112

وہ اپنے زمانے کا ارطغرل تھا ۔ محمد حسان

اوکتائی خان کے جنگلوں ، صلیبیوں کے قلعوں ، قونیا اور اناطولیہ کے شہروں سے سلطان کے محلات تک ۔۔۔ ہر جگہ اس کی جرات اور بہادری کے چرچے ہیں ۔ ۔ ۔

قبیلوں کے سردار اس کی ذہانت اور بہادری کے معترف ہیں مگر اپنی سرداری کھونا بھی نہیں چاہتے ۔ ایسے میں حالات کی ستم ظریفی نے اسے تاریخ کے ایسے موڑ پر لا کھڑا کر دیتی ہے کہ اپنے ہی قبیلے میں ایک قاتل اور مجرم کے طور پر اسے جرگے کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔

ہائے کیا جبر ہے زمانے کا ۔۔۔اپنی تلوار کی نوک سے تاریخ کا دھارا بدلنے والے جری سپہ سالار کو اپنے ہی قبیلے میں اپنے ہی لوگوں کے قاتل کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے ۔۔اور اس کے چاہنے والے ماننے والے بھی حتیِ کہ خونی رشتہ دار بھی حالات کے جبر کا شکار ہیں ۔ ۔ دشمن نے غداروں سے ساز باز کرکے سازشوں کا ایسا جال بنا ہے کہ سب دل سے مانتے ہیں کہ ہمارا بہادر قاتل نہیں مگر ثابت کوئی نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔ ارطغرل کی قسمت کا فیصلہ اب جرگے نے کرنا ہے ۔جہاں غدار بھی ہیں اور سازشوں کا شکار اس کے اپنے بھی ۔ ۔۔۔

ڈرامے کے اس موڑ پر نجانے کیوں میں رک ساگیا ۔۔ جمعے کے نماز میں مسجد کے صحن میں بیٹھے جرگے میں ارطغرل کی آمد پر قاتل قاتل کی آوازیں بار بار ذہن میں گونج رہی تھیں ۔۔ میں جانتا تھا کہ ڈرامے کے اگلی قسطوں میں ارطغرل اس مشکل صورتحال سے نکل جائے گا اور اس کے عروج کا دور شروع ہوگا ۔ مگر میں رک گیا اور سوچنے لگا کہ عروج سے قبل کیسے کیسے نازک لمحات ، صبر آزما تلخ گہرے گھاؤ آئے ہوتے ہیں جو ایسے کرداروں نے سہے ہوتے ہیں ۔

دفعتاً مجھے جلال آباد کے پہاڑوں کو مسکن بنانے والے شہسوار میں ماضی کے اسی ارطغرل کی شبیہ نظر آئی ۔۔ نجانے مجھے اس کا ماضی بھی ارطغرل جیسا دکھنے لگا ۔۔۔ وہ بھی اپنے قبیلے کا لاڈلا اور سجیلا نوجوان تھا ۔۔۔ ذہانت جس کے ماتھے سے عیاں رہتی اور عزم آنکھوں سےجھلکتا تھا ۔ دشمن نے جب اس کے وطن پر لشکر کشی کی تو وہ بھی ماضِی کی اسی ارطغرل کی طرح اپنے درماندہ کارواں کو لے کر اٹھا تھا ۔۔ ٹکڑوں میں بٹے ہم وطنوں کو قبیلہ قبیلہ اکٹھا کرتا دشمن کے خلاف برسوں سینہ سپر رہا ۔۔۔ ۔ اور پھر ایک وقت آیا کہ ماسکو سے واشنگٹن اور اسلام آباد سے ریاض تک ہر دارالحکومت میں اسی کے چرچے تھے ۔ ۔۔۔

پاکستانی شاعر حریت نے جس کے قصیدے لکھے
وہ جس کی منصوبہ بندیوں سے ہرات و کابل کی چوٹیوں سے
درندہ خو روسیوں کا لشکر خود اپنے لاشے اٹھا رہا ہے

اے ناز وہ گلبدین حکمت عزیمتوں کے علم اٹھائے
سیاف و برہان و شاہ و یونس کے ساتھ نعرہ لگا رہا ہے

اسی کی دہائی میں افغانستان کے کہساروں کو روس کا قبرستان بنا کر وہ امت مسلمہ کی آنکھ کاتارا بن چکا تھا ۔۔ جس کے نام سے فلسطین و کشمیر کے مجاہدوں کے جسموں میں بجلیاں دوڑنے لگتی وہ عالم اسلام کے دورے پر نکلا ، تو ڈرامے میں ارطغرل کے آتے ہی جیسے جنگجووں میں جوش بھر جاتا ایسے ہی ارطغرل کے دیس ترکی میں اس شیر کو دیکھنے کیلئے ارطغرل کی نسلیں دیوانہ وار ٹوٹ پڑی تھیں ۔

مگر اس ساری شان و شوکت، جاہ و جلال ، عظمت و سطوت کے سالار کو دشمن سے جنگ جیتنے کے بعد اپنوں کے ہاتھوں ویسے ہی گھاؤ لگے جیسے ارطغرل کو لگے ۔

واشنگٹن اس پر سب سے زیادہ سرمایہ اور وسائل نچھاور کرنے کے باوجود اُسے ” اپنا ” نہ بنا سکا تھا تو تہہ در تہہ سازشوں کے جال بن کر حالات کا جبر نافذ کر دیا گیا ۔۔۔۔

اُسے بھی ارطغرل کی طرح ، ضدی ، اپنی بات پر اڑ جانے والا کہا جانے لگا ۔
اپنے ہی ہم وطنوں کی ناچاقیوں اور ناعاقبت اندیشیوں نے وہ دن بھی دکھایا کہ دنیا کے سامنے اُسے اپنے ہم وطنوں کے قاتل کے طور پر مشہور کر دیا گیا

جرگے میں جاتے ہوئے اپنے ہی بھائیوں کے منہ سے قاتل قاتل کے نعرے سن کر ارطغرل کے دل پر جو گزری ہوگی ۔۔۔ ویسے ہی اس کے دل پر بھی تو چرکے لگے ہوں گے جب مغربی ذرائع ابلاغ نے اس کے نام کے ساتھ کابل کا قصاب لکھ کر ہیڈ لائینیں لگانی شروع کر دی تھیں ۔

ارظغرل قاتل نہیں تھا ۔۔ یہ تاریخ نے ثابت کر دیا ۔۔ مگر کابل میں ہم وطنوں کے خون کا اصل ذمہ دار کون تھا ۔۔؟

آنے والا مورخ جب تاریخ لکھے گا تو لگتا ہے کہ حالات کا جبر ویسا ہی لکھے گا جیسا ارطغرل کو درپیش ہوا تھا ۔ ۔۔
کہ آخر وہ بھی تو اپنے زمانے کا ارطغرل ہی تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply