جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب سؤم – قسط نمبر33




قسط نمبر ۳۳

اسکی پلکیں پھر سے بھاری ہونے لگیں۔”شاید میں آج یا کل میں نفسیاتی نہ ہو جاؤں….!“چہرے کو ہاتھوں میں چھپا کر آنسؤوں کو ضبط کرتے ہوئے وہ بے اختیار بیڈ پر اوندھے منہ گری اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

”اے کاش میں ان سب کو برداشت کر پاتی….مشکلات کو حل کرنے کی طاقت مجھ میں بھی ہوتی…ہر بات کو دل سے لگا کر دکھاوا کرنا نہیں آتا ہوتامجھے کاش….ماما بابا کے مرنے کے بعد مجھے رشتہ داروں نے یتیم خانے نہ ڈالا ہوتا….سڑک پر ہی چھوڑ دیا ہوتا…. یا پھر…ماما اور ابو مجھے وہاں سے نہ لے آتے…اور اپنی بیٹی کی طرح مجھے نہ چاہتے…کاش ماما مجھے لوریاں نہ سناتیں…کاش…ابو مجھے اہمیت نہ دیتے…یا پھر اگر یہ سب ہونا ہی تھا…تو مجھے…حقیقت پتہ نہ چلتی…مجھے کبھی یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ میرے ماں باپ…میرے ماما بابا…اس کے آنسؤوں سے بستر کی چادر بھیگتی جا رہی تھی سم ابھی بھی ہاتھوں میں قید تھی بال پریشانی سے بکھر رہے تھے…یا پھر مجھے دنیا والوں نے اتنی اہمیت نہ دی ہوتی…تا کہ کم از کم اس سے میرے دکھ کم تو ہوتے نا…اس وقت تو مجھے پتہ ہوتا کہ میرا دنیا میں کوئی نہیں ہے..

لیکن اب اتنے چاہنے والوں کے ہوتے ہوئے بھی….میں اپنے دل کی باتیں کسی کو بتا نہیں سکتی…بے کسی کی بھی انتہا ہے….میں کسے بتاؤں یہ نئی مصیبت جو میرے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑی ہو گئی ہے….“کہنی کا سہارا لے کر وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ہاتھ کی پشت سے گیلے گال صاف کرنے کے بعد اسنے دوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ کچھ سوچ کر اسنے دوپٹہ چہرے کے گرد مقید کیا تھا اور جائے نماز لینے کے لیے الماری کی جانب بڑھی۔ایسے موقعوں پر اسے اللہ تعالیٰ کا خیال آتا تھا۔ سب سے بڑھ کر راز دار اور سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے خدا کا…..وہ الماری سے چند قدم دور تھی جب انٹر کام کی رنگ ٹون اسکے کانوں سے ٹکرائی۔کُچھ اچنبھے سے اس نے انٹر کام پر نظر ڈالی ابھی کسے کام ہو سکتا ہے۔

ابو یا…نازیہ آپی…؟“دھیمے قدموں سے وہ اکتائی اکتائی سی انٹر کام تک آئی اور ریسیور کان سے لگایا۔”جی…؟“
”جیا..کہاں ہو…؟“نازیہ کی آواز میں پریشانی تھی۔
’یہیں تو ہوں کمرے میں…کیوں کیا ہوا…؟“اسکی آواز بھاری ہو رہی تھی۔
”تمھارا موبائل بند کیوں ہے…؟“
”موبائل…پتہ نہیں دیکھتی ہوں….“اسکے دل میں شاید چنگاریاں اُٹھی تھیں۔
”اچھا خیر…نائلہ کی کال آئی ہے…کہہ رہی تھی تمھارا موبائل بند ہے…تم دیکھو…وہ ابھی تھوڑی دیر میں پھر کال کرے گی…“نازیہ کی آواز سے اس لمحے ہلکی سی کراہٹ ابھری تھی۔

”آپی….؟اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے بتائے۔
”وہ اصل میں موبائل مجھ سے گر گیا تھا تو ٹوٹ گیا ہے…آئی ایم سوری…“اسکا دل بری طرح دکھ رہا تھا۔
”اوہ ہ…اچھا..پھر میں نائلہ کو کہتی ہوں میرے موبائل پر ہی کال کر لے..“
”ہاں کال آئے تو فاخرہ کے ہاتھ موبائل اوپر بھجوا دیجئے گا۔“
”اوکے شب بخیر“
”شب بخیر“

شکستہ لہجے میں کہہ کر اسنے ریسیور رکھا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔سم ہتھیلی پر رکھ کر وہ بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔بیڈ شیٹ پر پھر قطرے گرنے لگے۔چھوٹے چھوٹے کڑوے قطرے جو دل کی ساری کڑواہٹ اپنے اندر جذب کر کے انسان کوپر سکون کر دیتے ہیں….کُچھ دیر بعد وہ اُٹھی۔دروازے پر دستک ہوئی تھی۔جلدی جلدی آنکھوں کی گیلی زمین ٹشو سے خشک کر کے اسنے دوازہ کھولافاخرہ کے سامنے کچھ بھی ظاہر نہ کرنا اسکی مجبوری تھی۔فاخرہ کی آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی۔

”ہولڈ پر ہے…؟“اسنے جلدی سے پوچھ کر بال کانوں کے پیچھے اُڑسے۔
”جی بی بی…“اسے شاید اجیہ کا تھوڑی دیر پہلے والا غصہ یاد تھا۔
”اچھا لاؤ دو“اجیہ نے ہاتھ بڑھایا”اور ہاں یہ ٹرے بھی لے جاؤ اب اگر اوپر آگئی ہو تو….“فاخرہ کے ہاتھ سے موبائل لے کر وہ اسکرین چیک کرنے لگی۔
”اچھا لے جاتی ہوں…“ وہ اجیہ کی طرف لحظہ بھر کو دیکھ کر ٹرے اُٹھانے کو آگے بڑھی پھر یکایک رک کر دوہری ہو گئی اور بری طرح کھانسنے لگی۔

اجیہ بوکھلا کر تیزی سے پانی کا گلاس لے آئی اور ایک ہاتھ سے اسکی کمر تھپتھپاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے گلاس اسکے منہ سے لگا دیا۔
دو منٹ بعد فاخرہ کی حالت سنبھلی سرخ آنکھوں سے کھانسی کی شدت کی وجہ سے پانی بہہ رہا تھاوہ اب گلے پر ہاتھ رکھ کر پھولتی سانسوں کو بحال کر رہی تھی۔
”تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا…آرام کیوں نہیں کرتی ہو…؟“وہ شکوہ کناں لہجے میں کہتے ہوئے مڑ کر گلاس رکھنے لگی۔دوسروں کی تکلیف دیکھ کر اپنی تکلیفات بھول جانے والی اجیہ اب بھی ویسی ہی تو تھی۔اگلے لمحے وہ مڑی تو ہاتھ میں چند نوٹ تھی۔
”یہ لو کل پہلا کام یہ کروکہ جا کر اپنی دوائی لے آؤ…کیوں خود کو اتنی اذیت دیتی ہو…ابو سے نہیں کہا جاتا تو مجھ سے تو کہا کرو ناجب بھی پیسوں کی ضرورت ہوا کرے…مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ تمھیں کب ضرورت ہے اور کب نہیں ہے۔“اسنے دوپٹے کے پلو سے آنکھوں سے گرتا پانی پونچھتی ہوئی فاخرہ کو پیار سے دیکھا۔

”ٹی بی چھوٹا مرض نہیں ہے اسکا مستقل بنیادوں پر علاج کروانا ضروری ہے…میں کل نازیہ آپی کے ساتھ ہاسپٹل جاؤں گی تو تمھارے بارے میں بھی مشورہ کر کے آؤنگی..ابھی تو دوائیاں باقاعدگی سے کھاؤ…“نرم لہجے میں کہتی وہ ماما کا عکس لگ رہی تھی۔
”ٹھیک ہے….“نم آنکھوں کے ساتھ ٹرے اُٹھا کر فاخرہ باہر نکل گئی۔اجیہ نے سرعت سے پلٹ کر دروازہ بند کیااور اسکرین کو ٹٹولا۔نائلہ لائن کاٹ چکی تھی اسکے اگلے ہی لمحے وہ نمبر ریڈائل کر رہی تھی۔
”نائلہ تم ہو نا….؟“نائلہ کی چہکتی آواز پہچان لینے کے باوجود اس نے اسے چھیڑنے سے زیادہ اپنا موڈٹھیک کرنے کی خاطر پوچھا تھا۔
”نہیں جی نائلہ کی روح بات کر رہی ہے آپ سے…“دوسری جانب سے شرارت سے کہا گیا۔
”افوہ…اچھا بھئی ٹھیک ہے..یقین آ گیا تم ہی ہو…“موبائل کان سے لگا کر وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔

”شکر ہے یقین آگیا ورنہ میرا کیا ہوتا“نائلہ ہنس رہی تھی۔
”کچھ نہیں تم سلام کرنا بھول گئی ہو کیا…؟“
”میں نہیں…تم بھول گئی ہو…“
”ہاں شاید…ٹھیک ہے السلام و علیکم…“یکدم اسکا لہجہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔دوسری طرف نائلہ کے ذہن میں اسی لمحے خیال آیا تھا کہ اجیہ ہمیشہ سے اپنی غلطی فوراََ تسلیم کر لیتی ہے۔اسکے لبوں پر مسکراہٹ ابھری تھی۔گزرے ہوئے بے شمار لمحات ذہن کے دریچوں سے جگمگاتی کرنوں کی طرح اندر آئے تھے۔
”وعلیکم السلام….“جذبات سے بھر پور نرم لہجہ اجیہ کے لیے نیا نہیں تھا”اچھا تمیں پتہ ہے میں ابھی کیا سوچ رہی تھی؟“
”نہیں مجھے کیسے پتہ ہو گا…؟“اسنے کروٹ لے کر کشن سینے پر رکھا۔
”یونیورسٹی کا سوچ رہی تھی…پتہ نہیں میں نے قاسم کو تم سے ملواکر غلط کیا یا صحیح….؟تم بتاؤ“آخری جملے میں اسکا لہجہ فکر مندانہ ہوا تھا۔

”پتہ نہیں نائلہ مجھے۔تم پریشان مت ہو…اب تو جو بھی ہو گا فیس کرنا ہو گا…!“دوپٹہ اتار کر اسنے کرسی پر اچھال دیا۔
”قاسم برا نہیں ہے اجیہ…لیکن میں بہت ٹینس ہو رہی ہوں…“قاسم کا نام لیتے ہوئے ہمیشہ اسکا لہجہ بدل جاتا تھا۔وہ یہ محسوس کر کے مسکرائی۔اجیہ کی حالت بالکل اس شخص کی طرح تھی جسے خزاں کے زرد پتوں کے درمیان سبز پتوں کی ایک ڈالی نظر آئی ہو….اسکا دل چاہ رہا تھا وہ اسی طرح کی باتیں کرتی رہے….ناصر..رانگ نمبر…سازش والی بات امی ابو کی یادیں۔وہ دن جو پچھتاوے کا دن بن گیا تھا…ماما کی یادیں.. ان کی محبت…اسکی ذہنی پریشانیاں…وہ خواب والا لڑکا…دل کی بے قراری…سب…سب کُچھ…کہیں غائب ہو جائے اور وہ بس ذرد ڈالیوں کے بیچ اس سبز ڈالی کو دیکھتی رہے….

”اچھا اجیہ ایک بات کہوں….؟“
”ہاں بولو….؟“
”تم نے بھی تو کبھی نہیں بتایا….؟“نائلہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔
”کیا نہیں بتایا…؟“وہ جانتی تھی لیکن پھربھی حیران ہوئی۔
”تم جانتی ہو اجیہ کہ کیا نہیں بتایا…؟“نائلہ ٹھیک کہہ رہی تھی وہ چپ ہو گئی۔
”جانتی ہو نا….؟چند لمحے گزرے نائلہ نے پھر پوچھا۔
”ہاں جانتی ہوں لیکن نائلہ ایسا کُچھ ہے ہی نہیں توکیا بتاؤں….!“

اسکے ذہن کی گہرائیوں میں خواب کے مناظر روشن ہوئے تھے اس میں ہر سال نظر آنے والی صورت روشن ہوئی تھی اسے وہ خواب سمجھ نہیں آتا تھا لیکن اب وہ سب سمجھ چکی تھی…سال میں صرف ایک بار وہ خواب اسکے لا شعور میں جلوے بکھیرتا تھا اور ہر بار اجیہ اور اس لڑکے کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا…وہ نجانے کو ن تھا لیکن جب بھی وہ خواب کے بارے میں سوچتی تھی تواسے عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی بہت کُچھ سمجھنے پر مجبور تھی…وہ خواب…. اسکے مناظر…صبح کینٹین میں ملنے والا لڑکااور….چار سال پہلے کی بہت سی یادوں میں ایک یاد سب سے زیادہ روشن ہوئی تھی….!!

(جاری ہے۔۔۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں