160

کرائسٹ چرچ حملے: ’یقین ہی نہیں آرہا کہ اریب اس دنیا میں نہیں رہا‘

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعے کو ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے کراچی کے 27 سالہ سید اریب شاہ کے کزن سید عبدالرحیم شاہ کا کہنا تھا کہ خاندان والے کسی بھی طور پر یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اریب شاہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ ‘جب سے یہ اطلاع ہم تک پہنچی ہے اُس وقت سے اریب کی مختلف سرگرمیوں کی فلم آنکھوں کے سامنے چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ابھی وہ کسی کے سامنے آئے گا اور ہم سے تقاضا کرے گا کہ چلو اور مجھے خان فاسٹ فوڈ پر لے جا کر زنگر کھلاؤ اور مستقبل کے اپنے منصوبے میرے ساتھ شئیر کرئے گا۔

سید عبدالرحیم شاہ کے مطابق اریب شاہ کی ایک اور بہن ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ ان غم سے نڈھال ہیں۔ ہلاک ہونے والے نوجوان سید اریب شاہ سے عمر میں دو سال بڑے ان کے چچا زاد بھائی سید عبدالرحیم شاہ کے مطابق چند دن قبل ہی ان کی اریب کے ساتھ ٹیلی فون پر بڑی تفصیلی بات ہوئی تھی۔ ‘وہ نیوزی لینڈ میں کوئی زیادہ خوش نہیں تھا، کہہ رہا تھا کہ نیوزی لینڈ سے پاکستان جانے آنے میں 36 گھنٹے کا طویل وقت صرف ہوجاتا ہے ۔ اپنی ملازمت والی کمپنی سے گزارش کی ہے کہ نیوزی لینڈ کی جگہ پر کسی اور ملک میں تعنیاتی کردی جائے تاکہ مختلف مواقع پر پاکستان پہچنا آسان ہو جائے مگر زندگی نے اس کو مہلت ہی نہیں دی۔’ انھوں نے بتایا کہ اریب انتہائی ذمہ دار دوست، بھائی اور بیٹا تھا۔
‘ہم سب کزنر کے درمیاں ہمارے بزرگوں نے صحت مند مقابلہ کروا رکھا تھا۔ جس میں وہ اچھے نمبر لینے والے کو تحائف وغیرہ لے کر دیتے تھے۔ سکول کے زمانے میں میرے نمبر اچھے آتے تھے مگر جب کالج کا دور شروع ہوا تو وہ ہم سب سے آگے نکل گیا تھا۔ صورتحال یہ ہوتی تھی کہ جب رزلٹ آتا تو وہ ہمارا مذاق اڑاتا تو ہم اس کو اپنے پرانے رزلٹ کارڈ دکھا رہے ہوتے تھے جس پر ہماری محفل مزید مزیدار ہوجاتی ،
ایک دوسرے پر چٹکلے کسے جاتے اور اس محفل کا اختتام کسی فاسٹ فوڈ پر ہوتا کیونکہ اریب کو فاسٹ فوڈ بہت پسند تھے۔’ سید اریب شاہ کے ایک اور کزن سید وصی شاہ انھی کے ہم عمر ہیں اور آپس میں بہترین دوست بھی تھے۔ وصی شاہ کے مطابق اریب شاہ جدید لباس کا انتہائی شوقین تھا۔ ‘عملی زندگی سے پہلے وہ لاابالیوں جیسی پینٹ ، قمیض پسند کرتا تھامگر عملی زندگی میں جانے کے بعد اس نے اپنے لباس میں تھوڑی بہت تبدیلی کی تھی۔ گزشتہ سال مئی کے ماہ میں جب نیوزی لینڈ سے آیا تو اس نے بڑے شوق سے چاندی کی گلے کی چین بنوائی تھی۔ جس کو وہ ہر وقت پہنے رکھتا تھا اور جاتے وقت گھر پر چھوڑ گیا تھا کہ جب اس سال دوبارہ آؤں گا تو پھر استعمال کروں گا۔’

سید وصی شاہ کے مطابق اریب شاہ انتہائی نرم دل کا مالک اور خلوص سے بھرپور تھا۔ بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘ایک دفعہ عیدالضحیٰ کے موقع پر قربانی کے موقع پر کام کرتے ہوئے اریب کی انگلی کٹ گئی تھی۔ یہ کٹی ہوئی انگلی اس کی شناختی علامت بھی بن گئی تھی۔ مجھے اچھے طرح یاد ہے کہ اس موقع پر وہ بے انتہا رویا تھا جس پر ہم سب بھی بہت خفا ہوئے تھے۔’ سید عبدالرحیم شاہ اور وصی شاہ کے مطابق خاندان میں اب سید اریب شاہ کی شادی کی باتیں چل رہی تھیں اور

خیال یہ ہی تھا کہ رواں سال اس کی شادی کردی جائے گئی. سید اریب شاہ کے نیوزی لینڈ میں ساتھی رچرڈ میک گل کا کہنا تھا کہ وہ اریب کی موت کا سن کر انتہائی دکھ کا شکار ہیں۔ ‘مجھے اس کی زبرست مسکراہٹ اور دوستانہ رویہ اچھے سے یاد ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے کی بات چیت کی تھی ، مگر افسوس کہ اس پر عمل نہ ہوسکا ۔ شاید اب ایسا بہترین انسان ملنے میں طویل عرصہ لگ جائے۔’ کراچی کے فیڈرل بی ایریا کے رہائشی سید اریب شاہ کا تعلق کاروباری خاندان سے تھا۔ وہ اپنے والدین کے واحد بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے کراچی سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی تعلیم حاصل کی تھی جبکہ تقریباً تین سال قبل بین الااقوامی کمپنی پرائس واٹر کوپرز نیوزی لینڈ میں ملازمت اختیار کرلی تھی۔

سید اریب شاہ کی ہلاکت کے بعد ان کی کمپنی نے ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید اریب شاہ پی ڈبیلو سی کے خاندان کا حصہ تھے۔ کمپنی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم ان کی مسکراہٹ، گرم جوشی، کام اور ساتھیوں کے لیے قربانی کا جذبہ و احترام اور بہترین حس مزاح کبھی بھی بھول نہیں پائیں گے۔ ہماری دعائیں متاثرہ خاندان اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ غم اور افسوس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔’
بشکریہ بی بی سی اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply