جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر34




قسط نمبر 34

“کیا واقعی جیا………؟؟؟” نائلہ کی آواز پر وہ سنبھلی،
“ہاں ……، ”
“اچھا……تم یا تو بتانا نہیں چاہ رہی یا اپنے آپ سے جھوٹ بول رہی ہو… ” وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی اسے معلوم تھا وہ خود سے جھوٹ بول رہی تھی خود کو فریب دینا سب سے مشکل کام ہوتا ہے اور وہ اسی کے لیے تگ و دو کر رہی تھی۔

“نہیں نائلہ میں نہیں جانتی ابھی…….! ” چند لمحوں کی جنگ کے بعد اس نے آہستگی سے کہا۔
“خیر کوئی بات نہیں ………! ” نائلہ بھی اپنی دوست کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔
“اچھا اور سناؤ……..! ”
“کیا سناؤں…؟”ٹھنڈی سانس لے کر اس نے دل پر سے بہت کچھ کھرچنے کی کوشش کی تھی۔
“ہاں ……. وہ…… تمہارا موبائل کیوں بند ہے……؟؟؟”
“اوہ گاڈ……..!”اس نے بے اختیار پیشانی پر ہاتھ رکھا جس چیز سے بچنے کی کوشش کی جائے وہی ہر وقت سامنے آ جاتی ہے۔
“بتاؤ نا……؟؟”نائلہ پوچھ رہی تھی۔ اس نے یکلخت اپنی قوت مجتمع کی تھی.

“نائلہ وہ اصل میں …………. “ڈھیروں آنسو پھر سے گالوں پر بہنے کے لیے مچلنے لگے۔
“وہ اصل میں …………. میں نے موبائل دیوار پر مار دیا تھا…….. وہ ٹوٹ گیا!” ہر بات کی حساسیت کو اپنے دل پر محسوس کرنے والی اجیہ کے لیے یہ بات کہنا بہت مشکل تھا۔
“ٹوٹ گیا…….؟؟؟”نائلہ کی حیرانی بجا تھی…… اسے اجیہ کی اس موبائل سے انسیت کا اندازہ تھا,
“لیکن تم نے کیوں مارا اسے دیوار پر……. کیوں اجیہ…………. کیسے…….؟؟؟” اسکی حیرانی اور دکھ والے لہجے سے اجیہ کے دل پر مزید چھریاں چل رہی تھیں۔
“میں بتاتی ہوں… سب بتاتی ہوں… مجھے پانی پینے دو……..رکو ذرا…… ” لمحے بھر کے لیے اس نے نمکین گولے حلق سے اندر اتارے آنسؤوں کو ضبط کیا پانی پیا اور کھڑی ہو گئی دوبارہ موبائل کان سے لگا کر وہ اب کمرے میں ٹہل رہی تھی………

“ہاں نائلہ سنو…… آج جب نو بجے تو پھر وہی رانگ کال آئی وہ سب تو تمھیں پتہ ہی ہے……… لیکن……. لیکن……. نائلہ اس سے پہلے میں بہت خوش تھی… ابو سے مل کر آئی تھی… انہیں نے بتایا تھا کہ نازیہ آپی کا پروپوزل آیا ہے..اور اے ایل سی سے جو معاہدہ ہونے والا تھا وہ ہو گیا ہے…میں بے تحاشا خوش ہو گئی تھی نائلہ…….. ” وہ سانس لینے کے لیے رکی۔
“ایک منٹ اجیہ اے ایل سی تو ہمارے والی کمپنی ہے نا…….. تو مجھے قاسم نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا……. لیکن…… اگر یہ ہوا ہے تو بہت زیادہ خوشی کی بات ہے۔۔۔ “نائلہ کا حیران لہجہ کھنکنے لگا۔
“ہاں… نائلہ میں بہت زیادہ خوش ہو گئی تھی…….. لیکن پھر پتہ ہے کیا ہوا…… کیا ہوا…… نو بجے وہ فون آیا…… میں اپنی خوشی کو پریشانی میں نہیں بدلنا چاہتی تھی اس لیے میں نے خاموشی سے ریسیو کیا اور…… اور نائلہ میں کیسے بتاؤں …… اس خبیث انسان نے کیا کچھ نہیں کہا… مجھ سے آج تک اس طرح کسی نے بات نہیں کی نائلہ..

میرا دل چاہ رہا تھا میں اپنا گلہ دبا لوں… بس پھر نائلہ تم سمجھ سکتی ہو میری کیا حالت ہوئی ہو گی… میرا سر گھوم رہا تھا……. ہرچیز مجھے اپنا تمسخر اڑاتی لگ رہی تھی… تَبھی خود فراموشی کی حالت میں میں نے موبائل دیوار پر مار دیاتھا شاید میں ہوش میں نہیں تھی…… پتہ نہیں …… لیکن اب مجھے بہت پچھتاوا ہو رہا ہے… وہ ماما کی یاد گار تھا نائلہ…! “دل کا غبار چند جملے کہہ دینے سے تو نہیں نکل جاتا…… اسکا سر اب بھی بھاری ہو رہا تھا۔
“تم سن رہی ہو نائلہ…؟کچھ لمحے خاموشی سے گزرے، وہ بولی تو لہجہ نمی سے بھیگا ہوا تھا۔

“ہاں سن رہی ہوں۔۔۔۔۔ اجیہ یہ سب۔۔۔۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ واقعات بھی کتنی جلدی جلدی رونما ہوتے ہیں۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں تمھاری دلی کیفیت کو۔۔ موبائل توڑنا بھی سمجھ میں آ رہا ہے لیکن اس شخص نے جو باتیں کیں انکا سر پیر نہیں سجھ پا رہی میں…ایک منٹ۔۔۔۔
”اس نے اپنا نام بتایا تھا کیا…؟؟“نائلہ کے ذہن میں چند خیالات ٹکرا رہے تھے۔
”ہاں بتایا تھا۔۔۔ناصر اشفاق۔۔!“چند لمحے توقف کے بعد یہ نام کہتے ہوئے اس نے اپنے اندر بے انتہا بے نفرت محسوس کی تھی،دوسری طرف نائلہ کی ایک لمحہ کو سانس رک گئی تھی۔
”کیا۔۔۔؟؟اجیہ۔۔تمھیں یقین ہے اسکا یہی نام تھا۔۔؟؟“اسکے لہجے میں بوکھلاہٹ تھی،اجیہ لحظہ بھر کو حیران ہوئی تھی،”ہاں نائلہ یہی نام تھا اسکا۔۔۔!“

”آواز کیسی تھی۔۔؟؟“
”کھردری سی تھی۔۔۔۔!!“
”ہاں ہاں۔۔بالکل ٹھیک۔۔“نائلہ نے گویا اپنے آپ سے کہا تھا،
”کیا ٹھیک۔۔؟“اجیہ کو سمجھ نہیں آیا۔
”کُچھ نہیں۔۔اجیہ۔۔۔۔تمھیں یاد ہے آج صبح میں نے یونیورسٹی میں تم سے کہا تھا کہ رانگ کال کے بارے میں مجھے کُچھ بتانا ہے تمھیں۔۔۔یاد ہے؟“وہ اچانک پر جوش ہو گئی تھی،
”ہاں یاد ہے۔۔تو کیا۔۔؟؟“اس نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑدیا۔
”ہاں ہاں ہاں۔۔میں یہی بتانا چاہتی تھی۔۔مجھے پتہ چل گیا تھا پہلے ہی کہ تمھیں کالز ناصر ہی کرتا ہے۔۔میں تمھیں بتانا چاہتی تھی مگر رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔۔اور صبح بتا دیتی۔۔لیکن قاسم تھا اسوقت۔۔“

”ہاں وہ تو ٹھیک ہے۔۔مگر۔۔؟؟“
اجیہ نائلہ کے اس طرح پر جوش ہونے پر مسکرائی تھی،
”لیکن تمھیں کیسے پتہ چلا۔۔۔؟؟نمبر ٹریس کیا تھا؟؟“
”نہیں بعد میں بتاؤں گی۔۔کل آؤ گی یونیورسٹی..؟؟“
”نہیں آؤنگی آپی کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے۔۔!“
”اچھا۔۔“
”نائلہ ایک اور بات ہے۔۔“اس نے دل میں الفاظ سوچے تھے،
”ہاں۔۔؟؟“
”ناصر نے کہا کہ پرسوں شام نیواسٹارمال آجاؤں۔۔۔“

”نیواسٹار مال۔۔۔؟؟“نائلہ کے ذہن میں کچھ نمو دار ہوا تھا۔۔
”ہاں۔۔کیوں۔۔؟؟“نیواسٹار مال سے اس رات کی باتیں یاد آئیں تھیں۔۔۔کسی کا تعاقب کرنا۔۔قاسم کی باتیں۔۔اسکا کلب جانا۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔اسکے دل کے سمند ر میں کسی نے پتھر دے مارا تھا۔۔!
”کیا ہوا نائلہ۔۔۔اداس کیوں ہو گئی؟؟“
”کچھ نہیں۔۔۔اور کیا کہا تھا۔۔؟؟“
”اور۔۔۔ہاں۔۔۔۔کہہ رہا تھا کہ قاسم سے نمبر لینے میں دیر ہو گئی۔۔اسنے اسکی بھی توہین کی تھی نائلہ۔۔میں کس مشکل میں پھنس گئی ہوں۔۔!“وہ بے چارگی سے بول رہی تھی،

”تم پریشان مت ہو۔۔“
”کیسے نہ ہوں۔۔میں بہت پریشان ہوں۔۔!!“
”پریشان مت ہو۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔“
نائلہ کو لہجہ تسلی آمیز ہو گیا تھا۔۔
”انشاء اللہ۔۔اچھا خیر تم کل بالکل مت جانا۔۔نیواسٹار مال اور اگر کل تم نہیں آرہی تو ہمیں کسی اور جگہ ملنا ہو گا۔۔!“نائلہ پر سوچ لہجے میں بولی۔۔،
”ہاں تو کیا بہت ضروری با ت ہے۔۔؟؟“اجیہ اسکے لہجے پر بہت حیران ہوئی تھی،
’’ہاں ضروری ہے۔۔میں ایک کام کرتی ہوں۔۔۔۔قاسم کے ساتھ آجاتی ہوں کسی ریسٹورنٹ پر۔۔وہ بعد میں پلان کر لیں گے۔۔اس طرح کسی کوشک تو نہیں ہو گا نا۔۔اور قاسم تو تمھیں جانتا ہے۔۔اور مجھے پتہ ہے وہ اس بارے میں کسی کو نہیں بتائے گا۔۔۔ٹھیک ہے۔؟؟“
نائلہ نے اسی وقت جلدی سے اسے سوچا ہوا پلان بتایا۔۔،

”ہاں صحیح ہے۔۔۔“اجیہ کو اطمینان سا محسوس ہوا تھا۔۔۔
”چلو پھر طے ہوا۔۔میں قاسم سے پوچھ کے جگہ بتا دوں گی۔۔“نائلہ کو بھی سکون ہوا۔۔۔،
”ہاں ٹھیک ہے۔۔۔!“
”اور نازیہ کی طبیعت زیادہ خراب ہے کیا۔؟؟“
”نہیں آپی کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔۔“اس نے دکھی دل سے بتایا،
”اوہ اچھا۔۔۔اوکے مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔تم بھی سو جاؤ۔۔۔نازیہ کو کہنا اپنا خیال رکھے!“
”ٹھیک ہے۔۔ خدا حافظ۔۔!“
”خدا حافظ۔۔“نائلہ نے لائن کاٹ دی تھی،وہ کُچھ دیر مسکراتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتی رہی نائلہ سے بات کر کیہمیشہ اسکو سکون ملتا تھا۔ پھر انٹر کام کی ٹون پر چونک کر سر اُٹھایا۔

”آپی ہونگی۔۔“
کسلمندی سے چلتی وہ انٹر کام تک گئی اور ریسیور اُٹھایا،
”جی۔۔؟؟“
”اجیہ تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟؟“
نازیہ ہی تھی بے اختیار کوفت سے اس نے سر جھٹکا،
”دل نہیں چاہ رہا تھا آپی۔۔؟“
”اچھا اب کیا کہوں میں۔۔نائلہ سے با ت ہو گئی۔۔؟؟“
”جی ہو گئی۔۔۔!!“
”اوکے،پھر سو جاؤ۔۔۔بائے۔۔“
”بائے۔۔۔!!“

ریسیور کریڈل پر رکھ کر وہ اسکارف نکالنے کے لیے الماری کی طرف بڑھ گئی،ابھی نماز بھی پڑھنی تھی،پھر پندرہ منٹ بعد وہ نماز پڑھ چکی تھی،انتہائی سادگی سے اس نے ہمیشہ کی طرح سب کچھ اللہ تعالیٰ کو بتایا تھا،اور دل پر پڑا باقی بوجھ بھی اتار دیاتھا،
پر سکون سی ہو کر وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں،خالی الذہن ہو کر نیند اس کے اعصاب پر چھا رہی تھی،بھاری پلکیں بار بار کھول کھول کر بند کرتے کرتے وہ بالآخر سو چکی تھی۔۔ہر فکر سے بے نیاز ہو کر۔۔۔اللہ تعالیٰ کو جو شخص اپنا رازدار سمجھتا ہے۔۔تو کیا۔۔۔وہ عظیم خدا اسکی مدد نہ کرے گا۔۔۔اسی خدا نے اجیہ کو بھی ہر ذہنی پریشانی سے نجات دلا کر پر سکون نیند سلا دیا تھا۔۔۔ایسی نیند جسے عبادت کا درجہ حاصل ہے۔۔اللہ تعالیٰ کو اپنا رازدار سمجھ کر اسکی دل سے عبادت کرنے والے کی نیند بھی عبادت ہوتی ہے نا۔۔!!

٭٭٭

وہ ڈھیروں رنگ برنگے پھولوں کے درمیان سرخ پھولدار فراک پہلنے بے شمار ادھ کھلی کلیوں سے باسکٹ سجائے پھر رہی تھی اپنے خوبصورت بازو میں باسکٹ لٹکا کر بال کھولے اچھلتے کوددتی وہ زندہ حسین تر گلاب لگ رہی تھی اسکے گلے میں نیٹ کا چھوٹا سا دوپٹہ تھا لیکن نازک پھولوں کے درمیان گھومتے ہوئے اسے دوپٹہ کے نا ہونے کا احساس بھی نہیں رہا تھا ٹھنڈ ک بھری تازگی کا احساس اسکے اندر تک معطر کیے ہوا تھا یونہی سجی سنوری ہنستے مسکراتے ٹہلتے ہوئے وہ بہت دور آنکلی تھی ماحول کی خوبصورتی اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اس بات کا احساس اسے اگلے ہی لمحے ہوا تھا جب وہ پھولوں بھری وادی سے نکل کر پہاڑوں کے درمیان برف کے ڈیکوریشن پیسز سے سجی اسی مانوس سی وادی میں پہنچ گئی تھی اس کی سرخ فراک سفید لمبی قمیص میں بدل گئی تھی سنہری بال ہوا میں لہرا رہے تھے دوپٹہ بانہوں میں مچل رہا تھا۔وہ برف کے ٹکڑے پر نہیں کھڑی تھی …..

اس سے تھوڑا آگے ندی کے وسط میں گھٹنوں تک پانی میں ڈوبے وہ اور زیادہ قدرت کا حسین شاہکار لگ رہی تھی سورج ویسے ہی چمکیلی زرد کرنیں بکھیر رہا تھا چشمہ بھی ویسے ہی پہاڑ کے دامن میں بنے پیالے میں گر رہا تھا سبکُچھ ویسے ہی خوبصورت تھا لیکن وہ دو مجسمے بے انتہا حسین ہو گئے تھے ندی میں گھٹنوں تک ڈوبے سفید وجود کے بالمقابل ایک اور وجود بھی پانی میں ڈوبا کھڑا تھا آبشار کے برابر کھڑے ہونے والے مجسمے اور برف کے ٹکڑے پر کھڑے والے مجسمے کے درمیان فاصلہ کم ہوتے ہوتے اب بالکل نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ قریب کھڑے تھے اتنا کہ با آسانی ہاتھ بڑھا کر چھو سکتے تھے۔ سفید چمکتے حسین وجود کے سینے میں ساکن ہوئے دل کے اندر اچانک دھڑکنیں بیدار ہوئیں تھیں لہروں کی طرح سر اُٹھاتی ایک خواہش سے مجبور ہو کر بے اختیار اس مجسمے میں حرکت بیدار ہوئی تھی اور اس نے اپنا ہاتھ سامنے کھڑے مجسمے کی طرف بڑھایاتھا کہ اسے چھو سکے لیکن اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ اس تک پہنچتا اچانک سب ختم ہو گیا تھا….

اجیہ کی بند آنکھوں کے پیچھے لاشعور میں چلتی اسکرین میں یکدم اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔اور اگلے ہی لمحے اس نے یکا یک آنکھیں کھول دیں تھیں۔۔،کمرے میں صبح کی چمکیلی تازگی پھیلی ہوئی تھی نارنجی کرنیں مسکراتے ہوئے اجیہ کے چہرے پر چمکتے ہوئے رنگوں سے کھیل رہی تھیں اور وہ چھت کو تکتے ہوئے اپنی زندگی کی اہم ترین حقیقت کو محسوس کر رہی تھی جو اسے دل میں دھڑکتے سازوں نے چار سال کی کوششوں کے بعد بالآخراب سمجھا ہی دیا تھا کہ اس خواب کا۔۔۔اس خواب کا۔۔جو ہر سال اسے چند دنوں کے لیے کسی اور دنیا میں پہنچا دیتا تھا۔۔۔اس خواب کا مطلب کیا ہے۔!! وہ ڈانوڈول ہوتے ہوئے یقین کے باوجود یہ اعتراف کرنے پر مجبور تھی کہ یہ محبت کا جذبہ ہے۔۔اور یہ احساس اسے ان مخصوص دھڑکنوں نے کروایا تھا جو ازل سے دو محبت کرنے والے انسانوں کے درمیان ثالث کا فرض ادا کرتی آئیں ہیں۔۔۔

بید پر لیٹے مسکراتی دھڑکنوں کو سینے میں محسوس کرتے ہوئے اس پر ایک اور راز کھلا تھا اور اس راز کی حقیقت نے جہاں اسکے پورے وجود میں سنسنی پھیلا دی تھی وہیں اسکے گالوں کی حدت کو بھی بڑھا دیا تھا۔۔۔چار سال سے خواب میں آنے والا لڑکا کون تھا۔۔کیفیٹیریا میں اس کے لاشعور میں سب کُچھ ہلا نے والا کون تھا۔۔چار سال پہلے میٹرک میں اداس چمکیلی آنکھوں والا کون تھا۔۔کون تھا۔۔۔کون ۔۔۔ دل مسرت اور خوف سے بیک وقت دھڑکا تھا،اپنی ساری پریشانیاں اسے ختم ہوتے نظر آرہی تھیں جیسے چائے کے کپ سے بھاپ اُڑ جاتی ہے تب چائے وجود کو نہیں جلاتی۔۔۔اسی طرح اس کی زندگی کا پیالہ پریشانیوں کی آگ سے دہک کر کوئلہ ہو گیا تھا اور اب جب اسکی گرمی اور بھاپ اُڑ گئی تھی تو اسکا دل چاہ رہا تھا وہ پیالہ اُٹھا کر منہ سے لگا لے تا کہ فرحت بخش تازگی کو محسوس کر سکے۔۔۔
اسکی ایک پریشانی بہت پیارے انداز میں حل ہو گئی تھی اس حل نے اسے اس محبت کا ادراک بھی کروا دیا تھا،جو بہت سالوں سے اندر کہیں گہرائی میں پنہا تھیں اور…..

انتظار کر رہی تھی اس دن کا جب وہ خود کو منوا سکے۔۔۔،
پیشانی پر ڈولتے پسینے کے ننھے سے قطروں کو منتشر کرتے ہوئے وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی اور چند بار گہری سانسیں لیں تھیں،
”کون تھا وہ لڑکا۔۔“ایک بار پھر اس نے اپنے لا شعور کے سمندر میں ماضی کی کشتی پر سفر کرنے کی کوشش کی اور چاہا کہ اسکے سوال کے جواب میں ملنے والی راحت کو محسوس کرے۔۔،کوئی کوریڈور میں اس سے معافی مانگ رہا تھا۔۔۔اسکی ڈیسک پر بے اختیاری کی کیفیت میں خط کو چھوڑ کر جا رہا تھا۔۔۔وہ خط کے ٹکڑے کر کے اسکے منہ پر پھینک رہی تھی۔۔۔۔دل میں آتے بیشمار القابات منہ کی دہلیز پر ہی روک رہی تھی۔۔۔۔شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اسکے دئیے ہوئے تحفے کھڑکی سے باہر پھینک رہی تھی۔۔۔۔کیفیٹیریا کی فضا میں کوئی اسکی ٹیبل بجا رہا تھا۔۔۔۔اسکی اداس چمکتی آنکھیں اسے بہ تکُچھ یا ددلا رہی تھیں۔۔۔۔میٹرک کے پیپر ز ہونے کے بعد جب ایک ٹیچر نے اسے اپنے بیٹے کے لیے پرپوز کیا تھا۔۔۔۔۔تو اپنے بہت اندر غصے اور شاک کی کیفیت اس وقت اسے حیرت میں ڈالا تھا اب ان جذبات کا مطلب بھی وہ بخوبی سمجھتی تھی۔۔۔

کانپتے لبوں سے وہ خط پڑھ کر اسکے ٹکڑے کر کے اس نے اپنی زندگی کا صفحہ ہموار کرنا چاہا تھا حالانکہ وہ نام تو ازل سے اسکے نام کے ساتھ جڑ چکا تھا۔۔وہ نام اور وہ خط اسے ہرخواب کے بعد سوچتے ہوئے یاد آتے تھے۔۔اب اسے بہت سی باتوں کا مطلب سمجھ میں آررہا تھا۔۔۔
وہ نام۔۔۔
سرمد علی شاہ۔۔۔
اسکے ساتھ ہی اسکا پورا سراپا اجیہ کی نگاہوں کے سامنے آگیا تھا۔اداس چمکتی آنکھیں رکھنے والا وہ ہینڈ سم سا انسان۔۔۔اسنے تو اپنے دل کی طرف آنے والے ہر راستے پر کنکر بچھائے ہوئے تھے۔۔۔۔یا پھر یہ اسکا خیال تھا۔۔کہ وہ سنگ دل ہو گئی ہے۔۔ورنہ زندگی کی امنگیں اسکے دل کے نہاں خانوں میں بھی کروٹیں لیتی تھیں۔۔۔یکلخت اسے اپنے خیالات پر خود ہی بے تحاشاتعجب محسوس ہوا تھا،وہ سراپا جو اسکی نگاہوں کے سامنے ٹھہر سا گیا تھا۔۔یکدم اسے بے پناہ حیامحسوس ہوئی تھی….وہ اس کیفیت میں سے فوراََ نکل آئی جس میں بھنور کی طرح پھنس گئی تھی…. پتہ نہیں کیوں اسے لگا کہ سرمد علی شاہ اسکے سامنے کھڑا حقیقتاََ اسے دیکھ رہا ہے۔۔اس خیا ل کا ذہن میں آنا تھا کہ اسکا پورا وجود جھنجھنا اُٹھا۔۔۔بے اختیاری کی سی کیفیت میں۔۔۔اس نے دوپٹہ اُٹھا کر اسکارف کے سے انداز میں لپیٹا۔۔اسے لگا کہ کوئی مسکرایا ہو جیسے۔۔کون۔۔۔وحشت سے چاروں طرف دیکھ کر وہ بیڈ سے اتر گئی۔۔سور ج کی کرنیں کمرے میں ہر طرف پھیل رہی تھیں اور اسکے اپنے وجود کے علاوہ وہاں کوئی نہ تھا۔۔۔

لیکن نہیں۔۔۔!
ہر مخلوق کا خالق تو موجود تھا نا وہاں۔۔اور اسکے خیالات بھی پڑھ رہا تھا۔۔۔شرمندگی کا احساس اسکے پورے وجود میں اندر تک اتر گیا تھااور وہ دھیمے قدموں سے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اپنی بے ختیاری کی کیفیت پر وہ بڑی حد تک قابو پا چکی تھی۔۔۔۔اٹل اور مضبوط اجیہ۔۔۔وہ واقعتاََ بدلی نہیں تھی۔۔وہ محبتوں کو پہنچانتی تھی… اللہ تعالی کے ہونے کا احساس ہر احساس سے بڑھ کر تھا…تھوڑی دیر بعد ٹپکتے قطروں کے ساتھ وہ باہر نکلی تو ذہن میں سب واپس آ چکا تھا،ناصر۔۔رانگ کال۔۔۔۔موبائل۔۔۔سب کُچھ۔۔۔وہ پہلے والی اجیہ بن چکی تھی۔۔،آستین سے اسنے پلکوں سے ٹپکتے پانی کو جذب کیااور وال کلاک پر نظریں دوڑائیں….دس بج رہے تھے،فجر کی نماز قضا ہو گئی تھی۔۔۔کیوں ہوئی تھی۔۔۔یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی اس لیے رنج زیادہ ہوا۔

۔تھوڑی دیر بعد وہ قضا نماز ادا کر چکی تھی اور اسکارف الماری میں ہینگ کر رہی تھی،ہینگ کر کے وہ پلٹی اور انٹر کام کی طرف بڑھی اور نازیہ کے کمرے کا نمبر ڈائل کیا۔۔،

”جی۔۔؟؟“نائلہ کی آواز بھاری ہو ری تھی۔
”السلام و علیکم آپی۔۔آپ ریڈی ہو رہی ہیں نا۔۔؟؟“ماتھے پر آئے ہوئے بالوں کو سر پیچھے کر کے اس نے ہٹایا،
”وعلیکم السلام۔۔۔ہاں جیا گیارہ بجے تک تیار ہونگی میں۔۔!!“اسکی آوا زمیں تکلیف برداشت کا عنصر نمایا ں تھا۔۔،وہ بے ختیار بے چین ہوئی،
”آپ کی طبیعت کیسی ہے۔۔“
”بہت بری ہے۔۔خیر اب ہاسپٹل جا ہی رہیں ہیں نا۔۔۔۔“وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی تھی،
”ہاں اور انشاء اللہ آپ ٹھیک بھی ہو جائیں گی!“
”اوکے جیا سی یو لیٹر۔۔۔“اسنے انٹر کام ر کھ دیا،

اور قدم قدم چلتی الماری کے قریب پہنچ کر ہینگ ہوئے کپڑوں پر نظر دوڑانے لگی۔۔۔،
اس وقت کے بعد سے ایک بار بھی اسکی نگاہوں کے سامنے پھر وہ سراپا نہیں لہرایا تھااور ایک بار بھی دل مخصوص انداز سے نہیں دھڑکا تھا۔۔۔۔

( جاری ہے …..)

اپنا تبصرہ بھیجیں