93

علم کا منبع کتاب – عالیہ زاہد بھٹی

اردو کے سر کلاس میں آۓ تو صورتحال کچھ یوں تھی کہ پری میڈیکل کی طالبات ،”تم میرے پاس ہو” پر بڑی شد و مد سے گفتگو فرما رہی تھیں.سر کے داخل ہونے پر ایک دم خاموشی چھا گئی.
“کیا ہوا موضوع ختم ، یا دلائل ختم!” سر نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے جو کچھ سنا تھا اس کے مطابق شگفتگی سے سوال کیا.

طالبات نے سر کو گفتگو کے موڈ میں پاکر حوصلہ پکڑا اور دوبارہ بات شروع کر دی کہ جو کچھ ڈرامے میں دکھایا جا رہا ہے ایسا ہمارا ماحول نہیں تو پھر کیوں بتایا جارہا ہے، ان موضوعات کا ہم سے دور کا بھی تعلق نہیں پھر یہ موضوعات ہم پر مسلط کرنے کا مقصد؟
“دیکھیں بیٹا ایک چیز ہمیشہ یاد رکھئے گا کہ میڈیا کبھی بھی وہ نہیں دکھاتا جو آپ ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ وہ دکھاتا ہے جو آپ سے کروانا چاہتا ہے، پاکستان میں “پی ٹی وی”کے قیام کے مقاصد میں اس دور کے پردہ نشینوں نے 30،35برس بعد جو راز کھولے ان کے مطابق پاکستانی معاشرے میں چونکہ شرافت ،نجابت ،دیانت اور امانت کا ایک اپنا معیار تھا جسے اس وقت کے دنیاوی ناخداؤَں نے سبوتاژ کرکے اپنا لباس،اپنی عریاں تہذیب،اوراپنے طور طریقے متعارف کرانے تھے تو ٹی وی سب سے بڑا ذریعہ قرار پایا تبدیلی کا ”

سر نے سمجھانا چاہا تو اریبہ نے ان کی بات کاٹی.
“سوری سر میں نہیں مانتی کہ ایسا ہے، مجھے جو چیز اچھی لگتی ہے اس کی وجہ میڈیا تو نہیں ہماری اپنی پسند ناپسند ہے کہ ہم جو چاہے استعمال کریں میڈیا پر دیکھنے کے بعد بھی مجھے جو پسند نہیں وہ نہیں”
“نہیں میرا بیٹا، یہی آپ کی بھول ہے کہ آپ پر میڈیا اثر نہیں کرتا، بتائیں کتنی ایسی گرلز ہیں جو ٹریجک مناظر پر روتی ہیں”. سر کے اس سوال پر چند ایک کو چھوڑ کر سب کے ہاتھ کھڑے ہوئے
“بس جب آپ روتے کے ساتھ روتی ہیں ہنستے کے ساتھ ہنستی ہیں تو آپ میڈیا کے ٹرانس میں ہیں اور آپ کو میڈیا ٹریک کرکے جو چاہ رہا ہے آپ میں انجیکٹ کر رہا ہے ،اردو ادب میں ایک کریکٹر ہے،”اُمراءوجان ادا”

اس کا تعلق دبستان لکھنؤ کے ریڈ لائٹ ایریا سے ہے جسے عرف عام میں ایک برا سا نام دیا جاتا ہے “کوٹھا” جہاں ناچنے گانے والیوں اور جسم فروش عورتوں کی رہائش ہوتی ہے، تو اس دور کے میڈیا یعنی شاعری نے اسے عوام وخواص میں زبان و بیان کی ادائیگی کی درستگی کے لئے شرفا اپنے بچوں کو وہاں بطور تعلیم بھیجنے کے رواج کا شکار ہو گئے . اسی طرح ہم نے دوپٹے اور چادر سے پیچھا چھڑانے کے لئے میڈیا کا سہارا لیا ،شلواریں ٹراؤزر میں بدل گئیں، فل بازو ہاف اور ہاف بازو سلیو لیس اور بیک لیس تک بدل گۓ ،آنکھوں کو آہستہ آہستہ حیا سوز مناظر کی عادت ڈال کر پھر اسے کلچر کا حصہ بتایا،عزیز بیٹیوں علم کا منبع کل بھی کتاب تھی اور آج بھی کتاب ہے اور یہ میڈیا تمہیں کتاب سے دور کرکے اپنی مرضی کے مناظر میں گم کرنا چاہتا ہے ہوش میں آؤ اور کتاب سے دوبارہ دوستی کرلو وہ تمہیں بھٹکنے نہیں دے گی . ایک جہان کی سیر کرا کے تمہیں سوچ وفکر کے نۓ زاویے پرکھنے کی دعوت دیتی ہے جبکہ یہ سکرین کا نشہ دکھتا اور بِکتا کے گرد گھومتا ہے”

سر کی باتیں سن کر سب کو ایسا لگا کہ جیسے نیند سے اب جاگے ہیں اک نئ امید کے ساتھ سب روشن چہروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں کہ وقت کی شاطرانہ چال کو اب اسی پر الٹنے کا وقت آگیا ہے ، اک نئے عزم و جذبے کے ساتھ،
تیار ہیں ناں آپ بھی؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.