جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر37




’’کیف حالک۔۔بی بی۔۔السلام و علیکم!“ عربوں کے مخصوص لب و لہجے میں اسنے اند آ تے ہی کہا تھا،
”ٹھیک ہوں میں الحمداللہ۔۔۔“ مسکرا کر اسنے مصروف سے انداز میں جواب دیا،
”تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟“ ملازمہ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے چند لمحوں بعد پوچھا،

”انا بخیر۔۔انا بخیر۔۔الحمدوللہ۔۔۔!!“ شہادت کی انگلی اُٹھا کر کہتے ہوئے ملازمہ مسکرا رہی تھی،
”ہوں۔۔۔!!“وہ پلٹی اور بیڈ کے کونے پر پڑا دوپٹہ اُٹھا کر شانوں پر پھیلانے لگی،
”کوئی کام تھا؟“ ملازمہ کی طرف مڑتے ہوئے وہ مسکرا کر بولی،
”ناشتہ لگ گیا ہے۔۔۔“ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ملازمہ اسے بلانے کمرے میں آتی تھی ورنہ اس وقت وہ لان میں ہوتی تھی یا پھر خود ہی نیچے آ جایا کرتی تھی،

”تم جاؤ۔۔۔میں آ جاؤں گی تھوڑی دیر میں۔۔“ اسکے کہنے پر بوڑھی ملازمہ باہر نکل گئی، آگے بڑھ کر سیاہ دروازہ بند کر کے وہ واپس پلٹی اور دوبارہ کھڑکی کے سامنے آ گئی، صبح پوری طرح طلوع ہو چکی تھی،سور ج کی کرنیں مکمل طور پر ہر طرف پھیل چکی تھی اور ہر گزرتا لمحہ سورج کی تمازت تیز کرتا جا رہا تھا۔۔۔کیاریوں میں پھو ل تو اسی دن سے اداس ہو گئے تھے جب ناصر گیا تھا،گھر اور گھر کی دیواریں تک اپنے مکین کی منتظر تھیں اور صبا کی بے قراری اور بے چینی کو سمجھ سکتی تھیں۔۔۔۔انہیں معلوم تھا کہ جب ایک انسان دوسرے انسان کے لیے آکسیجن کا کام دیتا ہو اور پھر وہ آکسیجن سلنڈر اس انسان سے چھین لیا جائے تب اپنی زندگی کے لیے تڑپتے اس انسان کی کیفیت کیا ہوتی ہو گی۔۔۔۔

وہ وہیں کھڑے پھولوں کو چند لمحے دیکھی رہی۔۔۔، پھر یکا یک ذہن کے پردے پر سفید گلاب نمو دار ہوا تھا، وہ ادھ کھلا سفید گلاب۔۔جو جدا ہوتے وقت ناصر نے اسکے بالوں میں لگایا تھا اور جس کو اسنے پولیتھین بیگ میں پیک کر کے ڈائری میں محفوظ کر لیا تھا۔۔۔۔ وہ بے اختیار واپس پلٹی اور دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے الماری کھول کر ڈائری نکالنے لگی، پھر واپس چل کر واپس بیڈ پر بیٹھ گئی اور وہ بیگ نکال کر کتنی ہی دیر یونہی اسے تکتی رہی، دو سال میں گلاب کی پتیاں چٹخ گئیں تھیں انکا رنگ بھی اُڑ گیا تھا بکھری بکھری سی وہ ادھر ادھر پڑی ہوئیں تھیں، بالکل اسکے اپنے وجود کی طرح۔۔۔۔۔ یکلخت اسکے سر میں درد کی لہریں اُٹھیں تھیں۔۔۔ خود بخود ہی اسکا ہاتھ سر پر چلا گیا اور دوسرے ہی لمحے اسے ایک بار پھر پوری شدت سے اس ہاتھ کی کمی محسوس ہوئی تھی جو ہاتھ اسکا پوری توجہ سے سر دبایا کرتے تھے۔۔۔ لیکن وہ چھوٹی بچی نہیں تھی کہ اسے توجہ کی ضرورت ہو۔۔۔ اسے اس محبت کی ضرورت تھی جو ان ہاتھوں کے مالک کے لیے اسکے دل میں تھی۔۔۔جو اسے اکساتی تھی کہ صبا کا خیال رکھے لیکن۔۔۔۔،

یوں ہی بلا ارادہ دو آنسو گالوں پر لڑھکتے چلے گئے تھے۔۔۔، پولیتھین بیگ جس میں اسکا گلاب قید تھا، اسنے واپس نظر بھر کر اسے دیکھا اور کئی کئی سوہنی معطر یادیں اسکے اطراف میں بکھر گئیں تھیں۔۔۔۔۔ ٹھنڈی سانس لے کر وہ بیگ الماری میں رکھا تھا اور ویسے ہی ترچھی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی،اس نے لحظہ بھر کو پلکیں جھپکائیں۔۔۔، زندگی تو درد سے معمور ہوتی ہی ہے،دنیا کی آزمائشیں اور تکلیفیں کسی انسان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ لیکن اس بے آ ب و گیا ہ بنجر صحرا کی طرح کی دنیا میں کُچھ لوگوں کی محبت کُچھ لوگوں کے لیے ابر رحمت کی طرح ہوتی ہے۔۔۔۔ کُچھ لوگ ہوتے ہیں ایسے،جن کی مسکراہٹیں بہت سے انسانوں کے لیے جینے کی وجہ ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لو گ جنکا وجود دوسرے انسانوں کے لیے زندگی کی ضمانت ہوا کرتا ہے۔۔۔ اور پھر جب تقدیر ایسے لوگوں کو چھین لیتی ہے تب ان کی یادوں میں تڑپنے والوں کے لیے یہ دنیا ایسے ٹارچر سیل میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں وہ زبردستی ٹھونس دئیے جاتے ہیں، جہاں سانس لینے کے لیے بھی انہیں منہ پورا کھولنا پڑتا ہے اور جہاں مرنے کی تمنا کرنے کے باوجود وہ جینے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔۔

ناصر بھی تو میرے لیے انہی لوگوں میں سے تھا، اس نے تڑپ کر کروٹ بدلی، گزشتہ دو سالوں سے۔۔۔۔ تنہائی سہتے سہتے۔۔۔۔ ہر آن پگھلتے وقت کے ایک ایک لمحے نے۔۔۔۔۔ اسے باور کروایا تھا کہ۔۔۔۔۔ محبت کرنے والے گوہر نایاب ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔ سنگلاخ زمین پر چلنے کی سی تکلیف خود میں بھری ہوئی اس دنیا میں اگر مہکتا ہوا سرخ گلاب مل جائے تب انسان خود کو کتنا خوش قسمت تصور کرتا ہے،!!! صبا نے بھیگتی آنکھیں بند کر لیں،

آج ناصر ہر دن کی نسبت زیادہ شدت سے یاد آ رہا تھا،اسکا دل چاہ رہا تھا وہ پاکستان چلی جائے اور وہاں جا کر اسے ڈھونڈے،پتہ نہیں کیوں۔۔؟؟
اسکا دل گواہی دے رہا تھا کہ پاکستان جاتے ہی وہ مل جائے گا،کیا ابھی تک اسکا ٹاسک پورا نہیں ہوا ہو گا۔۔؟؟ میں پاکستان ضرور جاؤنگی اور دن رات لگا کر ناصر کو ڈھونڈ نکالوں گی چاہے کتنا ہی وقت لگ جائے کتنے ہی دن لگ جائیں،مجھے اتنا تو یقین ہو گا کہ میں بھی پاکستا ن میں ہوں اور ناصر بھی یہیں کہیں ہے۔۔۔ وہ فیصلہ کرتے ہوئے سیدھی ہو گئی اور پھر بہت اہم فیصلہ کر لینے کی چمک اسکی آنکھوں میں عود آئی تھی۔۔
جگمگاہٹ یوں اسکے چہرے پر چمچمانے لگی جیسے دو سال پہلے روز مغرب کے وقت ناصر کا انتظار کرتے کرتے اسکی جھلک دیکھتے ہی چہرے کا احاطہ کر لیتی تھی، اس وقت بھی اسکا چہرہ یوں ہی مسکرایا تھا۔۔۔ مسکراتے گہرے گلابی لبوں کے ساتھ اسکا تھکا تھکا دماغ قدرے سکون میں تھا،دل کے چہار اطراف بہت نا محسوس سا سکون پھیلتا گیا تھا۔۔۔

کہتے ہیں کہ جب انسان کا دماغ بہت پریشانیاں سہہ کر چند لمحوں کے لیے سکون کی زد میں آ تا ہے تو انسان کو اپنا ماضی یاد آنے لگتا ہے۔۔۔۔
اس وقت اسکے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا تھا،ہلکا ہوتا ذہن پیچھے پلٹنے لگا تھا،وقت کی ڈولتی کشتی میں سوار ہو کر یادوں کے اتھاہ سمندر میں وہ پیچھے جانے لگی تھی،بہت سال پیچھے۔۔۔۔ جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان سے یو اے ای آئی تھی۔۔۔ پاکستان میں جب وہ اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ انکا ننھیال دودھیال بھی ہے تب اسکا ننھا سا ذہن حیران پریشان ہو جایا کرتا تھا کہ میرا خاندان تو کتنا چھوٹا سا ہے ممی پاپا اور الیاس بھائی۔۔۔۔۔ بس اسکے علاوہ تو کوئی بھی نہیں ہے پھر یہ ان لوگوں کا ننھیال دودھیال کیا چیز ہے۔۔؟؟؟ جب بھی و ہ اپنے دوستوں کے گروپ کے ساتھ فرصت کے اوقات میں باتیں کیا کرتی تھی تب اس وقت وہ کتنی شرمندہ ہو جایا کرتی تھی جب اسکے پاس اپنے خاندان کے بارے میں بتانے کے لییے کُچھ نہیں ہوتا تھا۔۔
اپنی دوستوں کی طنز بھری باتیں سن کر ہمیشہ وہ گھر آکر بہت رویا کرتی تھی۔۔۔۔چھوٹا سا معصوم ذہن خاندان کے نہ ہونے پر بہت احساس کمتری کا شکار ہو جایا کرتا تھا،

خاص کر اس وقت جب اسکی دوستیں اپنی کزنز کے باریں میں باتیں کیا کرتیں تھیں اپنی فیملی اور مشترکہ گیدرنگز اور پارٹیز کے قصے سنا کر چہکا کرتیں تھیں۔۔۔۔۔، اور وہ دن اور وہ بات تو اسے آج تک نہ بھولی تھی جب ایسے ہی ایک دن وہ اپنے گروپ کے ساتھ بریک کے وقت بیٹھی تھی تب بھی ان کا موضوع گزشتہ رات ہونے والی برتھ ڈے پارٹی ہی تھا۔۔۔فریحہ جگمگاتی آنکھوں سے اپنی برتھ ڈے پارٹی کی روداد سنارہی تھی اور اسکا دل احساس محرومی سے پھٹا جا رہا تھا تبھی باتیں کرتے کرتے فریحہ نے اپنے بیگ سے تین چار تحفے نکال کر سب کو دکھائے تھے اور اس وقت حیرت و حسرت کی نئی کیفیت میں اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان تحفوں کو دیکھا کرتا تھااور پھر ایسے ہی ملی جلی کیفیت میں اسکے لبوں سے بے اختیار وہ جملہ نکل گیا تھا،

”تم لوگوں کو تو گفٹ بھی ملے ہیں کتنی اچھی فیملی ہے تمھاری۔۔۔۔۔“ کس قدر حسرت تھی اسکے لہجے میں۔۔۔۔ لیکن فریحہ نے اسکا یہ جملہ طنز کے طور پر لیا اور خاصے غصے سے اپنے گفٹ سمیٹتے ہوئے بولی،
”ہاں، تم کیا جانو فیملی اور کزنز کیا ہوتے ہیں۔۔۔۔تم نے فیملی کی شکل دیکھی ہو تو تمھیں پتہ چلے نا۔۔۔اپنے بنگلے کے ڈربے میں ہی بند رہا کرو تم۔۔۔۔۔“
اور یہ بات اسکے شفاف دل میں کیسے تیر کی طرح پیوست ہو گئی تھی، اسی دن اسکے پاپا گھر آئے تھے تب بہت مان سے اس نے انکی گود میں چڑھ کر اپنی فیملی کے بارے میں پوچھا تھا تب اپنے شفیق باپ کے ماتھے پر پڑنے والی شکنیں اسے آج تک یاد تھیں لیکن قریب تھا کہ وہ اسے جھڑک دیتے،
اسنے بہت روتے ہوئے انھیں اپنے احساس کمتری کے بارے میں بتایا تھا اپنی دوستوں کے کمینٹس بتاتے ہوئے وہ بہت پھوٹ پھو ٹ کر رو ئی تھی،
تب اسکے پاپا کا دل بھی پگھل گیا تھا پھر وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے تھے اور دروزہ بند کر کے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی،

’’دیکھو صبا،یہ بات تمھاری ممی کو نہیں معلوم ہونی چایہئے،“ اور آنکھوں میں اشتیاق لیے اس نے اثبات میں سر ہلا کر انہیں اطمینان دلایا تھا۔۔۔۔ پھر اسکے پاپا نے اسے گود میں لٹا کر سر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی فیملی کی کہانی سنائی تھی،

”صبا میری بیٹی۔۔۔میری بہت چھوٹی سی فیملی ہے۔۔ایک بھائی ہے بس یعنی تمھارے چاچو۔۔۔میرے ماما،پاپا کا بہت پہلے انتقال ہو گیا تھا تب میرا اور شاہد کا جائیداد پر جھگڑا ہو گیا تھا پھر وہ اپنا حصہ لے کر دوسرے شہر چلا گیا تھا اور اسکے بعد بہت سال گزرنے کے بعد جب میرے اور اسکے درمیان دیواریں گر گئیں تھیں تب وہ ایک بار مجھ سے ملنے آیا تھا اور تب ہی مجھے اس نے بتایا تھا کہ وہ شادی کر چکا ہے اور اسکی ایک بیٹی بھی ہے نازیہ۔۔۔پتہ ہے صبا اس وقت تم دو سال ہی کی تھی،وہ کُچھ دن رہ کر چلا گیا تھا اور، اسکے بعد میرا اور اسکا رابطہ بہت کم ہوتا گیا تھا، میں نے کبھی اپنی بھتیجی کو نہیں دیکھا اور نہ ہی شاہد نے اپنی بیوی اور بیٹی سے ملوانے کی کوشش کی ، اور یوں ہی گزرتے دنوں میں اپنے کچھ دوستوں کے ذریعے مجھے پتہ چلا تھا کہ شاہد نے کوئی کاروبار شُروع کیا ہے شاید لیدر گارمنٹس کا کاروبار کرتا تھا وہ۔۔ خیر میری جان،تمھاری فیملی میں بس تمھارے وہی چاچو ہیں اگر چاہو تو نازیہ سے رابطہ کر لو اس سے دوستی کر لو تم،یہ،یہ تمھارا دودھیال ہے،ننھیال کے بارے میں مجھے نہیں معلوم تمھاری ممی نے شادی کے وقت مجھے بتایا تھا کہ میرا کوئی خاندان نہیں ہے یعنی تمھارا ننھیال نہیں ہے ِ۔۔۔۔‘

اور خاندان کے لیے ترستے اسکے دل کے لیے ایک چاچو کا ہونا بھی غنیمت تھا، اور پھر اسکی ہی ضد پر پاپا گرمیوں کی چھٹیوں میں اس کو چا چو اور نازیہ سے ملوانے لے کر گئے تھے۔ اور کس قدر خوش ہوئی تھی و ہ اپنی فیملی ممبرز سے مل کر۔۔۔۔۔ اسکے بعد سے نازیہ اور اسکی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی لیکن یہ سب بھی ذیادہ عرصے نہیں چل سکا تھا، پتہ نہیں کیوں پاپا نے بہت عجلت میں یو اے ای آنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور جاتے جاتے وہ نازیہ سے مل بھی نہ سکی تھی، یہاں آ کر بھی اسکا بہت کم رابطہ ہو پاتا تھا چاچو اور انکی فیملی سے، کبھی کبھی چاچو اپنے کاروباری دوروں پر یو اے ای آتے تو ان لوگوں سے ضرور ملتے تھے۔۔۔۔۔ تب وہ نازیہ اور آنٹی کے لیے ڈھیروں گفٹ خریدا کرتی تھی، اور پھر ایک بار جب چاچو بہت سالوں بعد آئے تھے تب واپس جاتے ہوئے انہوں نے نازیہ کے لیے ہر چیز دو دو خریدیں تھیں، تب بھی وہ بہت حیران ہوئی تھی اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ نازیہ دو دو چیزوں کا کیا کرے گی، بہت ہمت کر کے اسنے چاچو سے پوچھا تھا کہ کیا یہ سب نازیہ کے لیے ہے؟ اور انکے جواب پر وہ بہت حیران ہوئی تھی،
”نہیں کسی اور کے لیے بھی ہے۔۔۔!!“ اور چاچو کے تنے ہوئے نقوش دیکھ کر اور کُچھ پوچھنے کی اسے ہمت نہیں ہوئی تھی،

اسکے چند سالوں کے بعد کی بات ہے۔۔۔!! ممی پاپا نے گھر کو ری سیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور اس صبح بھی وہ فرنیچر پسند کرنے گئے تھے جب واپس آتے ہویے ایکسیڈنٹ میں دونوں وہاں چلے گیے تھے جہاں سے کوئی واپس نہیں آیا کرتا ہے، اسنے الیاس کے سینے سے لگے ہوئے خشک آنکھوں سے اپنے ممی پاپا کو قبر میں اترتا دیکھا تھا،سفید کفن۔۔۔۔۔اسکے ذہن میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا تھا،

اور پھر وہ اور الیاس پریشان پریشان بھیگی آنکھوں سمیت سارا سارا دن ادھر سے ادھر پھرتے رہتے تھے، انہی دنوں اسنے چاچو سے رابطہ کیا تھا،بھائی کے مرنے کی خبر سن کر انہوں نے بہت خاص ریسپانس نہیں دیا تھا لیکن پیسے بھیجوا دئیے تھے ان پیسوں کو اس نے ویسا کا ویسا الیاس کے ہاتھوں پر رکھ دیا تھا،
”الیاس بھائی یہ پیسے میں نے چاچو سے لیے ہیں،آپ دیکھ لیں،مجھے تو کُچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔۔۔!!“

(جاری ہے ……)

اپنا تبصرہ بھیجیں