75

سچّا سودا – عالیہ زاہد بھٹی

سرد ہوا کے تھپیڑے جسم کے اندر جیسے برچھیوں کی طرح وار کر رہے تھے ، اس نے شال اپنے اردگرد لپیٹی اور بھانپ اڑاتی کافی کے مگ کو یخ بستہ ہتھیلیوں میں اس طرح تھاما کہ مگ میں موجود گرم کافی کی گرمائی اس کے پورے وجود میں اتر کر اک پرسکون نرم گرم احساس کو رواں کر گئی ……
گلاس وال سے باہر کا منظر اس کی یادوں کو مہمیز کر رہا تھا ،زینب،حرمین اور شاہ زر تینوں ابھی سائکلنگ کے بعد تھک کر بینچ پر بیٹھے تھے کہ برابر والے گھر سے ریڈ اسکارف پہنے ہوئے عائشہ بھی آگئی اسے آتے دیکھ کر زینب اور حرمین دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ کیا اور شاہ زر تابعداری کے ساتھ خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا ،اب وہی منظر تھا مگر ایک کی کمی اور ایک کا اضافہ ہوا سب کچھ وہی تھا اور تو کچھ بھی نہیں بدلا تھا، مگر یہ کمی اس اضافے کی وجہ سے ہوئی یہ کسی کو سمجھ نہیں آیا مگر لان کے اس پار لاؤنج کی گلاس وال سے دیکھتے وجود کو سب سمجھ آگئی تھی بلکہ اس کی یادوں کے دریچے وا ہوگئے تھے-

ان یادوں میں ایک فریحہ فاروق تھی ، جسے سب پری کے نام سے جانتے تھے کیونکہ وہ پریوں جیسی ہی تھی کالی سیاہ آنکھوں کے ساتھ سرخ وسفید رنگت پشت پر لہراتے لمبے سیاہ ریشمی بالوں کا آبشار،مختصر یہ کہ حسن تو تھا ہی بہتوں کے پاس ہوتا ہے مگر خود شناس نہیں ہوتا، پری کا حسن خود شناس ہو کر دوآتشہ رہتا تھا حسن کا احساس ہو اور اسے سنگھار کے ذریعے دھار بھی لگادی جائے تو پروانے کٹ کٹ کر گرنا تو اصولِ زندگی ٹہرا، قصور شمع کا ہے اور دوش پروانے کو اس پر طرہ یہ کہ شکوہ شمع کو کہ ہمارے گرد گھومتا ہے پروانہ اسے منع کرو …….قصہ مختصر کہ پری کے حسن کے چرچے اور ان چرچوں پر ہونے والے اعتراضات اس لئے نہیں کہ وہ بے حد حسین تھی بلکہ اس لئے کہ اسے حسن کو چھپانے کا سلیقہ تو سکھایا نہیں گیا تھا الٹا میڈیائ دور نے اسے نمایاں کرنا سکھادیا .
پری …… اسکول میں بہترین ایکٹر
پری…….کالج میں بہترین ماڈل

اور پری ، بہترین اینکر پرسن بن کر اب میڈیا کی جان تھی ان سب کے باوجود پری کے اندر کہیں بہت دور زندگی کا اصل فلسفہ ہلکورے لیتا تھا حدود وقیود، نیکی وبدی، حلال و حرام، صحیح وغلط کی کشمکش جو فطرت کی ودیعت کردہ ہے وہ جب بھی زمانے کے ساتھ بہنے لگتی اس کے اندر کہیں دور سے دادو ماما کی آواز سرگوشیوں میں اسے بتاتی.
“نہ پیاری پری ، اچھی لڑکیاں ایسے نہیں کرتیں،اچھی لڑکیاں غیر محرم سے فاصلے پر رہتی ہیں، اچھی لڑکیاں، ایسے بیٹھتی ایسے چلتی ایسے رہتی ہیں وغیرہ وغیرہ…. حالانکہ اس کی دادو کا اور اس کا ساتھ اس کی عمر کے ابتدائی پانچ سال تک رہ سکا تھا . ان کے انتقال کے بعد سے پری کے گھر کا ماحول مکمل تبدیل ہو چکا تھا مگر اک بازگشت تھی جو اس کا پیچھا کرتی تھی. یہاں تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا……

مگر جب زندگی کے ساتھی کے چناؤ کا مرحلہ آیاتو ہر وہ شخص پری کا طلبگار تھا جو اس کے حلقہ احباب میں تھا جدید اور مصنوعی زندگی کا دلدادہ اسے تو اپنے ابّا جیسا کوئی نیک اور صالح شریک سفر درکار تھا جس کی تربیت اس کی دادو جیسی عورت نے کی ہو مگر ایسے لوگوں کو بھی تو ایسے ہی چھپے ہوئے موتی درکار تھے جیسا اس کی دادو اسے بنانا چاہتی تھیں. اس دن پری پھوٹ پھوٹ کر رودی
“اللہ جی آپ گواہ ہیں ہم نے آپ کی حدود کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی بس جو گیٹ اپ آپ نے ہمارے لئے پسند کیا تھا اسے اختیار نہیں کیا، نامحرم سے فاصلے تو رکھے مگر رابطہ نہیں چھوڑا …. اللہ جی نامحرموں سے رابطہ اور بے پردگی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا؟؟؟؟؟؟؟؟؟
“نیک عورتیں نیک مردوں کے لئے”
اس کے کانوں میں آواز گونجی تو اس کے رونے میں اور شدت آگئی
“نہیں اللہ جی میں بھی تو نیک ہوں میں وہ تو نہیں جس کے لئے آپ نے لفظ”خبیث”استعمال کیا ہے”
روتے روتے نڈھال ہوکر اس نے کچھ سوچا اور بےدردی سے اپنے آنسو صاف کرکے وضو کیا قرآن اٹھا کر کبھی کوئی صفحہ الٹا کبھی کوئی، ترجمہ قرآن سے جو جو بھی پڑھا سب میں ایک ہی بیان تھا کہ مومن تو صرف وہی ہیں جو کہتے ہیں
“ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی”
اللہ کی مان لینے کے بعد اپنی مرضی ختم ہو جاتی ہے ایسا نہیں چلتا کہ ہم کہہ دیں کہ نماز تو میں آپ کے طریقے پر پڑھوں گی مگر کپڑے میں اپنی مرضی کے پہنوں گی کہ نماز میں جو ستر میرے رب نے قرار دے دیا وہ نماز کے بعد بھی اسی حد میں رہے تو ہی بندگی ہے .یہ تو ایک اسٹیج ڈرامہ ہوگیا کہ ساتر لباس میں نماز پڑھنے کے بعد دوپٹہ اتار کر ایک میڈیا پرسن، ایک ائیر ہوسٹس ، ایک آفس ورکروغیرہ کا روپ دھار لیا ….. پھر منظر بدلا نماز پڑھی اور دوبارہ آن ڈیوٹی….!
کلمہ بتاتا ہے کہ اللہ کی ڈیوٹی اختیار کرنی ہے اور دنیا بتاتی ہے کہ

“چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی ”
اور جب اللہ کے پاس چلتے ہو آخری لمحات میں تو پورے ساتر کفن کے ساتھ؟؟؟
اس کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہی تھی اور روتے روتے وہ نڈھال ہو کر نیم بیہوش سی ہو گئ تھی . دادو کی انگلیوں کا لمس اسے اپنے ماتھے پر محسوس ہوا
“میری پری میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ اچھی لڑکیاں کیسے رہتی ہیں تم نے بھلا دیا تو دیکھو آج شریک سفر کے نام پر صرف اللہ کو دھوکہ دینے والے ہی تمہارے منتظر ہیں کہ یہی تمہارا حلقہ احباب ہے تم اللہ کے طریقے پر چلتیں اللہ والوں کے نزدیک ہوتیں تو آج اللہ کے دین کے ساتھی تمہارے دعویدار ہوتے اب بھی وقت ہے اپنی نیت کو خالص کرکے اللہ پاک کے ساتھیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا دو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا”
پری ہڑبڑا کر اٹھی اور اک نئے عزم کے ساتھ اللہ کے راستے پر چل پڑی….. اللہ پاک نے اسے اپنی راہ میں ایسے قبول کیا کہ آج وہ ایک بہترین اینکر پرسن سے بہترین مُدرّسہ بن چکی ہے اور اللہ کے دین کے ساتھی اس کے ہم رکاب ہیں..

وہ اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو لان میں کھیلتے دیکھ رہی تھی کہ پڑوس کی بچی کی آمد پر اس نے بہت ذمہ داری سے اپنی چھ اورسات سالہ بیٹیوں کو اشارہ کرتے دیکھا کہ وہ نوسالہ بھائی کو اندر جانے کا کہہ رہی تھیں اور ان کا بھائی بھی فرمانبرداری سے نگاہ جھکا کر اندر چلا گیا کہ اسے بھی معلوم تھا کہ……..” وہ اپنی بہنوں کا تو محرم ہے مگر اس بچی کے لئے نامحرم ہے”پری مطمئن ہو گئ کہ اس نے صرف اللہ کے اصول بتاۓ ہی نہیں ، ان پر عمل کرنے کے راستے پر چلا بھی دیا ہے. اس کی نسل محفوظ ہوگئی ہے کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہےکہ
“تم میرے راستے میں چل کر آؤ میں تمہیں دوڑ کر ملوں گا”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.