ ٹی وی ون کے مالک بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے کہا کہ ہم یہ سب نہیں دکھائیں گے مگر صرف ہم ہی کو پابند نا کیا جائے بلکہ تمام چینلز کو ہی اسکا پابند کیا جائے ۔ (ہماری تو ڈیمانڈ ہی یہی تھی )

اک لمبی ہئیرنگ کے بعد اوربالاخراس نے معزرت کی کہ اب آگے یہ شو آن ائر نہیں ہو گا ہم نے ڈانس شو بند کردیا اپنی آگے کی ساری سیریز کو کینسل کردیا اب ہم نے پورا فارمیٹ بدل دیا اب ہم ایسی کوئی چیز نہیں دکھائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکے اس بیان پر کہ یہ شاکایت تو دیر آئیں اور یہ تو فلاں فلاں شہر سے ہوئیں ہم نے جواب میں کہا کہ محترم بھائی آپ یہ بتائیے کہ ہمیں شکایت کرنی ہی کیوں پڑے پیمرا کا کیا کام ہے پھر ؟؟؟
اور پیمرا کی حدود کا پاس رکھنا آپ کا اپنا کام ہے ۔ جس پر وہ بولے جی ہم مان لیا اب ہم ایسا کچھ نہیں کرینگے ۔ اس تمام کاروائی کے بعد ججز نے کہا ہم نے دونوں فریقین کے دلائل سن لئے ہیں اب ہم آپس میں ڈسکس کر کے فیصلہ بتائیں گے ۔۔۔۔ باہر نکلے تو ایک نوجوان ہمارے پاس آکر بولا کہ میں اپنے اک دوست جو کہ امریکہ میں رہتا ہے اور اس نے وہاں سے اس شو کے خلاف کمپلین کی تھی اور اس نے اسلام آباد کا نمبر دیا تھا اسے پیمرا کی جب آج کی ہئیرنگ میں آںے کی کال آئی تو اس نے مجھے کہا کہ تم میری جگہ چلے جاواور میں آج اسکی جگہ آی ہوں وہ امریکہ جیسے کھلے معاشرے میں ہے مگر پاکستان کے لئے فکرمند ہے کہ ہم یہ اپنی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں ۔ اس نے بھی بہت اچھے لفظوں میں ہمارے اس اقدام کو سراہا ۔ پیمرا سماعت کے بعد ہائی کورٹ کے وکیل جاوید اقبال نے ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔۔۔۔

بہت مبارک ہو آپ سب کو ۔۔۔۔۔۔کہ آج مجھے آپ لوگوں کو سن کر آپ پر فخر ہورہا ہےآپ نے ہمارا کام کیا ہے اور آپ جیسی ماوں کے ہاتھ میں ہماری نسل ہوئی تو ہمارا مستقبل بہت شاندار ہے ان شاءاللہ اور یہ کہ میں یہ اقرار کرتا ہون کہ میں وکیل ہوں مگر پھر بھی آج جو کچھ آپ نے بتایا اور جو چیزیں آپ لوگ سامنے لائے وہ مجھے اور جیسے اور بہت سارے لوگوں کو بھی علم نہیں ۔۔اللہ آپ کا حامی ہو آپکا یہ مشن رکنا نہیں چاہیے یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ۔۔۔ یہ تنہا ہمارا کام نہیں تھا یہ آپ سب کا جذبہ ، اخلاص ، باہمی اتفاق اور اپنی اقدار پر شب خون مارنے والوں کے خلاف اتحاد تھا جس نے آج ہماری آواز کو وہاں تک پہنچا دیا تھا کہ کروڑوں کے مالک ہونے کے باوجود آج وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور تھے ۔۔۔ یاد رکھیے ! جب جب آپ ایسے ہر اقدام کے خلاف ملکر ایک آواز بنیں گے ہماری آواز کی طاقت یقینا حق اور سچ بن کر اپنا آپ منوائے گی ۔ ہم پیمرا کے پورے پینل بھی شکر گزار ہیں جس نے ہمارا پورا موقف بہت ہی سکون سے سنا اور ہمیں اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیا اور ہمارے اس موقف کی تائید کی کہ انٹر ٹینمنٹ ضرور ہو مگر پیمرا کے بنائے اصولوں کی حدود میں رہتے ہوئے. وکیل صاحب کے اس بیان پر کہ یہ ڈانس تو ایک اچھی چیز ہے اس پر Chairperson حوری نوارانی نے انہیں ٹوکا اور کہا یہ ڈانس نہیں ہے یہ تو کچھ اور ہی ہے اسے رکنا چاہیے آپ بچوں کو اچھی چیز سکھائیے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ایک آواز : اسریٰ غوری” ایک تبصرہ

  1. میں نے یہ پورا مضمون فیس بک پر پڑا۔ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اور خاص کر اسرایٰ غوری کو جس کا قلم اور عمل ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ خواتین اسلام کی یا د تازہ کر رہی ہے۔ الہہ آپ کی حفاظت فرمائے آمین

Leave a Reply