198

معاشرے کی بہتر تشکیل میں ماؤں کا کردار : ذوالقرنین احمد

بہتر معاشرے کو تشکیل دینے میں اصل کردار ان ماؤں کا ہیں، جو اپنے بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کے زریعے ایسے افراد معاشرے کو مہیا کرتی ہے جو انقلاب برپا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔

آج اس ترقی کے دوڑ میں تمام لوازمات، آسانیاں، ٹیکنالوجیوں کے ہونے کے باوجود ہماری قوم سے وہ افراد کیوں نہیں پروان  چڑھ پارہے ہیں‌، جب کہ دور خلافت میں بغیر کسی ٹیکنالوجی کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تبع تابعین  نے ایسے عظیم ترین کارنامے انجام دیے جس کی مثال آج دیکھنے نہیں ملتی۔ وہ کونسی طاقت تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسے عظیم کام انجام دیے کہ قیصر و کسریٰ کے تاج ٹھوکروں میں آکر گرے ۔

مشرق سے مغرب تک کو جنہوں نے فتح کر کے سلطنت قائم کی تھی، اس کے پیچھے ایمانی قوت کارفرما تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی تربیت شریعت اسلامی کے مطابق ہوئی تھی۔ آج اسی بات کو فراموش کردیا جاتا ہے،بچوں کی پرورش پیدائش سے لے کر موت تک رسم و رواج اور غیر شرعی عمل کی وجہ سے اور انکی تربیت مغربی کلچر کے مطابق آزادانہ بے حیاء معاشرہ میں ہوتی ہیں جس سے بچوں کے اندر ایمانی قوت و حلاوت جزبہ بےباکی پیدا نہیں ہوتا ہیں۔ اگر بچوں کی تربیت اس نہج پر کی جائیں جس پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی فرمائی تھی۔ تو آج بھی ہمارے نوجوان موجودہ حالات میں کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں۔ اگر مائیں ان کی تربیت اسلامی اصولوں پر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply