177

پھڈے میں ٹانگ اڑانا – سیدہ رابعہ

ہماری قوم کی عادت ہے کہ ہم دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھتے ہیں۔ لاکھ سمجھایا کہ بھئ اپنے کام سے کام رکھو اور دوسروں کو اپنا کام کرنے دو ۔ مگر وہ جو کہہ گئے ہیں ۔ وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں ڈرامے دیکھ لیں۔ ہر ڈرامے میں ایک پھڈے باز ہوتا ہے۔ اچھا خاصا ڈرامہ چل رہا ہے ۔ ہیر کی شادی رومیو سے ہونے ہی والی ہے کہ رقیبہ رومیو کو نیند میں ایسے اغوا کر لیتی ہے جیسے آلہ دین کے چراغ کا جن راتوں رات محل کو اٹھا کر دوسری جگہ پہنچا دیتا ہے۔

بے چاری ہیر کو اب رومیو کو تلاش کرنا ہے۔ اب پھڈا پڑ گیا نا۔ اب ہم کیا کہیں۔ ہم خود دوسروں کے معاملات میں دخل در معقولات بلکہ دخل در نا معقولات کے عادی ہیں۔ شائد ہمیں گٹھی پلائی گئی تھی ۔ ہمیں خواہ مخواہ ہی پنگا لینے کی عادت ہے۔ کل بیٹھے بٹھائے ہم قدوائی صاحب سے الجھ بیٹھے کہ آپ نے اپنے گھر کی کیاری میں رات کی رانی کیوں لگائی. آتے جاتے بچے رات کی رانی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں چھیڑ رہے ہیں۔ قدوائی صاحب ہکا بکا رہ گئے۔
بھئ ! میرا دل چاہا۔ مجھے اسکی خو شبو پسند ہے. مگر میں اسکی خوشبو سے الرجک ہوں۔ آپ آج ہی اسے نکال دیں ۔ یہ صرف ہم پر ہی منحصر نہیں۔ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنے معاملات سے ذیادہ دوسروں کے معاملات سے دل دچسپی رکھتا ہے۔ ہمیں اس دن بڑی حیرت ہوئی جب مرزا نے ہم سے کہا کہ ہمارا بیٹا ہمارا خیال نہیں رکھتا۔ یہاں تک انکا خیال یہ تھا کہ ہماری بیگم بھی ہمارا خیال نہیں رکھتیں تبھی تو ہم بولاے بولاے پھرتے ہیں۔ ہمارا شک یقین میں بدل گیا۔ اب ہمیں وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جنہیں ہم نظر انداز کرتے تھے۔ یعنی ہم نے بیوی سے کہا تھا کہ ہمیں یاد دلا دینا کہ ہمیں چشمہ پہننا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنے گھر کے بجاے قدوائی صاحب کے گھر میں گھس گئے۔بھابھی نے ہمیں دیکھ کر سر پر ڈوپٹہ لیا تو ہماری
سمجھ میں آیا۔ اسی طرح بیٹے نے ہمیں نظر انداز کیا۔

آفس سے آتے ہی نہ سلام نہ دعا۔ سیدھا باتھ روم میں گھس گیا۔ ایک گھنٹے بعد برآمد ہوا۔

تو مرزا ہمارے گھر کی جاسوسی فرماتے ہیں۔ ایک مرزا ہی پر کیا موقوف ہے ہم سب ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے ہیں۔ جیمس بانڈ بن گئے ہیں۔ ہمیں خوب پتہ ہے کہ قدوائی صاحب کے بیٹے نے امریکہ میں ایک میم کو مسلمان کیئے بغیر شادی کر لی ہے مگر انھیں اعتراض ہے کہ ہمارے سپوت نے اپنی پسند کی شادی کر لی ۔وہ آتے جاتے ہم سے سب خیریت ہے نا ضرور پوچھتے ہیں۔
فہیم صاحب تو پورے محلے کے کندھوں پر بیٹھے ہوے فرشتے ہیں اور وہ بھی بائیں کندھے کا فرشتہ جس کا کام صرف ہمارے گناہوں کا حساب رکھنا ہے. اس لیئے تو ان پر نظر پڑتے ہی لوگ اپنے بائیں کندھے پر سلام پھرتے ہیں۔
کل یونین آفس سے ایک نوٹس دیوار پر آویزاں تھا کہ اپنے بقایاجات تین دن میں جمع کردیں ورنہ قانونی کار روائی ہوگی۔ ہم نے چشمہ نہیں پہنا تھا۔ گھور گھور کر
پڑھنے لگے تو ماجد صاحب نے فورا ہی خبر اڑا دی کہ ہم نادہندگان میں ہیں۔ پرسے کے فون آنے لگے۔ بے چاری بیگم وضاحت کرتے کرتے تھک گیئں۔ ہم کو اپنے پڑوسیوں سے یہ عرض کرنی ہے کہ خدائی فوجدار نہ بنیں ۔ہم کو ہمارے حال میں رہنے دیں۔ ہم بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم انھیں ہر گز نہ روکیں گے چسہے وہ گو بھی کا پھول اگائیں یا رات کی رانی کا پودا لگائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply