جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب سؤم – قسط نمبر31




قسط نمبر ۳۱

شاہد انصاری اٹھے اور دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے الماری تک گئے اور ایک دراز میں رکھی فائلیں الٹ پھیر کرنے لگے۔
وہ کھوجتی نظروں سے انکی پشت کو دیکھ رہی تھی۔ کُچھ دیر بعد وہ مڑے تو انکے ہاتھ میں ایک البم تھااور لبوں پر اداس سی مسکراہٹ تھی۔اجیہ کی آنکھوں میں حیرت اور الجھن ایک ساتھ نمو دار ہوئی،”یہ کیا ہے ابو…..؟آپ تو مجھ سے کوئی بات پوچھنے والے تھے…؟“اسکی آواز میں بھی الجھن تھی۔

”ہاں…چندا…پوچھتا ہوں….“وہ اسکے سامنے بیٹھ کر البم کھولنے لگے۔”پہلے یہ دیکھو….؟“انہوں نے ایک تصویر اسکے سامنے کر دی۔
اسکی حیرانی مزید بڑھ گئی الجھتے ہوئے اس نے انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھاپھر تصویر پر نظر ڈالی اور اگلے ہی لمحے دوبارہ غور سے تصویر کو دیکھااور پھر جیسے وہ بہت پیچھے چلی گئی ہو….ماضی میں بہت پیچھے….جہاں صرف مسکراہٹیں اور شرارتیں تھیں…..جب کسی پارک میں وہ پری کی طرح بنی سنوری تتلیوں کے پیچھے بھاگا کرتی تھی….دریا کنارے کھڑے ہو کر چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے ننھے ہاتھوں میں اُٹھا کر پانی میں پھینکا کرتی تھی اور جب جھپاکے کی آواز کے ساتھ پانی میں گڑھے ہو جاتے توا چھل اچھل کر تالیاں بجایا کرتی تھی…کمرے کی کھڑکی سے اسٹول پر چڑھ کر سورج غروب ہونے کا منظر دیکھا کرتی تھی…لان میں گھنٹوں ٹوکری بازو میں لٹکائے رنگ برنگے پھولوں سے اسے بھرنااسکا محبوب مشغلہ ہوا کرتا تھا….اپنے اسکول بیگ کی ہر زپ پر پھولوں کی چین لٹکانا اسے بہت اچھا لگتا تھا….نازیہ سے چاکلیٹ چھیننے میں جب اسے بہت مزہ آیا کرتا تھا…..

”جیا….؟بتاؤ تو یہ دونوں کون ہیں…..؟“شاہد انصاری اسکا بازو ہلا رہے تھے۔
”جی…جی….کون…؟“اس تصویر پر نگاہیں جمائے بچپن میں پہنچتے پہنچتے وہ واپس آئی….محض لمحے بھر کے لیے اسے ماضی میں جانا بہت اچھا لگا تھا…اسنے تصویر کو پھر سے دیکھا۔دو بچیاں جھولے پر بیٹھی تھیں سُرخ رنگ کی پھولدار فراکیں پہنے وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت مختلف لگ رہی تھیں۔دونوں کی عمر میں بہت فر ق تھاایک دوسرے کے گلوں میں ہاتھ ڈالے ان کے چہروں پر گلاب کھلے ہوئے تھے۔پس منظر میں ساحل سمندر کا منظر تھا۔
”اجیہ….بتاؤ نا….؟“ان کے لہجے میں بچوں کا سا اشتیاق تھا۔و ہ بے اختیار مسکرائی۔
”یہ میں ہوں….او ر یہ نازیہ آپی….“مسکرا کر کہتے ہوئے وہ ذرا سا پیچھے ہوئی۔

شاہد انصاری نے جواب نہیں دیا چند لمحے وہ یک ٹک اسے دیکھتے رہے پھر انکی آنکھوں میں اداسی کے سائے لہرائے۔تصویر والا ہاتھ انہوں نے نیچے کر لیاایسے کہ وہ تصویر ہنوز اسکے سامنے ہی تھی۔”اجیہ….کیا تم اب بھی نازیہ سے ایسے ہی محبت کرتی ہو…جیسے پہلے کرتی تھی….؟“وہ بھونچکا کر رہ گئی اس بات کی ا سے بالکل بھی توقع نہیں تھی…
”ابو…یہ آپ نے…یعنی آپ…اس طرح…کیوں….“بے ربط سی بات کہتے ہوئے اسکا لہجہ بے یقینی میں ڈوبا ہوا تھا بالکل اسی طرح…جیسے سمندر میں ڈوبتے ہوئے کسی شخص کو اپنی زندگی کے بارے میں بے یقینی ہوتی ہے…
”اب بھی سے آپکا کیا مطلب ہے..“چند لمحوں بعد اسنے مضبوط مگر اداس لہجے میں انہیں مخاطب کیا۔
”میرا مطلب تھا کہ…اس واقعے کے بعد…!“انکا لہجہ بھی اداس تھا۔

”ابو…وہ واقعہ…وہ…وہ چار سال پہلے کی بات ہے…اور چار سالوں میں بہت کُچھ بدل جاتا ہے…وہ دن..وہ دن میری زندگی کا سب سے برا دن تھا…اور…اور اب وہ وقت میرے لیے پچھتاوا بن چکا ہے…بس اس سے زیادہ میری زندگی میں کُچھ تبدیل نہیں ہوا….کُچھ بھی نہیں…“
اس نے مضبوطی سے کہتے ہوئے آخر میں نہ چاہتے ہوئے بھی جھوٹ بول دیا۔شاید شاہد انصاری کی تسلی کروانا اسکے لیے زیادہ اہم تھا۔
شاہد انصاری نے بے اختیار گہری سانس لی۔اجیہ نے سر جھکا لیا۔
“کاش مجھے یہ بات نہ پتہ چلی ہوتی کہ میں یتیم ہوں…اے کاش….وہ دن میری زندگی سے نکل گیا ہوتا….کاش…..“اسنے بہت بار سوچی جانے والی بات ایک بار پھر سوچی تھی۔
”اچھا اجیہ….میں یہی سننا چاہتا تھا…اب اس ٹاپک کو بند کرتے ہیں اور میں تمھیں اپنی پریشانی بتاتا ہوں…..“شاہد انصاری نے اُٹھتے ہوئے ماحول کا تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔مسکرا کر کہتے ہوئے انہوں نے اس تصویر کو چوما اور البم بند کر دیا۔اجیہ لحظہ بھر کو پھر حیران ہوئی انہوں نے اسے حیران ہوتے ہوے دیکھا تو لہجے میں ڈھیروں پیار سموتے ہوئے بولے۔

”یہ تصویر میرے لیے قیمتی ہے چندا…کُچھ چیزیں معمولی ہوتے ہوئے بھی زندگی جیسی قیمت رکھتی ہیں….اس تصویر میں….میرا کل سر مایہ ہے….اجیہ اس تصویر کو دیکھتا ہوں….تو ذہنی پریشانیاں بھک سے اُڑ جاتی ہیں….مجھے سکون ملتا ہے….اور کسی تصویر میں تم اور نازیہ اس طرح اکٹھے نہیں ہو….عالیہ کو بھی یہ تصویر بہت پسند تھی….مھاری ماما کو…لیکن…وہ بہت جلدی مجھ سے دور چلی گئی …. ! “ ان کے لہجے میں نمی گھل گئی ضبط سے گہرا سانس لیتے ہوئے وہ الماری کی طرف بڑھ گئے۔اجیہ بت بنی رہ گئی۔ اسکے دل میں شاہد انصاری کے لیے نفرت نہیں پیدا ہو سکی تھی تو محبت بھی نہیں تھی اور وہ حقیقی باپ کی طرح ہمیشہ سے…….
ندامت کے احساس نے اسکی آنکھوں میں نمی اتار دی لیکن پھر ضبط کرتے ہوئے اسنے شاہد انصاری کو دیکھا۔ وہ الماری کی طرف سے واپس پلٹ رہے تھے۔ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو رگڑتے ہوئے….وہ بے چین ہوئی…..

”ابو….آپ…..آپ پریشان نہ ہوں…..“انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
”میں پریشان نہیں ہوں بیٹا….تم اور نازیہ ہو نا….کیسی پریشانی…..!“وہ ہنس کر بولتے ہوئے بیٹھ گئے کمرے میں پھیلی اداسی یکدم ختم ہوئی…..
”ہاں یہ تو ہے…“وہ بھی ہنس دی۔
”ابو….؟؟آپ کو کیا بات کرنی تھی مجھ سے…..؟“
”ہاں…. لیکن….پہلے ایک بات بتاؤ…؟“وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
”پوچھیں….“

”تم نے کبھی سوچا نہیں کہ نازیہ کی شادی پر تم کیا پہنو گی…..؟؟“انہوں نے اسکا گود سے نیچے گرتا دوپٹہ اُٹھا کر اسے پکڑایا۔
”آپی کی شادی….؟؟“اس غیر متوقع بات پر بے ساختہ اسے کُچھ نیا سااحساس محسوس ہوا تھا….شاید خوشی…..!
”ہاں نازیہ کی شادی…تو کیا تمھاری آپی ساری زندگی یہیں رہے گی….ہاں….؟؟“اسکی حیرانی پر انہوں نے شرارت سے اسکا گال تھپتھپایا۔
”ابو…رئیلی….؟“اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ خوش ہو یا بھاگ کر نازیہ کے گلے سے لگ جائے۔

محبت کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں….نازیہ سے اسکا خون کا تو کوئی رشتہ نہ تھالیکن اسے وہ بہت عزیز تھی چار سال پہلے جب وہ کچھ فرصت سے لیٹ کر سوچا کرتی تھی تب نائلہ اور نازیہ کا موازنہ کرتی کہ کون زیادہ اچھا ہے کس سے اسے زیادہ محبت ہے لیکن پھر جب اسکی زندگی کا تلخ ترین دن گزر گیاتو اسکی سوچوں کی دنیا سے نازیہ نکل گئی اس نے ذہنی طور پر خود کو سمجھا لیا کہ اس گھر اور اس گھر کے لوگوں سے اسے کوئی واسطہ نہیں ہے مجبوری کی حالت میں وہ یہاں رہ رہی ہے اور جیسے ہی تعلیم پوری کر کے وہ سیٹل ہو جائے گی تو اسکے لیے پہلی ترجیح یہاں سے نکلنا ہو گا لیکن وہ سب وقتی تھا….اسکے دل میں نفرت کی جو آگ بھڑک اُٹھی تھی شاہد انصاری اور نازیہ کی محبت کی نرم پھوار نے آگ پر پانی کا کام کیااور ماما کے انتقال کے بعد پھر سے نازیہ اسکی تنہائی کی ساتھی بن گئی آج بھی اسے تین سال پہلے کی وہ راتیں یاد تھیں جب وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر ساری ساری رات روتی رہتی تھیں….اس مصنوعی فیملی کے درمیان محبت کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مضبوط ہو چکے تھے….!!

”ہاں نا…یہی تو پریشانی ہے مجھے….“اب کمرے میں مسکراہٹیں رقص کر رہی تھیں۔
”یہ کس ٹائپ کی پریشانی ہے بھلا….؟“اجیہ کے ذہن میں اب کوئی پریشانی نہیں تھی۔
”ارے جیاسمجھا کرو نا….دیکھو..نازیہ کے اتنے سارے پرپوزلز آئے ہوئے ہیں…اور سب بہت اچھے ہیں…ایک سے بڑھ کر ایک….بہت پریشان ہوں میں….بہت عرصے سے اگنور کر رہا تھالیکن اب اور نہیں صبر ہو گا مجھ سے….اتنی بور زندگی میں کوئی تو خوشی آنی چاہیئے نا…“وہ مسکراتے ہوئے بے تکلفی سے باتیں کرتے ہوئے اسکے بہترین دوست لگ رہے تھے۔
”ارے…تو ابو….اس میں پریشانی کی کیا بات ہے….آپی سے پوچھ لیتے ہیں شادی تو انکی ہو رہی ہے نا….تو انکی پسند سے ہی ہو گی انہوں نے جیسے اوکے کر دیا….تو بس یہ مسئلہ حل ہو جائے گا…“اے سی کی ٹھندک بہت بڑھ گئی تھی یا شاید جب انسان کے اندر کی آگ سرد ہو جائے تب اسے ہر چیز ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔

”اووہ ہاں….واقعی اس طرح تو یہ مسئلہ سچ میں حل ہو جائے گا….پتہ تھا مجھے….میری بیٹی بہت ذہین ہے….!“شاہد انصاری اس ننھے سے بچے کی طرح خوش لگ رہے تھے جسے بہت سارے کھلونے ملنے والے ہوں…..
”جی نہیں….ابو…یہ بات آپکو بھی پتہ تھی آپ بس میری تعریف کر کے مجھے خوش کرنا چاہتے ہیں…میں جانتی ہوں….“اسکے چہرے پر پھر سے بال گر رہے تھے۔مسکرا کر کہتے ہوئے وہ ہاتھ سے انہیں اسکارف کے اندر کرنے لگی۔
”اچھا کیسے پتہ ہے تمھیں…..؟“شاہد انصاری ہنسنے لگے۔
”کیوں کہ آپ ہمیشہ سے ایسے کرتے ہیں….!“ وہ بھی انکی ہنسی میں شریک ہوگئی۔
”اچھا ابو….آپی کو بتاؤں جا کر….؟“
”نہیں ابھی نہیں….کل میں خود بات کروں گا اس سے….“انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”ہوں…ٹھیک ہے…مزہ آئے گا…“اسکی آنکھیں چمک رہی تھیں۔

