186

داستان ایمان فروشوں کی – قسط نمبر 5

علی بن سفیان نے وہی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا ” اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ھے ” علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی ناجی جیسے سالار کو سبکدوش نہیں کرنا چاھتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر لانا چاھتا تھا۔وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج اخلاق کے لحاظ سے کیسی ھے اس کو ناجی کی اس بات سے ھی مایوسی ہوئی تھی کہ ناجی کے کمانڈر اور سپاھی شراب پینا چاھتے هیں اور ناچ گانا بھی ھوگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس درخواست کی منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاھتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبی ہوئی ھے۔

بہادری شجاعت شاھسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پورا اترتی تھی مگر جب کھانے کا وقت آیا تو یہ فوج بدتمیزیوں بلانوشوں اور ہنگامہ پرور لوگوں کا ھجوم بن گی کھانے کا انتظام وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور ان سے زرا دور سلطان صلاح الدین ایوبی اور دیگر مہمانوں کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑوں سالم دنبے اور بکرے اونٹوں کی سالم رانیں اور ھزاروں مرغ روسٹ کیے گیے تھے دیگر لوازمات کا کوی شمار نہ تھا اور سپاھیوں کے سامنے شراب کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گی تھیں ، سپاھی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے لگے اور معرکہ آرائی ھونے لگی سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رھا تھا اور خاموش تھا اسکے چہرے پو کوی تاثر نہ تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رھا ھے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا ” پچاس ھزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس طرح منتحب کیے کیا یہ آپکے بدترین سپاھی ھیں؟” ” نہیں امیر مصر ،،،! یہ دو ھزار عسکری میرے بہترین سپاھی ھیں آپ نے انکے مظاھرے دیکھے .

ان کی بہادری دیکھی ھے میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاھرہ کرینگے وہ آپکو حیران کردیگی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دیکھیں یہ آپکے اشارے پر جانیں قربان کردینگے میں انہیںں کبھی کبھی کھلی چھٹی دے دیا کرتا ھوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزہ اٹھا لیں ” ناجی نے غلامانہ لہجے میں کہا : سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس استدلال کے جواب میں کچھ نہیں کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ھوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا ” میں جو دیکھنا چاھتا تھا وہ دیکھ لیا ھے یہ سوڈانی شراب اور ہنگامہ آرائی کے عادی ھے ،،تم کهتے هو ان میں جذبہ نہیں ھے میں دیکھ رھا ھوں ان میں کردار بھی نہیں ھے ۔ اس فوج کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گیے تو یہ لڑنے کی بجاے اپنی جان بچانے کی فکر کرے گی اور مال غنیمت لوٹے گی اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے گی ” ” اسکا علاج یہ ھے کہ آپ نے جو فوج مصر کے مختلف خطوں سے بھرتی کی ھے اسکو ناجی کے 50 ھزار فوج میں مدغم کرلیں برے سپاھی اچھے سپاھیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ھے ” علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا ” تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ھو میرا منصوبہ یہی ھے جو میں ابھی تمھیں نہیں بتانا چاہ رھا تھا ، تم اسکا زکر کسی سے نہیں کرنا ”

علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر زھین تھا وہ کچھ اور کہنے ھی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشعلیں روشن ھوئیں ، زمین پر بیش قیمت قالین بچھے ھوے تھے ، شہنائی اور سارنگ کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ہوئی ، بیس لڑکیاں ایسے باریک اور نفیس لباس میں چلی آرھی تھیں ھر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا جو شانوں سے ٹحنوں تک تھا ان کے بال کھلے ھوے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرھے تھے جسکا انھوں نے لباس پہنا ھوا تھا صحرا کی ھلکی ھلکی ھوا سے اور لڑکیوں کی چال سے یہ ڈھیلا ڈھالا لباس ھلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے بھولدار پودوں کی ڈالیاں ھوا میں تیرتی ہوئی آرھی ھوں ھر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے سے مختلف تھی لیکن جسم کی لچک میں ساری ایک ھی جیسی تھیں وہ چلتی آرھی تھیں لیکن قدم اٹھتے نظر نہیں آرھے تھے وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھیں وہ نیم دائرے میں ھوکر رہ گئیں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تعظیم کے لیے جھکیں سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کهال تھی ایک بڑا سا ٹوکرہ اٹھاے تیز تیز قدم چلتے آئے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا سازندے سپیروں کے بین کی دھن بجانے لگے ،

حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ھوے غایب ھوے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل گئ، اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ھوا اور پھر وہ اوپر کو اٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے سرخ بادلوں میں سے ایک چاند نکل رھا ھو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ھوتی تھی اسکی مسکراھٹ بھی عارضی نہیں تھی اسکے آنکھوں کی چمک بھی مصر کی کسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک جیسی نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھول کی چوڑی پتیوں میں سے باھر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشایئوں کو مسحور کردیا ، علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اسکے ھونٹوں پر مسکراھٹ تھی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں کہا ” علی ۔۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ھوگی ” ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا ” امیر مصر کا اقبال بلند ھو ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئی ھے اسے میں نے آپکی خاطر اسکندریہ سے بلوایا ھے ، یہ پیشہ ور رقصہ نہیں یہ طوایف بھی نہیں اسکو رقص سے پیار ھے شوقیہ ناچتی ھے کسی محفل میں نہیں جاتی میں اسکے باپ کو جانتا هوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ھے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند ھے آپکو پیغمبر مانتی ھے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ھے سلطان صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آئے ھیں اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔

میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نہیں جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا “” کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا یہ لڑکیاں آپ ملبوس لائے هیں ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ ” عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند کرتے هیں لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیوںکہ اس میں گناہ کی دعوت نہیں یہ ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نہیں اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ھوتی تو سلطان کی جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شام ھو جاتی” ناجی نے کھسیانہ ھوکر کہا ” آپ کیا کہنا چاھتے ھے اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر خراج تحسین پیش کروں کہ تم ھزاروں لوگوں کے سامنے اپنا جسم برہنہ کرکے کہ بہت اچھا ناچتی ھو ؟ اسے اس پر شاباش دوں کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت حاصل کی ھے۔۔؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔ ” نہیں امیر مصر میں اسے اس وعدے پر یہاں لایا ھوں کہ آپ سے شرف باریابی بخشیں گے یہ بڑی دور سے اسی امید پر آئی ھے ، زرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکے رقص میں پیشہ وارانہ تاثر نہیں خود سپردگی ھے۔۔۔۔

دیکھیئے وہ آپکو کیسی نطروں سے دیکھ رھی ھے بیشک عبادت صرف اللہ کی کیجاتی ھے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رھی ھے ، آپ اسے اپنے خیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ، تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھیں جس کی کوکھ سے اسلام کے جانباز پیدا ھونگے یہ اپنے بچوں کو فخر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے تنہایی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا” ناجی نے نہایت پر اثر اور خوشامدی لہجے میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ھے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ ” اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا ” زکوئی نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ، باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جیسے اسکے آس پاس اڑ رھی تھیں ، یہ اچھل کود والا رقص نہیں تھا ،شعلوں کی روشنی میں کبھی تو یوں لگتا تھا جیسے ہلکے نیلے شفاف پانی میں جل پریاں تیر رھی ھوں چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رہا تھا ناجی کے سپاھی جو شراب پی کر ہنگامہ کر رھے تھے وہ بھی جیسے مر گیے تھے ، زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا ناجی اپنی کامیابی پر بہت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رھی تھی۔۔۔۔
جاری ہے

چوتھی قسط
تیسری قسط
دوسری قسط
پہلی قسط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply