113

اچار اور رشتے ” سبق ” : اسری غوری

کچے آموں (کیریوں ) کا اچار ابھی کل ہی ختم ہوا تو آج صبح اور لادی گئیں کہ اور بنایا جائے یہ کچھ بڑی تھی پچھلی کیریوں سے سوچا ان کا ذائقہ اور بھی اچھا ہوگا سو جلدی جلدی ہری مرچوں کے ساتھ اچار بنانے کے لئے چولھے پر رکھا خیال یہ تھا کہ سخت کہ اس بار کیریاں چونکہ بڑی اور سخت ہیں کچھ دیر تو لگے گی سو ہلکی آنچ پر رکھ کر کچن سے نکل گئے کچھ دیر بعد واپس آکر جب ڈھکن ہٹایا تو سامنے سخت کیریوں کی اب صرف کھال منہ چڑا رہی تھی اور باقی سب کچھ ہری مرچوں کے ساتھ گھل مل چکا تھا ۔۔۔

اب کیا کریں ۔۔ پریشان دل کیساتھ سوچتے اور ڈرتے ڈرتے زرا سا چکھا تو اچار تو بہت مزے دار پچھلی بار سے زیادہ اچھا لگا ۔۔ کچھ تسلی ہوئی ۔ مگر اب شکل کا اب کیا کریں کہ پہلی نگاہ تو صورت پر ہی پڑتی سیرت تو بعد میں آتی اور نگاہ پڑتے ہی جو کچھ سننے کو ملنا وہ سیرت کے بعد واپس نہیں لیا جاسکتا ۔۔۔
خیر صاحب مرچوں کو اوپر کیا اور جو کچھ کیریاں سلامت تھیں ان کو کچھ ایسے رکھا کہ صورت ہری مرچوں کی دکھائی دے اور سیرت کیریوں کی ۔۔۔
یہ ساری کاروائی ( ہوشیاری ) کرکے کچھ جان میں جان آئی ۔۔ اور ساتھ ہی کچھ سبق بھی حاصل ہوئے ۔۔۔
کچھ رشتے اور تعلقات بھی ہم ایسے ہی ہلکی آنچ پر پکانے کے لیے رکھ دیتے کہ تھوڑا وقت لگے گا تو ٹھیک ہوجائے گا مگر یاد رکھیے کہ کبھی بھی ظاہری حالت دیکھ کر کسی کی اندرونی حالت کا اندازہ ہر گز نا لگائیں ۔ ہر چیز کو دھیمی آنچ پر نہیں پکانا چاہیے کچھ چیزیں ( معاملات ) تیز آنچ پر جلدی جلدی پکا کر ہٹا لینی چاہیے ۔
ہوسکتا ہے باہر سخت نظر آنے والے اندر سے بہت جلد پگھل جانے والے ہوں اور آپ انکو دھیمی آنچ پر پکانے کے چکر میں ان میں صرف چھلکا چھوڑیں ۔۔
اب اگر ان کو اتنا پکا ہی دیا ہے تو انکو سنبھالنا بھی آپکا ہی کام ہے ۔۔۔
اب یہ سوچ کر کے یہ تو ( بظاہر) خراب ہوگئے پھینکا تو نہیں جاسکتا نا اب ان کو زرا سی کوشش صبر اور سمجھداری سے ٹھیک کیجیے ۔۔
رشتے تعلقات بھی اچار کی طرح ہوتے کبھی اگر زیادہ گل بھی جائیں تو بھی ضایع نہیں کیے جاسکتے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اچار اور رشتے ” سبق ” : اسری غوری” ایک تبصرہ

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.