”ہاں بھئی مزہ تو بہت آئے گا….!“شاہد انصاری ہنس کر بولے۔اجیہ بھی ہنس دی۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔کمرے کی فضا میں ٹھنڈک ہر آن بڑھ رہی تھی پُر سکون سی خاموشی میں اجیہ کو اپنے اعصاب سست پڑ تے لگ رہے تھے اسکا دل چاہ رہا تھا بس اب مسکراہٹوں بھرے یہ لمحے کبھی ختم نہ ہوں….کتنا نرم اور پر سکون ہوتا ہے وہ لمحہ….جب انسان کو احساس ہو کہ کانٹوں بھری گزرگاہ جیسی اس زندگی میں رنگ برنگے پھولوں کا اگ آنا بھی ممکن ہے….کس قدر پر سکون خوشی دیتا ہے وہ لمحہ جو یہ ادراک کرا دے کہ انسان کو تھک جانے کے بعد آرام کرنے کے لیے سایہ دار شجر بھی میسر آتا ہے کبھی فوراََ….اور کبھی دیر سے…کمرے میں سگریٹ کی بو اب غائب ہو گئی تھی…نا محسوس سی خوشبو ہر طرف پھیل رہی تھی۔
”ابو….؟“ایک خیال ذہن میں آیا تو اسکے سمٹتے لب ایک بار پھر مسکرانے سے پھیل گئے۔

”ہاں….بولو….جیا….“ان کے چہرے پر سکون تھا۔
”میں کل سے شاپنگ شُروع کر دوں….؟؟“ننھے بچوں کے سے انداز میں اس نے مسکراہٹ سے بھر پور لہجے میں کہا تھا۔شاہد انصاری کھلکھلا کر ہنس دیئے۔”ہاں بھئی ضرور…کیوں نہیں….مجھے ٹائم ملا تو میں بھی چلوں گا تمھارے ساتھ….“وہ دونوں اپنے مسائل بھول چکے تھے یا بھول دینا چاہتے تھے…!
”ابو…میں ناراض ہو جاؤنگی….“وہ روٹھے لہجے میں بولی۔
”کیوں بھئی….؟“بہت عرصے بعد وہ ایک بار پھر پہلے والی اجیہ بن چکی تھی۔
”اب آپ اپنی مصروفیات کا بہانہ نہیں کرینگے….یہ کیا بات ہوئی….آپی کی شادی ہو رہی ہے….اور…آپ شاپنگ ہی نہیں کرینگے….بزنس کواب آپ کچھ عرصے کے لیے اپنے اسسٹنٹ کو دے دیں…ٹھیک ہے….؟“اس نے گویا انکا شیڈول طے کر دیا تھا۔

”ارے مگر….“انہوں نے بوکھلانے کی ایکٹنگ کی۔
”نہیں کوئی اگر مگر نہیں….بس میں نے کہہ دیا…“اس نے ضد کرنے والے انداز میں کہا۔شاہد انصاری ہنس دیئے ”اوکے ٹھیک ہے….!“وہ مسکرا کر اُٹھنے لگی۔”اچھاتو…میں چلتی ہوں اب…“
”ہوں…اوکے…“وہ کھڑی ہوئی تو دوپٹہ گود سے لڑھک کر نیچے گر گیا۔اس نے معذرت خوانہ انداز میں شاہد انصاری کو دیکھاپھر اُٹھانے کے لیے جھکی تو اسکارف کے اندر سے بال پھر سے نکلنے لگے اسنے ہاتھ کی پشت سے انہیں پیچھے کیااور دوپٹہ کندھے پر ڈال کر پلٹ گئی۔
”اجیہ….؟“دروازے کے ہینڈل کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ اسکا رک گیاوہ مڑی
”جی ابو…..؟“
”عباس لیدر کمپنی سے ہمارا کنٹریکٹ سائن ہو گیا ہے“شاہد انصاری کا یہ جملہ اسکے اندر تک خوشی کی لہریں اتارتا چلا گیا….”ابو…وا….واقعی….؟“ہاتھ بڑھا کر شانے سے پھسلتے دوپٹے کو اسنے گرنے سے روکا تھا۔
”ہاں بھئی واقعی… میں جھوٹ تو نہیں بول رہا ہوں…“انہوں نے اُٹھ کر اے سی آف کر دیا۔
”واؤ….الحمداللہ“بے ساختہ اسکے لبوں سے نکل گیا۔آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں چہروں پر خوشیوں کے بے ساختہ پھیلتے رنگ قوس قزاح کے حسن کو شکست دے رہے تھے….

”تو اللہ تعالی ٰ نے میری بات سن لی تھی۔شکر ہے مالک آپکا…آپ واقعی سب کُچھ کر سکتے ہیں….پیارے اللہ میاں…آپکا احسان کہ آپ نا شکرے انسانوں کو بھی یقین عطا کر دیتے ہیں….تھینک یو…اللہ…مجھے بھی ویسا ہی بنا دیجئے جیسا آپ چاہتے ہیں…..جیسا آپ چاہتے ہیں….!“زیر لب مسکراتے ہوئے اس وقت اسکا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ ساری دنیا کو یہ بات بتائے کہ کائنات کے مالک نے اسکی باتوں پر دھیان دیا ہے….ایک دعا کے قبول ہونے کی خوشی بہت زیادہ تھی اپنے بے وقعت ہونے کا احساس جو روزبروز پختہ ہوتا جا رہا تھا پل بھر میں غائب ہو گیا….اسکا پورا وجود احساس تشکر سے لبریز ہو گیا تھا۔
”اجیہ….کیا سوچ رہی ہو….؟“شاہد انصاری بغور اسے دیکھ رہے تھے۔
”جی ابو….؟“ہلکا سا چونکتے ہوئے اسنے پلکیں اوپر اُٹھائیں تو نمی کا احساس ہوا…سامنے کا منظر بھی دھندلا دھندلا سا نظر آیا۔اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو رہے تھے جھلملاتی آنکھوں پر اس نے پلکیں جھپکائیں تو دو ننھے سے قطرے نیچے لڑھک گئے اس نے بے اختیار ہاتھ کی پشت سے انہیں منتشر کیا۔شاہد انصاری مسکراتے ہوے آگے آئے ”کیا سوچ رہی ہو….؟؟“

”نہیں….نہیں….کُچھ نہیں….“وہ مسکراتے ہوئے بولی اور سر جھکا لیا۔
”تمھیں پتہ ہے میں نے یہ کانٹریکٹ والی بات تمھیں کیوں بتائی…؟“وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔ اجیہ نے حیرانی سے سر اُٹھایا ایک لمحہ کے لیے اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔
”کیوں…؟“ذہن میں آتے خیال کو اسنے تڑپ کر دماغ سے نوچنے کی کوشش کی تھی۔
”اسلیے کہ دوپہر کو ڈائننگ ٹیبل پر جب میں نے اسکا ذکر کیا تھا تو تم بہت خوش ہوئی تھی مجھے انداز ہ ہو گیا تھا کہ اس کمٹمنٹ سےتمھارا کوئی پرسنل معاملہ جُڑا ہوا ہے اسی لیے اب بھی تمھیں بتایا اور تم اتنا خوش ہوئیں…..صرف تمھیں خوش کرنے کے لیے بتایا جیا….صرف اس لیے کیونکہ ہر باپ اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہے….“وہ چند لمحوں کے لیے ششدر رہ گئی۔پھر جذبات کی تند و تیز لہر اسکو اپنے اندر اُٹھتی محسوس ہوئی وہ بے ختیار آگے بڑھ کر ان کے سینے سے لگ گئی۔شاہد انصاری مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرنے گے۔

”ابو….تھینک یو….“کُچھ دیر بعد وہ ان سے الگ ہو کر آنسو پونچھ رہی تھی۔پلکیں اب بھی بھاری تھیں۔
”تھینک یو ابو….آئی لو یو….“ان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
”شام میں کل شاپنگ کرنے چلیں گے….!“اجیہ نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔ ٹھیک ہے آپی کے ساتھ….“
”ہوں….اب چلو جاؤ….مجھے کام کرنے ہیں“انہوں نے ہنستے ہوئے انہیں دروازے کی طرف دھکیلا۔
”خدا حافظ…گُڈ نائٹ….“ہاتھ ہلا کر وہ پلٹ گئی۔

شاہد انصاری نے زیر لب مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر بیڈ پر رکھی کتاب اُٹھائی اور گود میں رکھ کر کھول لی۔عینک آنکھوں پر لگائی اور اے سی آن کر دیا۔کمرے میں خلاسا پیدا ہو گیاتھا….!

٭٭٭

(جاری ہے ۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں