جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب پنجم – قسط نمبر44




رات کی تاریکی بڑھتی بڑھتی گہرے سناٹے میں بدلتی گئی تھی آ ج کی رات پورا چاند ماتم کے لیے نمودار ہوا تھا۔چمکدار ستارے بہت اداس معلوم ہوتے تھے ہوائیں خاموش تھیں زندگی تھک ہا ر کر بستروں میں جا چکی تھی پرندے اپنے آشیانوں میں محو استراحت تھے بہت دور گھنے جنگلات کے تاریک درختوں کی ننھی ننھی درزوں سے چاند کی چاندنی اندر آ کر تھک ہا ر کر سوئے ہوئے جانوروں کو تھپک رہی تھی،

ہاسپتل میں بھی رات کا سناٹا چھا چکا تھا،آپریشن تھیٹر کے باہر کوریڈور میں موت کی سی خاموشی طاری تھی اسی سناٹے میں ایک شخص کوریڈور میں تنہا بے قراری سے ٹہل رہا تھا ۔ اسکے قدموں کی چا پ سے سناٹا کسی قدر ٹوٹ رہا تھا،بکھرے بالوں والے اس ہینڈسم شخص کا چہرہ نا معلوم درد کی عکاسی ک رہاتھا، ٹہلتے ٹہلتے وہ تھک کر بیٹھ گیا تھا گھرڑی کی سوئیاں آہستگی سے آگے بڑھتی جا رہی تھیں وہ بار بار بے چینی سے بند شیشے کے دروازے کو دیکھ رہا تھا جس کے پیچھے سبز پردے گرے ہوئے تھے اور اسکی نگاہیں مایوسی سے پلت کر واپس آ رہیں تھیں، تبھی اسکے موبائل کی بیل بجی تھی،خاموشی کو چیرتی وہ آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی تھی ۔ اسنے اسکرین چہرے کے سامنے کر کے جلتا بجھتا نمبر دیکھا اور پھر تھکی تھکی سی سانس اسکے منہ سے خارج ہوئی ایک نظر اسنے پردوں اور بند دروازوں کو دیکھا اور کال ریسیو کی۔۔۔۔

”جی ماما۔۔۔۔“اسکی آواز بہت بھاری ہو رہی تھی،

”کہاں ہو بیٹا۔۔۔۔گھر کب آؤ گے۔۔؟؟؟؟“ماں کا لہجہ ہمیشہ کی طرح مامتا بھری فکر مندی سے معمور تھا،

”آج گھر نہیں آؤں گا ماما جان۔۔۔۱!!“اسکا لہجہ ہنوز تھکا تھکا سا تھا،

”کیوں سرمد۔۔۔۔تم ہو کہاں۔۔؟؟؟“انکی فکر مندی بڑھی تھی،

”اب کیا بتاؤں ماما۔۔؟؟“اسنے اداسی سے سر پشت کے ساتھ ٹیک دیا تھا۔۔۔۔۔۔

”سرمد جان۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟مجھے بھوک لگ رہی ہے بیٹا۔۔۔۔کھانا تو کھا لیتے گھر آ کر؟؟؟“

”ماما آ پ کھانا کھا لیں پلیز۔۔۔۔میں بہت پریشان ہوں۔۔۔نہیں آ سکتا۔۔۔!!!“اسکے سینے میں ہلکا سا درد اُٹھا تھا،بند دروازے کے پیچھے بہت دور قدموں کی چاپ ابھری تھی،

”کیا بات ہے بیٹا۔۔۔۔۔کیوں نہیں بتا رہے۔۔۔؟؟؟میں پریشان ہو رہی ہوں۔۔۔؟؟؟“وہ حقیقتاََ پریشان ہوئی تھیں،

”میں ہاسپٹل میں ہوں ماما۔۔۔اور۔۔۔۔اس کی بات ادھوری رہ گئی،

”ہاسپٹل۔۔۔۔سرمد کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟“انکے لہجے میں یکا یک بے چینی در آئی تھی۔۔۔،اور ادھر بہت دیر سے آنکھوں کا لاوا ضبط کرتے کرتے اب اسکی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا،

”اجیہ آپریشن تھیڑ  میں ہے ماما۔۔۔میں اسے اکیلا چھوڑ کر کیسے آ جاؤں۔۔۔!!“بہت کرب تھا اسکے لہجے میں۔۔،

”اجیہ۔۔۔کیا کہہ رہے ہو۔۔۔تم اجیہ سے کب ملے۔۔۔،وہ کہاں ملی تمھیں۔۔؟؟“ان کے بے چین لہجے میں پوچھے گئے سوالات اسنے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے سنے تھے،قدموں کی چاپ قریب آتی جا رہی تھی اور اسکا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا،”ماما۔۔۔آج میں نیو اسٹار مال میں تھا جب کسی نے اجیہ پر فائرنگ کر دی۔۔۔۔ابھی اسکا آپریشن ہو رہا ہے۔۔۔۔ماما ڈاکٹرز نے کہا ہے وہ ہمیشہ کے لیے پیرا لائز ہو سکتی ہے۔۔۔۔میں پریشان ہوں ماما۔۔۔۔کیا  کروں۔۔۔۔کیا۔۔۔۔رک رک کر ضبط کرتے ہوئے آخر میں اسکا لہجہ بھیگ گیا تھا۔۔۔

”سرمد میرے بیٹے پریشان نہ ہو۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے گی میری جان۔۔۔تم دعا کرو۔۔۔۔اسکے والد کو بتایا تم نے۔۔؟؟“وہ پریشان لہجے میں سرمد کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کرنے لگیں۔۔۔۔،

”نہیں ماما۔۔۔۔میں نے بہت بار انہیں رنگ کیا وہ ریسیو نہیں کر رہے،اجیہ کے موبائل میں انکا ایک ہی نمبر ہے نائلہ کو کال کر دی تھی میں نے اسکی دوست ہے۔۔۔۔!!“اسکی نگاہیں بند دروازے کے پیچھے کُچھ کھوجنے کی کوشش کر رہیں تھیں،قدموں کی دھیمی چاپ قریب آتے آتے نمایاں ہو گئی تھی،

”اچھا اپنا خیال رکھو میں صبح ہوتے ہی آ جاؤنگی۔۔۔کھا لو کُچھ۔۔اوکے۔“انہوں نے اپنے طور تسلی دینے کی پوری کوشش کی تھی،

”اوکے ماما جان آپ بھی کُچھ کھا لیں اور اجیہ کے لیے دعا کریں۔۔۔۔اگر اسے کُچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گا۔۔۔۔!!“دل میں کہیں ہوک سی اُٹھی تھی۔،

”سرمد۔۔وہ میری بھی بیٹی ہے۔۔۔۔میں ضرور دعا کروں گی۔۔۔تم پریشان مت ہو۔۔۔!!“

”اچھا ماما بائے۔۔“قدموں کی چاپ دروازے کے بہت قریب آ گئی تھی اور وہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا،

”ہاں اوکے خدا حافظ۔۔۔!!“لائن کا تکر اسکی نگاہیں دروازے پر جم گئیں تھیں،کوئی پچھلے دو گھنٹوں سے بند دروازہ کھول رہا تھا،اسکے دماغ میں گھنٹیاں بہت تیزی سے بج رہی تھیں نگاہیں آہستہ آہستہ کھلتے دروازے پر تھیں سبز پردوں والا دروازہ کوئی کھول کر باہر آیا تھا۔۔۔۔

”ڈاکٹر۔۔۔؟؟؟“سرمد کے لبوں سے بے ساختہ نکلا تھا،

سفید لیب کوت پہنے وہ ڈاکٹر بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا اسکی آنکھوں کے تاثرات نے سرمد کے دل کو مٹھی میں لے لیا تھا،،

”آپ اجیہ انصاری کے ساتھ ہیں۔۔؟؟“وہ ڈاکٹر دھیمے قدموں سے چلتا اسکے قریب آیا تھا۔،

”جی ہاں۔۔۔اجیہ کیسی ہے ڈاکٹر۔۔۔۔؟“بے قرار دل کے ساتھ اسکا لہجہ ہلکا سا کانپا تھا،

”مجھے افسوس ہے،ان کی حالت بہتر نہیں ہے ہم نے پوری کوشش کی ہے لیکن خون بہت ضائع ہو چکا ہے گولیاں بہت قریب سے ماری گئی ہیں انہیں،امید ہے وہ زندہ تو بچ جائے گی لیکن دماغ پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے شاید وہ اپنی پرانی حالت میں واپس نہ آ سکیں۔۔۔بہر حال ابھی یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔۔اصل بات انکے ہوش میں آنے کے بعد ہی پتہ چل سکتی ہے۔۔اللہ پر بھروسہ رکھیں۔۔۔۔!!!“پروفیشنل لہجے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر کا لہجہ مایوسی سے معمور تھا۔۔اور یہی مایوسی سرمد کو تاریکی میں دھکیل رہی تھی۔

”اور ہاں۔۔۔۔ایک اور بات۔۔۔۔اجیہ انصاری کا بلڈ گروپ او نیگٹیو ہے۔۔۔ابھی تو انہیں خون کی ضرورت نہیں ہے ہم نے انہیں ڈرپ لگا رکھی ہے لیکن آپ جانتے ہیں او نیگٹو بہت قلیل مقدار میں ہمارے پاس موجود تھا بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔۔پلیز آپ کہیں سے خون کا بندو بست کریں ہوش میں آتے ہی انکو خون کی اشد ضرورت ہو گی خون کی کمی انکی زندگی کو لاحق خطرات بڑھا سکتی ہے۔۔۔!!!!“

سرمد نے بہت مشکلوں سے انکی بات سنی تھی اسے اپنے گرد ہر طرف اجیہ مسکراتی ہوئی نظر آ رہی تھی،سفید اسکارف سے لپٹے اسکے حسین چہرے سے نور کی کرنیں پھوٹ رہیں تھیں،قوس قزاح کے حسن کو شکست دیتا وہ چہرہ اسکے گرد گھوم رہا تھا،

”اوکے۔۔۔۔اوکے ڈاکٹر۔۔۔!!!“بمشکل اسنے کہا تھا،

ڈاکٹر اسکا کندھا تھپتھپا کر کوریڈور میں آگے بڑھ گے تھے،سبز پردوں والے دروازے کے پیچھے اسٹریچر کے پہیوں کی آواز آنے لگی تھی،

سرمد پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگ گیا تھا،اسکا دل ڈوب ڈوب کر ابھر رہا تھا سرخ آنکھوں میں یاسیت سمٹ آئی تھی،اسٹریچکےپہیوں کی آواز دروازے کے بہت قریب آ گئی تھی،اسکا دل اب کسی کی مٹھی میں تھا،اجیہ کو اسٹریچر پر پٹیوں میں جکڑا دیکھنا اسکے لیے بہت اذیت ناک تھا،وہ ہمیشہ اسکو آسمان پر چاند کی جگہ نظر آتی تھی دل کی سب سے اونچی مسند پر اسنے ملکہ کی سی حیثیت دی ہوئی تھی،

گزرے ہوئے چار سالوں میں اس وقت بھی جب وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا اور اس وقت بھی جب اسکے گھر کا ایڈریس ملا تھا اس وقت بھی جب وہ اجیہ کی تلاش میں مایوس ہونے والا تھا اور اس وقت بھی جب اسنے ماما کو اجیہ کے بارے میں بتایا تھا اور اس وقت بھی جب ماما نے اس سے شادی کے لیے کہا تھا اور اس وقت بھی جب وہ اسے بہت یاد کیا کرتا تھا اس وقت بھی جب وہ چاند کو دیکھتے ہوئے تصور میں اس سے باتیں کیا کرتا تھا اور سوچا کرتا تھا کہ اجیہ اس وقت کیا کر رہی ہو گی اور اس وقت جب اسے پتہ چلا تھا کہ اجیہ اس کمپنی کے سربراہ کی بیٹی ہے جس سے اسکی کمپنی کی دشمنی تھی وہ اپنے باس قاسم کی اے جی ایف سے رقابت کی بابت بہت اچھی طرح جانتا تھا،گزرے ہوئے ان چار سالوں کے ایک ایک لمحے میں اجیہ ہمیشہ اسکی یادوں میں رہی تھی۔۔۔اور آج۔۔۔۔اسٹریچر دروازے سے باہر آ رہا تھا،د نرسیں اسے اسٹریچر چلاتی نظر آ رہی تھیں اور ایک نرس نے گلوکوز کی ڈرپ بوتل اُٹھائی ہوئ تھی،

”اجیہ۔۔۔۔؟“وہ بہت تڑپ کر اجیہ کے پاس آیا تھا،نرسوں نے ایک لمحے کے لیے اسٹریچر کو روک دیا تھا،سرمد کی آنکھوں میں بے پناہ تکلیف سمٹ آئی تھی،دل چاہ رہا تھا اسے یہاں سے کہیں لے جائے۔۔۔۔سفید پٹیوں میں اسکا پورا وجود جکڑا ہوا تھا سینے سے تھوڑا نیچے تک سفید چادر ڈھکی ہوئی تھی چہرہ بھی سفید پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا،بند آنکھیں۔۔۔۔ذرد ہونٹ۔۔۔بے جان وجود۔۔۔۔گھنی پلکیں بند آنکھوں کے اوپر جھکی ہوئی تھیں۔۔ہمیشہ مسکراتے لب آج زرد ہو رہے تھے چہرہ دائیں جانب ڈھلک گیا تھا اسکے بال جو ہمیشہ اسکارف سے باہر نکلتے رہتے تھے آج سفید پٹیوں کے پیچھے گم ہو گئے تھے۔۔۔۔۔وہ ہر بات سے بے خبر بے ہوش تھی۔۔۔۔سرمد کا دل چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر رونا شُروع کر دے۔۔۔وہ آج کتنی بے بس تھی۔،

اور وہ درد۔۔۔۔۔وہ اذیت۔۔وہ آگ۔۔وہ دہشت۔۔۔آنکھیں بند کر کے وہ پیچھے ہٹ گیا تھا اورنرسیں اسٹریچر کو دھکیلتی آگے لے گئیں تھیں،دور جاتے جاتے پہیوں کی آواز مدھم پڑتی گئی تھی،کوریڈور کا سناٹا واپس آ گیا تھا،سرمد بے بسی سے اسٹریچر کو جاتا دیکھتا رہا تھا اور پھر پیچھے ہو کر شکستہ دلی سے بیٹھ گیا،کُچھ لمحے گُزرے،اسکی جیب میں رکھا اجیہ کا موبائل بج اُٹھا و ہ چونکا پھر موبائل نکالا اور انجانا نمبر دیکھ کر ٹھٹکا۔۔ لیکن پھر سبز حصہ چھو کر کال ریسیو کی،

”ہیلو۔۔۔۔؟؟؟“

”ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔اجیہ۔۔۔؟؟؟“نسوانی آواز بہت بے چین لگ رہی تھی،

”آپ کون ہیں۔۔؟؟“

”میں نازیہ۔۔۔آپ کون۔۔۔؟؟اجیہ کدھر ہے؟۔۔۔۔نازیہ اجیہ کی بجائے مردانہ آواز سن کر ہراساں ہوئی تھی،

”میں سرمد ہوں اور۔۔۔۔۔۔“بہت ہمت کر کے اسنے نازیہ کو پوری بات بتائی تھی۔۔،

”اچھا۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں آ رہی ہوں۔۔۔۔۔“نازیہ کا سر درد آخری حد تک پہنچا تھا،اور اسنے لائن کاٹ دی تھی،سرمد نے بہت تھکے تھکے سے انداز میں موبائل کی تاریک ہوتی اسکرین کو دیکھا اور ویمتی متاع کی طرح احتیاط سے جیب میں ڈال کر اسے اپنا وجود سرد ہوتا محسوس ہو رہا تھا،

”اجیہ پیررا لائز ہو گئی تو۔۔۔۔۔وہ اس سے آگے نہیں سوچنا چاہ رہا تھا آنسو بہت شدت سے آنکھوں میں رکے ہوئے تھے لیکن وہ رونا نہیں چاہتا تھا،گھڑی دو کے ہندسے کی طرف بڑھ رہی تھی رات آدھی گزر چکی تھی،ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے ایک ہی بات سوچتے سوچتے اسکا وجود شل ہونے لگا تھا،دماغ کی قوتیں نیند کے حصار میں جانے لگیں تھیں لیکن اجیہ کا پٹیوں میں جکڑا وجود اسکی نیند غائب کرنے کے لیے کافی تھا،پریشانی میں اسکی حالت عجیب سی ہو گئی تھی،بال جانے کب سے بکھرے ہوئے تھے،دل جب بوجھل ہو تب ظاہری حالت کی اہمیت کہاں محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔۔دیوار سے ٹیک لگائے وہ بہت کُچھ سوچتے تھکنے لگا تھا،ابھی اسنے اُٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ بھاگتے قدموں کی آواز نے ایک لمحے کو اسے اچنبھے میں مبتلا کیا تھا اسنے دکھتا سر بمشکل سیدھا کر کے آواز کی سمت دیکھا تھا،

کوریڈور میں دو لو گ بھاگتے ہوئے آ رہے تھے ایک کو تو اسنے پہچان لیا تھا وہ نائلہ تھی لیکن دوسرا کون تھا۔۔۔۔؟؟وہ دونوں بھاگتے ہوئے قریب آتے گئے تھے اور سرمد قاسم کو پہچان کر ایک لمحے کے لیے ششدر رہ گیا تھا،

گر بڑا کر وہ دوسرے ہی پل کھڑا ہوا تھا تو درد سے پھٹتا سر چکرا کر رہ گیا تھا سامنے کا منظر دھندلا نظر آیا تھا بے اختیار اسنے دیوار کا سہارا لے کر خود پر  قابو پانا چاہا تھا،

نائلہ اور قاسم قریب پہنچ کر رکے تو وہ سیدھا ہوا تھا بہت مشکلوں سے چہرے پر خیر مقدمی مسکراہٹ لاتے ہوئے وہ دونوں کی طرف بڑھا،

لیکن نائلہ اس سے پہلے اس تک پہنچ گئی تھی،

”سرمد ہیں نا آپ۔۔۔۔۔؟؟“

اس کی آواز بھی بھاری ہو رہی تھی آنکھٰں سوجی ہوئی سرخ ہو رہیں تھیں چہرے پر کرب،بے چینی اور پریشانی نمایاں تھی،

”جی،ایم سرمد۔۔۔۔“

بولتے ہوئے اسکے گلے میں پھندا لگا تھا،

قاسم تھوڑا پیچھے تھا وہ نائلہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔،

”اجیہ۔۔۔کہاں ہے۔۔۔۔؟؟آپریشن تھیٹر۔۔۔؟؟؟کدھر گولی لگی ہے اسے۔۔۔۔۔سرمد۔۔۔پلیز وہ کہاں ہے۔۔۔۔!!“

نائلہ کے بکھرے ہوئے لہجے میں نمی گل گئی تھی،

”نائلہ۔۔۔ ابھی اسے آئی سی یو لے گئے ہیں۔۔۔ایک گھنٹہ ہوا ہو گا۔۔ڈاکٹرز کہتے ہیں وہ زندہ بچ جائے گی لیکن خطرہ ہے کہیں پیرالائز نہ ہو جائے۔۔۔۔“الفاظ حلق میں پھنس رہے تھے۔آگے کُچھ بولے بغیر وہ خاموش ہو گیا قاسم قریب آ گیا تھا،سرمد کو دیکھ کر اسکے چہرے پر بھی حیرانی کے سائے لہرائے تھے۔۔

”پیرالائز۔۔۔۔سرمد۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ورنہ وہ مر جائے گی۔۔۔وہ زندہ رہ کر بھی مر جائے گی!“نائلہ کے لبوں سے سسکیاں نکلی تھیں کتنی ہی چیخیں اندر کہیں رک گئیں تھیں،

”وہ ہوش میں کب آئے گی۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے بتایا ہے۔۔۔؟؟؟“

نائلہ کے لیے بات کرنامشکل ہو رہا تھا،”پتہ نہیں وہ کہتے تھے اجیہ کو ہوش میں آتے ہی بلڈ کی ضرورت ہو گی۔۔۔او نیگٹو۔۔۔۔۔اسپتال میں نہیں ہے یہ گروپ۔۔۔۔کہیں سے ڈونیشن لینی ہو گی ورنہ اسکی جان خطرے میں پڑ جائے گی!“بھاری آواز میں کہتے ہوئے اسنے قاسم کو دیکھتے ہوئے آنکھوں کے اشارے سے وش کیا تھا،

”میرا تو او نیگیٹو نہیں ہے لیکن شاید۔۔۔۔۔“نائلہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگی،

”قاسم۔۔۔۔۔قاسم کا گروپ او نیگیٹو ہے۔۔۔ہاں قاسم۔۔۔؟؟“وہ پیچھے گھوم گئی،

”ہے ناں۔۔۔۔۔؟؟؟“اسکی سرخ آنکھوں میں آہستگی سے امید کے سائے لہرائے تھے،بہت مان سے اسنے قاسم کو دیکھا تھا،

”ہاں میرا بلڈ گروپ یہی ہے۔۔۔!!“قاسم نے دھیمی آ واز میں کہا،اور نائلہ کی پیشانی کا تناؤ پہلے اسے نسبتاََ کم ہوگیا،

”تم اجیہ کے لیے بلڈ ڈونیٹ کرو گے نا۔۔۔۔؟؟“اگلا سوال بھی بہت مان لیے ہو اتھا،

”ہاں ضرور کروں گا نائلہ پریشان مت ہو۔۔۔۔پہلے ہی اتنا روئی ہو۔۔۔“

”تھینک یو سو مچ۔۔۔!“نائلہ کے زرد چہرے پر نا محسوس سا سکون پھیل گیا تھا،قاسم بس مسکرا کر رہ گیا،

”آئی سی یو کہاں ہے سرمد۔۔۔۔؟؟؟ایک گھنٹہ ہو گیا ہے وہ دیکھنے تو دینگے اب۔۔!!“نائلہ سرمد سے پوچھ رہی تھی وہ چونک گیا،سرمد اسے ہاتھ کے اشارے سے سمجھانے لگا،

”اوکے قاسم۔۔۔میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔!!“

وہ بول کر بھاگتے ہوئے اس سمت کی طرف بڑھ گئی قاسم کا دل چاہا وہ بھی بھاگتا ہوا نائلہ کے ساتھ اجیہ کو دیکھنے چلا جائے لیکن۔۔۔۔۔وہ سرمد کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔۔،

”السلام وعلیکم۔۔!!“مسکرا کر اسنے ماحول کا تناؤ کم کرنے کی کوشش کی،

”وعلیکم السلام۔۔۔۔۔سر!!“سرمد پروفیشنل انداز میں مؤدب ہوا تھا

”ارے۔۔یہ آفس نہیں ہے۔۔۔۔سرمد علی ری لیکس پلیز۔۔۔۔“

اجیہ آئی سی یو میں پٹیوں میں جکڑی بے ہوش تھی ان دونوں کے لیے مسکرانا بہت مشکل تھا،

”سر آپ یہاں کیسے۔۔۔۔؟؟؟نائلہ آپ کی کون ہیں۔۔۔۔؟؟“

چند لمحوں کی خاموزی کے بعد وہ بولا،”میں۔۔۔۔نائلہ کا کزن ہوں۔۔۔اور ہزبینڈ بھی۔۔۔۔اجیہ کی بہترین دوست ہے نائلہ۔۔اور میں بس ایک بار ملا ہوں اجیہ سے۔۔۔۔ایک بہت اہم مسئلے کے سلسلے میں۔۔۔اور۔۔۔۔قاسم انگلیاں چٹخاتا کہتا ہوا رکا،پھر سرمد کو دیکھا،

”آپ یہاں کیسے سرمد۔۔۔۔۔؟؟؟“سرمد یکلخت چونکا۔

”میں۔۔۔۔میں کلاس فیلو تھا اسکا میٹرک میں اور بھی۔۔۔۔“چند لمحوں کے لیے اسنے سوچا اور بولا، “میں اتفاق سے نیواسٹار مال میں تھا اس وقت جب فائرنگ ہوئی تھی اجیہ کو پہچان لیا میں نے،ورنہ اس وقت تک کسی نے ایمبولینس کو کال تک نہیں کیا تھا۔۔۔!“ایک فیصلے پر پہنچ کر وہ اطمینان محسوس کر رہاتھا،کوریڈور کا سناٹا ابھی تک گہرا تھا،راہداری سے باہر دور اوپر آسمان پر ستارے رخصت ہونے کی تیاری کرنے لگے تھے لیکن چاند کی جھلماہٹ ہنوز برقرار تھی،

”ہوں۔۔۔۔اجیہ کو تم ہاسپٹل لائے تھے۔۔۔؟؟؟؟“

قاسم نے اسکے چہرے پر کُچھ کھوجنے کی کوشش کی، ”جی،میں لایا تھا،وہاں پر سب فائرنگ کرنے والے کے پیچھے دوڑ رہے تھے اجیہ کی کسی کو فکر نہیں تھی سیکورٹی بھی جانے کہاں تھی۔۔۔“وہ محتاط لہجے میں بولا لیکن اجیہ کا نام لیتے ہوئے اسکی آنکھوں کے سامنے قوس قزح کے رنگ پھیل جاتے تھے بہت مدھم سی کھنک لہجے میں شامل ہو جاتی تھی وہ کوشش کے باوجود چھپا نہیں پا رہا تھا،

”اچھا۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔وہ تم  نے اسے دیکھا تھا؟؟“قاسم بہت گہری کسی سوچ میں تھا،

”’کسے۔۔۔؟؟”وہ حیران ہوا،

”کیا کسے۔۔۔۔؟؟؟“قاسم کی نگاہوں کے سامنے بار بار کُچھ آرہا تھا،

”آپ نے ابھی تو کہا کہ تم نے اسے دیکھا ہے۔۔۔۔۔میں نے پوچھا کسے۔۔۔۔۔“ذرا سا آگے ہو کر اسنے غور سے قاسم کو دیکھا،

”آپ کی طبیعت ٹھیک ہے سر۔۔۔؟؟؟“

’’ہاں ٹھیک ہے۔۔۔!!“قاسم چونک کر ماتھے پر سے نا محسوس سا پسینہ پونچھنے لگا،

”وہ میں کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ہاں تم نے اس آدمی کو دیکھا ہے جو فائرنگ کر کے بھاگا تھا۔۔۔؟؟؟“سرمد کی آنکھوں میں الجھن در آئی تھی،

”جی دیکھا ہے۔۔۔۔لیکن اس سے کیا ہوگا۔۔۔۔۔“قاسم کے چہرے کا تناؤکم ہو گیا،وہ دھیما سا مسکرایا،

”بعد میں پتہ چلے گا۔۔لیکن سرمد اگر تم کو اس آدمی کی شناخت کرنی پڑے تو کر لو گے نا۔۔۔۔؟؟؟؟“وہ پلٹ کر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔۔۔،

”کیوں۔۔۔بھلا۔۔؟؟؟“

سرمد کا سر درد بڑھ گیا تھا،آنکھوں میں مدھم سی نیند اترنے لگی تھی،سرخ آنکھوں کے سامنے بیک وقت سفید اسکارف میں لپٹا چہرہ اور سفید پٹیوں میں جکڑا زرد بے جان چہرہ آ رہا تھا،اسکی حسیات نیند کے زیر اثر جانے سے انکاری تھیں، ”اجیہ کے لیے سرمد پلیز۔۔۔۔۔جس نے اجیہ کا یہ حال کیا ہے اسے زندہ نہیں رہنے دینگے۔۔۔۔۔ہم۔۔خدا کی قسم وہ میرے ہاتھوں نہیں بچ پائے گا!“قاسم نے مٹھیاں بھینچی تھیں

(جاری ہے۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں