151

دھشت گردی کا سر کچلنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دوسرے کا – افشاں نوید

بات اتنی سی ہے کہ اگر دھشت گرد اسلام نہیں ہے تو دہشت گرد عیسائیت بھی نہیں ہے۔ اسلام پر یہ لیبل جتنا غلط ہے اتنا ہی عیسائیت پر بھی۔ بھلا کوئ الہامی مذہب کیوں کر دھشت گردی کو سپورٹ کر سکتا ہے۔ میرا بھانجا ملبورن سے آیا ھوا ھے اس سے قبل امریکہ گیا تھا۔ بولا وھاں کسی نے بتایا کہ یکم رمضان کو یہاں قریبی چرچ کے لوگ حیران رہ گئے چرچ کے داخلی دروازے پر” رمضان مبارک” کا بینر دیکھ کر۔ جب چرچ کی انتظامیہ سے تحقیق کی گئ تو پادری نے بتایا کہ مسلم کمیونٹی کے ایک صاحب کئ برسوں سے کرسمس کے موقع پر آتے ہیں اور بچوں کو چاکلیٹس تقسیم کرتے ہیں۔ کافی وقت بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ فردا فرداً سب کو مبارکباد دیتے ہیں۔۔

اس بار ہم نے سوچا کہ ہم بھی مسلم کمیونٹی کو خیر سگالی کا پیغام دیں اس لئے ہم نے یہ بینر لگایا ہے۔ ایک فرد بلاشبہ اپنی کمیونٹی کا نمائندہ ہوتا ہے۔اور معاملہ خیر کا ہو یا شر کا دونوں طرف انفرادی اعمال کے کریڈٹ کمیونٹی کو ہی جاتے ہیں۔
ہم جذبات میں آکر اس طرح اظہار خیال نہ کریں کہ عیسائیت سے ناطہ جوڑیں نیوزی لینڈ کی دھشت گردی کا۔ بیرون ملک رھنے والے پاکستانی اسلام کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارے افعال اوراعمال کے جواب وہاں ان سے طلب کئے جاتے ہیں۔
جب پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ھوا تو اسی بھانجے نے کہا کہ میں یونیورسٹی کے کینٹین کئ روز نہ جاسکا دوستوں سے چھپتا رھا کہ کسی سوال کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔۔ ہمارے ایمان کا اظہار ھمارا کردار ہے نہ کہ ھمارا ردعملی ہونا۔ ہم بھی تو کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ چرچ کے دروازے پر بینر لگ جائے کہ۔۔۔”آئندہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہ جوڑا جائے۔”
دھشت گردی کا سر کچلنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دوسرے کا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply