جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر35




قسط نمبر 35

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف کسی انسان کی محبت سے بڑھ کر تھااور وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اللہ کو ناراض کردے۔۔ ابھی وہ محبت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے والے فلسفے پر یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔۔۔ اسے اللہ پر بھروسہ تھا اور وہ چاہتی تھی کہ اسی بھروسے کو کامل کرے۔۔۔

اپنے آپ پر متاثر کن حد تک کنٹرول رکھنے والی اجیہ پورے استحقاق اور وقار کے ساتھ کھڑی سوٹ کا چناؤ کر رہی تھی۔۔۔۔،چند لمحے گزرے اسکی نظر سفید اور فیروزی موتیوں والی فراک پر ٹھہر سی گئی ٹخنوں تک آتی وہ فراک پوری سفید بل دارتھی گلے اور دامن پر فیروزی موتیوں کا کام ہوا تھا۔۔۔۔ لمحہ بھر کے لیے اسکی نظروں کے سامنے خواب کا سفید حسین شاہکار لہرایا تھااور پھر دوسرے شاہکار کے ذہن میں آنے سے پہلے ہی اس نے آنکھیں زور سے میچیں تھیں،پہاڑوں میں گھری نیلی زرد ندی اور چمکتے ہوئے دو وجود بھاپ بن کر اُڑ گئے۔۔اسنے دل کی کمزوری پر قابو پا لیا تھا۔۔۔کسی مضبوط سے مضبوط انسان کی زندگی میں بھی۔۔۔دل کی یہ کمزوری کسی نہ کسی وقت گداز ہو ہی جاتی ہے۔۔ تھوڑی دیر وہ یونہی کھڑی اس فراک کو دیکھتی رہی جسکا سفید رنگ اسکو کسی اور دنیا میں پہنچا رہا تھا،پھر کچھ سوچ کر زیر لب مسکراتے ہوئے اسنے وہ فراک نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایالیکن پھر کھینچ لیا۔

اپنی اسی حرکت پر خود بھی حیرت زدہ رہ گئی۔۔۔ جانے کیا چل رہا تھا سکے دل میں کہ جسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی،شاید خوف کچھ پکڑے جانے کا ڈر۔۔۔۔ وہ دوبارہ وہیں کھڑی پھر کُچھ سوچ رہی تھی چند لمحوں بعد اسنے دوبارہ فراک نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن اب کی بار کھینچا نہیں۔۔۔، کسی فیصلے پر پہنچ جانے کی چمک اسکی آنکھوں میں نمایا ں تھی۔لیکن آنکھوں کی پتلیوں میں ٹھہری بے نام سے جھجھک بھی بہت واضح تھی۔۔۔ دس منٹ مزید سرکے،سفید فراک میں ملبوس اجیہ وا ش ر وم سے نمودار ہوئی سنہری بال کھلے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں مسکراہٹیں جگمگا رہی تھیں جارجٹ کا سفید دوپٹہ جسکے کناروں پر فیروزی موتیوں کا کام تھا اسکے بازؤں میں تھا، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالنے کے بعد اسنے آنکھیں بند کر لیں تھیں، اسے لگا جیسے کو ئی حقیقت میں اسکے بہت قریب کھڑا مسکرا رہا ہو۔۔۔۔استہزائیہ مسکراہٹ۔۔۔۔کانپ کر آس پاس دیکھا،وہ کمرے میں اکیلی تھی۔۔

لیکن اللہ تعالیٰ۔۔۔قریب تھا کہ وہ شرم سے پانی پانی ہو جاتی لیکن کوئی اسے تھام چکا تھا۔۔۔بار بار قابو پا کر بھی کھو دینے والی اجیہ اور جذبات کی سرکش موجوں کے سامنے لا شعوری طور پر ہار مان لینے والی اجیہ کو بھی اسی نے تھاما تھا جو نہیں چاہتا تھا کہ اسکے معصوم بندوں کے ذہنوں میں سے برے خیالات کا گزر ہو۔۔اجیہ اس لمحے اس کیفیت میں تھی کہ قریب تھا کہ اسکے اوپر شیطانی خیالات حملہ کر دیتے۔۔۔اسکی ذہنی حالت کو خوب جاننے والا خداکیسے چاہتا کہ اسکے ساتھ یہ ہو۔۔۔سر جھٹک کر اسنے دوپٹہ بیڈ پر پھینکابال جوڑے کی شکل میں لپیٹے اور فیروزی اسکارف نکال کر چہرے کے گرد لپیٹا،فیروزی ہالے میں اسکا صبیح چہرہ اور بھی دمک اُٹھا تھا،دوپٹہ سینے پر پھیلا کر پن کیا۔۔۔ گلابی لبوں پر گلوز لگائی اور وال کلاک کو دیکھا،گیارہ بجنے میں دس منٹ باقی تھے،
”اوہ“

بہت تیزی سے اسنے اگلے ہی لمحے سفید جاگرز پہنے تھے،پرس کندھے پر لٹکایاسیاہ سن گلاسز آنکھوں پر لگائے اور قد آورآئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک نظر اپنا جائزہ لیا،
”ارے۔۔رسٹ واچ۔۔!!“ہتھیلی پر نگاہ پری تو اسکو گھڑی یا د آگئی تھی،مسکرا کر اسنے سفید نگوں والی گھڑی ہتھیلی کے گرد باندھی اور موبائل لینے کے لیے حسب معمول ڈریسنگ ٹیبل کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا لیکن۔۔۔بے اختیار آنکھوں کے گوشے بھیگے اورنا محسوس سا ایک آنسوگال پر پھسلا تھا۔۔۔بہت کُچھ دل کی سطح پر جذب کر کے اس نے دروازہ لاک کیا اور سیڑھیا ں اترتی گئی،باہرنکلتے ہی سفید رنگ اور فیروزی موتیاں چمک اُٹھیں تھیں دھوپ زیادہ تھی سیاہ گلاسز کے پیچھے بھی اسکی آنکھیں لمحہ بھر کو چندھیائیں تھیں،وہ پر س پیچھے کی سیٹ پر ڈال کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور کار اسٹارٹ کرنے لگی چوکیدار نے دروازہ کھول دیا تھا،کار باہر لے جا کر ایک طرف کھڑی کی اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لیا،چند لمحے گزرے،

دستک کی آواز سے وہ چونکی… نازیہ آنکھیں سکیڑ کر انکے اوپر ہاتھوں کی جھری بنائے لاک کھولنے کا اشارہ کر رہی تھی،
ذرا سا آگے کو ہو کر اسنے دروازہ کھولااور نظر بھر کر نازیہ کو دیکھا،اسکے چہرے پر تکلیف کے آثارنمایاں تھے،گلابی دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھاپرس بازؤں میں تھاگہرے گلابی رنگ کی لمبی قمیص پہنے وہ بہت سادہ سی لگ رہی تھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اسنے فرنٹ ڈوربند کیا تو اجیہ کاراسٹارٹ کر کے سڑک پر لے آئی،

”آپی۔۔آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟؟“چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسنے سکوت توڑا،نازیہ کے لب کپکپائے اسنے نفی میں سر ہلا دیا،
”ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں نا۔۔۔ٹینس مت ہوں۔۔ٹھیک ہو جائینگی آپ۔۔انشاء اللہ۔۔،“اجیہ سامنے دیکھتی ا پنے طور پر اسے تسلی دے رہی تھی،نازیہ کے لبوں پر اداس مسکراہٹ نمودار ہوئی،وہ سر جھکا کر پرس سے کھیلنے لگی،ٹریفک کا شور بہت تھااجیہ نے اے سی آن کر کے کھڑکیاں بند کر دیں،ٹھنڈک اندر تک اتر رہی تھی،ٹریفک کے اژدھام میں بتدریج تیزی سے سرکتی کار کے اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی…دونوں کسی خیالوں میں گم کسی گہرائی میں اتری ہوئیں تھیں،ہاسپٹل آگیا تو اجیہ نے گہری سانس لے کر پارکنگ میں کا رکھڑی کی اور نازیہ کے ہمراہ اندر کی جانب بڑھ گئی،استقبالیہ پر پہنچ کر اسنے اپوائنٹمنٹ کے بار ے میں معلوم کیا تھانازیہ چھوٹے بچے کی طرح اسکا ساتھ دے رہی تھی،اجیہ اسکی ذہنی کیفیت سمجھ سکتی تھی اسی لیے اسے بار بار یقین دہانی کروا رہی تھی کہ کُچھ نہیں ہو گا لیکن اسکا دل خود بھی نا معلوم خوف سے لرز رہا تھا،

تھوڑی دیر بعد وہ کوریڈور میں بے چینی سے ٹہل رہی تھی….سینے پر ہاتھ باندھے اسکے ہر انداز سے بے قراری نمایاں تھی،نازیہ کو ڈاکٹر نے سی ٹی اسکین کروانے کا کہا تھااور نازیہ اجیہ کے بے تحاشا اصرار پر اسکین کرانے کے لیے تیار ہوئی تھی ڈاکٹرز اسے ایڈمٹ کرنا چاہتے تھے لیکن نازیہ کسی طور آمادہ نہیں تھی حالانکہ یہ بہت ضروری تھا،اب نازیہ لیبارٹری میں تھی اور باہر اجیہ کی پریشانی انتہا پر پہنچی ہوئی تھی،ڈاکٹر نے اسے کونے میں لے جا کر بتایا تھا کہ نازیہ کے دماغ میں کسی خطرناک بیماری کے آثار واضح طور پر نظر آرہے ہیں اور اسکا پورا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔اپنے آپ کو خود میں سمیٹ کر رکھنے والی نازیہ کتنے عرصے سے اس بیماری کی اذیت کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔کیا کوئی اسکا اپنا نہیں تھا جو اسکے چہرے پر لرزتی مسکراہٹ کے پیچھے پنہاں درد کو پہچان سکتا۔۔؟؟ابو تو گھر میں ہوتے ہی نہیں تھے انکے کاروباری دورے زیادہ اہم تھے لیکن۔۔

اجیہ تو ہوتی تھی نا گھر میں،کھانا اسکے ساتھ کھاتی تھی شاپنگ اسکے ساتھ کرتی تھی۔۔پھر کیوں۔۔وہ کُچھ محسوس نہ کر سکی۔۔؟؟کوریڈور میں چکر لگاتے ہوئے اسے اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا،ایسا مجرم جس کا جرم۔۔۔احساسات کی حد تک ہو۔۔۔بے چینی سے ادھر ادھر جاتے ہوئے وہ تھک کر کرسی پر بیٹھ گئی،اسکا دل کانپ رہا تھا،روح کی گہرائیوں میں کوئی شدت سے نازیہ کی صحت یابی کی دعا مانگ رہا تھا حالانکہ ابھی بیماری کا پتہ نہیں تھا لیکن وہ اتنا تو جانتی تھی کہ نازیہ کا کمزور وجود کسی خطرناک بیماری کی لپیٹ میں ہے۔۔۔اسکا رواں رواں اس لمحے دعا گو تھا۔۔۔بے قراری سے دوبارہ کھڑے ہو کروہ کر کاٹنے لگی تھی انتظار برداشت کرنا اسے گراں گزر رہا تھا۔۔۔کوریڈور میں آس پاس بے شمار لوگ گزر رہے تھے….کچھ دیر بعد لیبارٹری سے اسی وقت ڈاکٹر باہر نکلے تھے۔۔اس نے ذہن سے سب کُچھ جھٹک کر خود کو کسی بھی خبر کے لیے تیار کرنا چاہا تھا،

لیکن نازیہ آپی کی بیماری کا سننا اور پھر اسکے بارے میں ابو کو بتانا۔۔۔وہ بھی جب آ ج ابو نازیہ کو اسکے پرپوزل کے بارے میں بتانے والے تھے اور پھر شاپنگ بھی تو کرنی تھی نا انہیں مل کے۔۔۔اگر ابو کو نہ بتایا تب بھی کب تک چھپایا جا سکتا ان سے۔۔۔۔بتانا تو ہے انہیں ایک نہ ایک دن۔۔۔۔وہ ڈاکٹر کی طرف بڑھی تو سینے میں قید دل ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔نازیہ کا پُر اذیت چہرہ۔۔۔
’’ایکسکیوزمی پلیز۔۔۔۔“وہ انکے قریب پہنچ کر بولی تو ڈاکٹر کی سوالیہ نگاہیں اسکی طرف اُٹھیں تھیں۔۔۔
”جی۔۔؟“
”واٹ اباؤٹ سی ٹی اسکین۔۔۔؟؟“نازیہ انصاری؟؟“ڈاکٹر نے ٹٹولتی نگاہوں سے اسے پھر دیکھا۔۔۔
”آپ کا کیا رشتہ ہے انکے ساتھ۔۔۔“وہ بے ساختہ جھنجھلائی۔
”ایم ہر سسٹر۔۔۔اجیہ انصاری۔۔“
”اوہ۔۔شیور۔۔۔۔!“
”پلیز بتائیے۔۔۔آپی کہاں ہیں۔۔۔“
”نازیہ انصاری تھوڑی دیر بعد باہر آ جائیں گی۔۔۔آپ انتظار کیجئے۔۔۔!!“وہ کہہ کر مڑنے لگے،

اجیہ یکدم بے چین ہوئی۔۔۔
”ڈاکٹر۔۔۔۔؟؟“انہوں نے گردن موڑی۔۔۔۔،
”کہیئے میڈم“
”کوئی خطرہ کی بات تو نہیں ہے نا؟؟؟“کیسی حالت ہوئی ہے اس وقت….جب انسان امید اور خوف کے درمیان ڈول رہا ہو۔۔
”کیوں نہیں۔۔۔بالکل ہے۔۔۔۔“وہ مدھم آواز میں کہہ کر پلٹ گئے،
اجیہ کی آنکھوں میں پل بھر کے لیے ویرانیاں اتری تھیں۔۔۔۔اسکا اضطراب پل بھر کے لیے انتہا کو پہنچا تھا،

”آپی۔۔
آپ بیمار ہیں۔۔۔۔
فکر نہ کریں ٹھیک ہو جائیں گیں۔۔۔
میں ا ب آپکا خیال رکھوں گی۔۔۔
بس آپ ٹھیک ہو جائیں۔۔۔
آپ کی اجیہ ہے نا نازیہ آ پی۔۔
آپ اکیلی نہیں ہیں۔۔۔۔پہلے بھی نہیں تھیں۔۔۔۔پھر کیوں کسی کو نہیں بتایا۔۔۔

معلوم نہیں کب دو ننھے سے آنسؤوں کے قطرے پلکوں سے ٹوٹ کر گالوں پر پھسل گئے تھے،وہ بہت پریشان تھی،کہ زندگی شاید پریشانیوں اور دکھوں کا ہی تو نام ہے۔۔لیکن نہیں۔۔۔شاید زندگی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔۔۔۔یا پھر شاید زندگی ہنس ہنس کر لا پرواہی سے گُزار دینے کا نام ہے۔۔شاید۔۔پتہ نہیں….!ایک نا محسوس سا آنسو۔۔۔اسکے ہاتھ کی پشت پر گرا تو وہ چونکی، تبھی نازیہ اسے لیبارٹری سے نکلتی دکھائی دی۔۔۔تھکے تھکے سے چہرے اور مردہ قدموں سے چلتی نازیہ کا وجود حقیقتاََ۔۔۔کسی خطرناک بیماری کے لپیٹ میں ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔۔کس قدر پر مثردہ سا چہرہ ہو گیا تھا۔۔۔۔زرد۔۔۔آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ ہلقے۔۔۔جگمگاتی ستاروں جیسی حسین آنکھوں والی نازیہ آپی کی یہ حالت اسکی برداشت سے باہر تھی،معلوم نہیں جب ابو کو بتاوں گی تب وہ کیا ریسپانس کریں گے۔۔۔۔اور۔۔۔نازیہ آپکی کی شادی۔۔انکا پرپوزل۔۔۔اس قدر بیمار لگ رہی ہیں۔۔۔شاید ڈاکٹر نے انہیں کُچھ بتایا ہو۔۔۔شاید۔۔۔“

ایک بار پھر اسکی آنکھوں کے اوپر ڈھکی پلکیں بھاری ہونے لگیں،سامنے کا منظر دھندلانے لگا تھا۔۔۔اس نے جلدی سے سر جھٹک کر نازیہ کی طرف دیکھا وہ تھوڑا آگے آکر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔شاید اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی۔۔چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا لی تھی۔
”آپی۔۔؟؟“ نازیہ نے چونک کر اسے دیکھا پھر سر کو خم کرتے ہوئے اسکی طرف بڑھی،
”کیا ہوا۔۔؟؟“اجیہ نے لہجے کی نمی کو چھپا لیا تھا،
”کُچھ نہیں۔۔۔!!“نازیہ کا لہجہ بھیگا ہوا تھا،اسکے دل کو پھر کُچھ ہونے لگا،
”کیا مطلب آپی؟ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔؟؟“نازیہ نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا،
”انہیں کُچھ کہنا تھا کیا۔۔۔؟“وہ تیزی سے بھاگتے قدموں سے باہر کی جانب بڑھ گئی اجیہ اسکے پیچھے لپکی،
”آپی۔۔پلیز۔۔۔کیا ہوا ہے؟؟“

نازیہ رکے بغیر آگے بڑھتی گئی،،پارکنگ میں پہنچ کر سرعت سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھیاور چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سسک پڑی،
اجیہ کی بے چینی دو چند ہو گئی تھی،وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور نازیہ کی طرف مُڑی،
”بتائیں نا۔۔۔۔؟؟کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔؟؟۔۔پلیز آپکو خدا کا واسطہ۔۔مجھے بتائیں۔۔“وہ رونے کے قریب پہنچ گئی تھی،نازیہ نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے۔۔آنسوؤں سے پورا چہرہ بھیگ گیا تھا۔۔۔نازیہ سُرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔
”اجیہ۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ کہتے ہیں۔۔۔میرے۔۔۔سر میں۔ٹیومر۔۔۔۔۔ٹیومر ہے۔۔۔۔برین کینسر۔۔۔۔سمجھ سکتی ہو۔۔۔۔ کینسر۔۔!“وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی،
کیا۔۔۔؟؟“اجیہ گنگ رہ گئی،نازیہ کے آنسو قطرہ قطرہ ہاتھوں سے پھسل کر نیچے بہہ رہے تھے،
”کینسر۔۔۔ٹیومر۔۔برین کینسر۔۔۔اسکا وجود کسی بہت گہرے تاریک کنویں میں گرتا جا رہا تھا،
آس پاس ہر چیز ہوا میں معلق ہوتی جا رہی تھی،

زندگی کے صدمات اسکے لیے نئے نہیں تھے لیکن شاک کی آخری انتہا پہ وہ پہلی بار پہنچی تھی جب سکتہ طاری ہو کر آنکھوں میں تیرتے آنسو خشک کر دیتا ہے اور جب دل چاہتا ہے کہ کاش یہ زندگی کبھی بنی ہی نہ ہوتی،جب انسان کا وجود زندگی کے درخت سے خزاں رسیدہ پتوں کی مانند گر کر چٹخ رہا ہوتا ہے،جب صدمے کی انتہا اسے ایسے طوفان کے سپرد کر دیتی ہے جس کی بھیانک موجوں سے اسکا وجود ادھر سے اُدھر بے خانماں برباد کی طرح ڈول رہا ہوتا ہے،جب سرکش طوفان کی سختی اسے ایسا سخت جان بنا دیتی ہے جس کے چہرے پر لہراتے سائے اسکے دل کا حال نہیں بتا دے۔۔۔نازیہ کی سسکیاں دل کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ان میں شگاف ڈال رہیں تھیں،اجیہ ساکت بیٹھی،،کانپتے وجود اور آنکھوں کی پھلی ہوئی پتلیوں کے ساتھ اسے دیکھے جا رہی تھیں۔۔۔۔کیا حالت ہوتی ہے اس وقت جب سامنے والا سسک رہا ہو اور اسے تسلی بھی نہ دے سکیں چاہنے کے باوجود تسلی نہ دے سکیں۔۔۔۔کیونکہ اس وقت خود اپنے وجود کو کسی کے ہمدردی بھرے لمس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

”اجیہ۔۔۔۔!!“نازیہ کی ویران آواز میں آنسوؤں کا گیلاپن تھا،اسے لگا بہت گہری کھائی سے کسی نے اسے آواز دی ہو،وہ چونکی لب کانپے،
”آپی۔۔۔۔!!!“اسکی آواز بھی کانپ رہی تھی،چہرہ زرد ہو رہا تھا،آنکھوں کی خشک زمین یکدم بھیگنے لگی تھی،نازیہ کو خود سے زیادہ اسکی حالت پر ترس آیا۔
”چلو میری جان گھر چلتے ہیں۔۔۔!!“بہت پیار سے کہہ کر اسنے ٹشو سے آنکھوں سے بہتا پانی خشک کرنا چاہا،
’’نہیں۔۔۔۔“اجیہ کو جیسے چند لمحے پہلے ہوش آیا ہو،”نہیں۔۔۔!!“خود فراموش کی حالت میں اسنے دوبارہ کہا،
”گھر کیوں۔۔۔۔؟ڈاکٹرز نے کیا کہا؟؟“نازیہ کی بھیگی آنکھوں میں حیرانی آن ٹھہری لیکن تلخ حقیقتیں بار بار نہیں بتائیں جاتیں اسمیں بالکل ہمت نہیں تھی دوبارہ بتانے کی،لحظہ بھر کے لیے اسنے آنکھیں بند کیں تھیں
”آپ کیوں نہیں بتا رہیں۔۔؟بتائیں نا۔۔۔ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔“
نازیہ نے جواب نہیں دیا اسکے سر میں دوبارہ درد کی شدید لہریں اُٹھیں تھیں۔۔۔۔اور اس بار وہ درد ذیادہ اذیت ناک تھا،کیونکہ معلوم تھا کہ اس درد کی اذیت ناکی کی وجہ کیا ہے۔۔

”آپ نہیں بتائیں گیں۔۔۔۔ٹھیک ہے میں خود ہی ڈاکٹر سے پوچھ لیتی ہوں۔۔۔۔“
دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی اور بھاگتی ہوئی پارکنگ سے نکل کر اند رکی طرف بڑھی تھی،

(جاری ہے ….)

اپنا تبصرہ بھیجیں