102

شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ اول ) سیدابو الاعلیٰ مودودی

(یہ تقریر ۳۰ دسمبر ۱۹۴۶ء کو جماعت اسلامی لاہور کمشنری کے اجتماع میں بمقام مراد پور متصل سیالکوٹ کی گئی)
ساری تعریف اس خدا کے لیے ہے جو کائنات کا تنہا خالق، مالک اور حاکم ہے۔ جو کمال درجہ کی حکمت، قدرت اور رحمت کے ساتھ اس میں فرماں روائی کر رہا ہے۔ جس نے انسان کو پیدا کیا، اس کو علم و عقل کی قوتیں بخشیں، اسے زمین میں اپنی خلافت سے سرفراز کیا اور اس کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں اور پیغمبر بھیجے۔ پھر خدا کی رحمتیں ہوں اس کے ان نیک اور برگزیدہ بندوں پر جو انسان کو انسانیت سکھانے آئے۔ جنہوں نے آدمی کو ان کے مقصدِ زندگی سے خبردار کیا۔ اور اسے دنیا میں جینے کا صحیح طریقہ بتایا۔ آج دنیا میں ہدایت کی روشنی، اخلاق کی پاکیزگی اور نیکی و پرہیز گاری جو کچھ بھی پائی جاتی ہے۔ وہ سب خدا کے انہی برگزیدہ بندوں کی رہنمائی کی بدولت ہے اور انسان کبھی ان کے بارِ احسان سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ عزیزو اور دوستو! ہم اپنے اجتماعات کو دو حصوں میں تقسیم کیا کرتے ہیں ایک حصہ اس غرض کے لیے ہوتا ہے کہ ہم خود آپس میں بیٹھ کر اپنے کام کا جائزہ لیں۔ اور اسے آگے بڑھانے کے لیے باہم مشورہ کریں۔ دوسرا حصہ اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ جس مقام پر ہمارا اجتماع ہو، وہاں کے عام باشندوں کے لیے ہم اپنی دعوت کو پیش کریں۔

اس وقت کا یہ اجتماع اسی دوسری غرض کے لیے ہے۔ ہم نے آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ آپ کو بتائیں کہ ہماری دعوت کیا ہے اور کس چیز کی طرف ہم بلاتے ہیں۔ ہماری دعوت کا خطاب ایک تو ان لوگوں سے ہے جو پہلے سے مسلمان ہیں۔ دوسرے ان عام بندگانِ خدا سے جو مسلمان نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے ہمارے پاس ایک پیغام ہے۔ مگر افسوس یہ کہ یہاں دوسرے گروہ کے لوگ مجھے نظر نہیں آتے۔ یہ ہماری پچھلی غلطیوں اور آج کی بے تدبیریوں کا نتیجہ ہے کہ خدا کے بندوں کا یک بہت بڑا حصہ ہم سے دُور ہو گیا ہے اور مشکل ہی سے کبھی ہم یہ موقع پاتے ہیں کہ ان کو اپنے پاس بلا کر یا خود ان کے قریب جا کر وہ پیغام ان کو سنائیں جو اُن کے اور ہمارے خدا نے ہم سب کی رہنمائی کے لیے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ بہرحال اب کہ وہ موجود نہیں ہیں، میں دعوت کے صرف اس حصہ کو پیش کروں گا جو مسلمانوں کے لیے خاص ہے۔ مسلمانوں کو ہم جس چیز کی طرف بلاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادا کریں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ آپ صرف اتنا کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم نے خدا کو اور اس کے دین کو مان لیا ہے۔ بلکہ جب آپ نے خدا کو اپنا خدا اور اس کے دین کو اپنا دین مانا ہے تو اس کے ساتھ آپ پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔

جن کا آپ کو شعور ہونا چاہیے۔ جن کے ادا کرنے کی آپ کو فکر ہونی چاہیے۔ اگر آپ انہیں ادا نہ کریں گے تو اس کے وبال سے دنیا میں چھوٹ سکیں گے نہ آخرت میں۔ وہ ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ وہ صرف یہی نہیں کہ آپ خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئیں وہ صرف اتنی بھی نہیں ہیں کہ آپ نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ معاملات میں اسلام کے مقر رکیے ہوئے ضابطے پر عمل کریں، بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بڑی اور بہت بھاری ذمہ داری آپ پر یہ عائد ہوتی ہے کہ آپ تمام دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں، جس پر ایمان لائے ہیں۔ ’’مسلمان‘‘ کے نام سے آپ کو ایک مستقل امت بنانے کی واحد غرض جو قرآن میں بیان کی گئی ہے، وہ یہی ہے کہ آپ تمام بندگانِ خد اپر شہادتِ حق کی حجت پوری کریں۔
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُٰوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا (البقرہ ۲: ۱۴۳) اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک بیچ کی امت بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔
یہ آپ کی امت کا عین مقصد وجود ہے جسے آپ نے پور انہ کیا تو گویا اپنی زندگی ہی اکارت گنوا دی ۔ یہ آپ پر خدا کا عائد کیا ہوا فرض ہے کیونکہ خدا کا حکم ہے کہ: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ للہ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ (المائدہ۵: ۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا کی خاطر اٹھنے والے اور ٹھیک ٹھیک راستی کی گواہی دینے والے بنو۔
اور یہ نرا حکم ہی نہیں بلکہ تاکیدی حکم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللہ۔ (البقرہ ۲: ۱۴۰) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس فرض کو انجام نہ دینے کا نتیجہ کیا ہے۔ آپ سے پہلے اس گواہی کے کٹہرے میں یہودی کھڑے کیے گئے تھے۔ مگر انہوں نے کچھ تو حق کو چھپایا اور کچھ حق کے خلاف گواہی دی اور فی الجملہ حق کے نہیں بلکہ باطل کے گواہ بن کر رہ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں دھتکار دیا اور ان پر وہ پھٹکار پڑی کہ: ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہ (البقرۃ ۲: ۶۱) ” ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔ ” یہ شہادت جس کی ذمہ داری آپ پر ڈالی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو حق آپ کے پاس آیا ہے، جو صداقت آپ پر منکشف کی گئی ہے، آپ دنیا کے سامنے اس کے حق اور صداقت ہونے پر اور اس کے راہ راست ہونے پر گواہی دیں۔ ایسی گواہی جو اس کے حق اور راستی ہونے کو مبرہن کر دے اور دنیا کے لوگوں پر دین کی حجت پوری کر دے۔ اسی شہادت کے لیے انبیاء علیہم السلام دنیا میں بھیجے گئے تھے اور اس کا ادا کرنا ان پر فرض تھا۔ پھر یہی شہادت تمام انبیاء کے بعد ان کی امتوں پر فرض ہوتی رہی۔ اور اب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ فرض امتِ مسلّمہ پر بحیثیت مجموعی اسی طرح عائد ہوتا ہے جس طرح حضورؐ پر آپ کی زندگی میں شخصی حیثیت سے عائد تھا۔ اس گواہی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ نوعِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بازپرس اور جزا و سزا کا جو قانون مقرر کیا ہے اس کی ساری بنیاد اس گواہی پر ہے۔

اللہ تعالیٰ حکیم و رحیم اور قائم بالقسط ہے۔ اس کی حکمت و رحمت اور اس کے انصاف سے یہ بعید ہے کہ لوگوں کو اس کی مرضی نہ معلوم ہو اور وہ انہیں اس بات پر پکڑے کہ وہ اس کی مرضی کے خلاف چلے۔ لوگ نہ جانتے ہوں کہ راہ راست کیا ہے اور وہ ان کی کج روی پر ان سے مواخذہ کرے۔ لوگ اس سے بے خبر ہوں کہ ان سے کس چیز کی بازپرس ہونی ہے اور وہ انجانی چیز کی ان سے بازپرس کرے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آفرینش کی ابتدا ہی ایک پیغمبر سے کی اور پھر وقتاً فوقتاً بے شمار پیغمبر بھیجے۔ تاکہ وہ نوعِ انسانی کو خبردار کریں کہ تمہارے معاملہ میں تمہارے خالق کی مرضی یہ ہے۔ تمہارے لیے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے، یہ رویہ ہے جس سے تم اپنے مالک کی رضا کو پہنچ سکتے ہو، یہ کام ہیں جن سے تم کو بچنا چاہیے اور یہ امور ہیں جن کی تم سے بازپرس کی جائے گی۔ یہ شہادت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں سے دلوائی، اس کی غرض قرآن مجید میں صاف صاف یہی بتائی گئی ہے کہ لوگوں کو اللہ پر یہ حجت قائم کرنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے۔ اور آپ ہمیں اس چیز پر پکڑتے ہیں، جس سے ہم کو خبردار نہ کیا گیا تھا۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ۔ وَکَانَ اللہ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (النساء ۴: ۱۶۴) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تاکہ ان کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔

اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حجت اپنے اوپر سے اتار کر پیغمبروں پر ڈال دی اور پیغمبر اس اہم ذمہ داری کے منصب پر کھڑے کر دیئے گئے کہ اگر وہ شہادتِ حق کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کر دیں تو لوگ اپنے اعمال پر خودبازپرس کے مستحق ہوں، اور اگر ان کی طرف سے ادائے شہادت میں کوتاہی ہو تو لوگوں کی گمراہی و کج روی کا مواخذہ پیغمبروں سے کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں پیغمبروں کے منصب کی نزاکت یہ تھی کہ یا تو وہ حق کی شہادت ٹھیک ٹھیک ادا کر کے لوگوں پر حجت قائم کریں ورنہ لوگوں کی حجت اُلٹی ان پر قائم ہوئی جاتی تھی کہ خدا نے حقیقت کا جو علم آپ حضرات کو دیا تھا وہ آپ نے ہمیں نہ پہنچایا۔ اور جو صحیح طریقِ زندگی اس نے آپ کو بتایا تھا وہ آپ نے ہمیں نہ بتایا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے اوپر اس ذمہ داری کے بار کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے تھے اور اسی بنا پر انہوں نے اپنی طرف سے حق کی شہادت ادا کرنے اور لوگوں پر حجت تمام کر دینے کی جان توڑ کوششیں کیں۔ پھر انبیاء کے ذریعہ سے جن لوگوں نے حق کا علم اور ہدایت کا راستہ پایا وہ ایک امّت بنائے گئے اور وہی منصبِ شہادت کی ذمہ داری، جس کا بار انبیاء پر ڈالا گیا تھا، اب اس امت کے حصہ میں آئی۔ انبیاء کی قائم مقام ہونے کی حیثیت سے اس کا یہ مقام قرار پایا کہ اگر یہ امت شہادت کا حق ادا کر دے اور لوگ درست نہ ہوں تو یہ اجر پائے گی اور لوگ پکڑے جائیں گے۔

اور یہ حق کی شہادت دینے میں کوتاہی کرے، یا حق کے بجائے الٹی باطل کی شہادت دینے لگے تو لوگوں سے پہلے یہ پکڑی جائے گی۔ اس سے خود اس کے اعمال کی بازپرس بھی ہو گی اور ان لوگوں کے اعمال کی بھی جو اس کے صحیح شہادت نہ دینے یا غلط شہادت دینے کی وجہ سے گمراہ اور مفسد اور غلط کار رہے۔ حضرات! یہ ہے شہادت حق کی وہ نازک ذمہ داری جو مجھ پر، آپ پر اور ان سب لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اپنے کو امتِ مسلمہ کہتے ہیں اور جن کے پاس خدا کی کتاب اور ان کے انبیاء کی ہدایت پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھیے کہ اس شہادت کے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ شہادتیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک قولی شہادت، دوسرے عملی شہادت۔ قولی شہادت کی صورت یہ ہے کہ ہم زبان اور قلم سے دنیا پر اس حق کو واضح کریں، جو انبیاء کے ذریعے سے ہمیں پہنچا ہے۔ سمجھانے اور دل نشین کرنے کے جتنے طریقے ممکن ہیں ان سب سے کام لے کر، تبلیغ و دعوت اور نشر و اشاعت کے جتنے ذرائع ممکن ہیں ان سب کو استعمال کر کے، علوم و فنون نے جس قدر مواد فراہم کیا ہے وہ سب اپنے ہاتھ میں لے کر ہم دنیا کو اس دین کی تعلیم سے روشناس کریں جو خدا نے انسان کے لیے مقرر کیا ہے۔ فکر و اعتقاد میں، اخلاق و سیرت میں، تمدن و معاشرت میں، کسب معاش اور لین دین میں، قانون اور نظم عدالت میں، سیاست اور تدبیر مملکت میں اور بین الانسانی معاملات کے تمام دوسرے پہلوؤں میں، اس دین نے انسان کی رہنمائی کے لیے جو کچھ پیش کیا ہے اسے ہم خوب کھول کھول کر بیان کریں۔

دلائل اور شواہد سے اس کا حق ہونا ثابت کریں اور جو کچھ اس کے خلاف ہے اس پر معقول تنقید کر کے بتائیں کہ اس میں کیا خرابی ہے۔ اس قولی شہادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک کہ امت مجموعی طور پر ہدایتِ خلق کے لیے اسی طرح فکر مند نہ ہو جس طرح انبیاء علیہم السلام انفرادی طور اس کے لیے فکرمند رہا کرتے تھے۔ یہ حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ کام ہماری تمام اجتماعی کوششوں اور قومی سعی و جہد کا مرکزی نقطہ ہو۔ ہم اپنے دل و دماغ کی ساری قوتیں، اور اپنے سارے وسائل و ذرائع اس پر لگا دیں۔ ہمارے تمام کاموں میں یہ مقصد لازماً ملحوظ رہے اور اپنے درمیان سے کسی ایسی آواز کے اٹھنے کو تو کسی حال میں ہم برداشت ہی نہ کریں جو حق کے خلاف شہادت دینے والی ہو۔ رہی عملی شہادت تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان اصولوں کا عملاً مظاہرہ کریں جن کو ہم حق کہتے ہیں۔ دنیا صرف ہماری زبان ہی سے ان کی صداقت کا ذکر نہ سنے بلکہ خود اپنی آنکھوں سے ہماری زندگی میں ان کی خوبیوں اور برکتوں کا مشاہدہ کر لے۔ وہ ہمارے برتاؤ میں اُس شیرینی کا ذائقہ چکھ لے جو ایمان کی حلاوت سے انسان کے اخلاق و معاملات میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود دیکھ لے کہ اس دین کی رہنمائی سے اچھے انسان بنتے ہیں۔ کیسی عادل سوسائٹی تیار ہوتی ہے۔

کیسی صالح معاشرت وجود میں آتی ہے۔ کس قدر ستھرا اورپاکیزہ تمدن پیدا ہوتا ہے کیسے صحیح خطوط پر علوم و آداب اور فنون کا نشوونما ہوتاہے۔ کیسا منصفانہ، ہمدردانہ اور بے نزاع معاشی تعاون رونما ہوتا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کا ہرپہلو کس طرح سدھرجاتا ہے، سنور جاتا ہے اور بھلائیوں سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ اس شہادت کا حق صرف اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہم فرداً فرداً بھی اور قومی حیثیت سے بھی اپنے دین کی حقانیت پر مجسم شہادت بن جائیں۔ ہمارے افراد کا کردار اس کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہمارے گھر اس کی خوشبو سے مہکیں۔ ہماری دوکانیں اور ہمارے کارخانے اس کی روشنی سے جگمگائیں۔ ہمارے ادارے اور ہمارے مدرسے اس کے نور سے منور ہوں۔ ہمارا لٹریچر اور ہماری صحافت اس کی خوبیوں کی سند پیش کرے۔ ہماری قومی پالیسی اور اجتماعی سعی و جہد اس کے برحق ہونے کی روشن دلیل ہو۔ غرض ہم سے جہاں اور جس حیثیت میں بھی کسی شخص یا قوم کو سابقہ پیش آئے، وہ ہمارے شخصی اور قومی کردار میں اس بات کا ثبوت پا لے کہ جن اصولوں کو ہم حق کہتے ہیں وہ واقعی حق ہیں اور ان سے فی الواقع انسانی زندگی اصلح اور اعلیٰ و ارفع ہو جاتی ہے۔

پھر یہ بھی عرض کروں کہ اس شہادت کی تکمیل اگر ہو سکتی ہے تو صرف اُس وقت جبکہ ایک اسٹیٹ انہی اصولوں پر قائم ہو جائے اور پُورے دین کو عمل میں لا کر اپنے عدل و انصاف سے، اپنے اصلاحی پروگرام سے، اپنے حسنِ انتظام سے، اپنے امن سے، اپنے باشندوں کی فلاح و بہبود سے، اپنے حکمرانوں کی نیک سیرت سے، اپنی صالح داخلی سیاست سے، اپنی راستبازانہ خارجی پالیسی سے، اپنی شریفانہ جنگ سے اور اپنی وفادارانہ صلح سے ساری دنیا کے سامنے اس بات کی شہادت دے کہ جس دین نے اس اسٹیٹ کو جنم دیا ہے۔ وہ درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن ہے اور اس کی پیروی میں نوعِ انسانی کی بھلائی ہے۔ یہ شہادت جب قولی شہادت کے ساتھ مل جائے تب وہ ذمہ داری پوری طرح ادا ہو جاتی ہے جو امتِ مسلمہ پر ڈالی گئی ہے۔ تب نوعِ انسانی پر بالکل اتمامِ حجت ہو جاتا ہے۔ تب ہی ہماری امت اس قابل ہو سکتی ہے کہ آخرت کی عدالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کھڑی ہو کرشہادت دے سکے کہ جو کچھ حضورؐ نے ہم کو پہنچایا تھا، وہ ہم نے لوگوں تک پہنچا دیا اور اس پر بھی جو لوگ راہ راست پر نہ آئے وہ اپنی کج روی کے خود ذمہ دار ہیں ۔

حضرات! یہ تو وہ شہادت ہے جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں قول و عمل میں دینی چاہیے تھی۔ مگر اب دیکھیے کہ آج ہم فی الواقع شہادت دے کیا رہے ہیں۔
پہلے قولی شہادت کا جائزہ لیجیے۔ ہمارے اندر ایک بہت ہی قلیل گروہ ایسا ہے جو کہیں انفرادی طور پر زبان و قلم سے اسلام کی شہادت دیتا ہے، اور اس میں بھی ایسے لوگ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس شہادت کو اس طرح ادا کر رہے ہیں، جیسا اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اس قلیل گروہ کو اگر آپ الگ کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی عام شہادت اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جا رہی ہے۔ ہمارے زمیندار شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کا قانون وراثت غلط ہے اور جاہلیت کے رواج صحیح ہیں۔ ہمارے وکیل اور جج اور مجسٹریٹ شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کے سارے ہی قوانین غلط ہیں۔ بلکہ اسلامی قانون کا بنیادی نظریہ ہی قابل قبول نہیں ہے۔ صحیح صرف وہ قوانین ہیں جو انسان نے وضع کیے ہیں اور انگریزوں کی معرفت ہمیں پہنچے ہیں۔ ہمارے معلم اور پروفیسر اور تعلیمی ادارے شہادت دے رہے ہیں کہ فلسفہ و حکمت ، تاریخ و اجتماعیات ، معاشیات و سیاسیات اور قانون و اخلاق کے متعلق وہی نظریات برحق ہیں جو مغرب کی ملحدانہ تعلیم سے ماخوذ ہیں۔ ان امور میں اسلام کا نقطۂ نظر قابلِ التفات تک نہیں ہے۔

ہمارے ادیب شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی ادب کا وہی پیغام ہے جو امریکہ، انگلستان، فرانس اور روس کے دہری ادیبوں کے پاس ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے ادب کی سرے سے کوئی مستقل روح ہی نہیں ہے۔ ہمارا پریس شہادت دے رہا ہے کہ ان کے پاس بھی وہی مباحث اور مسائل و پروپیگنڈا کے وہی انداز ہیں جو غیرمسلموں کے پاس ہیں۔ ہمارے تاجر اور اہل صنعت شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام نے لین دین پر جو حدود قائم کی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور کاروبار صرف انہی طریقوں پر ہو سکتا ہے جن پر کفار عامل ہیں۔ ہمارے لیڈر شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی قومیت اور وطنیت کے وہی نعرے ہیں، وہی قومی مقاصد ہیں، قومی مسائل کو حل کرنے کے وہی ڈھنگ ہیں، سیاست اور دستور کے وہی اصول ہیں جو کفار کے پاس ہیں۔ اسلام نے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کی ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہمارے عوام شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس زبان کا کوئی مصرف دنیا اور اُس کے معاملات کے سوا نہیں ہے اور وہ کوئی ایسا دین رکھتے ہی نہیں، جس کا وہ چرچا کریں یا جس کی باتوں میں وہ اپنا کچھ وقت صرف کریں۔ یہ ہے وہ قولی شہادت جو مجموعی طور پر ہماری پوری امّت اس ملک ہی میں نہیں، ساری دنیا میں دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply