میرا گھر میری جنت – عالیہ عثمان




باجی آج سونیا نے فون پر بتایا کہ سسرال میں اس کی کوئی حیثیت، عزت نہیں ہے۔ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتی اپنی مرضی سے پکا کھا نہیں سکتی ۔یہاں تک کہ کہیں جانے کے لئے کپڑے بھی ساس ،نند کی مرضی کے پہننے پڑتے ہیں ۔باجی کیا کروں میں بہت پریشان ہو گئی ہوں آپ ہی میری اور بچی کی کچھ رہنمائی کریں۔

ایسا تو نہیں ہے میں نے محرم کے مہینے میں شادی کی تو اس کے اثرات ہوں ہماری ایک ہی بچی ہے تین بیٹوں کے بعد ہوئی بہت لاڈ پیار سے پالا۔۔۔۔۔ اچھے اسکول و کالج میں پڑھا یا پتہ نہیں کہاں کمی رہ گئی جو میری بچی گھر میں سکون نہیں پا رہی ہے۔ آج کل تقریبا ہر تیسرے گھر کی یہی کہانی ہےاور سوچنے سمجھنے کا مقام ہے کہ ہم بچوں خصوصاً بچیوں کی تربیت میں کوئی کوتاہی تو نہیں کر رہے۔اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے یہ اس کی ذات کا تسلسل ہی نہیں اس کی امیدوں اور خواہشوں کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔نسل انسانی ماں کی آغوش میں تربیت پاتی ہے یہ صحیح ہے کہ آج کل کی مائیں پچھلے زمانے کی ماؤں سے زیادہ باشعور ہیں مائیں اگر کچھ تعلیم یافتہ ہے تو وہ اپنے بچوں کو نہ صرف تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہیں بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے خصوصا بچی ٹاپ کرے۔اس کے لئے مائیں خاصا سر رکھپا ہیں۔

اس طرح بچیوں کے ذہنوں پر بڑااثر پڑتا ہے ۔اس کے بجائے بچیوں کی جس چیز پر دھیان دینے کی ضرورت ہے وہ ان کا لباس ہے۔ آج کل بعض گھرانوں کی عورتیں تو فیشن زدہ ہو ہی گئی ہیں لیکن یہ بیماری وہ اپنی بچیوں میں بھی منتقل کر رہی ہیں فیشن کرنا بری بات نہیں ہے بشرطیکہ یہ اخلاقی حدود میں ہو۔چست لباس جس سے جسمانی خدوخال نمایاں ہوں مردوں کے لیے بھی مناسب نہیں، عورتوں کے لیے تو یہ بہت غلط ہے۔ایک مسئلہ بچیوں کے ساتھ یہ بھی ہے جاہل ہی نہیں تعلیم یافتہ مائیں بھی بچوں کو ایسے قصے کہانیاں سناتی رہتی ہیں جن سے ان میں بھوت پریت کا خوف پیدا ہوتا ہے اور انہیں ان قصے کہانیوں کے ذریعے وہمی مزاج اور ضعیف الاعتقاد بنا دیا جاتا ہے اور آگے چل کر یہ بچیاں نجومیوں ، عاملوں اور جعلی پیروں کے پیروں کے چکر میں پھنس جاتی ہیں اور ان کی وجہ سے تعویذ گنڈوں اور کالے جادو کے کاروبار کو ترقی ملتی ہے۔

ایسی عورتیں بھی ہیں، جو ہندووں کی طرح ہر بات میں شگون لیتی ہیں ۔یا یہ مہینہ منہوس ہے فلاں تاریخ کو شادی نہیں کرنی چاہیے ہم مسلمانوں کے لئے تو سارے مہینے محترم ہیں ۔آج کل کے دور میں دشمنان اسلام بلکہ دشمن انسانیت کواسلام میں خواتین کو ملی ہوئی عزت و شرافت اور تحفظ سخت ناگوار لگ رہا ہے ۔وہ مسلمان عورتوں کو تباہی و بربادی کے ایک ایسے جال میں لپیٹنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بنائے ہوئے خاندانی نظام کو توڑنے کچلتے چلے جائیں۔ہمارے آباواجداد مل جل کر ہنسی خوشی ایک چھت تلے آباد رہتے تھے، مکانوں کو گھر بنایا کرتے تھے۔ کیونکہ گھر اس دنیا میں آرام و سکون کا مرکز اور تہزیب کی بنیاد ہے اور گھر کو سکون کا گہوارہ بنانے میں مرد سے زیادہ عورت کا کردار ہوتا ہے۔ ایک مسلم خاندان میں دادا دادی، نانا نانی، چاچا، تایا شامل ہیں ،لیکن پچھلی دو دہائیوں سے سب کو الگ الگ مکان لے کر رہنے کے چسکے پڑ گئے ہیں وہ مکان، مکان ہی رہتے ہیں بہت کم گھر بنتے ہیں۔

بڑے بوڑھے سمجھاتے تھے کہ میاں بیوی کا ایک ایسا سابقہ ہے کہ ساری عمر اسی میں بسر کرنا ہے۔۔۔۔۔ دل ملا ہوا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اگر خدانخواستہ دلوں میں فرق آ گیا تو اس سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں۔۔۔خاندان کے افراد آپس میں اتفاق اور محبت سے اس وقت رہ سکتے ہیں جب ان میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہو ، نیز خاندان کی تشکیل اوربقا و سلامتی میں جو، جو عوامل کار فرما ہیں،. ان سے گھر کے افراد اچھی طرح واقف ہوں۔ والدین کی اطاعت اور بزرگوں کا احترام چھوٹوں سے شفقت اور رواداری کا برتاو ،روپے پیسے اور دیگر اشیاء کی منصفانہ تقسیم۔والدین کا اولاد کے لیے قربانیاں دینا، ان کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنا، انہیں اچھے برے کی تمیز سکھانا، انکی تعلیم وتربیت اسلامی خطوط پر کرنا ،انہیں درست سمت میں چلنے کی ہدایت کرتے رہنا ۔۔اور حقوق العباد ادا کرنے کی ترغیب دینا۔ دراصل ایک اچھے مہزب ،مضبوط اور خوشحال خاندان کی بنیاد رکھنے میں معاون و مددگار عوامل ہیں۔

ہمارے ہاں نوجوان اہل مغرب کے انداز اپنانے کی کوشش میں ان تمام ذمہ داریوں سے بچتے ہیں۔ نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی ان تمام باتوں کو فضول ،دقیانوسی اور بے کار سمجھتی ہیں ۔مائیں اپنی بچیوں کی تربیت میں ان عوامل کا خیال نہیں رکھتیں، انہیں شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ احسن طریقے سے رہنے کے طور طریقے نہیں سکھاتیں۔۔۔۔۔لڑکیاں کام کاج سے بھاگتی ہیں، ذمہ داریوں سے گھبراتی ہیں، شوہر کے حقوق کیا ہیں، انہیں نہیں معلوم ہوتا کہ بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے ، ماں اور بیوی کی حیثیت سے اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ وہ شادی سے قبل خوابوں کی زندگی میں رہتی ہیں ۔۔۔۔ ان کی نظر میں انہیں یہی سکھایا گیا۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ جب ان کے کاندھوں پر شوہر ، گھر بار اور اولاد کی ذمہ داریاں پڑیں تو ان کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے اور حقیقت بہت تلخ محسوس ہوئی ۔۔۔۔ اب زندگی بو جھ لگنے لگی اور خاندان میں دراڑیں پڑنی شروع ہوگئیں ۔

طلاقوں کا ایشو بہت بڑھ گیا ہےضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو دین کے زیادہ سے زیادہ قریب لایا جائے خصوصاً نوجوان نسل میں دینی اور مذہبی جذبات کو پیدا کیا جائے اور رسم و رواج کو ختم کیا جائے قرآن فہمی کی ترغیب دی جائے ۔ مجموعی طور پر یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ گھر کی رعیت کو جو مردنہ سنبھال سکے ۔وہ ملک کی سلطنت سنبھالنے یا اجتماعی فلاح کے لیے خدمت گزاری کا اہل بھی نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ماؤں کے کرنے کا کام یہی ہے کہ خاندان کو مستحکم رکھنے کے لئے بچوں میں اسلام کا احساس برتری پیدا کریں ۔ وہ بیج انکےدلوں میں ڈالیں جو اللہ تعالی کا بتایا ہوا ہے ۔ ہم ماؤں کا کام کمہار والا ہوتا ہے کہ جیسے مٹی کے برتن جس ساخت میں ڈالو وہ اسی میں ڈھل جایا کرتے ہیں ۔ اسی طرح بچے کی تربیت جس انداز سے کی جائے گی وہ اسی کو اپنا ئے گا۔
دیکھو سونیا بیٹا اللہ تعالی نے مرد کو قوام بنایا ہے وہ عورت کی بہت عزت کرتا ہے۔

جب تم اس کی کہی باتوں پر عمل کرو گی ، اپنے شوہر کے ماں، باپ ، بہن بھائیوں کو اپنا سمجھ کر ان کے ساتھ نباہ کرو گی تو وہ دل سےقدر کریں گےاس طرح ایک خاندان بنے گا اور تمہارے آنے والے بچے ایک خاندان میں اس طرح رہیں گے ۔۔ جیسےموتیوں کی مالا کی ۔۔۔۔جی خالہ جان میں آپ کی باتیں سمجھ چکی ہوں میرے لیے دعا کیجئے گا کہ میں اپنے گھر کو گھر سمجھوں میرا گھر ہی تو میری جنت ہے۔۔۔۔۔

موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپناہے۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں