63

میرے پاس تم ہو ـ اسماء اشفاق

میرے پاس تم ہو.

ڈرامے کا عمومی مقصد ناظرین کو ایسی سیرو تفریح فراہم کرنا ہو تا ہے جو ان کے لیے خوشی مسرت اور مسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بنے ۔ ساتھ ساتھ انکی تعمیری اور اخلاقی اقدار کو بھی پروان چڑائے۔

نئی نسل کو والدین اساتذہ اور بڑوں کے ادب واحترام کا سبق سکھائے۔ اور یوں ایک مثبت معاشرے کی تعمیرو ترقی کا کردار اداکرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنے کلچر کو متعارف کرائے جس طرح کہ حال ہی میں پیش کیا جانے والا ترکی سریل ‘ڈرلس ارتغل’ ترکی کلچر کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے کہ جسے ستر زائد ممالک میں نشر بھی کیاجارہا ہے ۔جو جہاں اداکاروں کی مقبولیت کا سبب ہے وہیں ہدایت کاروں کی ذہنیت اور صلاحیت بھی کو منوانے کا باعث بھی بن رہا ہے ۔ بچوں میں بہادری، جرّت اور لیڈر شپ کے اوصاف پیدا کرنے کے ساتھ ہی انہں مقصدِ زندگی سے بھی متعارف کروارہا ہے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارا میڈیا جس میں ڈرامہ نگار ایک طرف جرائم کی تشہیر کرتے کھیل گناہگار کون، ایسا بھی ہوتا یے جیسے کردار پیش کرکے ناظرین کو بوجھل کررہے ہیں وہیں غیر ممالک میں اپنی قوم کا ایسا کلچر متعارف کراتے ڈرامے بناریے ہیں جس میں عورت کا کردار نہایت خود غرض دولت کی حوص میں اس قدر اندھی کہ مخلص وفادار شوہر اور اولاد سب کو چھوڑ کر غیر مرد کے ساتھ چل دی۔پھر ایسا کردار کہ نہ کوئی حدودو قیود کی پاس داری اور شرم و حیا کے احساس سے بھی عاری ۔

پہلے شوہر سے بغیر طلاق لیے غیر مرد کے گھر میں بغیر کسی رشتے کے قائم کیے رہنا معمول سی بات۔جبکہ ایسے کردار کو شوہر تو کیا گھر کا کوئی بھی فرد گوراہ نہ کرے گا ۔کہا یہ جاتا کہ ڈرامے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں تو الحمداللہ ہمارا معاشرہ زندہ ضمیر رکھنے والوں کا معاشرہ ہے اور ڈراموں کو عمومی سوچ، کردار، اور رویوں پر مبنی کردار پیش کرکے اپنا کلچر متعارف کروانا چاہیے۔ایک کلپ نظر سے گذرا جس میں اداکار عدنان صدیقی کا سوالات پر تبصرے کے جواب میں کہنا تھا کہ کچھ لوگ نا پسند کررہے ہیں تو نہ دیکھیں اداکار کو جو کردار دیا جاتا ہے وہ اسے ادا کرتا ہے۔

تو فرض کیجیے کسی کو اسکول میں اسٹیج ڈرامے پر کردار پیش کرنا ہو کیا وہ یہ نہ دیکھے گا کہ کس قسم کا رول ہے۔ اس کی اپنی بھی کوئی رائے ہوگی کہ میں یہ کروں یا انکار کردوں۔پھر جو چیز ہم اپنی فیلی ممبرز کے دیھکنے کے لیے پسند نہی کررہے اسے دوسرے لوگوں کو دیکھنے کے لیے خاموشی سے چھوڑدیا جائے ایمانداری کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جو اپنے لیے پسند ہو وہ ہی دوسرے کے لیے پسند کیجیے۔ پھر یہ صرف دیھکنے نہ دیکھنے کی حد تک تو نہی اس میں بے حیائی کے اُنصر کو متعارف کیا جارہا ہے جو اس قدر مہلک ہے کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تمہاری عورتیں بے حیا ہوجائیں گی تو جوان میتیں اٹھاؤگے۔بے حیائی عذاب کا سبب ہوتی ہے اس پر کیا عوام ثمّ ،بُکمُن ،عُمیُن کی تصویر بنے رہیں۔ اپنی زبان، قلم، آواز کا کوئی حق بھی استعمال نہ کریں اور معاشرے کو تباہی کے دہانے پر دھکیلتے ڈرامے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے رہیں سب یہ جارے ہیں کہ برائیوں کے سبب آنے والی مصیبتوں سے وہ بھی بچ نہی پاتے جو برائیوں کے پھلنے پھولنے پر خاموش بیٹھے تماشہ دیکھتے ہیں

میری گذوارش ہے برائے کرم پیمرا ذمہ داران ہمارے حال پر رحم کریں اور ایسے سب کرداروں پر بنائے گئے ڈراموں کو سنسر کریں ڈرامے نویسوں کوبھی کچھ اسلامی معاشرے کی حدودو قیود کا پابند کریں کھیل کو کھیل ہی کی شکل میں پیش کریں اس میں اللہ تعالی کی قائم کی گئی حدود و قیود کے پابند رہیں عوام کو باضمیر تصور کریں ناکہ ایسا کہ میڈیا جو بھی دکھاتا رہے عوام بس اندھی بنی دیکھتی رہے گی اور اداکار کیسے بھی کردار کو پیش کردیں عوام ہمیشہ انکی شہرت و مقبولیت کا ہار اپنے گلے کی زینت بنائے رکھے گی۔

اسماء اشفاق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.