جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 06




قسط نمبر ۰۶

جو یقیں کی راہ پہ چل پڑے۔۔

انہیں منزلوں نے پناہ دی۔۔
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا۔۔
وہ قدم قدم پر بہک گئے۔۔
وہ چراغ بجھ کے بھی کیا بجھا۔۔
کہ وہ نور اتنا عجیب تھا۔۔
سر عرش سے تہہ خاک تک۔۔
سبھی روشنی میں نہا گئے۔۔

سرخ روشنائی سے سفید کاغذ پر لکھے ہوئے یہ الفاظ صبا کی تمام توجہ جذب کر رہے تھے اس کے لیے اس نظم میں سمندر کی سی گہرائی تھی خود اس وقت کوئی اس کی آنکھوں میں جھانک لیتا تو اسے وہاں دریا کنارے سنسناتی ہوئی سیاہ رات کا عکس نظر آتا۔۔اس سیاہ رات کا عکس جسے صبح کا انتظار ہو۔

وہ کوئی بھی نظم پڑھتی تو اس کے الفاظوں کی گہرائیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ کہیں سے کہیں نکل جاتی تھی اس کے خیال میں زندگی ایک پراسرار اور گہرا سمندر تھی ایسا سمندر جس کی گہرائیوں کو ڈھونڈنے کے لیے خود کو فنا کرنا پڑتا ہے۔قریب سائیڈ ٹیبل پر رکھا چائے کا کپبھاپ اڑا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے دلاتے جانے کب سرد پڑ چکا تھا کھڑکی پر لگے سیاہ پردوں کے پیچھے سورج غروب ہوچکا تھا۔ صبا کو سیاہ رنگ بہت پسند تھا۔ اسی لئے اس کے کمرے میں موجود ہر چیز سیاہ،حتی کہ فرنیچر، کارپٹ ، دیواریں ، پردے سب کچھ لیکن وہ خود زیادہ تر سفید لباس پہنا کرتی ایسا نہیں تھا کہ اس کی زندگی صرف سفید اور سیاہ کے درمیان گھومتی تھی وہ ہر طرح کے لباس زیب تن کیا کرتی،اس کی کاسمیٹکس،جیولری سب مختلف رنگوں کے تھے لیکن وہ سب الماریوں میں بند رہتا تھا یوں اس کا پورا کمرہ تاریک رات جیسا لگتا،حتی کہ ٹیبل پر دھرا لیمپ بھی سیاہ تھا جس کی روشنی کمرے کی تاریکی کو کم کرنے کی ناکام سی کوشش کرتی رہتی تھی۔۔

ابھی بھی وہ اپنے سیاہ کمرے میں لیمپ کے سامنے صفحات کئے بیٹھی ہوئی تھی کمرے میں روشنی کے صرف دو منبع تھے سیاہ لیمپ سے نکلتی زرد روشنی اور وہ خود۔۔۔۔۔۔۔خود اس نے سفید گھیردار فراک پہنی ہوئی تھی گلے پر سیاہ اور گولڈن موتیوں کا نازک سا کام ہوا تھا فراک کے دامن پر بھی چھوٹے چھوٹے سیاہ نگ لگے ہوئے تھے ساتھ گولڈن چوڑی دار پاجامہ تھا۔ اس کے بال گہرے سیاہ تھے اس کے کمرے کی تاریکی کی طرح۔۔کہیں کہیں سے وہ تھوڑے گولڈن تھے سنہری۔مانگ نکالتے وقت وہ نمایاں ہوجاتے تھے۔ سفید لباس میں بالوں کو جوڑے میں باندھے بے خود سی وہ نظم پڑھے جا رہی تھی یوں لگتا تھا جیسے سیاہ رات میں دمکتا چاند ساکت ہوگیاہو۔اس کی نظریں ایک کے بعد ایک جملے پر پھسلتی جارہی تھیں۔وہ آس پاس کی تاریکی سے بے خبر اس نظم کی گہرائی میں اپنے وجود سمیت ڈوب چکی تھی۔

وہ چلے تو دشت و جبل بھی ان۔۔
کے قدم کی دھول میں چھپ گئے۔۔
وہ رکے تو سینہ خاک پر۔۔
نئی داستان سجا گئے۔۔
دل و جاں سے لاکھ قریب ہیں۔۔
وہ نظر سے جتنے ہی دور تھے۔۔
وہ دلیل بن کے حیات کی۔۔
سبھی فاصلوں کو مٹا گئے۔۔

اس کی محویت موبائل پر آنے والے میسج کی ٹون سے ٹوٹی تھی، اس نے بھنویں اُچکائیں، سر کوہلایا، آس پاس دیکھا سب کچھ تو تاریک تھا بس موبائل کی کی اسکرین جگمگا رہی تھی ہاتھ بڑھا کر آنے والا پیغام پڑھتے ہوئے وہ واپس دنیا میں آچکی تھی۔ موبائل واپس رکھ کر اس نے نظم کو ایک بار پھر سے پڑھا پر سوچ انداز میں ہنکارالیتے ہوئے اس نے صفحہ پلٹاہونٹوں پر پھیلنے والی مسکراہٹ ثابت کر رہی تھی کہ وہ ان گہرائیوں کو تلاش کرچکی ہے اور اگلے صفحہ پر نئی دنیا اس کی منتظر تھی۔

وہ خواب،وہ گل رنگ خواب۔۔
جس کی تعبیر تمنا میں آنکھیں کھلی ہی رہیں۔۔مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی۔
وہ روشنی۔۔،جس کی ضو کے لیے میں نے زندگی تج دی۔۔
وہ منزل۔۔،جس کے لیے میں نے قدموں کو آشنائی صعوبت کیا۔۔
وہ قلب حزیں۔۔جو تکمیل تمنا کی آرزو میں نیم بسمل رہا۔۔

سوچ کے بند ہوتے دروازے پھر سے کھل گئے آس پاس سمندر کی لہروں کا ساشور سنائی دینے لگا۔ تاریک رات پھر چھا گئی۔اس کا سفید وجود پھر کائنات کی وسعتوں میں بھٹکنے لگا،اس کی سوچ کی گہرائیاں ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں۔

ہاں وہ خواب، گل رنگ خواب۔۔
خوشبو، مہک،تازگی،زندگی۔۔
روشنی چاند سی روشنی۔۔
ضیاء نور،آشتی،آگہی۔۔!
کہاں کھو گئی۔۔؟
آنکھیں جھلملانے لگیں تھیں،
وہ راستہ،سیدھا راستہ۔۔
علم و عمل، وہ جذبہ جاں فزا۔۔
کہاں رہ گیا۔۔؟

وہ دل، وہ دیا۔۔کہاں کھو گیا؟؟؟

گالوں پر موتی لڑھکتے چلے گئے،اس نے بے اختیار وہ سفید کاغذوں والی کتاب بند کر دی تھی۔

٭٭٭

” اجیہ۔۔ ؟؟“
”کہاں ہو چندا۔۔ تُمہارا فون ہے“نازیہ موبائل ہاتھ میں پکڑے اسے آوازیں دیتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔
” اجیہ۔ نائلہ ہے اسے تُم سے کوئی ضروری بات۔۔“

اسکی بات ادھوری رہ گئی۔اجیہ کُشن پر دونوں ہاتھوں کے اوپر سر رکھ کر گہری نیند میں تھی۔اسکی دراز پلکیں آنکھوں کے نیچے جھک کر ہلکے سے حلقوں کوچوم رہی تھیں،دوپٹہ سر سے لڑھک کر ہاتھوں پرگرا ہوا تھا۔بالوں کی لٹیں ایک آنکھ کو چھُپا رہی تھیں۔نیند میں بھی گلابی ہونٹوں پر تبسم پھیلا ہوا تھا۔“ نازیہ کُچھ دیر یونہی دیوار سے ٹیک لگائے اسے دیکھتی رہی پھر موبائل واپس کان سے لگا یا۔
”نائلہ۔؟“
”ہاں۔اجیہ سو گئی ہے“
”ٹھیک ہے۔اوکے بائے“

موبائل بند کرکے ٹیبل پر رکھ کر، اجیہ کے گرے ہوئے ہاتھ کو آہستگی سے اُٹھا کر اس نے کشن پر رکھا اسکے بعد وہ اُٹھی،الماری سے چادر نکالی اور نرمی سے اسکے پُرسکون انداز میں سانس لیتے وجود پر ڈال دی۔پھر و ہ جھُکی،اجیہ کی پیشانی پر آئے بالوں کو ہٹایا اور آہستہ سے اسکی سلوٹوں والی پیشانی کو چوم لیا۔اجیہ ذرا سی کسمسائی،کُشن کے اوپر دھرا اسکا ہاتھ پھر نیچے کو لُڑھک گیا۔ پیشانی پھر بالوں کے پیچھے چھُپ گئی۔اس نے اپنی مُسکراہٹ روکی،واپس اُٹھتے ہوئے اس نے پھراجیہ کے ہاتھ کو نرمی سے کُشن کے اوپر رکھا۔اے سی بند کیا۔اور وہیں اسی کُشن پر سر رکھ دیاجہاں ا جیہ کا ہاتھ تھا اور آنکھیں بند کر لیں۔

ماما کے انتقال کے بعد سے وہ اجیہ کا بے حد خیال رکھا کرتی تھی۔اجیہ اسکی چھوٹی بہن تھی۔اس نے اجیہ کے لیے ماں کی کمی کو پورا کرنے کی بے حد کوشش کی بلکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ماں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔بے حد خیال رکھنے والی پُر خلوص بہنیں۔۔اگرچہ کہ وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر تنہا ہو گئیں تھیں لیکن ایک دوسرے کاحوصلہ بڑھانے کے لیے وہ خودکو مضبوط ظاہر کرتیں۔نازیہ نے اسے کتنی ہی راتیں جاگتے دیکھا تھاکتنی ہی بار وہ اس کی متورم آنکھیں دیکھ چکی تھی کتنی ہی بار اس نے اسے بلک بلک کر روتے دیکھا تھا اور اسے چُپ کرانے کی کوشش میں وہ خود بھی بُری طرح رو پڑتی تھی اور پھر ان دونوں کو چُپ کرانے کے لیے کوئی نہیں آتا تھاوہ روتی رہتیں،پھر کتنی ہی دیر بعد ایک دوسرے سے لپٹ کر،ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے ان کی آنکھیں خشک ہو جاتیں،دونوں کے دُکھ یکساں تھے لیکن اجیہ کے دُکھ زیادہ تھے شاید۔۔!

٭٭٭

اجیہ گہری نیند میں تھی جب موبائل بجنا شروع ہو،ا کچھ لمحوں بعد اپنی سماعتوں پر ناقابل برداشت بوجھ محسوس کرتے ہوئے اس نے بدقت آنکھیں کھولیں۔ موبائل کی تلاش میں نظریں ادھر ادھر دوڑ ائیں،ماتھے پر آئے بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کر بیٹھ گئی کمرے میں نیم تاریکی تھی۔کھڑکی سے چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی دروازے کے قریب رکھی ٹیبل پر دھرا موبائل جل بجھ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے موبائل ٹون کمرے کی خاموشی میں کسی تیز رفتار بلڈوزر کی طرح کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھی، اسے اپنے سر پر بھاری سا بوجھ محسوس ہونے لگا۔یکلخت اسے فون کرنے والے پر بے تحاشا غصہ آیا، ہمیشہ بے وقت آنے والی فون کالز اس کی نیند خراب کر دیتی تھی کُشن سائیڈ پر رکھتے ہوئے وہ اٹھنے لگی، تب ہی اس کی نظر نازیہ پر پڑی، وہ اس کے برابر میں معصومانہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سو رہی تھی، وہ مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھیمو بائل اسی طرح جل بجھ رہا تھا۔بُڑبڑاتے ہوئے اس نے اسکرین کو دیکھا۔اسکا غصہ بھک سے اُڑ گیا۔

بے اختیار اس نے گھڑی کو دیکھا۔ٹھیک نو بج رہے تھے دل بے تحاشا دھڑکنے لگا۔ آنے والی کال کسی انجانے نمبر سے تھی۔میں نے تو وہ نمبر بلاک کر دیا تھا پر اب یہ کس کا نمبر ہے؟؟ویسے میں تو یوں ہی پریشان ہو رہی ہوں کوئی دوست بھی تو ہو سکتی ہے نا لیکن نو بجے۔۔اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے اسنے ذرا سا رُخ موڑ کر بے خبرسوئی نازیہ کو دیکھا اور سبز حصہ دبا دیا۔

ایک سیکنڈ۔۔دو سیکنڈ۔۔تین سیکنڈ۔۔چار۔۔۔پانچ۔۔مکمل خاموشی۔۔

ہونٹ کاٹتے ہوئے اس نے لائن کاٹ دی وہ بے حد مضطرب ہو گئی تھی۔سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بے دم سی ہو کر کُرسی پر گر گئی۔کون ہے آخر؟؟کیوں مُجھے اس طرح اذیت دے رہا ہے۔۔دے رہا ہے یا دے رہی ہے۔۔مُجھے نہیں معلوم،پہلا نمبر تو بلاک کر دیا تھا اب کسی اور نمبر سے یہ سلسلہ پھر سے شُروع ہو گیا ہے میں کیا کروں کتنے نمبرز بلاک کروں گی کتنوں کو ٹریس کرواؤں گی۔۔اور نائلہ بھی تو پتہ نہیں کہاں غائب ہے نہ خود فون کرتی ہے نہ ریسیو کرتی ہے،شاید اس نے وہ نمبر ٹریس کروایا ہو شاید نہیں کروایا ہو لیکن جو بھی ہو مُجھے بتا تو دیتی،پچھلے تین دنوں سے میرا س سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور تین دن سے یہ فون بھی تو نہیں آرہا تھا اب پھر۔۔اس کی پریشانی بڑھ گئی۔

٭٭٭

(جاری ہے….)

اپنا تبصرہ بھیجیں