85

محبتوں کے دیس کے باسی : اسریٰ غوری

جو لوگ محبتوں کے دیس کے باسی ہوں

کیوں وہی سہیں نفرتوں کے عذاب سارے

زخمی کرجاتے ہیں وہ بھی اکثر

سرد رویوں میں لپٹے گلاب سارے

ریزہ ریزہ جو بکھرے تھے ٹوٹ کر

بہت معصوم تھے مرے وہ خاب سارے

چن رہی تھی کرچیاں اپنے ہی وجود کی

زخم زخم تھی روح ، زخمی تھے ہاتھ سارے

جواب ان کے لاتے کہاں سے ؟؟؟

اٹھائے تھے اشکوں نے جو سوال سارے

خطا ہی تلاشتے رہے ہم عمر بھر ان کی

سرزد کبھی جو ہوئے نہ تھے قصور سارے

یہ قرعہ بھی  ہمیشہ ہمارے ہی نام نکلا اسریٰ

کسی کے حصے پارسائیاں تو کسی کے حصہ الزام سارے

14-03-2013

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

محبتوں کے دیس کے باسی : اسریٰ غوری” ایک تبصرہ

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.