139

چھلی والے تیرے ایمان کو سلام : اسریٰ غوری

یہ سڑک کے کنارے کھڑا سترہ اٹھارہ برس کا چھلی والا تھا ہم نے بھی چھلی لینے کے ارادے سے گاڑی روکی اک چھلی بنانے کا کہہ شیشہ اوپر کرنے ہی لگے تھے کہ اس کے ساتھ دو اسی عمر کے لڑکے ( ایک پینٹ بابو تھا اور دوسرا اس جیسا ہی مگر اس سے زرا بڑا اور شاید ہندو جو اسکی باتوں سے لگا ) اور اسکے درمیان ہونے والی گفتگو جو کان میں پڑی تو ہاتھ وہیں رک گئےگفتگو کیا تھی ایمان کے لیول تھے جو جس میں جتنے اندر تھے اتنے ہی باہر چھلک رہے تھے ۔۔۔۔۔۔آپ بھی سنئیے ۔۔

چھلی والا : یار اک آدمی آیا تھا چھلی لینے وہ آدمی بھی عجیب تھا کہنے لگا کہ ہم تو سورج کو اللہ مانتے ہیں ابے میں نے کہا اچھا تو ایسا کر زرا دو منٹ سورج کو دیکھتا رہ پھر بتانا ۔۔ بولا کیا پاگل ہوگیا میں کب دیکھ سکتا ہوں اور اگر کوشش بھی کرونگا تو اندھا ہوجاونگا ۔۔ ابے میں نے بولا بھائی جو تجھے نقصان پہنچائے وہ تیرا خدا کیسے ہوسکتا ہے خدا کوئی کسی کو نقصان پہچاتا ہے کیا َ؟ ہندو بولا : بھگوان تو فائدہ ہی دیتا ہے چھلی والا : ابے بھائی اللہ تو ایک ہی ہے اور دین بھی بس ایک ہی اسلام ہے نا مگر اب ہر کسی نے بھگوان بنا لیا کسی سورج کو خدا اور رہی سہی کسر ان فلموں نے پوری کردی جس کو دیکھا وہی ناچ ناچ کر ان کو ہی اپنا بھگوان بنا رہا ہے ۔۔۔ کافی دیر سے خاموش پینٹ والا بابو (جو شاید کسی کالج یا یونیورسٹی میں تھا ) بولا : ہاں مگر اب تو یہ بھی ہے کہ اللہ کوئی نہیں دین مذہب کچھ بھی نہیں یہ سب انسانوں نے بنائے تو جس کا دل کیا اسلام بنا لیا جس کا دل کیا کچھ اور بنا لیا اور۔۔۔۔۔
چھلی والے کو تو جیسے کرنٹ سا لگا بات درمیان سے کاٹ کر جذباتی سا ہوکر بولا ۔۔۔۔ ابے کیا پاگل ہوگیا بھائی دین کیسے کچھ نہیں دین تو اللہ نے بنایا اسلام اللہ تو ایک ہی ہے ابے کیا ہوگیا اللہ کے بغیر یہ سب کیسے بن گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب بکواس کرتے ہیں بھائی

یہ کہتے کہتے وہ ہماری لئے تیار کی گئی گرم گرم چھلی کو اسی کے اتارے پرتوں میں لپیٹ کر میں دینے آگیا تھا اور ۔۔۔۔۔ نجانے کیوں ہماری آنکھیں نم ہونے لگیں
ہم اک ٹک اسی پھٹی قمیض میلے سے بالوں اور کالے ہاتھوں والے ان پڑھ مگر ” اہل علم ” چھلی والے کو دیکھتے رہے اور رشک کرتے رہے اور دل ہی دل میں کہتے رہے ۔۔۔تیرے پاس سوٹ ہے نا بوٹ ۔۔۔۔۔۔۔تیرے پاس ڈگری ہے نا دفتر ۔۔۔۔۔ تیرے پاس بنگلہ ہے نا گاڑی ۔۔۔ مگر تجھے مبارک ہو کہ ۔۔۔۔ تیرے پاس ایمان و ایقان کی کیا ہی دولت ہے ۔۔۔۔ راستے بھر نجانے کیوں نم آنکھوں سے بس یہی سوچتے رہے کہ ۔۔۔
یہ کیا ہورہا ہے ہماری نئی سوکالڈ پڑھی لکھی ویل ایجوکیٹد نسل سے اسکی سب سے بڑی دولت سب سے بڑا خزانہ (ایمان ) ہی چھینا جارہا ہے اسکی پناہ گاہ ہی چھینی جارہی ہے.. جی چاہا چیخ چیخ کر پوچھیں کہ ارے کیا ہمیں اس خزانے کے چھن جانے کا احساس بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔
رب کے ہونے کا احساس ۔۔۔ کیسی ٹھنڈی پھوار جھلستی دھوپ میں کیسی طمانیت تھی اس چھلی والے کے چہرے پر جو دہکتے کوئلوں کی انگیٹھی کے سامنے بھری دوپہر میں کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ اپنے میلے سے کپڑوں میں اپنے رب کے ہونے کے دلائل دیتا ہوا مجھے وہ ساری دنیا کے عالم فاضلوں سے بڑھ کر عالم لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور یقینا اپنے رب کی بارگاہ میں وہ رب اس کے میلے کچیلے سے وجود پر ہی کیسا ناز کررہا ہوگا مگر ۔۔۔۔ مگر دوسری جانب میری اس ماڈرن نسل سے رب کے “رب ” ہونے کا یقین اس کے رب کا تعارف ہی چھینا جارہا ہے ۔۔۔ کیسا نقصان جس کی کوئی تلافی بھی ممکن نہیں ۔۔۔ مگر دکھ تو اس سے بھی بڑھ کر یہ ہیکہ ۔۔۔۔۔اس نقصان کا کسی کو احساس ہی نہیں ۔۔۔۔۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ویل مینجڈ لوگ

میں ابھی ان کے ساتھ گھر میں داخل ہی ہوئی تھی، مین گیٹ سے لاؤنج تک برتے جانے والے سلیقے سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی، جیسے ہر چیز پکار پکار کر متوجہ کر رہی ہو کہ گھر کے مکین ” ویل مینیجڈ ” ہیں۔ وہ بھی میری سراہتی ہوئی نگاہوں سے بڑے خوش تھے۔ ابھی ہم لاؤنج میں بیٹھے ہی تھے کہ چھ سالہ بھتیجا بھاگتا ہوا آیا اور اک دم درمیان پڑے ریگ پر رک گیا، اس کی نگاہیں اک جگہ جم گئی تھیں، میں حیران سی اس کی نگاہوں کا تعاقب کرنے لگی تو دیکھا کہ باپ نے بیٹے کے جوتوں کی جانب گھور کر دیکھا تھا، بس اسی عمل نے بچے کے چہرے سے ہنسی کھلکھلاہٹ سب چھین لیا تھا۔ وہ اک لمحے کو رکا ، واپس مڑا اور باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد دوبارہ اندر آیا تو اب اپنے جوتوں اور موزوں کے بغیر تھا، اور ہاتھ منہ دھلا ہوا تھا ۔۔ اچانک احساس ہوا کہ یہاں صرف بے جان اشیا ہی نہیں بلکہ انسان بھی ” ویل مینیجڈ ” ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھئیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply