108

ہر اس بیٹے کے نا م جسے ماں یاد ہے – منوّر رانا – حصہ اول

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے & ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
اپنی بات غزل ہمیشہ تنقید کے نشانے پہ رہی ہے ۔ زیادہ تر ناقدین ادب نے اس کی بے پناہ مقبولیت کے با وجود اسے منہ نہیں لگا یا ۔ ہمیشہ اس کی کم مائگی اور سہل پسندی کا رونا روتے رہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ غزل مدتوں کچھ بندھے ٹکے موضوعات کی امر بیل میں جکڑی رہی ۔ حالانکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس عہد کے مطابق غزل درباری آداب کے پیش نظر لکھی جاتی تھی ۔ اس لیے شاعر ہمیشہ میخانے سے نکلتا ہوا، اور کوٹھوں سے اتر تا دکھائی دیتا تھا ۔ اس حقیقت سےبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت کے نوابین حضرات اور راجے مہا راجے شاعروں کی پرورش ہی نہیں ناز برداری بھی کرتے رہتے تھے ۔ تاریخ سے آنکھ مچولی کرتی ہوئی غزل جیسے ہی گلی کے موڑ ، شہر کے چوراہوں ، قصبات کے چبوتروں، گاؤں کی پگڈنڈیوں اور کھیت کھلیانوں میں بھی موضوعات کی تلاش میں بھٹکنے لگی تو اس نے نئے نئے منظر نامے تلاش کر لیے ۔

خاص طور سے آزادی کے بعد تقسیم کی تلوار سے کٹے پھٹے رشتوں کی بنتی بگڑتی تصویروں ، بھرے گھر میں تنہا ہونے کے احساس، بے سمتی کی طرف جاتی ہوئی تیز رفتار زندگی اور گھر آنگن میں ابھرے ہوئے لا تعلقی کے صحراؤں نے غزل کے لیے نئے نئے موضوعات کے ڈھیر لگا دیے ۔ ہر خاص و عام لغت کے مطابق غزل کا مطلب محبوب سے باتیں کرنا ہے ۔ اگر اسے سچ مان لیا جائے تو محبوب ’ماں‘ کیوں نہیں ہوسکتی !کیا دنیا کے سب سے مضبوط، سدا بہار اور پاکیزہ رشتے کو غزل بنانا گناہ ہے، کیا تقدس کے ’’پھول بستر‘‘ پر غزل کو سلانا جرم ہے ۔ میری شاعری پر اکثر زیادہ پڑھے لکھے لوگ جذباتی استحسال کی الزام لگاتے رہے ہیں ۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو پھر محبوب کے حسن و شباب ، اس کے تن و توش ، اس کے لب و رخسار ، اس کے رخ و گیسو، اس کے سینے اور کمر کی پیمائش کو عیاشی کیوں نہیں کہا جاتا ہے !

اگر میرے شعر Emotional Blackmailing ہیں تو پھر ؎
’’جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔ ‘‘
’’ موسیٰ اب تو تیری وہ ماں بھی نہیں رہی جس کی دعائیں تھے بچا لیا کرتی تھیں۔‘‘
’’ اگر مرد کو دوسرے سجدے کی اجازت ہوتی تو ماں کے قدموں پر ہوتی ۔‘‘

’’ میدان حشر میں تمہیں تمہاری ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا ۔‘‘ جیسے جملے کیا بے معنی ہیں ؟
میں پوری ایمانداری سے اس بات کا تحریری اقرار کرتا ہوں کہ میں دنیا کے سب مقدس اور عظیم رشتے کا پرچار صرف اس لیے کرتا ہوں کہ اگر میرے شعر پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنی ماں کا خیال کرنے لگے، رشتوں کی نزاکت کا احترام کرنے لگے تو شاید اس کے اجر میں میرے کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔ یہ کتاب بھی آپ کی خدمت تک صرف اس لیے پہنچا نا چاہتا ہوں کہ آپ میری اس چھوٹی سی کوشش کے گواہ بن سکیں اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرتے رہیں۔

ذرا سی بات ہے لیکن ہوا کو کون سمجھائے
دیئے سے میری ماں میرے لئے کاجل بناتی ہے

تمام عمر یہ جھولا نہیں اترتا ہے ” میری ماں بتاتی ہے کہ بچپن میں مجھے سوکھے کی بیماری تھی، ماں کو یہ بتانے کی ضرورت کیا ہے ، مجھے تو معلوم ہی ہے کہ مجھے کچھ نہ کچھ بیماری ضرو ہے کیونکہ آج تک میں بیمار سا ہوں ! دراصل میرا جسم بیماری سے رشتے داری نبھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ۔ شاید اسی سوکھے کا اثر ہے کہ آج تک میری زندگی کا ہر کنواں خشک ہے ، آرزو کا، دوستی کا، محبت کا، وفاداری کا ! ماں کہتی ہے بچپن میں مجھے ہنسی بہت آتی تھی، ہنستا تو میں آج بھی ہوں لیکن صرف اپنی بے بسی پر، اپنی ناکامی پر، اپنی مجبوریوں پر اور اپنی تنہائی پر لیکن شاید یہ ہنسی نہیں ہے، میرے آنسوؤں کی بگڑی ہوئی تصویر ہے، میرے احساس کی بھٹکتی ہوئی آتما ہے۔ میری ہنسی ’’ انشاء‘‘ کی کھوکھلی ہنسی ، ’’میرؔ‘‘ کی خاموش اداسی اور غالبؔ کے ضدی پھکڑ پن سے بہت ملتی جلتی ہے۔
میری ہنسی تو میرے غموں کا لباس ہے ۔ لیکن زمانہ اتنا کہاں غم شناس ہے ۔

پیوند کی طرح چمکتی ہوئی روشنی ، روشنی میں نظر آتے ہوئے بجھے بجھے چہرے ، چہروں پر لکھی داستانیں ، داستانوں میں چھپا ہوا ماضی ، ماضی میں جھپا ہوا بچپن ، جگنوؤں کو چنتا ہوا بچپن ، تتلیوں کو پکڑتا ہوا بچپن ، پیڑ کی شاخوں سے جھولتا ہوا بچپن ، کھلونوں کی دکانوں کو تکتا ہوا بچپن ، باپ کی گود میں ہنستا ہوا بچپن ، ماں کی آغوش میں مسکراتا ہوا بچپن ، مسجدوں میں نمازیں پڑھتا ہو بچپن ، مدرسوں میں سِپارے رٹتا ہوا بچپن ، جھیل میں تیرتا ہوا بچپن ، دھول مٹی سے سنورتا ہوا بچپن ، ننھے ننھے ہاتھوں سے دعائیں مانگتا بچپن، غلیل سے نشانے لگاتا ہوا بچپن ، پتنگ کی ڈور میں الجھا ہوا بچپن ، نیند میں چونکتا ہوا بچپن، خدا جانے کن بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیا ہے، کون سنگ دل ان سنہرے دنوں کو مجھ سے چھین لے گیا ہے۔ ندی بھی ناگنوں کی طرح بل کھا کر گزرتی ہے لیکن میرے یہ ہاتھ جو محل تعمیر کر سکتےہیں ، اب گھروندے کیوں نہیں بنا پاتے ، کیا پراٹھے روٹیوں کی لذت چھین لیتے ہیں ، کیا پستی کو بلندی اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتی ، کیا امیری غریبی کا ذائقہ نہیں پہچانتی ، کیا جوانی بچپن کو قتل کر دیتی ہے ؟

مئی اور جون کی تیز دھوپ میں ماں چیختی رہتی تھی اور بچپن پیڑ کی شاخوں پر جھولا کرتا تھا، کیا دھوپ چاندنی سے زیادہ حسین ہوتی ہے، ماجس کی خالی ڈبیوں سے بنی ریل گاڑی کی پٹریاں چرا کر کون لے گیا ، کاش کوئی مجھ سے کاروں کا یہ قافلہ لے لے اور اس کے بدلے میں میری وہی چُھک چُھک کرتی ہوئی ریل گاڑی مجھے دے دے ، کیونکہ لوہے اور اسٹیل کی بنی ہوئی گاڑیاں وہاں نہیں رکتیں جہاں بھولی بھالی خواہشیں مسافروں کی طرح انتظار کرتی ہیں، جہاں معصوم تمنائیں ننھے ننھے ہونٹوں سے بجنے والی سیٹیوں پر کان لگائے رہتی ہیں۔ کوئی مجھے میرے گھر کے سامنے والا کنواں لادے جو میری ماں کی طرح خاموش اور پاک رہتا تھا ، میری خالہ جب مجھے اپنے گاؤں لے کر چلی جاتیں تو ماں خوفزدہ ہو جاتی تھی کیونکہ میں سوتے میں چلنے کا عادی تھا ۔ ماں ڈرتی تھی کہ میں کہیں آنگن کے کنویں میں نہ گر پڑوں ، ماں رات بھر رو رو کر کنویں سے کہتی رہتی کہ اے پانی ! میرے بیٹے کو ڈوبنے مت دینا ۔

ماں سمجھتی تھی کہ شاید پانی سے پانی کا رشتہ ہوتا ہے ، میرے گھر کا کنواں بہت حساس تھا ، جتنی دیر کنویں سے باتیں کرتی تھی کنواں اپنے ابلتے ہوئے پانی کو پُر سکوت رہنے کا حکم دیتا تھا ، شاید وہ میری ماں کی بھولی بھالی خواہشوں کی آہٹ کو احترام سے سننا چاہتا تھا ، پتہ نہیں یہ پاکیزگی اور خاموشی ماں سے کنویں نے سیکھی تھی یا کنویں سے ماں نے ؟گرمیوں کی دھوپ میں جب ٹوٹے ہوئے ایک چھپر کے نیچے ماں لُو اور دھوپ سے ٹاٹ کے پردوں کے ذریعے مجھے بچانے کی کوشش کرتی تو مجھے اپنے آنگن میں دانا چگتے ہوئے چوزے بہت اچھے لگتے جنہیں ان کی ماں ہر خطرے سے بچانے کے لیے اپنے نازک پروں میں چھپا لیتی تھی۔ ماں کی محبت کے آنچل نے مجھے تو ہمیشہ محفوظ رکھا لیکن غریبی کے تیز جھکڑوں نے ماں کے خوبصورت چہرے کو جھلسا جھلسا کر سانولا کر دیا ۔ گھر کے کچے آنگن سے اڑنے والی پریشانی کی دھول نے میری ماں کا رنگ مٹ میلا کر دیا ۔

دادی بھی مجھے بہت چاہتی تھیں وہ ہر وقت مجھے ہی تکا کرتیں، شاید وہ میرے بھولے بھالے چہرے میں اپنے اس بیٹے کو تلاش کرتی رہتی تھیں جو ٹرک ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا ہوا شیر شاہ سوری کے بنائے ہوئے راستوں پر ہمیشہ گرم سفر رہتا تھا۔ شیر شاہ سوری کی بنوائی ہوئی وہ تاریک سڑک گناہ گار دلوں کی طرح رہ رہ کر ٹرک اور کاروں کی ہیڈ لائٹوں سے یوں چمکنے لگتی ہے جیسے اس بے ایمان زمانے میں کہیں کہیں ایمان داری کی کرن دکھائی پڑ جاتی ہے۔ شیر شاہ سوری کی وہ طویل سڑک جس کے سینے پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں لیکن یہ بے جان سڑک بہار کے کسی ہریجن قبیلے کی طرح دکھوں کا بوجھ اٹھائے چپ چاپ مسکراتی رہتی ہے۔ نہ جانے کتنے ہی ڈرائیور اپنے پھول سے بچوں کا مسقبل سنوارنے کے لیے تیوہاروں کو بھلاتے ہوئے ، موسموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، زندگی کو داؤں پر لگاتے ہوئے اس پرانی سڑک سے گزرتے رہتے ہیں۔ تھکی تھکی اور پر اسرار سی یہ سڑک آئے دن انسانوں کا خون پی کر اپنی پیاس بجھاتی رہتی ہے۔

سرخ انسانی خون جو تارکول کی کالی سڑک پر ذرا سی دیر میں خشک ہو کر سیاہ ہو جاتا ہے ۔ خون کے اس دھبے کو بھی ذرا سی دیر میں وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کے نرم اور کالے ٹائر چاٹ جاتے ہیں۔ وہ دھبے جن میں کسی سہاگ کی سرخی ، کسی ماں کا انتظار اور کسی بہن کے میلے سے دوپٹے کے آنسو بھی شامل ہوتے ہیں۔ خبر نہیں مجھے یہ زندگی کہاں لے جائے ۔ کہیں ٹھہر کے مرا انتظار مت کرنا ۔ ایک سیاسی لکیر نے سب کچھ تقسیم کر دیا، ملک کو ، قوم کو، رشتوں کو ، مجرموں کو، ندیوں نالوں کو، ایک گھونسلے کے کئی حصے ہو گئے ، ایک گھر کے کئی ٹکڑے ہو گئے، کسٹوڈین کی چکّی میں اجداد کی عمارتیں پس گئیں ، خاندانوں کی مٹھیوں سے زمینداری کی بالو سرک گئی ، جاگیرداری کے چہرے سے وقار اور اعتماد کا رنگ و روغن اڑ گیا، خاندانی زیورات (جنہیں غیر مردوں نے دیکھا تک نہیں تھا ) ساہوکاروں کی تجوریوں میں قید ہو گئے ،۔

پاکستان بن گیا، علامہ اقبالؔ کی پیشن گوئی ، جناح کا خواب تعبیر کی جستجو میں بھٹکتا ہوا پنجاب کے اس پار پہنچ گیا، رفتہ رفتہ ہر گھر میں پاکستان تعمیر ہونے لگا۔ میرے سبھی رشتہ دار اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ۔ پنجاب میل جو ہر زمانے میں جدائی کی کہانے میں ایک نیا رول ادا کرتا ہے میرے گھر کے مردوں اور سفید کالے برقعوں میں سہمی سمٹی ہوئی عورتوں کو لے کر اس مہاجر خانے کی طرف روانہ ہو گیا جسے لوگ پاکستان کہتے ہیں ۔ میں چپ چاپ اپنی دادی سے چمٹا رہا ۔ میرے چچا نے دادی سے پاکستان چلنے کو کہا اور وہ بھی مہاجرین کے خیمے کی طرف جانے کو تیار ہو گئیں ۔ میں دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھا ہوا یہ سوچتا ہی رہ گیا کہ میری دادی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گی اور شاید پہلی بار یہ محاورہ غلط ہو گیا کہ اصل سے زیادہ سود پیارا ہوتا ہے۔ ریل گاڑی کے کوئلے والے انجن سے نکلتے ہوئے دھوئیں نے میرے والد کی بھیگی ہوئی آنکھوں کو میلا کر دیا ۔

اب وہ اس ملک میں اکیلے رہ گئے تھے ۔ بالکل اس پرندے کی طرح جس کے سب ساتھی جال میں پھنس گئے ہوں ۔ پھر جیسے ہی ریل گاڑی کیسیٹینے سسکیاں لین ، کارواں اپنی انجانی سی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ، پلیٹ فارم کے کنارے کھڑے ہوئے میرے والد لڑکھڑائے ، میں نے لپک کر سہارا دینا چاہا ، انہوں نے اپنا جسم میرے حوالے کر دیا اور میں اسی دن جوان ہو گیا ۔ ضرورت کی ریل گاڑی میں بیٹھ کر میرا بچپن جوانی کے شہر میں آگیا ، کوئلے سے دیواروں پر نام لکھنے کا موسم چلا گیا ۔ تختی پر کھریا مٹی سے سبق لکھنے کے دن چلے گئے ، روٹی کی ڈلیا کے سہارے چڑیاں پکڑنے کا کھیل ختم ہو گیا ۔ اب ماں سر میں سفید نہیں کالے بال ڈھونڈتی ہے۔ یہ تلاش و جستجو کا طویل سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا، کبھی کوکھ اولاد کو تلاش کرتی ہے، کبھی اولاد ماں کی مقدس آغوش کو۔
میرا بچپن تھا مرا گھر تھا کھلونے تھے مرے ۔ سر پہ ماں باپ کا سایہ بھی غزل جیسا تھا

جاری ہے

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply