جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 03




قسط نمبر۰۳

”السلام و علیکم۔۔۔!!“
”جی وعلیکم السلام۔۔۔۔کہیے؟؟“
میں ناصر بول رہا ہوں!
اچھا!!!
آپ کے کزن کا دوست ہوں۔
تو میں کیا کروں؟؟
پچھلے ہفتے ہی ہماری دوستی ہوئی ہے!!
اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟

نائلہ کو یونیورسٹی پہنچے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کلاس شُروع ہونے میں خاصہ وقت تھا سو وہ کینٹین چلی آئی ”سینڈوچ ہاتھ میں لے کر پلٹتے ہوئے‘اس کی نظر اجیہ پر پڑی تھی۔نیلا پرنٹڈ اسکارف پہنے ہاتھ سے بار بار اسکارف کے اندر سے نکلتے ہوئے بالوں کو سنوارتے وہ سر جھُکائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔وہ اجیہ کی طرف لپکی ہی تھی کہ۔۔۔۔۔ موبائل بج اُٹھاتھا۔تیزی سے پرس کھول کر موبائل نکالتے ہوئے اُس نے سر اُٹھاکر اجیہ کو دیکھاوہ اب بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔موبائل چہرے کے سامنے لا کر اسکرین پرجلتے بھجتے نمبر کو دیکھ کر کندھے اُچکاتے ہوئے اُس نے اُس کی کال ریسیو کی،دوسری طرف سے کہی جانے والی بے سرو پا باتوں کو اُسکا ذہن سمجھنے سے قاصر تھااور نا ہی یہ بات اُس کی سمجھ میں آرہی تھی کہ یہ فون اُسے ہی کیوں کیا گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟

کیا اس شخص کو اپنا تعارف کروانے کے لیے کوئی او ر نہیں ملا تھا۔۔۔قاسم کے اور بھی تو کزنز ہیں میں اکیلی تو نہیں۔۔۔یا پھر وہ شخص شاید اپنے ہر نئے دوست کے رشتہ داروں کو اپنا تعارف کرواتا ہو گا۔۔خیر جو بھی تھا۔۔ابھی تو اجیہ سے ملنا ہے مُجھے،پتہ نہیں کتنے دن ہوگئے ہمیں آپس میں ملے ہوئے۔اس نے متلاشی نظروں سے بینچ کو دیکھا۔وہ نیلا اسکارف ابھی بھی وہیں تھا۔وہ مُسکراتے ہوئے موبائل پرس میں رکھنے لگی،ٹیبل پر سے سینڈوچ اُٹھاتے ہوئے اُس نے ایک ہاتھ سے پرس اپنے دائیں کندھے پر منتقل کیا۔دوسرے ہاتھ سے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُس نے سن گلاسز آنکھوں پر ٹکائے تب ہی اُسکی نظریں ایک پھر بینچ کے اطراف میں بھٹکی تھیں۔۔۔اجیہ اب وہاں سے اُٹھ رہی تھی۔

اوہ ہ ہ!!!وہ تیزی سے کینٹین سے باہر نکلی۔
”اجیہ۔۔۔۔“اجیہ کی جانب بھاگتے ہوئے اُس نے پکارا۔شاید اجیہ نے سُنا ہی نہیں تھا۔وہ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہی تھی۔
”اجیہ۔۔رُکو“اس نے پھر بلند آواز سے کہا اور اس بار شاید اجیہ نے سُن لیا تھا۔تب ہی وہ پلٹی تھی۔نائلہ کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی وہ مُسکرانے لگی،مسکرانے سے اُس کے چہرے کی پُر مژدگی میں کُچھ کمی واقع ہوئی تھی،

سلام۔۔کہاں تھی تُم اتنے دنوں سے؟؟؟“نائلہ نے اُسکے قریب پہنچتے ہی اُجلت میں سلام کر کے سوال داغا۔وہ جواب دیئے بغیر اسکے چہرے کو تکنے لگی۔
”اجیہ کیا ہوا؟؟؟ ٹھیک تو ہو؟؟؟
”میں۔۔۔۔پتہ نہیں۔“
کیا مطلب پتہ نہیں؟؟یہ کیا بات ہوئی اتنے دنوں سے غائب ہو۔۔ نا یونیورسٹی آرہی ہو نا میسجز کا رپلائی دے رہی ہو پتہ ہے میں کتنا پریشان تھی۔“
”مُجھ سے ذیادہ پریشان تھی؟؟ اجیہ نے اسکی بات کے جواب میں صرف ایک جملہ کہا۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے الفاظ میں نمی گھُل گئی تھی۔

یار، کیا ہو اہے۔تمھارے فادر تو ٹھیک ہیں نا؟؟؟
نازیہ وہ کیسی ہے؟؟؟“
”نہیں۔۔۔وہ سب ٹھیک ہیں“
”اوہ، اللہ کا شُکر ہے لیکن پھر تُمہیں کیا ہوا ہے؟؟؟“
”کُچھ نہیں ہوا“اسکی آنکھوں میں موتی جمع ہو رہے تھے۔
”اچھا مان لیتے ہیں تمہیں کُچھ نہیں ہوا پھر تُمہارے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟؟“
”بس۔۔۔ایسے ہی۔۔“

اُف،ا ب مُجھے یقین ہو گیا ہے کہ کہیں نہ کہیں کُچھ نہ کُچھ گڑ بڑ ہے اور شاید تُم مُجھے بتانا نہیں چاہ رہی اوکے!!!تمھارا پرسنل معاملہ ہو گا کوئی،ٹھیک ہے پھر میں چلتی ہوں بائے“نائلہ خفا سی واپس پلٹنے لگی۔
اُسنے سر اُٹھایا،آنکھوں میں جمع ہوئے آنسو بہنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی ناک سُرخ ہو چُکی تھی۔
”نائلہ۔۔ بمشکل تمام بھیگے ہوئے لہجے میں اس نے ہولے سے پکارا۔
”اجیہ۔۔۔“مُسکراتے ہوئے نائلہ اُسکی طرف گھوم گئی اور پھر اسکی جھلملاتی آنکھیں دیکھ کر بے اختیار اُسکا دل بھر آیا۔

اجیہ،بتاؤ نا کیا ہوا ہے مُجھے تو بتا دو تُم نے ہمیشہ ہر بات مُجھے بتائی ہے پھر اس بار ایسا کیا ہوا ہے جو تُم اتنا تردّد کر رہی ہو۔“اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھے پر رکھ کر چہرے کو ذرا سا جھُکاتے ہوئے اُسکے قریب ہو کر اُس نے کہا۔
”نائلہ۔۔کہیں اکیلے میں بات کرتے ہیں“
ہاں آؤ۔۔۔۔وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے تقریباََ تنہائی والی جگہ پر آگئیں۔
”اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟“نائلہ نے اُسکے بامقابل بیٹھتے ہوئے کہا۔
”نائلہ اصل میں۔۔وہ۔۔دراصل ایک ہفتے سے۔۔۔۔“گود میں رکھے پرس سے کھیلتے ہوئے اس نے رانگ نمبر والی ساری بات اس کو کہہ سُنائی۔
”اچھا!“اجیہ کی بات ختم ہونے کے بعد اس نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔

اجیہ نے اسکے گالوں میں پڑنے والے گہرے ڈمپلز کو حیرت سے دیکھا جو شاید اسکی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کے نتیجے میں پیدا ہو رہے تھے۔
”تُم ہنس رہی ہو؟؟“
”میں کہاں ہنس رہی ہوں؟“
”میں تمھیں اچھی طرح جانتی ہوں“
”ہاں تو؟ہنسنے کی بات ہے نا۔تُم فالتو میں ایک رانگ نمبر کی وجہ سے اتنی پریشان ہو میں تو تُمہیں عقلمند سمجھتی تھی۔آخر کیا وجہ ہے پریشان ہونے کی،روز ہزاروں لڑکیوں کو ایسے سینکڑوں فون آتے ہوں گے اگر ان میں سے ہر ایک تُمہاری طرح پریشان ہونے لگی تب تو ہو گیا کام۔۔!خود مُجھے اب تک دس بارہ رانگ کالز آچُکی ہیں۔اگنور کرتے ہیں یار۔۔اس طرح پریشان ہو کر اپنی روٹین ڈسٹرب نہیں کرتے۔یہ جو رانگ کال کرنیوالے ہوتے ہیں نا ان کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ساری توجہ اپنی جانب کروا لیں اور۔۔‘

”نائلہ۔۔‘
اجیہ نے اسکی بات کاٹ دی،اسکی آواز کی نمی غائب ہو چُکی تھی۔نائلہ بے تکان بولتے ہوے یکدم رُک کر اُسے دیکھنے لگی۔”Stop it now,I dont want any type of such comments، میں چھوٹی سی بچی نہیں ہوں کہ یہ سب باتیں نہ سمجھ سکوں لیکن بات اتنی سی نہیں۔۔،میرے پاس بھی ڈھیروں رانگ نمبرز آتے ہیں تُم ٹھیک کہتی ہو محض رانگ نمبر سے اس طرح پریشان ہو کر اپنی روٹین ڈسٹرب کرنا عقلمندی کی نشانی نہیں ہے،لیکن نائلہ یہ صرف رانگ نمبر نہیں ہے اس میں بہت سی خاص باتیں ہیں جو مُجھے پریشان کر رہی ہیں،اُن ہزاروں لڑکیوں کو جن کا تُم نے ذکر کیا ہے ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی وہ نمبر روز نہیں آتا ہو گا۔۔کال ریسیو کرنے پر خاموشی نہیں ہو جاتی ہو گی۔“اجیہ بولتی چلی گئی،اب اسے نائلہ پر غصہ آرہا تھا کہ اُس نے بات سمجھنے سے پہلے ہی تقریر جھاڑ دی تھی۔

”اب صرف ایک بات کہنی ہے مُجھے۔۔“
لمحہ بھر کے توقف کے بعد اُس نے سر جھُکائے بیٹھی نائلہ سے کہا۔
”ہاں۔۔؟؟“
”تُم اپنے ابو سے کہہ کر یہ رانگ نمبر ٹریس کروا سکتی ہو؟؟“
”ہاں میں کوشش کروں گی“
نائلہ نے سر اُٹھا کر کہا۔
”تُم وہ نمبر مُجھے سینڈکر دو“
”ٹھیک ہے “۔
نائلہ نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسکے طرف دیکھا تھا،وہ مُسکرا دی۔
”اجیہ۔۔ویری سوری میں بالکل بھی۔۔“اجیہ نے اسکارف پن درست کرتے ہوئے کہا،
”اٹس اوکے نائلہ۔۔کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا“
”اچھا پھر اب چلتے ہیں کلاس میں ویسے ہی لیٹ ہو گئے ہیں“نائلہ گھڑی دیکھتے ہوئے بولی،اجیہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔”ہاں جلدی کرو“وہ دونوں اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئیں۔

٭٭٭

اجیہ اور نائلہ اسکول کے زمانے سے ایک دوسرے کی راز دار تھیں،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی دوستی بہترین ہوتی گئی۔اب یہ حال تھا کہ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا۔اسکول میں بھی ان دونوں کی دوستی کی مثالیں دی جاتیں تھیں۔دونوں کلاس کی ذہین ترین اسٹوڈنٹس اورٹیچرز کی آنکھوں کا تارا تھیں۔وہ ہر کام ایک جیسا کرتیں چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔عادتیں،اسائنمنٹ،ڈریسنگ حتّٰی کہ دونوں کی بعض اوقات سوچ بھی یکساں ہوتی۔اُس روز آسمان ابر آلود تھا جب دونوں کی پہلی مُلاقات ہوئی۔وہ دن اُن کی بے مثال دوستی کے آغاز کا پہلا دن تھا۔

٭٭٭

(جاری ہے….)

پہلی قسط ملاحضہ کیجیے:

دوسری قسط ملاحضہ کیجیے :

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 03” ایک تبصرہ

  1. ما شآء اللہ، ناول اچھا ہے۔ امید ہے کہ یہ دنیائے ادب میں ایک تعمیری اخلاقی اضافہ ثابت ہوگا، انشاء اللہ! اگلی اقساط کا انتظار رہے گا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں