جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر36




نازیہ نے ذرا سا جھک کر اسے بھاگتے ہوئے دیکھا اور ٹھنڈی سانس لے کر سر پشت سے ٹیک دیا، وہ بھاگتے ہوئے کوریڈور میں داخل ہوئی اور ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھ گئی، اسپتال میں داخل ہوتے ہی اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔

”ٹیومر۔۔۔کینسر۔۔۔۔برین کینسر۔۔“کوئی بھاری آواز اسکے سر پر ہتھوڑے برسا رہی تھی، وہ ڈاکٹر کے کمرے کے سامنے پہنچ کر رکی اور سانسیں بحال کیں،بال اسکارف کے اندر کیے اور ہاتھ کی پشت سے آنسوپونچھ ڈالے پھر شہادت کی انگلی موڑ کر دستک دی۔۔۔۔
”یس۔۔۔۔؟؟“وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی،اے سی کی خنکی نے اسکا استقبال کیا تھا،،ڈاکٹر صاحب میز کے پیچھے ریوالونگ چئیر پر دھیرے دھیر ے گھومتے فائلز پر جھکے ہوئے تھے، آہٹ پر سر اُٹھایا،
”جی۔۔۔۔؟؟“
”ایم اجیہ انصاری۔۔۔۔نازیہ انصاری کی سسٹر۔۔!ُ“ایک قدم آگے بڑھ کر اسنے اپنا تعارف کروایا،
”شیور۔۔۔شیور۔۔۔تشریف رکھیے۔۔!!“ انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے بیٹھنے کے لیے کہا پھر فائل بند کی،آنکھوں سے چشمہ اتار کر رکھا اور انگلیاں باہم ایک دوسرے میں پھنسا کر اجیہ کی طرف متوجہ ہوئے،

”فرمائیے۔۔۔؟؟“
”میں نازیہ آپی کے سر درد کی وجہ جاننا چاہتی ہوں“نرم اور سرد لہجے میں اسنے کہا تھا،
”انہوں نے آپکو نہیں بتایا۔۔۔۔؟؟“
”ظاہر ہے کہ بتایا ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا۔۔“نازیہ کی آنکھوں سے ٹوٹتے آنسو اسکی آنکھوں کے سامنے آکر غائب ہوئے تھے۔۔
”دیکھئے۔۔۔ہم نے انکا سی ٹی اسکین کیا ہے۔۔۔جس سے یہ پتہ چلت اہے کہ انکے سر میں ٹیومر موجود ہے۔۔لیکن یہ بات کنفرم نہیں ہے اس لیے کل ہم انکا ایم آر آئی کریں گے اگر وہ ایڈمٹ ہو جاتیں تو بہتر ہوتا کیونکہ اسطرح ہم ان کی پوری طرح ٹریٹمنٹ کر سکتے لیکن وہ نہیں مان رہیں تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں۔۔۔کل آپ دوبارہ اسی وقت آئیے گا…بس انہیں ذہنی ٹینشنز سے بچائیں۔۔اور مسلسل انہیں تسلی دیتے رہیں اور اکیلے مت چھوڑیں ہو سکتا ہے وہ تنہائی میں ڈیپریشن کا شکار ہو جائیں اور یہ بات خطر ناک ہو سکتی ہے میڈیسن وغیرہ میں نے لکھ دیں تھیں انکی باقاعدگی کا بھی خیال رکھیئے گا۔۔۔ہم اپنی پوری کوشش کریں گے۔۔۔۔آپ خدا سے دعاکیجئے گا اور اپنے آ پ کو مضبوط رکھیئے۔۔کیونکہ اسی طرح آپ انھیں سنبھال سکیں گیں۔۔۔!!“
آگے کو ہو کر بولتے ڈاکٹر بات پوری کر کے مسکرائے اور پیچھے ہو کر ٹیک لگا لیا،

”تھینک یو ڈاکٹر۔۔۔۔!!“توجہ سے سنتی اجیہ بات پوری ہونے پر اُٹھ کھڑی ہوئی،
”مائی پلیژر۔۔۔۔“انہوں نے سر کو خم کیا،وہ مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی،کوریڈور میں خشک آنکھوں سے دھیمے قدم اُٹھاتے ہوئے اسکے اعصاب نسبتاََ پر سکون تھے۔لیکن پریشانی سے دل ابھی بھی کانپ رہا تھا،شکر ہے کنفرم تو نہیں ہوا نا۔۔“آپی کو تسلی دینے کے لیے یہی بات ہی کافی ہو گی،

آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں ڈاکٹر۔۔۔مجھے خود کو مضبوط کرنا ہو گا،۔۔۔۔ورنہ آپی کو کون سہارا دے گا۔۔۔انہیں کتنی بار میری مشکلات میں مجھے سہارا دیاہے۔۔۔ اب میری باری ہے۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹر صاحب آپکو کیا معلوم۔۔۔خود کو مضبوط کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔۔!!“ سُرخ آنکھوں میں اب آنسو خشک ہو گئے تھے،لبوں پر اداس سی مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔
”اللہ تعالی کارساز ہیں۔۔ وہی آپی کو صحت دے دینگے۔۔ہاں۔۔آپی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔ اللہ تعالی ہیں نا۔۔۔!“جگمگاتی آنکھوں میں تشنگی کا احساس جگنوؤں کی طرح جھلملایا تھا۔ کوریڈور سے باہر آکر اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔۔
دور اوپر آسمانوں میں اڑتے پرندوں نے سر جھکا کر رب العالمین کو پکارنے والی اس لڑکی کو دیکھا تھا جو ہر بار مشکلات کی آگ سے کندن بن کر نکلتی تھی۔۔! وہ اب گہری سانس لے کر کار کی جانب بڑھ گئی تھی۔

٭٭٭

اسنے ہاتھ بڑھا کر سیاہ پردے کھڑکی پر سے ہٹا دئیے،
سورج کی کرنیں بن بلائے مہمان کی طرح اندر چلی آئیں اور کمرے کے گوشے گوشے کو منور کر دیا،سیاہ دیوار پر چاندنی رات کے ستاروں کی طرح جگمگانے لگیں آنکھیں میچ کر اسنے چمچماتی کرنوں سے بچاؤ کرنا چاہاتھا،ذرا سا آگے بڑھ کر کھڑی کے ذریعے اس نے لان میں جھانکا، معمول کی طرح وہاں گہرا سناٹا طاری تھا،سبز گھاس اور رنگ رنگ کے پھولوں سے سجی کیاریاں بھی اداس معلوم ہوتیں تھیں۔۔۔ اسکے دل کا خالی پن بڑھ گیا تھا،

لمحہ بھر کے لیے اسنے نظر بھر کر اپنے عالیشان گھر کے صدر دروازے کی طرف دیکھاجہاں سے ایک روز ناصر گیا تھا شاید کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔ہمیشہ کی طرح اسنے پوری شدت سے اس خیال کو جھٹلا دیا، روز صبح اُٹھ کر سب سے پہلے وہ دروازے کو یونہی ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی تھی،موہوم سی امید کے سہارے،کہ شاید وہ ابھی اندر آئے گا اور کہے گا۔۔۔۔دیکھو تم خومخواہ پریشان تھی۔۔۔۔میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں واپس آؤنگالو دیکھو میں واپس آ گیا۔۔۔اور ہمیشہ کی طرح کھلکھلاتے ہوئے اس کے بال بکھیر دے گا اور ہاتھ تھام کر اندر لے آئے گا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔۔دو سال ہو گئے تھے اسکا ہر دن سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی مایوسی پر ختم ہو جاتا تھا، کیونکہ وہ کبھی بھی غروب آفتاب کے بعد گھر نہیں آیا کرتا تھا۔۔۔۔۔
اداس سی مسکراہٹ لبوں کی تراش میں ابھر کر معدوم ہو گئی۔۔ وہ دو سال پہلے کے اس اداس دن کو وہ ایک لمحے کے لیے بھی فراموش نہیں کر پائی تھی جب دوپہر کو سورج اپنے جوبن پر تھا اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی کیاریوں میں لگے پھول ان دنوں مسکرایا کرتے تھے لیکن اس وقت وہ بھی جدائی کا نوحہ پڑھ رہے تھے،

ناصر اسکا ہاتھ تھام کر پورچ تک آیا تھا اور جب اسنے ہاتھ چھوڑا تھا تب اسکی آنکھیں بھی جھلملائیں تھیں بس ایک لمحے کے لیے، اور پھر وہ جانے کے لیے مڑ گیا تھا تو وہ بے قرارہو کر اسکے پیچھے لپکی تھی،
”ناصر،یونہی کوئی بات کیے بغیر۔۔۔۔کُچھ کہے بغیرجا رہے ہو۔۔۔؟؟؟؟“ اور ناصر کے اُٹھتے قدم اسکی آواز پر تھم گئے تھے،وہ مڑا تھا اور۔۔۔اسے بہت اچھی طرح یاد تھا کہ اسکے گالوں پر آنسو گر رہے تھے اسکی آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں، ہاتھ کی پشت سے آنسو منتشر کرتے ہوئے وہ اسکے قریب آیا تھا اور اسکا ہاتھ تھا م کر زور سے بھینچا تھا۔۔۔۔
”کیا کہوں صبا۔۔۔۔؟؟؟مجھے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔!!“ اس لمحے اسکی آنکھوں کا والہانہ پن بھی اسے اب بھی یاد تھا،
”کہاں جا رہے ہو۔۔؟؟“ اسکی پلکیں چھلکنے کو تیار تھیں،

”تمھیں بتایا تو تھا،اوپر سے آرڈر آیا ہے مجھے پاکستان جانا ہو گا۔۔۔کوئی ٹاسک ہے وہاں۔۔۔۔اسے پورا کر کے واپس آ جاؤں گا۔۔!!“ اسکے شانے پر ہاتھ رکھے ناصر نے آہسہ سے کہا تھا،
”واپس آؤ گے نا؟؟؟؟“ کپکپاتے لبوں سے جملہ آذاد کرتے ہوئے اس کی آنکھیں چھلک پڑیں تھیں، ناصر نے بس یک ٹک اسکی آنکھوں سے ٹوٹتے آنسؤں کو دیکھا تھا،
”دیکھو تم چلے جاؤ گے تو میں یہاں اکیلی ہو جاؤں گی،میرا تو کوئی بھی نہیں ہے یہاں اور اتنے بڑے گھر میں مجھے اکیلے ڈر لگے گا ناصر۔۔۔۔پلیز مت جاؤ۔۔۔رک جاؤ۔۔۔یہاں۔۔۔۔۔!!“ وہ سسکتے ہوئے بے اختیار بولتی گئی تھی،

”نہیں صبا مجھے جانا ہے۔۔۔یہ آرڈر ہے جو ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے۔۔۔کاش کہ میں رک سکتا۔۔۔تم اتنی پریشاں کیوں ہو۔۔۔میں پہلے بھی تو باہر جاتا رہا ہوں۔۔۔اچھا بتاؤ تمھارے لیے پاکستان سے کیا لاؤں۔۔؟؟“
”گلاب کا پھول۔۔۔۔!“وہ بکھرتے آنسوؤں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی تھی،
”چلو ٹھیک ہے۔۔!!“اس نے دوسرے ہاتھ سے اسکے بال بکھیرے تھے،
”ا ب میں جاؤں۔۔۔؟؟“
”ایک منٹ رکو۔۔۔؟؟“

وہ لان کی طرف مڑی،ناصر نے منتظر نگاہوں سے اسے پلٹتادیکھا تھا اور پھر ذراد یر بعد ہی وہ واپس آئی تھی، اسکے ہاتھ میں سفید گلاب تھا،،ادھ کھلا۔۔۔۔
”یہ لو۔۔۔!!!“اسکے رخساروں پر گلال بکھرا تھا، ناصر نے وہ پھول تھام کر ہتھیلی سے پکڑ کر اپنی جانب کیا تھا اور نرمی سے اسکے بالوں میں گلاب اٹکا دیا تھا، اور پھر کتنی ہی دیر چمچماتی دھوپ میں وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے تھے، اور تب وہ جانے کے لیے پلٹ گیا تھا۔۔۔
اور۔۔ وہ وہیں تنہا کھڑی رہ گئی تھی، اس دن کے بعد سے وہ حقیقتاََتنہا ہو گئی تھی،ناصرسے اسکا کوئی رابطہ نہیں تھا،اس نے اپنا موبائل بند کر دیا تھا،سوشل میڈیا پر بھی وہ اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکی تھی، دو سالوں میں اسکے ارد گردتنہائیاں بڑھتی گئیں تھیں،وہ کوشش کے باوجودکسی کام میں دل نہیں لگا سکی تھی۔۔۔۔ ہر طرف اسے تاریکیاں نظر آتی تھیں وہ لاشعوری طور پر بھی ہر وقت ناصر کو سوچتی رہتی تھی۔۔۔ اور سورج کے طُلو ع ہونے کے ساتھ ہی اسکی امیدیں پھر بلند ہونا شُروع ہو جاتیں تھیں اور سورج کے غروب ہوتے ہی وہ اگلے دن کا انتظار شُروع کر دیتی تھی کہ اپنی امیدوں کے قلعے کو از سر نو تعمیر کرے۔۔۔۔۔دو سال سے اسکی زندگی یونہی یکسانیت کا شکار ہو کر رہی گئی تھی،

گویا ناصر کا انتظار کرنا اسنے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔۔۔۔۔۔

کھڑکی کے باہر چڑیا زور سے چہچہائی،
وہ چونکی پھر کھڑکی کے سامنے سے ہٹ گئی،

اور بیڈ پر لیٹ گئی،اُٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا، عجیب کسلمندی سی آج اس پر طاری ہو رہی تھی پوری شدت سے آج اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ خود ہی پاکستان چلی جائے اور ناصر کو ڈھونڈ لے اور جب وہ مل ائے تو اسے اسکے بازوں سے پکڑ کر کہے کہ دیکھو میں نے خود ہی تمھیں ڈھونڈ لیا تم مجھے بھول گئے تھے نا۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں اداسی نمو دار ہوئی، چند آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہوئے تھے،ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا،کشتی کی طرح سمندر کی لہروں پر ڈولتا وہ منظراسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لے گیا تھا، وہ بہت دلفریب صبح تھی،اتوار کا دن تھا جب وہ ناصر کے اُٹھانے پر اُٹھی تھی اور پھر گھڑی دیکھ کر بہت ناراض ہوئی تھی،
”دماغ ٹھیک ہے تمھارا۔۔۔سات بھی نہیں بجے ابھی،مجھے اُٹھا دیا،ہٹو یہاں سے،،سونے دو مجھے۔۔۔!!“ناصر کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے چلا کر کہتے ہوئے اسنے کشن اُٹھا کر اسے دے ماراتھا، کشن مار کر اسنے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں تھیں، ناصر نے ہنستے ہوئے دائیں طرف جھک کر خود کو بچایا تھا اور پھر سے اسکے کان کے قریب آ کر چلایا تھا،

”صبا اُٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔صبح ہو گئی ہے!!!“ وہ شدید غصے سے آنکھیں کھول کر غرائی تھی،
”دیکھو تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔مجھے سونے دو۔۔۔۔،ظالم انسان۔۔۔نیند خراب مت کرو میری۔۔!!“
”ظالم انسان۔۔۔۔سچ بتاؤ میں ظالم ہوں۔۔؟؟“ وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا تھا۔۔
”تم جارہے ہو یا نہیں۔۔۔۔؟“ وہ دوبارہ چلائی تھی،
’’نہیں۔۔۔!“ناصر مزہ لے کر بولا تھا،
”ٹھیک ہے پھر میں بھی نہیں سو رہی۔۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔!“ منہ بسور کر وہ اُٹھ گئی تھی،
”چلو سیر کرنے چلیں۔۔۔۔!“
”جی نہیں،میں کہیں نہیں جا رہی،تم اکیلے جاؤآج پھر مزہ آئے گا!۔۔۔“ وہ روٹھے روٹھے لہجے میں بولی تھی،

”ارے نہیں نا۔۔۔تمھارے بغیر کہاں جاؤنگا میں۔۔۔ چلو نا یار۔۔!“‘ ناصر ہنوز ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
”ٹھیک ہے چلتے ہیں ورنہ تم میرا پیچھا نہیں چھوڑو گے۔۔۔ “ وہ ناراضگی سے کھڑی ہوئی تھی۔ اور پھر اس دن اسنے ناصر کے ساتھ سیر کرتے ہوئے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت صبح کی تھی یوں جیسے کوئی ملکہ اپنے بادشاہ کے پہلو میں ناز و ادا سے سہج سہج چلتی ہے۔۔۔۔ وہ دن اور وہ لمحات بھی اب یاد گار بن گئے تھے اور اب جب وہ بالکل تنہا ہو گئی تھی تو یہی یادیں اسے اپنا سب سے قیمتی سرمایہ لگتیں تھیں۔۔۔۔۔ بیڈ پر لیٹے ہوئے اور آنسوؤں کو پیتے ہویئے اسنے گزشتہ دو سالوں کی طرف،گزرے ہوئے ایک ایک لمحے کو سوچا تھا، کیا کیا تھا اسنے ان دو سالوں میں،سوائے ناصر کا انتظار کرنے کے۔۔سوائے ناصر نے ساتھ بیتے لمحات کو یادگار بنانے میں۔۔۔سوائے روز ناصر کی الماری از سر نو درست کرنے میں۔۔خود سے باتیں کرنا اب اسکا معمول بن گیا تھا۔۔۔۔

کبھی ناصر اور اپنی شادی کی تصویر اُٹھا لاتی اور گھنٹوں اسے دیکھتی رہتی۔۔۔کبھی کوئی نظم پڑھنے لگ جاتی اور پھر پورا دن اس نظم کے ایک ایک لفظ کی گہرائی میں جا کر اسکی سوچوں کا رُ خ ناصر کی طرف مُڑ جاتا۔۔۔کبھی تیار ہو کر آئینے کے سامنے گھنٹوں کھڑی رہتی خود کو دیکھتی رہتی،،،دیکھتے دیکھتے بے شمار آنسو پلک سے ٹوٹ کر اسکی ہتھیلی پ رگر جاتے اگر ناصر مجھے یوں تیار دیکھتاتو کتنا خوش ہوتا۔۔۔کتنا کہتا تھا کہ وہ تیار رہا کرو بلکل پری بن کر۔۔۔اور میں بھی کتنے نخرے کرتی تھی۔۔۔اور پھر جب خوب اسے تنگ کر کے میں بہت محنت سے تیار ہوتی۔۔تب وہ کتنا خوش ہوتا تھا۔۔یوں جیسے اسے دنیا بھر کی دولت مل گئی ہو۔۔ آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی،

”دیکھو ناصر۔۔۔میں تیار ہوئی ہوں بالکل پری کی طرح۔۔۔۔۔لیکن کوئی نہیں ہے میرے پاس۔۔جو میری تعریف کرے۔۔میرے ناز اُٹھائے۔۔۔ناصر میرے ماں باپ کے مرنے کے بعد تم ہی تو اللہ تعالی کے بعد میرا سہارا تھے۔۔۔۔اور۔۔۔۔اور تم نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔۔۔“ زور سے آنکھیں میچتے ہوئے اس نے آنسو دوبارہ روکنے چاہے تھے،دن پورا نکل چکا تھا سورج کی کرنیں ہر لحظہ تیز ہوتی جا رہیں تھیں اسے آنسوؤں کی جھلملاہٹ میں سب کُچھ دھندلا دھند لا سا نظر آ رہا تھا۔ گُزری ہوئی یادیں بھی کتنا بڑاسرمایہ ہواکرتی ہیں۔۔۔۔تنہائی کی اذیت سہتے ہوئے انسان انہیں یادوں کے سہارے جیا کرتا ہے۔۔۔۔ان دونوں کی شادی کے بعد پانچ سال بعد تک بھی ویسا ہی والہانہ پن اور ویسی ہی محبت ان دونوں کے درمیان قائم تھی جیسی شادی سے پہلے تھی بلکہ شادی کے بعد ایک دوسرے کے لیے ان کی وارفتگی میں اضافہ ہی ہوا تھا۔۔۔اور۔۔۔

اب جب ناصر اس سے بہت دور چلا گیا تھا۔۔۔تو جدائی کے یہ لمحے بار گراں کی مانندگزر رہے تھے، وہ دو سالوں میں کئی بار بخار میں پھنکی تھی، تب۔۔۔۔تب بھی اسے ناصر شدت سے یاد آیا کرتا تھا۔۔بہت شدت سے،۔۔۔۔۔ اسکے ان ہاتھوں کی کمی بہت شدت سے محسو س ہوا کرتی تھی جو ہاتھ۔۔بخار کی حالت میں اسکا سر دباتے تھے،ماتھے پر پٹیاں رکھا کرتے تھے۔۔۔

آہ۔۔ناصر تم کتنا خیال رکھتے تھے میرا۔۔۔۔!“ یادوں کا سیلاب تھا کہ امڈتاچلا جا رہا تھا،

بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکر اکر اسنے ہاتھ کی پشت سے آنسوپونچھے اور کہنی کا سہارا لے کر بیٹھ گئی، چہرے پر سے بال ہٹائے اور چمچماتی سیاہ دیواروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے دوبارہ کھڑکی میں کھڑی ہو گئی، تبھی دستک کی آواز پر وہ چونکی اور مڑ کر ذرا حیرت سے دروازے کو دیکھا، پھر بلند آواز سے اندر آنے کا کہہ کر وہ جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی، آئینے کے عکس میں اسنے دیکھا، دروازہ کھول کر اندر آنے والی اسکی ملازمہ تھی، حلیہ سے وہ یو اے ای کی مقامی شہری لگتی تھی۔

صبا برش اُٹھا کر بالوں میں پھیرنے لگی،

( جاری ہے …)

اپنا تبصرہ بھیجیں