150

سیل سیل سیل – سیدہ رابعہ

دنیا کے ہر ملک میں سیل لگتی ہے۔ اور سیل کا ایک خاص موسم یا ایک خاص دن ہوتا ہے۔ سیل کے نام پر وہ تمام چیزیں فروخت ہو جاتی ہیں جن کو عام دنوں میں کوئی پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا ۔ اتفاق کہیئے یا قسمت کا لکھا۔ ہم کو لنڈن کی ایک سیل دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم کو یقین نہ آیا۔ الٹ پلٹ کر، گھوم گھوم کر،آنکھوں کو اتنی زور سے ملا بلکہ کچلا کہ آنکھیں خون کبوتر ہوگئیں۔ پھر بھی یقین نہ آیا۔

اس کو کہتے ہیں سیل ؟ نہایت واجبی سے دام کہ گاہک یہ نہ سمجھے کہ اس پر ترس کھا کر دیا جارہا ہے۔ ہمیں حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ وہ چھینا جھپٹی بھی دیکھنے میں نہ آئی۔ نہ ہمارے بال نوچے گئے نہ ہمارا شانہ اکھڑ گیا ۔ اورنہ ہی ہمارے پاوں کچلے گئے۔ اللہ معاف کرے یہ بھی کویئ سیل تھی ۔ سیل تو ہمارے ملک میں ہوتی ہے۔ کپڑوں کی سیل ، جوتوں کی سیل، پرانے فرنیچر کی سیل۔ ہر چیز سیل پر لگی ہے دوکاندار کو یہ سیل لگانے کے لیئے البتہ بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسٹور روم سے تمام ناکارہ اشیاء نکالی جایئں ۔ پھر ہر چیز کی ڈبل پرچی بنایئں، ایک پر پرانی قیمت اور دوسری پر نئی قیمت لکھی جاے۔ پھر دیکھ تماشہ ۔ خاص طور پر عورتوں کو ان سیل میلوں میں بڑی دلچسپی ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو اپنے ہاتھ پیر تڑوانے ہوں تو ان سیل میلوں میں شرکت کرے ۔ ہم نے الیکشن میں ووٹوں کی سیل دیکھی ہے ۔ ووٹوں کے ساتھ لوٹوں کی سیل بھی ہوتی نےپرویز الہی، شجاعت چودھری، فواد چودھری اور شیخ رشید لوٹا سیل کا مال ہیں۔ ناقص اور گھٹیا۔ اخرید نے والے دل اور جیب کھول کر خوب خریدتے ہیں۔

تمام ناقص مال ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے اور جو حکومت وجود میں آتی ہے وہ لوٹ سیل حکومت کہلاتی ہے۔ ہم پاکستانی اس لوٹ سیل حکومت کی ہمیشہ پذیرائی کرتے ہیں۔
آجکل کرکٹ کی دنیا میں بھی سیل لگی ہے۔ بڑے کھلاڑی سے لے کر چھوٹا کھلاڑی بھی سیل پر دستیاب ہے۔ بس قیمت ادا کرنی ہے۔جیب بھاری ہو تو بڑا کھلاڑی ورنہ بقول عمران خان ریلو کٹے مل جاتے ہیں پاکستان میں کس چیز کی سیل نہیں ہوتی۔ یہاں ہر چیز سیل پر لگانے کا رواج ہے۔بڑے عہدوں کو بھی سیل پر لگایا جاتا ہے۔ہمارے سابق صدر نے سابق وزیراعظم کو جیل میں گھر کا کھانا پہنچایا تھا سیل میں صدر کی کرسی مل گئی۔ان ہی کو کیا کہا جاے ۔ موجودہ دور حکومت میں تقریبا سارے وزیر اور مشیر سیل میں کوڑیوں کے بھاو خریدے گئے۔ اب تو تعلیمی ادارے بھی سیل لگانے لگے ہیں۔ داخلے کا زمانہ شروع ہوتا ہے اور لوٹ مار سیل شروع ہو جاتی ہے
آو۔آو اس اسکول میں داخلہ لو ۔یونیفارم مفت میں دیا جاے گا چھٹیوں کی فیس بھی معاف۔ آو آو۔ ہمارے اسکول میں داخلہ لو۔کسی ٹیسٹ کے بغیر۔کتابیں اور کاپیاں مفت فراہم کی جائیں گی ۔ کدھر چلے۔ ایک نظر یہاں بھی۔ اس اسکول میں سائینسداں بنائے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں بھی سیل لگی ہے۔

ایک لاکھ جی ہاں صرف ایک لاکھ میں آپ کو لیکچرار شپ مل جاے گی آپ کے من پسند سبجیکٹ کی۔ چاہے آپ اس میں کوئ ڈگری نہ رکھتے ہوں۔ آپ کو بھٹو دور کا وزیر تعلیم در محمد اوستو یاد ہوگا جو لوٹ سیل کا نتیجہ تھا۔ سیل سیل سیل۔ جی ہاں سیل لگی ہے۔ کتابوں کی۔ مگر یہ کیا ؟حیرت کی بات ہے نا۔ اس لوٹ سیل میلے میں تو رونق ہی نہیں۔ دوکانیں ویران پڑی ہیں۔ اب تو پاکستان کو غیر ملکی امداد بھی سیل پر ملنے لگی ہے۔کیا پتہ ہم خود سیل پر لگ گئے ہوں تب ہی تو ہمارے ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ آو، آو۔ امداد لو بدلے میں do more بڑی زبردست امداد ملے گی۔ آو، آو ترکی سے امداد لو چین بھی کھڑا ہے سعودی عرب نے بھی ریال کی سیل لگائی ہے۔ اب یہ پاکستان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کون سی سیل آفر قبول کرتی ہے ۔ بقر عید سیل۔ بقر عید سے پندرہ دن قبل بکریوں کے دام آسمان پر چڑھے ہوتے ہیں۔اور اس سے جڑی ہر چیز پہنچ سے باہر۔ مگر عید کے دوسرے دن سے سیل کا آغاز ہو جاتا ہے یہاں تک کہ عید کے تیسرے دن تو خوشامد کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو سیل کے بکرے کی ہی قربانی ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں ہر چیز کی سیل ہوتی ہے۔ روح، جذبہ، ایمان، محبت
آپ کس سیل کے ساتھ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply