103

کتاب دوستی- عالیہ عثمان

5 دسمبر سے 9 دسمبر تک ایکسپوسیٹرمیں بک فیر لگی ہے ، تو بابا ہمیں لے کر جائیں گے ؟ بابا نے وعدہ کیا تھا کہ چھٹی والے دن ضرور چلیں گے،ماما آپ بھی چلے گا آپ بھی کتابیں پڑھتی ہیں وہاں بہت ساری کتابیں آپ کو ملیں گی …ابا کو اٹھا دوں دس سالہ حذیفہ آج کچھ زیادہ ہی گرم جوشی دکھا رہے تھے بیٹا ابھی چلتے ہیں جب تک کتابوں کے نام لکھیں جو آپ کو پسند ہیں ان کی لسٹ بنا لیجئے، ماما وہاں کھیلنے کے لیے کچھ ہوگا اور کھانے کے لیے بھی، مجھے جلدی سے بھوک لگ جاتی ہےا سید صاحب کو اپنے مطلب کی سوجھ رہی تھی ہاں بیٹا وہاں چھوٹے بچوں کی دلچسپی کے لئے بھر پور ورائٹیز ہوتی ہیں بلاکس، چھوٹی کتابیں، تھری ڈی بکس ہونگی گیارہ بجے ایکسپو سینٹر کے لیے روانہ ہوئے..

بچے خلاف معمول خاموشی سے گاڑی میں بیٹھے اپنی سوچوں میں گم ہو چکے تھےبلکہ اپنی لینے والی کتابوں میں کھوئے ہوئے تھے
ہم اپنےخیالوں کے گھوڑے دوڑا رہے تھے – مطالعہ بھی مطالعہ ایک فن ہے بالخصوص موجودہ زمانے میں جب کہ انسانی زندگی بہت مصروف ہو چکی ہے اور علم کی حدود وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے ہر شعبہ زندگی کے متعلق ضروری اور بنیادی معلومات حاصل کرنا آسان کام نہیں رہاکتابوں کی دوستی ان کا ذکر اور ان کا مطالعہ جتنی اہمیت رکھتا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا، کتاب بدل رہی ہے، کتاب سے طلسماتی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں ایسے میں کتابوں کا ذکر کسی اندھیرے میں ٹمٹماتے دیےکی لو کو اونچا کرنے کے عمل سے کم نهیں ـ

نیشنل سٹیڈیم آگیاتھا یہاں پاکستان اور سری لنکا کا دوسرا ٹیسٹ میچ ہوگا حذیفه بڑے جوش وخروش سے بول کر داد وصول کر رہے تھے ہم بھی یہاں میچ دیکھنے آئیں گے ،اور ہم واپس اپنی دنیا میں واپس آگئے، کیوں بابا ہمیں لائیں گے نامیچ دکھانے ؟اسکول کی سردی کی چھٹیاں بھی 20 دسمبر سے هیں دونوں بچے اپنے کتاب دوست بابا سے تائید چاہ رہے تھےجی بیٹا بالکل آئینگے، اور اگلے دس منٹ میں ایکسپو سنٹر کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہے تھے وہاں بہت رش تھا کافی پیدل چل کر حال تک پہنچے اندر سے پوری چھت سفید اور نیلے غباروں سے سجی ہوئی تھی دوڑتے بچوں کو بمشکل پکڑا ہال نمبر1،2،3میں بک سٹال لگے ہوئے تھے ہر قسم کی ہر موضوع پر کتابوں کا وہاں ایک جہاں آباد تھا۔بچوں کی خوشی دیدنی تھی اللہ کا شکر ہے بچوں میں اپنے بابا کی طرح کتابیں پڑھنے کہانی سننے کے جراثیم موجود هیں ـ دو سالہ بیٹی حریم تو بیلون دیکھ کر دیوانی ہوئی جا رہی تھی جب تک حاصل نہیں کر لئے چین نہیں لیا…

تینوں ہالز میں تقریبا تین گھنٹے مٹرگشت کی اتنی کتابوں میں سے انتخاب کرنا کافی مشکل لگ رہا تھا بہرحال مطالعے کی عادت برقرار رکھنے کے لئے کافی کتابیں خرید لیں تاکہ ہم جو کچھ مطالعہ کریں فارغ اوقات میں اس کے متعلق مختلف پہلوؤں سے غوروفکر بھی کر یں اور مواد کو ذہن میں تازہ کرتے رہیں نیزاپنے حاصل مطا لعه کو اپنی عملی زندگی کے مشاہدات و تجربات میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں اسکا فائدہ یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا جائے گا وہ ذہن کا ایک مستقل جز بنتا چلا جائے گااور زندگی بھر کبھی فراموش نہیں ہوگا اور ہمارے اندر وہ صفات پیدا ہوتی چلی جائیں گی– جو علم کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھتابلکہ کائنات فطرت کی جو عظیم اور وسیع کتاب سامنے کھلی پڑی ہے اس سے دل و دماغ کی آنکھوں سے مطالعہ کرنے کی صلاحیت بڑھے گی ـ

کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ،کتابوں سے پیار کرنے والے کم ہوگئےہیں اگرتاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ہی وہ واحد ذریعہ تھی جس نے انسان کے ثقافتی اور تہذیبی اقدار کو بڑھانےاور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیاآج کتاب ختم نہیں ہوئی بلکہ کتاب سے وابستہ کلچر دم توڑ رہا ہےامید کی کرن ٹوٹنے کا کوئی امکان آج بھی موجود ہے تو وہ کتاب کلچر ہے جہاں سے تہذیب کو نی اقتدار ملینگی ـ
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.