پردہ – نعیم امین




ماں پچھلے تین دنوں سے بیمار تھی، قریبی میڈیکل اسٹور سے وہ معمول کے مطابق کھانسی کا سیرپ لا کر پلا چکا تھا لیکن اب کی بار کھانسی جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ کھانستی ماں تھی لیکن چبھن اس کے سینے میں ہوتی تھی۔ لیکن وہ کرتا بھی تو کیا؟

ایک طرف ماں کی تکلیف تھی اور دوسری طرف روٹی اور کپڑے کی جنگ تھی۔ وہ شہر کے جس بڑے ریسٹورانٹ میں بطور ویٹر نوکری کرتا تھا وہاں پر چھٹی ملنا انتہائی مشکل تھا۔ مگر اب اس سے اپنی ماں کی بگڑتی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ آخر اس نے تمام تر اندیشوں کو پس پشت ڈال کر کام سے چھٹی کر لی اور ماں کو ہسپتال لے گیا۔ خوش قسمتی سے ماں کی طبیعت تو ڈاکٹر کی دوا کی پہلی ڈوز کے ساتھ ہی کافی سمبھل گئی لیکن غریب کی زندگی میں اطمینان اکھٹا کبھی نہیں آتا۔۔!اگلے دن جب وہ ہمیشہ کی طرح دو بسیں بدل کر ریستورانٹ کی عظیم الشان عمارت میں داخل ہوا تو اُسے مینیجر صاحب کی طرف سے ملاقات کا شرف بخشا گیا۔ جس میں اسے نوکری سے بے دخلی کی خبر سنا کر ایک بار پھر اسکی قسمت پر کالی لکیر مار دی گئی۔ اس نے مینیجر صاحب کی منت سماجت کی مگر بے سود۔۔انسان جب ضروریات کی سخت برف باری میں دولت کی تپش سے لطف اندوز ہو رہا ہو تو اس کی انسانیت کی عینک پر بے حسی کی بھاپ ضرور جمع ہو جاتی ہے.

جس کے پیش نظر اُسے دوسرے انسانوں کی مجبوریاں اور مسائل نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیات اور حالات سے اس وقت وہ مینیجر صاحب بھی گزر رہے تھے!وہ شکست خوردہ سا ریسٹورانٹ سے باہر نکل آیا اور بے مقصد فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔ اس وقت وہ دل ہی دل میں آنے والے دنوں میں مایوسی اور مفلسی کی چادر کو اتار پھینکنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔ لیکن بہرحال ایک میٹرک پاس زیادہ سے زیادہ منصوبہ بندی کرتا بھی تو کہاں تک کرتا۔۔؟اس نے گھر جانے کے بجائے مختلف ہوٹلوں پر کام کی تلاش شروع کردی۔ وقت ڈھلتا گیا چمکتے ہوئے سورج کی جگہ شام کے سرکتے ہوئے سائے نے لے لی۔ وہ بد دلی سے ایک سستے سے ہوٹل میں داخل ہوا۔ یہ ہوٹل شہری آبادی سے ذرا فاصلے پر واقع تھا۔ اس نے یہاں پر بھی کام کی غرض سے عرضی پیش کی۔ وہ یہاں پر بھی کسی خاص توقع کے ساتھ نہیں آیا تھا مگر اسے چند پیسوں کے عوض یہاں کام مل گیا ۔ یہ تنخواہ گزشتہ ریسٹورانٹ والی تنخواہ سے تو کم تھی مگر پھر بھی ایک تسلی، ایک سہارا تو تھا۔۔!

اس نے اگلے دن سے اس چھوٹے اور معمولی ہوٹل پر کام کرنا شروع کردیا۔ یہاں پر آنے والے لوگ بھی اکثر اوقات مالی لحاظ سےنِچلے یا درمیانے طبقے کے لوگ ہوتے تھے۔ اس لئے ٹِپ یا دیگر لوازمات کا خیال ذہن میں لانا خام خیالی یا خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا۔لیکن ایک روز اس نے معمول کے برعکس ایک شخص کو دیکھا جو اسے اکثر پرانے بڑے ہوٹل میں نظر آیا کرتا تھا۔ ظاہری طور پر ہمیشہ کی طرح پینٹ کوٹ میں ملبوس۔۔اُس شخص کو دیکھتے ہی تھوڑی دیر کے لئے وہ سوچ میں پڑ گیا کہ ایسا کیا ہوا کہ اس شخص کو اس سستے ہوٹل کی راہ دیکھنی پڑی؟اس نے جلدی سے باقی کام چھوڑے اور فوراً سے اسکی طرف لپکا۔ اسے کسی امید نے کھینچا تھا یا شاید کوئی اور وجہ تھی۔ کیا پتا وہ شخص اسے پہچان لیتا؟ کیا پتا وہ اسکی پرانی نوکری بحال کروا سکتا؟ کیا پتا وہ اسکی کوئی مالی مدد کر دیتا؟ اچانک سے اس کے اندر سے وہی کچھ دن پہلے والا شرٹ پینٹ میں ملبوس ویٹر جاگ اٹھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس شخص کو خوش دلی سے سلام کیا جسے اس نے یکسر نظر انداز کردیا۔

اس نے گزشتہ مخصوس سٹائل سے آرڈر وصول کرنا چاہا کہ شاید وہ اسکے انداز سے اُسے پہچان جائے۔ لیکن یہ کوشش بھی رائیگاں گی۔ اس کے جواب میں اس شخص نی انتہائی بےزاری سے سخت لہجے میں اس سے کہا “تم لوگوں سے دو منٹ صبر نہیں ہوتا، دیتا ہوں آرڈر۔۔” اس کے ساتھ ہی اس نے ہمیشہ کی طرح “دو کپ چائے” کا آرڈر منہ پر مارنے والے انداز میں اس کی نظر کیا۔ وہ اس وقت حیرت کے شدید جھٹکے کے زیر اثر تھا۔ اس سے پہلے وہ اِس انسان سے بالکل اِسی انداز میں ڈیل کرتا تھا جسکا جواب اسے انتہائی نرم مزاجی سے شکریہ، مہربانی اور چند ایک انگریزی کے الفاظ کے ساتھ ملا کرتا تھا۔ لیکن آج لہجہ اور انداز یکسر مختلف تھا ـ گاہک بھی وہی تھا، دو کپ چائے کا آرڈر بھی وہی تھا لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ آج ویٹر کا لباس پینٹ شرٹ کے بجائے سادہ تھا اور جگہ بڑے ریسٹورانٹ کے بجائے ایک معمولی سا ہوٹل تھا۔وہ جب اس شخص کی طرف لپکا تھا تو سوالات اس کے ذہن میں اُبھر رہے تھے، وہ جب واپس آرہا تھا تو تب بھی سوالات کا سلسلہ جاری تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے والے سوالات میں “آس اور امید” کا عنصر نمایاں تھا، لیکن واپسی والے سوالات “تجسّس، حیرت اور مایوسی” سے بھرپور تھے۔ وقت گزر گیا۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔وقت نے تو گزرنا ہی ہوتا ہے، لیکن نشان چھوڑ جاتا ہے۔۔ شام کو گھر واپسی سے پہلے وہ ناصر کے ساتھ مل کر بچے ہوئے برتن دھو رہا تھا۔ ناصر اس سے تجربے اور عمر میں تھوڑا بڑا تھا، اور ناصر کی شائستہ طبیعت کی وجہ سے وہ چند ہی دنوں میں اس سے کافی گھل مل چکا تھا۔ بظاہر وہ برتن دھونے میں مصروف تھا لیکن اس کا ذہن اب بھی صبح والے واقعے کو لے کر الجھا ہوا تھا۔ اس کی یہ الجھن ناصر نے اس کے اترے ہوئے چہرے سے محسوس کر لی اور کہا “کیا یار آج بہت اداس لگ رہا ہے، کوئی پریشانی ہے کیا؟ ماں جی کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟” کوئی اور ہوتا تو وہ اپنے دل کی بات چھپا بھی لیتا، لیکن یہ ناصر تھا اماں کے بعد ناصر ہی واحد شخص تھا جس سے وہ کبھی کبھار اپنے دل کی بات کرلیا کرتا تھا۔ اس نے صبح والا واقعہ شروع سے لے کر آخر تک ناصر کے گوش گزار کر دیا۔ناصر اُس کا قصّہ سن کر مسکرا دیا اور پھر کچھ دیر بعد گویا ہوا: “یار سن! یہ مال و دولت، پیسے کی ریل پیل، سٹیٹس وغیرہ یہ بڑی بےرحم چیزیں ہوتی ہیں۔

یہ انسان سے اُسکی اصل چین لیتی ہیں۔ دولت کو انسان اگر اُسکی اوقات میں نہ رکھے تو یہ انسان کو اُسکی اپنی اوقات بھلا دیتی ہے۔ پیسے کو انسان جیب کے اندر تک محدود نہ رکھے ناں تو یہ پیسہ انسان کے اخلاق، جذبات، احساسات غرض ہر خوبی پر حاوی ہونے لگتا ہے۔ پھر اُسکی آنکھ اُسی چیز کو دیکھنا پسند کرتی ہے جس میں دولت کی جھلک ہو، اُس کی زبان اُسی کے گُن گاتی ہے۔ جو اس کے اپنے ظاہر سے میل کھاتا ہو۔ گویا اسکی ہر ایک حس کے سامنے ایسا پردہ آجاتا ہے جس سے صرف وہی گزر پاتا ہے جو دولتمند ہو یا کہیں نہ کہیں سے دولتمند لگتا ہو۔”ناصر کی باتوں میں اسکے سوالات کے جوابات تھے یا نہیں۔۔ لیکن وہ اس کی باتوں سے حیران ضرور ہوا تھا۔ بظاہر بیوقوف اور ان پڑھ نظر آنے والا معمولی سا بیرا زندگی کے حقائق سے کس قدر واقف تھا، جن حقائق کو شاید اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ لیکن خیر ایک معمولی بیرا بھی “انسان” ہے یا سینے میں ایک عدد “دل” رکھتا ہے اس بات کی کسی کو کیا پرواہ۔۔؟ اُس نے اپنے دماغ میں سوچوں کے سیلاب پر بند باندھا اور دوبارہ سے برتن دھونے میں مصروف ہوگیا۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں