جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر09




قسط نمبر ۰۹

”اور جب تُمھارے دل میں شیطان کی طرف سے غلط خیال پیدا کیا جائے تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بے شک وہ ہر شے کا سُننے والا اور جاننے والا ہے۔“

آڈیو پلئیر پر کوئی قاری قرآن پاک کی نہایت خوش الحانی سے تلاوت کرنے کے بعد سحر انگیز انداز میں ترجمہ پڑھ رہا تھا۔اجیہ کُرسی کی پُشت سے ٹیک لگائے کمپیوٹر کی اسکرین پر نگاہیں جمائے ساکت بیٹھی تھی جیسے کہ حرکت کرنے سے وہ کوئی لفظ سُننے سے محروم نہ ہو جائے۔

آج آسمان پر ایک باد ل بھی نہ تھاشفاف آسمان پر سورج کے نکلنے سے پہلے پھیلی ہوئی پیلاہٹ،چڑیوں کی چہکاریں،کمرے کا نیم تاریک اور پُر سکون ماحول۔۔قرآن پاک کے الفاظ کان کے راستے دل میں اُتر رہے تھے،سفید اسکارف کے ہالے میں اسکا صبیح چہرہ،آیات قرآنی کے ذریعے دل میں کروٹ لیتے طوفان کی ترجمانی کر رہا تھا اسکرین کی روشنی اسکے روشن چہرے کو مزید روشنی عطا کر رہی تھی۔ اسکی کمپیوٹر ٹیبل کھڑکی کے برابر میں تھی۔فجر کے بعد کی پُر نور فضامیں ہلکی سی نمی لیے درختوں کے شبنم آلود پتوں کو ہلاتی ہوا کھڑکی کے راستے اندر داخل ہو کر اسکے اسکارف سے نکلتے بالوں کو چہرے پر بکھیر دیتی۔ایسے میں وہ مزید دلکش ہو جاتی۔اس کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔وہ سکون جو اہل ایمان کو قرآن کی تلاوت کے بعد محسوس ہوا کرتا ہے۔اسکی روح جیسے انہی الفاظ کو سننے کے لیے وجود میں آئی ہو۔

اس کی سماعتیں جیسے کُچھ اور سُننے کی عادی ہی نہ ہوں۔اسکا دما غ جیسے ان آیات کے علاوہ کسی اور چیز سے آشنا ہی نہ ہو۔۔قاری کی آواز کی گونج جہاں جہاں جا رہی تھی وہ جگہ پُر نور ہوتی جا رہی تھی۔کمرہ یکدم روشن سا لگنے لگا تھا۔ آج صبح رات کی بے خوابی کے باوجود اس کی آنکھ فجر کی اذان پر کھُل گئی تھی۔چند لمحے بیڈ پر وہ بے مقصد لیٹے آس پاس خالی نظروں سے دیکھتی رہی پھر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ہاتھ بڑھا کر کر لیمپ آن کیا تو اسے اپنا سایہ دکھائی دیا۔زرد روشنی میں نیم تاریک سا وہ سایہ واضح نہیں تھا،ایک ساعت کے لیے بہت سی تلخ باتیں اس کے ذہن میں اُمڈ آئیں۔کُچھ جھنجھلا کر اس نے اپنے سر کو یوں جھٹکا جییے کوئی فالتو اور بھاری چیز اُتار دینا چاہتی ہو۔سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے سب کُچھ بھُلانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بیڈ سے اُٹھ کر بے آواز چلتی کھڑکی کے برابر کمپیوٹر ٹیبل کے سامنے پڑی کُرسی پربیٹھ گئی۔

کُھلے بالوں کو جوڑے میں لپیٹ دیا اور باہر کا نظارا کرنے لگی،آسمان پر ہلکی سی نیلاہٹ چھا رہی تھی،سب کُچھ تاریک تھا اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں اسے خالی سڑک ہی نظر آسکی اسے دیکھنے کی طلب ہوتی تو نظر تو سب آرہا تھا لیکن اسنے کوشش ہی کب کی تھی۔اپنے اندر کی اضطرابی کیفیت کو وہ نجانے کس سے چھُپا رہی تھی حالانکہ اسکا چہرہ سب کُچھ واضح کر رہاتھا۔سُرخ آنکھیں،پیشانی پر لاتعداد شکنیں،زرد رُخسار،گہرے ہوتے حلقے، گلابی ہونٹوں کی سُرخی بھی پہلے کی طرح نمایاں نہ تھی۔۔۔۔۔ انجانے نمبر سے آنے والی کال کو برداشت کرتے کرتے تین ہفتے ہو گئے تھے۔پہلا نمبر اسنے بلاک کیا تو محض تین دن کے وقفے کے بعد وہ سلسلہ دوبارہ شُروع ہو گیا،تنگ آکراس نے وہ نمبر بھی بلاک کر دیا۔پھر کسی بھی قسم کے وقفے کے بغیر اگلے دن نو بجے اسکرین پر دوبارہ کوئی غیر شناسا نمبر جل بجھ رہا تھا۔

وہ جو بھی کا ل کرتا تھا بہت ڈھیٹ تھا نہ اسے اجیہ پر ترس آتا تھا نہ اسکی حالت پر۔۔اس نے پہلے ہی دن سے اس کال کو سنجیدہ لیا تھااور اب تو یہ صورتحال واقعی سنجیدہ ہو گئی تھی۔نائلہ کو اس دن یونیورسٹی میں سب کُچھ بتانے کے بعد اجیہ کا اس سے رابطہ نہیں ہو پایا تھا،ایک ہفتے پہلے رات کو اسکا فون آرہا تھا لیکن وہ اس وقت سو رہی تھی شاید،نازیہ نے اسے اگلے دن ہی بتا دیا تھا۔۔اسکے بعد وہ یونیورسٹی نہیں گئی سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتی بس کھانے کے وقت ذر ا دیر کو باہر آتی وہ بھی نازیہ کی دلجوئی کی خاطر ………. نازیہ نے بھی اسکی خلاف معمول حالت کو نوٹ کیا لیکن کُچھ پوچھا نہیں شاید وہ منتظر تھی کہ اجیہ خود ہی بتا دے مگر اجیہ اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھ چُکی تھی۔شاید یہ بہت چھوٹی عمر میں بڑوں کی طرح سوچنے کااثر تھایاقدرت جو اسکے ساتھ کھیل کھیل رہی تھی شاید یہ اسکا نتیجہ تھا۔

نوجوانی میں قدم رکھتے ہی جب اسنے شعور کی آنکھ سے حالات اور لوگوں کا مشاہدہ کیا تو اسکا ہر کسی پر سے بھروسہ اُٹھ گیا۔ابو تو اسکو کبھی قابل اعتبار نہیں لگے تھے اور نازیہ سے اسے بے تحاشا محبت تھی اگر وہ واقعہ نہ ہوا ہوتا تو اعتماد بھی ہوتا لیکن اس واقعہ کے بعد اسنے اللہ کے بعد صرف نائلہ پر بھروسہ کیا تھا۔محبت اور اعتماد دو الگ الگ چیزیں تھیں اسکے نزدیک۔۔ضروری نہیں جس سے محبت ہو اس پر بھروسہ بھی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جس پر اعتماد ہو اس سے محبت بھی ہو۔ زندگی کی ریل گاڑی میں بے شمار افراد سوار ہوتے ہیں کسی سے صرف محبت ہوتی ہے اور کسی پر صرف بھروسہ ہوتا ہے اور کسی مسافر پر نہ بھروسہ ہوتا ہے اور نہ محبت ہوتی ہے،زندگی میں آنے والے بے تحاشا افراد میں سے صرف ایک یا دو ایسے ہوتے ہیں جن سے محبت بھی ہوتی ہے اور ان پر اعتماد بھی کیا جاتا ہے۔ اسکی زندگی میں اب تک صرف نائلہ اس لسٹ میں شامل ہوئی تھی۔

اس کی بہترین دوست۔۔اجیہ کو ا س پر بے تحاشا اعتماد تھا اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات وہ اسے بتا دیا کرتی تھی۔جتنا اس پر اعتماد تھا ا س سے کہیں زیادہ اسکی پُر خلوص مسکراہٹ سے محبت تھی۔اسکی سوچوں کی کشتی بھنور میں چکر لگاتے لگاتے اچانک ہی ساحل سے آلگی۔الارم بج رہا تھا،وہ چونک گئی بلا ارادہ نگاہ باہر گئی آسمان پر چھائی نیلاہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔فجر میں بہت کم وقت باقی تھا۔ اس نے ٹیوب لائٹ جلائی لیمپ آف کیا،وضو کر کے سفید اسکارف میں نماز ادا کرنے کے بعد اس نے بہت دنوں کے بعد قرآن پاک سننے کا ارادہ کیا تھا۔وہ کتنی ہی دیر کلام پاک کے سحر میں جکڑی اپنی بے سکونی کا مداوا کرتی رہی وہ شیریں آواز اسکے بہت سے وعدے مضبوط کر رہی تھی۔کتنے ہی دنوں کے بعد اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے کے باوجود چمک رہیں تھیں۔بہت دنوں بعد اسنے اپنے اندر ٹھہراؤ محسوس کیا تھا۔

اسنے ہاتھ بڑھا کر چند کلک کیے اور اسکرین پر قرآن پاک کی آیتیں نظر آنے لگیں۔قاری جو آیت پڑھتا جا رہا تھا وہ ایک کے بعد ایک اسکرین پر رینگتی ہوئی نظر آجاتی،بہت واضح اور ترجمہ کے ساتھ۔۔سلائڈ شو کی طرح۔۔،اجیہ زیر لب تلاوت بھی کرتی گئی اسکی سماعتیں اور توجہ مکمل طور پر اسکرین اور وہاں سے نکلتی آواز پر مرکوز تھی۔کھڑکیوں کے دوسری طرف سنہری روشنی پھیل رہی تھی،چمکتی زرد کرنیں ہر طرف چھا رہی تھیں۔اجیہ کو یونہی بے خود ہوئے تین چار گھنٹے گُزرے تب وہ سیکنڈ الارم کی بیل بجنے پر چونکی۔گردن موڑ کر وال کلا ک کو دیکھا،آٹھ بجنے میں پانچ منٹ۔۔اسنے بے دلی سے کمپیوٹر آف کیااور اُٹھنے لگی تبھی اسکی نظر کھڑکی کے اس پار گئی وہ چونکی پھر باقاعدہ کھڑکی کے سامنے آکر نیچے جھانکا پورچ میں اسکی اور نازیہ کی مشترکہ کار کے برابر میں ایک اور کار کھڑی تھی۔

”اوہ۔۔ابو۔۔“اس نے زیر لب کہا،دل بے اختیار خوش ہواتھا۔ وہ تیزی سے تیار ہونے لگی،پنک کلر کی ٹخنوں تک آتی فراک پہنی اسکے دامن اور کلائیوں پر سلور موتیوں سے بڑے بڑے پھول بنے ہوئے تھے باقی ساری فراک سادہ تھی۔ہم رنگ اسٹیپ شوز پہنے عجلت میں بال برش کرکے جوڑے میں باندھے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کر کے پن اپ کیا اور سفید اسکارف نفاست سے چہرے کے گرد باندھا یہ نماز والے اسکارف سے مختلف تھا۔اسکی بیک پر سلور چمکیلے پھول کاڑھے گئے تھے کناروں پر ننھی ننھی سلور موتیاں لگی تھیں شیفون کا گلابی دوپٹہ اُٹھاکر کندھے پر ڈالا دوسرے کندھے پر پر س لٹکایاموبائل والا پاؤچ ہاتھ میں لیا ایک نازک سی سلور رنگ انگلی میں گھسائی ایک نظر آئینے میں خود کا جائزہ لیا اور تیزی سے دروازہ لاک کر کے باہر نکلی۔

پہلی سیڑھی سے آخری سیڑھی تک کا فاصلہ اس نے اُڑتے ہوئے طے کیا تقریباََبھاگتے ہوئے راہداری عبور کرکے لاؤنج میں داخل ہوئی،ملازمہ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے لاؤنج کی دہلیز پار کرنے کو تھی۔
”فاخرہ۔۔“اس نے نسبتاََدھیمے قدموں سے چلتے ملازمہ کو آواز دی وہ چونک کر پلٹی پھر اجیہ کو دیکھ کر مؤدب ہوئی۔
”جی اجیہ بی بی؟؟“
”ابو آگئے ہیں کیا؟“اس نے اپنے لہجے کی کھنک کو چھپانے کی کوشش کی۔
کُچھ بھی تھا وہ انہیں اپنا باپ سمجھتی تھی اور چھ چھ مہینے بعد ان کو گھر میں دیکھ کراسے بے تحاشا خوشی ہوتی تھی۔

”جی۔۔آگئے ہیں“
”کب۔۔؟“
”فجر سے ذرا دیر پہلے پہنچے تھے “
”ناشتہ کیا انہوں نے؟؟“
”نہیں کہہ رہے تھے اپنی بیٹیوں کے ساتھ کروں گا“فرط جذبات اور احساس تشکر سے اس کی پلکیں بوجھل ہو گئیں۔
”اچھا۔۔تو مُجھے جگا دیتی نا!“
”صاحب نے منع کیا تھا۔۔“
”نازیہ آپی کہاں ہیں؟؟“

”وہ۔۔شاید ابھی اُٹھی نہیں ہیں“
”آپی صبح جلدی اُٹھ جاتی ہیں جاؤ انہیں بتا دو کہ ابو آ گئے ہیں اور ناشتہ ہمارے ساتھ کریں گے۔“
”اچھا۔۔ ٹھیک ہے میں جاتی ہوں“
ملازمہ پلٹنے لگی۔
“سُنو۔۔یہ چائے کہاں لے جا رہی ہو؟؟“
”صاحب کے لیے ۔۔۔۔۔”
اوہ اچھا، پھر ایک کام کرو یہ کپ مُجھے دے دو میں خود دے کر آتی ہوں ابو کو۔“

پھر وہ پلٹی پرس اور موبائل پاؤچ سینٹر ٹیبل پر رکھا اور فاخرہ کے ہاتھ سے کپ لے لیا۔ملازمہ راہداری کی طرف مُڑ گئی اور وہ ابو کے کمرے کی طرف۔۔دروازے کے سامنے پہنچ کر اسنے ایک ہاتھ سے کندھے پر پھسلتا دوپٹہ سینے پر پھیلا کر اوڑھاپھر شہادت کی انگلی موڑ کر آہستگی سے دستک دی۔اندر سے بھاری مردانہ آواز میں آنے کی اجازت دی گئی۔وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔شاہد انصاری آئینے کے سامنے کھڑے نائٹ گاؤن اُتار رہے تھے اسے اندر آتے دیکھ کر مُڑے اور مُسکراتے ہوئے اسکے سلام کا جواب دیا۔تھوڑی دیر یونہی ایک دوسرے کو دیکھتے کھڑے رہے پھر پوچھا،

”کیسی ہو بیٹی؟؟“
”میں ٹھیک ہوں ابو۔۔آپ کیسے ہیں؟؟یہ میں چائے لائی تھی۔“

اس نے کپ والا ہاتھ بڑھایا۔انہوں نے کپ لے کر رکھا پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر قریب کیا اور جذبات کی شدت میں اسے گلے لگایا۔اجیہ کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔کڑوا پانی۔۔وہ پانی جو جب بھی بہتا ہے بہانے والی آنکھوں کا بوجھ ہلکا کر دیا کرتا ہے۔باپ بیٹی کافی دیر ایک ہی پوزیشن پر کھڑے رہے پھر باپ نے بیٹی کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اوپر کیا او ر محبت سے پیشانی کو چوما،وہ نم آنکھوں کے ساتھ مُسکرادی۔

”آپ نے بتایا نہیں ابو کہ آپ کیسے ہیں؟؟“اس کی آواز میں نمی تھی۔
”میں تمھارے سامنے ہوں بیٹی۔۔بالکل ٹھیک ہوں!“
”الحمداللہ“و ہ دونوں ڈائننگ روم میں داخل ہوئے تو نازیہ سر ہاتھوں میں دیئے پُر مژدہ سی بیٹھی تھی آہٹ پر سر اُٹھایا،انہیں دیکھ کر مسکرائی کُرسی پیچھے کر کے کھڑی ہوئی اور باپ کے سینے سے جا لگی۔اجیہ مسکرا کر شانے اُچکاتی ہوئی کُرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
”تُمھاری طبیعت ٹھیک ہے نازیہ؟؟“اس نے ابو کی آواز پر پریشانی سے رُخ موڑ کر نازیہ کو دیکھا۔
”جی۔۔شاید ٹھیک ہے۔۔آئیں ناشتہ کریں۔۔“نازیہ ٹال گئی۔

پُر سکون ماحول میں ناشتہ ہونے لگا۔ڈائننگ ٹیبل کے ساتھ کھڑی فاخرہ نے بے حد ملال سے ان تین لوگوں کو دیکھا جو ناشتہ کر رہے تھے،ان میں سے کسی کے چہرے پر مُسکراہٹ نہیں تھی۔چند منٹ پہلے والی استقبالیہ مسکراہٹیں ماند پڑ چُکی تھیں۔شاہد انصاری،نازیہ اور اجیہ اپنی پلیٹوں پر سر جھُکائے ان کی سطح کو گھور رہے تھے۔چمچے ہاتھ میں پکڑے ایک دوسرے سے نظریں چُراتے وہ سب ناشتہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔بالآخر اجیہ نے بے زاری سے پلیٹ پیچھے سرکائی جوس کا گلاس اُٹھا کر لبوں سے لگایاتبھی ابو اور نازیہ پر نگاہ گئی۔ابو تو شاید ناشتہ کر کے چائے کے کپ میں چمچ ہلا رہے تھے۔

اور نازیہ ………. وہ سر جھکائے پلیٹ میں بوائل انڈہ چمچ سے ادھر اُدھر کر رہی تھی جیسے ہاکی کھیل رہی ہو۔اجیہ کو پریشانی ہوئی۔
”آپی ناشتہ کیوں نہیں کر رہی ہیں آپ؟“

پلیٹ میں کھیلتا اُسکا ہاتھ تھماپیشانی پر شکنیں اُبھریں غیر محسوس انداز میں چمچہ چھوڑ کر اس نے دوسرے ہاتھ سے کپ اُٹھا تے ہوئے سر اُٹھایا۔اجیہ کو دیکھا پھر شانے اُچکا دیئے۔
”کر تو رہی ہوں“کہتے ہوئے اس نے کپ لبوں سے لگایا۔اجیہ مطمئن نہیں ہوئی لیکن پھر بھی مطمئن ہونے کا تاثر دیتے ہوئے اس نے جوس ختم کیااور اُٹھ کھڑی ہوئی۔
”بائے ابو۔۔یونیورسٹی جا رہی ہوں“شاہد انصاری نے سر اُٹھایا الوداعی مسکراہٹ لبوں پر آئی۔
”اوکے!“اجیہ مسکرا کر مُڑ گئی پھر دفعتاََکسی خیال کے تحت پلٹی۔
”آپی میں کار لے جاؤں؟آج آپکو کہیں جانا تو نہیں ہے؟“نازیہ نے تکان سے سر اوپر کیا اسکی آنکھوں میں سُرخ لکیریں تھیں۔
”ہاں۔۔لے جاؤ“اسکا لہجہ کسی نامعلوم درد کی عکاس تھا۔اجیہ گھوم کر اسکی طرف آئی۔

”آر یو شور آپکی طبیعت واقعی ٹھیک ہے؟؟“
”آ۔ہاں نا بھئی اب تُم جا رہی ہو یا نہیں“
”اوکے خیال رکھیے گا اپنا“
”اجیہ؟؟“اب کی بار ابو بولے تھے۔
”جی۔۔“وہ تعجب سے انہیں دیکھنے لگی۔
”یونیورسٹی سے واپسی کب ہو گی؟؟“
”چار بجے تک۔۔کیوں؟؟“اسکی حیرانی بجا تھی۔
”فریش ہو کر میرے کمرے میں آجانا۔۔“ انکا لہجہ خشک تھا۔

اجیہ اور نازیہ دونوں اس لہجے کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔”وہ۔۔چھوٹا سا کام ہے تُم سے“انہوں نے خود ہی وضاحت کر دی”
”اچھا۔۔اوکے۔؟“اب کی بار وہ خوش دلی سے مسکرائی۔ ”ہاں۔۔ہاں۔۔اوکے چلی جاؤ“وہ ہلکا سا ہنس کر بولے،جواباََاجیہ بھی ہنس کر پلٹ گئی۔

٭٭٭

(جاری ہے….)

اپنا تبصرہ بھیجیں